تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     17-01-2026

مزاحمت اور صبر

امریکی جارحیت کے جواب میں اہلِ ایران کیا کریں؟
اگر میں جواب میں کہوں: 'صبر‘ تو سننے والے کا ردِعمل ہو گا: 'اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ مزاحمت نہ کریں؟‘ اگر کوئی سوال کرے کہ اسرائیلی بربریت کے مقابلے میں فلسطینی کیا کریں اور میں جواب میں کہوں 'صبر‘ تو یہاں بھی وہی ردِعمل ہو گا: کیا وہ مزاحمت نہ کریں‘ خودکو ذبح ہونے کے لیے پیش کر دیں؟
یہ فرضی مکالمہ نہیں‘ ایک الجھاؤ ہے جو ہمارے سوئے فہم سے پیدا ہوا ہے۔ اس کے پس منظر میں صبر اور مزاحمت کا یہ فہم پوشیدہ ہے کہ یہ دو متضاد الفاظ ہیں۔ صبر کا مطلب مزاحمت سے دست برداری ہے۔ یہ ظلم کے سامنے سرافگندگی ہے۔ یہ عزت کی موت پر ذلت کی زندگی کو ترجیح دینا ہے۔ اس فہم میں یہ نکتہ بھی پنہاں ہے کہ مزاحمت اور تصادم مترادف الفاظ ہیں۔ مزاحمت اور تصادم لازم و ملزوم ہے۔ مزاحمت دو حالتوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا نام ہے: مارو یا مر جاؤ۔ جب موت ہی واحد راستہ ہے تو بہتر ہے کہ چند کو مار کر مرو۔ مزاحمت کے نام پر تاریخ سے جو مثالیں دی جاتی ہیں وہ ایسے حریت پسندوں کی داستانیں ہیں جو 'مزاحمت‘ کرتے کرتے کام آ گئے۔ انہوں نے جان تو دی لیکن جاتے جاتے بہت سوں کی جان لے گئے۔ مزاحمت کے اس تصور میں اس کوکامیابی کہتے ہیں۔
یہ سخن فہمی غلطی ہائے مضامین کا مجموعہ ہے۔ صبر مزاحمت کا متضاد نہیں‘ مترادف ہے۔ صبر ایک حکمتِ عملی ہے۔ یہ تصادم سے ممکن حد تک گریز کرتے ہوئے انہی مقاصد کے حصول کی جدوجہد کا نام ہے جنہیں تصادم سے حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسلامی تصورِ حیات میں صبر ایک اعلیٰ درجے کی صفت ہے‘ انبیاء جس سے متصف ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صابرین کو اپنی معیت اور مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ہمارے اہلِ علم نے صبر کو ایک متبادل حکمتِ عملی کے طور پر بیان کیا ہے۔ مولانا وحید الدین خاں نے مگر جس طرح اس کا ابلاغ کیا ہے‘ اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ اس کے لیے انہوں نے 'مزاحمت پسندوں‘ کی گالیاں بھی بہت کھائیں مگر صبر کی حقیقت کو اس طرح واضح کر دیا ہے کہ بطور حکمتِ عملی اب یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ میں ان کی ایک تحریر کو یہاں نقل کرنا چاہتا ہوں جس میں انہوں نے صبر کو بطور حکمتِ عملی بیان کیا ہے۔
مولانا لکھتے ہیں: ''صبر کیا ہے؟ صبر یہ ہے کہ جذبات یا اشتعال کے موقع پر اپنے آپ کو تھاما جائے۔ جوابی کارروائی کرنے سے پہلے اپنے جذبات کو روک کر یہ سوچا جائے کہ میر ے لیے اس موقع پر صحیح ردِعمل کیا ہے اور زیادہ نتیجہ خیز کارروائی کیا ہو سکتی ہے۔ کبھی جذبات کو روک لینے کا نام صبر ہے‘ کبھی صبر اس کا نام ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو جوابی اقدام سے باز رکھا جائے اور کبھی صبر یہ ہوتا ہے کہ اقدام تو کیا جائے مگر وہ منصوبہ بند اقدام ہو نہ کہ محض جذباتی اقدام۔
سوال کیا جا سکتا ہے کہ ایک مخالف اگر کسی کو نقصان پہنچائے تو وہ اس پر صبر کرے یا وہ اس کا توڑ کرنے کی کوشش کرے؟ جواب یہ ہے کہ صبر کا مطلب خواہ مخواہ نقصان اٹھانا نہیں ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ غیرموافق صورتحال پیش آنے کے بعد ٹھنڈے ذہن سے آپ یہ سوچیں کہ آپ کا جوابی اقدام آپ کے حق میں کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرے گا یا آپ کے نقصان میں مزید اضافے کا سبب بن جائے گا۔ صبر کا مطلب اپنے آپ کو مزید نقصان سے بچانا ہے‘ نہ کہ غیرضروری طور پر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا۔ صبر کبھی عمل کا نام ہوتا ہے اور کبھی اپنے آپ کو عمل سے روک لینے کا۔ یہ دراصل حالات ہیں جو فیصلہ کرتے ہیں کہ کس موقع پر کون سا صبر مطلوب ہے۔ صبر اور بے صبری میں یہ فرق ہے کہ بے صبر آدمی نتیجہ پر غور کیے بغیر حالات کے طوفان میں کود پڑتا ہے۔ اورصبر والا آدمی صورتحال پیش آجانے کے بعد پہلے سنجید گی کے ساتھ غور کرتا ہے‘ لوگوں سے مشورہ کرتا ہے‘ اور سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت وہ کارروائی کرتا ہے جو زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز ہو سکے۔ صبر حکمتِ عملی کا نام ہے اور بے صبری یہ ہے کہ آدمی وقتی کیفیت سے متاثر ہو کر ایسا اقدام کر بیٹھے جس کا حکمت اور دور اندیشی سے کوئی تعلق نہ ہو‘‘۔
واقعہ یہ ہے کہ مزاحمت کے نام پر گزشتہ ایک صدی میں جو کچھ ہوتا آیا ہے‘ وہ صرف تصادم ہے۔ مزاحمت کے اس تصور کو ان انقلابی تحریکوں نے جنم دیا جو اشتراکیت اور اسلام ازم کے نام پر برپا ہوئیں۔ انقلاب اور مزاحمت کے نام پر جتنے انسانوں کا قتل ہوا‘ اس کی انسانی تاریخ میں کم مثالیں ملیں گی۔ پیغمبروں سے بڑھ کر کسی نے 'سٹیٹس کو‘ کو چیلنج نہیں کیا۔ ان کی حکمتِ عملی کا مگر ایک ہی عنوان تھا: 'صبر‘۔ اسے ریاست کے مسلح اقدام سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ اسے جنگ کہتے ہیں اور اس کی اخلاقیات بالکل مختلف ہیں۔
برصغیر میں سر سید احمد خاں نے برے حالات کے خلاف مزاحمت کی۔ ان کا ذہنی افق معاصرین سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ ان کے ہم عصر صرف انگریزوں کی غلامی کو دیکھ رہے تھے۔ سر سید مسلمان قوم کو انگریزوں سے بڑی دشمن قوت‘ جہالت کے خلاف مسلح کر رہے تھے۔ ان کو اندازہ تھا کہ انگریزوں کو ایک دن جانا ہے۔ جہالت اگر نہ گئی تو مسلمان آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک جائیں گے۔ وہ ان فکار کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے جنہوں نے مسلمانوں کو کمزور کر دیا تھا۔ میرے نزدیک ان سے بڑا مزاحمت کار مسلمانوں میں پیدا نہیں ہوا۔ ان کے بعد قائداعظم تھے۔ دونوں کی جدوجہد کامیاب رہی۔ اسی طرح دورِ جدید میں امریکہ کے خلاف سب سے بڑی مزاحمت چین کی طرف سے سامنے آئی۔ اس کی حکمتِ عملی کا بنیادی نکتہ تصادم سے گریزہے۔ چین طاقتوریاست ہوتے ہوئے بھی بے مقصد معرکوں میں اپنی قوت برباد نہیں کرتا۔ مشرقِ وسطیٰ سے وینزویلا تک چین نے امریکہ کی مروجہ معنوں میں مزاحمت نہیں کی۔ اس نے اشتعال میں آئے بغیر صبر کی حکمتِ عملی اپنائی۔ آ ج ساری دنیا جانتی ہے کہ چین کی مزاحمت سے طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔
ناپسندیدہ حالات کے خلاف مزاحمت انسان کی فطرت ہے۔ ایسے حالات افراد کو پیش آتے ہیں اور اقوام کو بھی۔ نزلہ جیسی بیماری بھی آ جائے تو کم ازکم آٹھ دن صبر کے ساتھ برداشت کرنا پڑتی ہے۔ یہ فطرت کا سبق ہے۔ دوا کے ہتھیار سے اس کے خلاف 'مسلح مزاحمت‘ کرنے کا مطلب خود کو نئی بیماری سے دوچار کرنا ہے۔ اسی طرح قومی امراض کے خلاف مزاحمت بھی فطری ہے۔ یہ کسی خارجی قوت کی جارحیت ہو سکتی ہے اور جہالت جیسی داخلی بیماری بھی۔ اشتعال میں آ کر کوئی حکمتِ عملی نہیں بنائی جا سکتی۔ ریاستوں کو بعض اوقات فوری اقدام کرنا پڑتا ہے۔ جیسے پاکستان کو بھارت کے خلاف کرنا پڑا۔ یا کسی کے گھر میں ڈاکو گھس آ ئیں تو وہ حکمتِ عملی کے لیے ڈاکو سے وقت نہیں لے سکتا۔ یہ استثنا ہے جو کبھی کبھی پیش آتا ہے۔ عام طور پر سوچ بچار کے لیے وقت ہوتا ہے۔ یہ وقت اللہ تعالیٰ ہر قوم کو دیتا ہے۔ اس کا درست استعمال ہی انسان کا امتحان ہے۔ وہ چاہے تو صبر کے ساتھ نتیجہ خیز مزاحمت کر سکتا ہے اور اگر نہ چاہے تو اشتعال میں آ کر بے نتیجہ مزاحمت بھی کر سکتا ہے۔ مسئلہ مزاحمت میں نہیں‘ اس کی حکمتِ عملی میں ہے۔ مزاحمت اور صبر متضاد نہیں‘ مترادف الفاظ ہیں۔ جس نے صبر کو مزاحمت کا مترادف جانا اور جس نے تصادم کو‘ تاریخ نے دونوں کے انجام کو محفوظ کر دیا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved