سعید مہدی جوکہ سینئر بیوروکریٹ رہے ہیں‘ اپنی حال ہی میں شائع ہونے والی خودنوشت میں لکھتے ہیں کہ ملتان میں انڈر ٹریننگ اے سی تھے تو کمشنر ملتان کے خلاف مارشل لاء انکوائری چلی۔ سابقہ ماتحتوں نے ان کے خلاف گواہیاں دیں۔ کمشنر گانے کی محفلوں کے شوقین تھے لہٰذا مشہور زمانہ اقبال بانو اور ثریا ملتانیکر کو بھی بلایا گیا۔ ان دونوں نے کمشنر کے خلاف ایک لفظ نہ کہا۔ پوچھا گیا کہ محفلوں کا کتنا پیسہ ملتا تھا تو انہوں نے کہا یہ ہمارے گُرو اور مہاراج ہیں‘ ان سے معاوضہ لینا گناہ سمجھتے ہیں۔ تاریخِ پاکستان کا مطالعہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ جنہیں اس معاشرے میں گانے والی کہا جاتا ہے اُن کا کردار بڑے بڑے لوگوں کے کردار سے کہیں اونچا ہے۔
ایسی تحریریں پڑھ کے ڈپریشن سا ہو جاتا ہے۔ کردار کے لحاظ سے گھٹیا پن کا مظاہرہ اتنا سامنے آتا ہے کہ قوم کی حالت پر ہاتھ کھڑا کرنے کو جی چاہتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے قبضۂ اقتدار کے بعد نواز شریف کے ساتھ سعید مہدی بھی گرفتار ہوئے۔ تقریباً دو سال بعد ضمانت پر رہائی ملی تو کسی ایئر پورٹ لاؤنج پر سابق چیف جسٹس ارشاد حسن خان سے ملاقات ہوئی۔ اتنے میں جنرل محمود احمد جن کا 12اکتوبر 1999ء کے واقعات میں بڑا رول تھا وہاں سے گزرے۔ سعید مہدی لکھتے ہیں کہ سابق چیف جسٹس تقریباً بھاگتے ہوئے جنرل کے پیچھے گئے اور کہا کہ اتنا عرصہ ہوا ملاقات نہیں ہوئی‘ آپ اپنا سیل نمبر تو دیں‘ بہت باتیں ڈسکس کرنی ہیں۔ واپس آکر سعید مہدی سے کہا کہ اس شخص کا اب بھی بہت اثرورسوخ ہے۔ یہی جسٹس صاحب تھے جنہوں نے ایک تو جنرل مشرف کے قبضۂ اقتدار کو جائز قرار دیا اور آئین میں ترمیم کرنے کا حق بھی دے دیا۔ اس سے پہلے چیف جسٹس انوار الحق یہ اختیار جنرل ضیاالحق کو دے چکے تھے۔
یہ قصہ بہت سوں کو پتا ہو گا لیکن سعید مہدی اس کا اعادہ کرتے ہیں کہ وزیراعظم بھٹو ملتان کے دورے پر گئے تو اُن کا قیام صادق حسین قریشی کے گھر تھا۔ شام کو بیٹھے تو پتا چلا کہ ایک گاڑی بار بار گھر کا چکر لگا رہی ہے۔ قریشی سے پوچھا تو پتا چلا کہ چکر لگانے والے کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل ضیا الحق ہیں۔ وجہ پوچھی تو پتا چلا کہ کورکمانڈر بذاتِ خود وزیراعظم کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ بھٹو بڑے امپریس ہوئے اور اگلی شام سات بجے جنرل سے ملنے کا کہا۔ اگلی شام مصروفیات کچھ اور تھیں تو قریشی کے گھر ساڑھے دس بجے رات لوٹے تو کیا دیکھتے ہیں کہ کورکمانڈر انتظار کر رہے ہیں۔ بھٹو نے قریشی سے کہا کہ یاد کرانا تھا کہ جنرل کو بلایا ہوا ہے۔ ضیا الحق سے پوچھا کہ ہمیں دیر ہو گئی تو آپ واپس کیوں نہ گئے تو ضیاالحق نے کہا کہ مجھے آنے کا حکم تھا‘ جانے کا حکم نہیں تھا۔ دوسرے دن اسلام آباد واپسی کے لیے جہاز میں چڑھے تو بیگم نصرت بھٹو سے وزیراعظم نے کہا کہ اچھا ہوا ہم ملتان آئے میرا ایک پیچیدہ مسئلہ حل ہو گیا۔ پتا چل گیا کس کو نیا آرمی چیف بنانا ہے۔
بھٹو کی پھانسی کے دن جنرل ضیا نے فارن آفس میں ایک میٹنگ رکھی ہوئی تھی۔ مکاری کا اندازہ لگائیں کہ پنڈی جیل سے گزرے تو ملٹری سیکرٹری سے پوچھا کہ بھٹو صاحب کی پھانسی ہو گئی ہے۔ ایم ایس نے کہا کہ رات دو بجے پھانسی ہوگئی تھی تو جنرل ضیا نے کہا: بھٹو صاحب سے میرے بڑے قریبی تعلقات تھے اور وہ مجھ پر مہربان بھی بہت تھے لیکن عدالتی فیصلے کے سامنے میں بے بس تھا۔ پھر چلتی گاڑی میں بھٹو صاحب کے ایصال ثواب کے لیے ہاتھ اٹھائے گئے۔ ڈرائیور نے بھی ہاتھ اٹھائے تو اے ڈی سی نے اشارہ کیا کہ تم تو سٹیرنگ ویل پر دھیان دو۔
پھانسی سے پہلے میجر جنرل راحت لطیف نے ڈی سی راولپنڈی سعید مہدی سے کہا کہ بھٹو صاحب کو بتاؤ رحم کی اپیل کا آخری دن ہے۔ سعید مہدی کوٹھڑی تک گئے‘ سلام کیا اور رحم کی اپیل کا ذکر چھیڑا۔ سعید مہدی کی طرف دیکھتے ہوئے بھٹو نے پوچھا: مجھے جانتے ہو؟ تو سعید مہدی نے کہا: سر آپ ذوالفقار علی بھٹو ہیں۔ بھٹو نے اپنے باپ کا نام پوچھا تو سعید مہدی نے کہا: سر شاہ نواز بھٹو۔ بھٹو نے ضیا الحق کے باپ کا نا م پوچھا تو سعید مہدی نے کہا سر نہیں جانتا۔ بھٹو نے کہا: کوئی مولوی حق ہو گا اور کیا تم تصور کر سکتے ہو کہ میں رحم کی اپیل کروں۔ اور جیسا دنیا جانتی ہے بھٹو تختہ دار پر گئے اور رحم کی اپیل نہ کی۔
کارگل پر کافی تفصیل ہے کتاب میں۔ بنیادی حقیقت تو صاف ظاہر ہوتی کہ وزیراعظم نواز شریف کو کارگل آپریشن کا کچھ علم نہ تھا۔ انہیں کیا بیشتر کور کمانڈرز اور نیوی اور ایئر فورس کے سربراہ اس آپریشن کے بارے میں اندھیرے میں رہے۔ یہ تو بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی تھے جنہوں نے نواز شریف کو فون کیا اور کہا کہ ایک طرف لاہور بلانا اور امن کی باتیں اور ساتھ ہی میری پیٹھ میں چھرا گھونپنا۔ نواز شریف پریشان ہو گئے اور کہا معاملات کا پتا کرتا ہوں اور واپس آؤں گا۔ نواز شریف کی غلطی کہ دوبارہ واجپائی کو فون نہ کیا۔ مشرف سے پوچھا تو انہوں نے اوجڑی کیمپ راولپنڈی میں بریفنگ کا کہا۔ یہ کوئی وسط اپریل کی بات ہے۔ بریفنگ میں مشرف نے رام کہانی سنائی کہ کشمیر پر قبضہ ہونے والا ہے۔ سوائے جنرل مجید ملک کے‘ کیا ڈیفنس سیکرٹری جنرل افتخار‘ آئی ایس آئی سربراہ جنرل ضیاالدین بٹ اور ہمار ے دوست فارن سیکرٹری شمشاد احمد خان‘ کسی نے کوئی چبھتا ہوا سوال نہ پوچھا۔ بنیادی سوال تو وزیراعظم کو کرنا چاہیے تھا کہ کس کی اجازت سے آپریشن شروع کیا۔ ایسی کوئی بات وہاں نہ ہوئی۔ اُلٹا پاکستان کی فتح اور کشمیر کی آزادی کیلئے ہاتھ اٹھا کر دعا کی گئی۔
کارگل میں حالات اتنے خراب ہوئے کہ نواز شریف کو صدر بل کلنٹن سے تَرلے کرنے پڑے کہ وہ مداخلت کریں۔ چار جولائی امریکی چھٹی کے دن نواز شریف کلنٹن سے ملے اور پھر جاکر کارگل میں جنگ بندی ہوئی اور پرانی پوزیشنیں بحال ہوئیں۔ پھر یہ تماشا دیکھنے کے لائق ہے کہ بجائے نواز شریف کے شکر گزار ہونے کے مشرف اور ان کے ساتھی یہ کہانی پھیلانے لگے کہ کشمیر تو ہمارے ہاتھ میں تھا لیکن سیاسی لوگ ڈر گئے اور ہمارے شہیدوں کا خون رائیگاں گیا۔ نواز شریف اور ان کی حکومت تب سوئی ہوئی تھی؟ مشرف کو ہٹانا تب چاہیے تھا اور کارگل بیوقوفی کے جو معمار تھے ان کے خلاف ایکشن لینا چاہیے تھا۔ وہ موقع تھا جو نواز شریف نے ہاتھ سے جانے دیا۔ 12اکتوبر تک تو مشرف سنبھل گئے تھے۔ اس وقت اس کو ہٹانا بیوقوفانہ عمل تھا۔ شیکسپیئر جولیئس سیزر میں کیا کہتا ہے کہ ''There is a tide in the affairs of men, which taken at the flood, leads on to fortune...‘‘ یعنی ایک وقت ہوتا ہے کچھ کرنے کو اور وہ وقت ہاتھ سے نکل جائے تو پھر آدمی ہاتھ ملتا رہتا ہے۔ یہی تب ہوا اور اپنی کوتاہی کی بھاری سزا نواز شریف کو بھگتنی پڑی۔ ایسے واقعات پڑھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ دھرتی اور عوام کا کیا قصور کہ کیسے کھوٹے سکے بطور لیڈر شپ اس قوم کو نصیب ہوئے۔ یا تو قصۂ پارینہ ہو پھر اور بات ہے لیکن اشرافیہ اور قیادت کی بات کریں تو ہمہ گیر دیوالیہ پن ہی نظر آتا ہے۔
کون سمجھائے یہ تلخ حقیقت اس قوم کو کہ قائداعظم ہم میں سے نہیں تھے‘ وہ ہر لحاظ سے مختلف تھے۔ سوچ مختلف‘ کردار مختلف۔ جیسا کہ ہماری ناکامیاں گواہی دیتی ہیں ان کے معیار پر ہم اتر نہ سکے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved