امام بیہقی نے بیان کیا ہے: (5) ''پھر آپﷺ کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کی دونوں شرمگاہوں پر چیتھڑے تھے اور وہ جانوروں کی طرح خاردار زہریلے درخت‘ زقّوم (تھوہر کا کڑوا درخت) اور گرم پتھر کھا رہے تھے۔ آپﷺ نے پوچھا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں‘ جبریلِ امینؑ نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کے صدقات ادا نہیں کرتے تھے۔ ''اور اللہ نے اُن پر ظلم نہیں فرمایا‘ بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں‘‘ (آلِ عمران: 117)۔ (6) ''پھر آپﷺ کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اُن کے سامنے ایک طرف ہنڈیا میں ترو تازہ پاکیزہ بھنا ہوا گوشت اور دوسری طرف خبیث (بدبودار سڑا ہوا) گوشت رکھا تھا‘ وہ پاکیزہ گوشت کو چھوڑ کر اُس خبیث گوشت کو کھا رہے تھے‘ آپﷺ نے پوچھا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں‘ انہوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس (رشتۂ نکاح سے) حلال پاکیزہ عورت ہوتی ہے اور وہ اپنی جنسی خواہش کو بدکار عورت سے پورا کرتے ہیں اور صبح تک اس کے ساتھ سوئے رہتے ہیں‘‘۔ مرد اور عورت کا ایک دوسرے کے وفادار رہنے میں دنیا وآخرت دونوں کی بھلائی ہے‘ دنیا میں بیماریوں سے اور آخرت میں عذاب سے نجات ملتی ہے۔
(7) سفرِ معراج کے دوران رسول اللہﷺ کا گزر ایک ایسی وادی سے ہوا جہاں سے نہایت خوشگوار‘ ٹھنڈی اور خوشبو دار ہوا آ رہی تھی‘ جس میں مشک کی خوشبو تھی اور وہاں سے آواز آ رہی تھی‘ آپﷺ نے پوچھا: اے جبریل! یہ مشک کی خوشبو والی پاکیزہ ہوا اور یہ آواز کیسی ہے۔ جبریل امین نے کہا: یہ جنت کی آواز ہے‘جو پکار رہی ہے: اے پروردگار! اپنے وعدے کے مطابق مجھے میرے باسی عطا کر‘ کیونکہ میری خوشبو‘ میرا ریشم‘ میرا سُندُس (باریک ریشم)‘ میرا اِستَبرق (دبیز ریشم)‘ میرا عمدہ فرش‘ میرے موتی‘ میرے مرجان‘ میرا سونا اور چاندی‘ میرے جام‘ میرے پھل‘ میرا دودھ‘ میرا شہد بہت زیادہ ہو گیا ہے‘ پس اپنے وعدے کے مطابق مجھے میرے اہل عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ہر مسلم اور مسلمہ‘ ہر مومن اور مومنہ جو مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور نیک کام کیے‘ نہ میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اور نہ میرے مقابل کوئی معبود بنایا‘ جن کے دلوں میں میری خَشیت تھی‘ پس وہ مجھ سے جوسوال کریں گے‘ میں انہیں عطا کروں گا‘ وہ مجھے جوقرض دیں گے‘میں اُن کو جزا دوں گا اور مجھ پرجو توکل کریں گے‘ میں اُن کیلئے کافی ہوں‘ میں ہی اللہ ہوں اور میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے‘ میں وعدے کے خلاف نہیں کرتا‘ (آپﷺ نے سورۂ مومنون کی ابتدائی چودہ آیات قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ سے تَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ تک تلاوت فرمائیں)‘ تو جنت نے عرض کی: میں راضی ہو گئی۔ نوٹ: اللہ کو قرض دینے کے معنی ہیں: ''اللہ کی راہ میں خرچ کرنا‘‘۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ''اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو قرضِ حسن دو اور جو اعمالِ خیر تم آگے بھیجو گے‘ اُسے اللہ کے پاس بہتر اور عظیم ترین جزا (کی صورت میں) پائو گے‘‘ (المزمل: 20)۔ (8) پھر آپﷺ کا گزر ایک وادی پر ہوا جہاں آپ نے نہایت بھیانک اور مکروہ آوازیں سنیں‘ آپﷺ نے فرمایا: یہ آوازیں کیسی ہیں‘ جبریلِ امین نے عرض کی: یہ جہنم کی آواز ہے‘ جہنم کہہ رہا ہے : (اے اللہ!) اپنے وعدے کے مطابق مجھے میری باسی عطا کر‘ کیونکہ میری زنجیریں‘ میرے طوق‘ میرے شعلے‘ میرا زقّوم (تھوہر کا کڑوا پھل)‘ میری تپش‘ میرے پتھر‘ میری پیپ‘ میرا بہتا ہوا لہو‘ میری گہرائی‘ میری حرارت بہت زیادہ ہو گئی ہے‘ اپنے وعدے کے مطابق مجھے میرے اہل عطا فرما دیجیے‘ اللہ نے فرمایا: ہر مشرک ومشرکہ‘ ہر کافر وکافرہ‘ ہر خبیث وخبیثہ‘ ہرجابر وظالم جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا‘ (وہ سب تیرے اہل ہیں)‘ جہنم نے عرض کی: میں راضی ہو گیا‘‘۔
(9) رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں نے شبِ معراج جنت کے دروازے پر یہ تحریر دیکھی: ''صدقے کا ثواب دس گنا اور قرض کا اٹھارہ گنا ہے‘‘ میں نے پوچھا: جبریل! قرض کے صدقے سے افضل ہونے کا سبب کیا ہے‘ جبریلِ امین نے عرض کی: عام سوالی جب سوال کرتا ہے تو اُس کے پاس کچھ نہ کچھ ہوتا ہے اور قرض خواہ حاجت کے بغیر قرض نہیں مانگتا‘‘ (ابن ماجہ: 2431)۔ امام احمد رضا قادری کے سامنے قرض خواہوں کی نادہندگی کا ذکر ہوا‘ آپ نے فرمایا: میرے بھی لوگوں پر پندرہ سو درہم (چاندی کا سکہ) قرض ہیں‘ نہ وہ دیتے ہیں‘ نہ میں تقاضا کرتا ہوں۔ آپ سے پوچھا گیا: اگر آپ تقاضا نہیں کرتے تو معاف کیوں نہیں کر دیتے‘ جواب دیا: میرے پیشِ نظر یہ حدیث ہے: ''نبیﷺ نے فرمایا: جو کسی تنگدست (مقروض) کو مہلت دے گا تو اُسے ہر روز (قرض کی رقم کے برابر) صدقے کا اجر ملے گا اور جو شخص قرض ادا کرنے کا مقررہ وقت آنے پر مقروض کو مہلت دے گا تو ہر روز اُسے اتنی ہی رقم کے برابر صدقے کا اجر ملے گا‘‘ (ابن ماجہ: 2418)۔
(10)سفرِ معراج کے دوران آپﷺ بیت المقدس پہنچ گئے اور نماز پڑھی تو آپﷺ کے ساتھ فرشتوں نے بھی نماز پڑھی۔ جب نماز ادا ہو گئی تو فرشتوں نے کہا: جبریل! آپ کے ہمراہ یہ کون ہیں‘جبریلِ امین نے کہا: ''محمد رسول اللہﷺ اور خاتم النبیین ہیں‘‘۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے‘ جبریلِ امین نے کہا: ہاں‘ انہوں نے کہا: اس نہایت ہی اچھے بھائی اور جانشین کو ہماری طرف سے تحیّت (سلامی) پیش کیجیے‘ نہایت اچھے جانشین اور کیا ہی عمدہ آنے والے ہیں‘ پھر آپﷺ ارواحِ انبیاء کے پاس آئے اور اُن سب نے اپنے رب کی ثنا بیان کی۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اُس اللہ کیلئے ہیں جس نے ابراہیم کو خلیل بنایا‘ اُس نے مجھے عظیم ملک دیا‘ مجھے اللہ سے ڈرنے والی امت بنایا‘ میری پیروی کی جاتی ہے‘ مجھے آگ سے بچایا اور اس آگ کو میرے لیے ٹھنڈک اور سلامتی کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اُس اللہ کیلئے جس نے مجھے ہم کلامی کا شرف عطا فرمایا‘ اپنی رسالت وکلام کیلئے مجھے چنا اور مجھ سے سرگوشی کی‘ مجھ پر تورات نازل کی‘ آلِ فرعون کو میرے ذریعے ہلاک کیا اور بنی اسرائیل کو میرے ذریعے نجات عطا کی۔ حضرت دائود علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے مجھے حکومت کی نعمت دی‘ مجھ پر زبور نازل کی‘ لوہے کو میرے لیے نرم کر دیا‘ پرندوں اور پہاڑوں کو میرے لیے مسخر کر دیا‘ مجھے حکمت دی اور فیصلہ سنانے کا منصب عطا فرمایا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے میرے لیے ہوائوں‘ جنّوں اور انسانوں کو تابع کیا‘ شیاطین کو میرے لیے مسخر کر دیا جو عمارتیں اور مجسمے بناتے تھے‘ مجھے پرندوں کی بولی اور ہر چیز سکھائی‘ میرے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا‘ مجھے ایسا عظیم ملک دیا جو میرے بعد کسی اور کیلئے سزاوار نہیں ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے مجھے تورات اور انجیل کی تعلیم دی اور میں اللہ کے اذن سے مادر زاد اندھوں اور برص کے مریضوں کو صحت یاب کرتا تھا اور مردوں کو زندہ کرتا تھا‘ اس نے مجھے آسمان پر اٹھایا اور کفار سے نجات دی‘ مجھے اور میری والدہ کو شیطانِ مردود کے شر سے اپنی پناہ میں رکھا اور شیطان کا ہم پر کوئی بس نہیں چلتا تھا۔ پھر سیدنا محمد رسول اللہﷺ نے اپنے رب کی ثنا کرتے ہوئے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا‘ تمام لوگوں کیلئے بشیر اور نذیر بنایا اور مجھ پر قرآن نازل کیا‘ اس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے‘ میری امت کو سب سے بہترین امت بنایا‘ میرا سینہ کھول دیا اور مجھ سے بوجھ اتار دیا‘ میری خاطر میرا ذکر بلند کیا اور مجھے (نبوت میں) اول وآخر بنایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر فرمایا: انہی فضائل کی وجہ سے ہم سب پر محمدﷺ کو فضیلت دی گئی ہے‘‘۔
نوٹ: یہ روایات دَلَائِلُ النُّبُوَّۃ لِلْبَیْہَقِی (ج: 2‘ ص: 397) میں درج ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved