اگر خرابی مستقل اور مسلسل ہو تو اس کی درستی کیلئے بھی اسی ثابت قدمی اور تسلسل سے اپنا فریضہ سر انجام دینا چاہیے۔ سو یہ لکھاری یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے لکھے کا اثر کم ہی ہوگا‘ بہرحال لکھنے سے باز نہیں آ سکتا۔ جب منفی کاموں اور حرکتوں میں مبتلا لوگوں کو اپنے رویے اور اعمال پر شرم نہیں آتی تو بھلا اس پر تنقید کرنے اور اسے درست کرنے کی کوشش پر کس لیے شرم محسوس کی جائے؟ موذن کا کام اذان دینا ہے‘ اس سے نمازیوں کی تعداد کے بارے میں پوچھ نہیں ہو گی۔ ہاں البتہ اس سے اذان بارے ضرور پوچھا جائے گا۔ سو یہ عاجز اذان دینے پر مامور ہے اور اس بات سے قطع نظر کہ کس پر اس کا کتنا اثر ہو رہا ہے‘ اپنے کام میں لگا ہوا ہے اور کبھی کبھی تھوڑی سی مایوسی محسوس کرنے کے باوجود اگلے روز پھر اسی جذبے سے معمور ہو کر قلم اٹھا لیتا ہے کہ اسے اسی کام پر متعین کیا گیا ہے اور اس سے اسی کام کا حساب لیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس عاجز پر اپنا کرم کرے اور حساب سے در گزر فرمائے‘ حساب دینا ہم جیسے گناہگاروں کے بس کی بات نہیں۔ اُس کی رحمت کا آسرا ہے جو حوصلہ دیتا رہتا ہے اور کام چلتا رہتا ہے۔
گزشتہ کالم میں ملتان کے دو عدد چوکوں میں لگنے والے ٹریفک اشاروں کے باعث بہتر ہونے والی ٹریفک کی صورتحال پر کچھ لکھا لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ اس ساری کاوش اور پیشرفت کے باوجود عوام کی جانب سے خلاف ورزیوں کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے۔ ہر دو چوکوں پر اشارے بھی چل رہے ہیں اور اشاروں کی پروا کیے بغیر چوک کے درمیان سے گزرنے والے موٹر سائیکل بھی چل رہے ہیں۔ اشاروں کی تنصیب کے بعد ٹریفک پولیس کے اہلکار‘ جو پہلے ان چوکوں کے کناروں پر کھڑے ہو کر اپنے موبائل فون پر مصروف ہوتے تھے‘ اب اس تکلف سے بھی فارغ ہو گئے ہیں۔ ایسے میں جس جی دار کا جی چاہتا ہے وہ اشاروں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے گزر جاتا ہے اور قرینے سے چلنے والی باقی ساری ٹریفک میں رکاوٹ اور خلل ڈالتا ہوا مزے سے اپنی راہ لیتا ہے۔ نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ ہی کوئی روکنے والا ہے۔
اب حکومت پنجاب نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں کی رقم غیر معمولی طور پر بڑھا دی ہے اور جرمانوں کی رقم بعض خلاف ورزیوں کی مد میں پانچ‘ سات گنا زیادہ کر دی گئی ہے۔ اس پر شور وغوغا بھی مچ رہا ہے لیکن جہاں تک ٹریفک قوانین کی پابندی کو اپنی عادت یا رویہ بنانے والی بات ہے‘ وہ ابھی بہت دور کی بات ہے۔ اشارے چل رہے ہیں لیکن جرمانوں کی رقم بڑھ جانے کے باوجود کئی 'شیر کے بچے‘ اشاروں کی پروا کیے بغر سرخ بتی پر گزر رہے ہیں۔ اب اگر اس موٹر سائیکل والے کا چالان کیا جائے اور دو ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے تو کہرام مچ جاتا ہے کہ یہ غریب آدمی پر ظلم ہے کہ آخر غریب آدمی‘ جس کی کُل روزانہ کمائی بھی دو ہزار روپے نہیں ہے‘ یہ جرمانہ کیسے ادا کرے؟ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا غریب آدمی کو سامنے جلتا ہوا سرخ اشارہ دکھائی نہیں دے رہا؟
گزشتہ روز اسی موضوع پر بحث ہو رہی تھی اور ایک دوست کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ پاکستان میں کم آمدنی اور خواندگی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے اتنے زیادہ جرمانوں کا کوئی جواز نہیں۔ میں نے پوچھا کہ ون وے کی پابندی کرنے‘ سرخ اشارے پر رکنے‘ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ پہننے اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے عدم استعمال کیلئے زیادہ آمدنی‘ گریجوایشن کی تعلیم اور راکٹ سائنس کو جاننا ضروری نہیں۔ عمومی ٹریفک قوانین اور ان کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سب کو علم ہے۔ ہر بندہ جانتا ہے کہ سرخ اشارے پر رکنا ہے اور سبز اشارے پر گزرنا ہے۔ ہاں اگر کوئی نابینا ہے تو اور بات ہے! مطلب یہ کہ جس بندے کو دکھائی دیتا ہے اور وہ موٹر سائیکل‘ گاڑی چلا سکتا ہے‘ اسے یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ سرخ اشارے پر رکنا ہے۔ اب اگر وہ غریب آدمی ہے اور اس کی آمدنی کم ہے تو اس کو اس قانون کی زیادہ پابندی کرنی چاہیے۔ وہ بھاری جرمانہ ادا نہیں کر سکتا تو اسے اپنی مالی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون کی پابندی کے ساتھ ساتھ جرمانے کو ناقابلِ برداشت سمجھتے ہوئے اپنی مجبوری کے پیش نظر زیادہ دھیان رکھنا چاہیے۔ جب اس کا چالان ہو جاتا ہے تو لوگ شور مچاتے ہیں کہ غریب آدمی کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا غریب آدمی کو آپ اپنا خیال ہے؟ عالم یہ ہے کہ غریب آدمی کو سرخ اشارہ دکھائی دے رہا ہے اور وہ اس کے باوجود اشارہ توڑ کر گزرتا ہے تو اس کا چالان اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ وہ غریب آدمی ہے یا امیر آدمی ہے‘ بلکہ قانون کی خلاف ورزی سے ہوتا ہے۔ غریب کو تو علم ہے کہ وہ جرمانہ ادا نہیں کر سکتا ایسے میں اسے خود اپنا خیال رکھنا چاہیے۔ اس غریب آدمی کو اپنا خیال تو نہیں لیکن سڑک پر کھڑے ٹریفک وارڈن یا سارجنٹ سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اس غریب آدمی کا خیال کرے۔ سب سے پہلے غریب آدمی خود اپنا خیال کرے۔
مجھے تیرنا نہیں آتا تو مجھے نہر میں چھلانگ لگانے سے از خود باز رہنا چاہیے۔ اگر گاڑی نہیں چلانا آتی تو سڑک پر گاڑی لے جانے سے احتراز کرنا ہوگا۔ اب یہ نہیں ہوگا کہ ہر جگہ غریب کارڈ چلانے اور ایموشنل بلیک میلنگ سے کام چلانے کی کوشش کی جائے۔ جرم بہرحال جرم ہے اور قانون کی خلاف ورزی قانون کی خلاف ورزی ہی ہے‘ خواہ وہ کوئی امیر شخص کرے یا غریب آدمی کرے۔ ہر دو افراد کی غلطی سے کوئی بے گناہ حادثے کا شکار ہو سکتا ہے۔ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ ہم من حیث القوم گزشتہ کئی دہائیوں سے بتدریج ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے سلسلے میں ڈھیٹ ہو چکے ہیں۔ اچھے بھلے معزز‘ نوجوان‘ بزرگ‘ امیر‘ غریب‘ ان پڑھ اور پڑھے لکھے‘ سب کے سب اشارہ توڑنے کو‘ ون وے کی خلاف ورزی کو‘ گاڑی غلط جگہ پارک کرنے کو‘ ڈرائیونگ کرتے ہوئے فون سننے کو اور موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ نہ پہننے کو جرم یا قانون کی خلاف ورزی سمجھتے ہی نہیں۔ حالانکہ سب کو ان قوانین کا علم ہے۔ ایسا نہیں کہ کسی کو اس بارے میں علم نہیں لیکن اب ہم ان خلاف ورزیوں کو نہ تو خلاف ورزی سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس پر کسی قسم کی شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ بلکہ شرمندگی تو رہی ایک طرف‘ ہم اس پر باقاعدہ فخر محسوس کرتے اور اسے اپنا حق سمجھتے ہیں۔
آپ ون وے کے خلاف آنے والے کسی شخص کو محض استفہامیہ اشارہ ہی کر دیں کہ وہ کدھر سے آ رہا ہے؟ تو جواباً وہ باقاعدہ لڑنے پر‘ بدتمیزی کرنے پر اور بدکلامی پر اتر آتا ہے۔ کسی سے صرف یہ پوچھ لیں کہ بھائی صاحب آپ نے اپنی گاڑی سڑک کے درمیان کیوں روک رکھی ہے یا کسی رکشے والے سے یہ پوچھ لیں کہ سواری کو اٹھانے کیلئے وہ چوک کے عین درمیان کیوں کھڑا ہے تو جواباً وہ شرمندہ ہونے کے بجائے تُو تُو میں میں پر اتر آئے گا۔ کسی شخص کو اس بات پر شرمندہ کرنے کی کوشش کریں کہ وہ آپ کی گاڑی کے پیچھے اپنی گاڑی پارک کرکے کہاں چلا گیا تھا تو جواباً اگر وہ بدتمیزی نہیں کرتا تو آپ خوش قسمت ہیں تاہم وہ آپ کو شرمندہ کرنے کی غرض سے انسانیت کے بارے میں لیکچر دے کر اپنی عظمت کا ثبوت دینا نہیں بھولے گا۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں کی رقم میں اضافہ اپنی جگہ ایک معاملہ ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہم کئی گنا بڑھائے جانے والے جرمانوں پر واویلا تو کر رہے ہیں مگر ان کی پابندی کرنے اور اپنا رویہ تبدیل کرنے پر قطعاً تیار نہیں۔ اس کا حل صرف یہی ہے کہ ٹریفک خلاف ورزیوں پر قانون کا بلا تخصیص‘ بلارعایت اور بلا توقف استعمال کیا جائے اور ہاں! غریب آدمی پہلے خود پر ظلم کرنا بند کرے اور قانون کی خلاف ورزی کو محض غریب کارڈ سے برابر کرنے کی کوشش نہ کرے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved