تحریر : محمد عبداللہ حمید گل تاریخ اشاعت     18-01-2026

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر قبضے کا عندیہ اور یورپ

ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنہوں نے گرین لینڈ کو ہڑپنے کا خواب دیکھا ہے۔ 1946ء میں ٹرومین انتظامیہ نے ڈنمارک کو گرین لینڈ خریدنے کیلئے 100ملین ڈالر مالیت کے سونے کی پیشکش کی تھی (جس کی مالیت آج تقریباً 11ارب ڈالر بنتی ہے)۔ گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جس کا رقبہ تقریباً آٹھ لاکھ 36ہزار مربع میل ہے‘ یعنی یہ مغربی یورپ کے برابر یا امریکی ریاست ٹیکساس سے تین گنا بڑا ہے۔ ڈنمارک نے ٹرمین کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔ ڈینش عوام کی اکثریت نے اسے اپنی خودمختاری کی توہین قرار دیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے ڈنمارک پر حملے کے بعد 1941ء میں امریکہ نے گرین لینڈ پر قبضہ کر لیا اور اس برفانی جزیرے پر اپنی فوجی تنصیبات قائم کر لیں جبکہ گرین لینڈ کے شمال مغرب میں Pituffik سپیس بیس‘ جو پہلے Thule ایئر بیس کے نام سے جانی جاتی تھی‘ کے ذریعے اس خطے میں امریکہ کی مستقل فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ ہنری ٹرومین کے بعد گرین لینڈ کے حصول کی کوششیں امریکی صدر آئزن ہاور کے دور میں بھی جاری رہیں۔ اس سے نو دہائیاں قبل‘ امریکی صدر اینڈریو جانسن نے بھی گرین لینڈ خریدنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ 1867ء میں الاسکا کی خریداری کے بعد‘ ان کی حکومت نے آرکٹک خطے میں مزید توسیعی اقدامات اٹھانے کا جائزہ لیا۔ بعدازاں امریکی وزیر خارجہ ولیم ایچ سیوارڈ نے روس سے گرین لینڈ کی خریداری کیلئے مذاکرات کی کوشش کی‘ جو ناکام ہو گئی۔ وزیر خارجہ سیوارڈ کی تیار کردہ رپورٹ میں امریکہ کو گرین لینڈ اور آئس لینڈ دونوں حاصل کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ اُس وقت ان جزیروں کی خریداری کا سرکاری جواز ان کی معدنی دولت اور سٹریٹجک ماہی گیری کے علاقے تھے۔ اس حوالے سے ڈنمارک کو کوئی باضابطہ پیشکش نہیں کی گئی تھی۔ امریکی صدر ولیم ہاورڈ ٹافٹ کے دور میں ڈنمارک میں امریکی سفیر مورس فرانسس ایگن نے ڈنمارک اور امریکہ کے مابین جزیروں کے تبادلے کی تجویز دی‘ جس کے تحت امریکہ نے فلپائن کے جزیرے منداناؤ (Mindanao) کو ڈنمارک کے حوالے کرنا تھا اور بدلے میں ڈنمارک سے گرین لینڈ حاصل کرنا تھا۔ اب صدر ٹرمپ کی گرین لینڈ اور کینیڈا کے حصول کی تجاویز کو بھی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 76فیصد سے زائد امریکی گرین لینڈ کے الحاق کے خلاف ہیں جبکہ 86فیصد سے زائد کینیڈا کے الحاق کی مخالفت کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پہلی بار 2019ء میں اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران گرین لینڈ خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی اور اسے ایک ''بگ رئیل اسٹیٹ ڈیل‘‘ قرار دیا تھا۔ تاہم نُوک (Nuuk) اور کوپن ہیگن کی قیادت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور واضح کیا کہ گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ۔ جنوری 2025ء میں اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی صدر ٹرمپ نے پھر اعلان کیا کہ گرین لینڈ کا حصول ''قومی سلامتی کی ترجیح ‘‘ہے۔ چین تائیوان پر حملہ کرے یا روس یو کرین پر‘ امریکہ کے نزدیک وہ جارحیت ہے جبکہ امریکہ خود کسی ملک پر حملہ کرے تو اسے ' قومی سلامتی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
گرین لینڈ دنیا کے کم ترین گنجان آباد ممالک میں شمار ہوتا ہے‘ جس کی آبادی تقریباً 57ہزار ہے۔ یہ 80فیصد برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ گرین لینڈ شمالی بحر اوقیانوس میں امریکہ‘ یورپ اور روس کے درمیان واقع ہے۔ اپنے جغرافیائی محلِ وقوع اور وسیع قدرتی وسائل کی وجہ سے یہ جزیرہ عالمی طاقتوں کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ یہ آرکٹک خطے میں امریکی دفاع‘ نگرانی اور عسکری حکمتِ عملی کیلئے مرکزی مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں امریکی فوجی اڈے اور ریڈار سسٹمز بھی موجود ہیں۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے جیولوجیکل سروے (GEUS) کے مطابق اس جزیرے میں نایاب معدنی عناصر کے تقریباً تین کروڑ 61 لاکھ ٹن ذخائر موجود ہیں۔ معاشی طور پر قابلِ استعمال ذخائر کا اندازہ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق تقریباً 15لاکھ ٹن ہے۔ GEUS میں یہاں گریفائٹ‘ لیتھیم اور تانبے جیسی معدنیات کے ذخائر کی بھی نشاندہی ہوئی ہے‘ جو عالمی توانائی منتقلی کیلئے نہایت اہم ہیں۔ نیشنل جیولوجیکل سروے کے مطابق گرین لینڈ میں گریفائٹ کے 60لاکھ ٹن ذخائر موجود ہیں۔ لیتھیم ‘ جس کی طلب عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق 2040ء تک آٹھ گنا بڑھ سکتی ہے‘کے گرین لینڈ میں تقریباً دو لاکھ 35ہزار ٹن ذخائر ہیں۔ برف پگھلنے کے باعث نئے تجارتی بحری راستوں نے اس خطے میں عالمی دلچسپی مزید بڑھا دی ہے۔ بعض ماہرین گرین لینڈ کو 'خلائی جنگ‘ کیلئے ایک اہم مرکز قرار دیتے ہیں۔ یہ تمام عوامل اس سوال کا جواب ہیں کہ امریکہ گرین لینڈ میں اتنی دلچسپی کیوں رکھتا ہے۔
Pituffikسپیس بیس امریکہ کو دفاع اور نگرانی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ شمالی بحراوقیانوس کی ایک نہایت اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی کرتا ہے‘ جسے GIUKگیپ کہا جاتا ہے (جو گرین لینڈ‘ آئس لینڈ اور برطانیہ کے ناموں کا مخفف ہے)۔ یہ شمالی یورپ کے سمندری علاقوں اور بحرِ اوقیانوس کے درمیان ایک گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ آرکٹک خطرات کو روکنے اور امریکی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کیلئے گرین لینڈ پر کنٹرول چاہتی ہے‘ لیکن کیا امریکہ واقعی گرین لینڈ پر کنٹرول کیلئے جنگ شروع کرے گا یا شاید یہ جنگ کسی نہ کسی شکل میں پہلے ہی شروع ہو چکی ہے؟ اگرچہ ماہرین اس بات پر قیاس آرائیاں کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ جب گرین لینڈ پر قبضے کی بات کرتے ہیں تو اس کا اصل مطلب کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک انفارمیشن وار جاری ہے‘ جس میں اثر و رسوخ بڑھانے کی مہمات‘ غلط معلومات اور مختلف عالمی طاقتوں کی جانب سے اعلیٰ سطحی سفارتی دباؤ جیسے عوامل شامل ہیں۔ 2025ء کے آخر میں ڈنمارک کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس سروس نے تصدیق کی کہ گرین لینڈ مختلف اقسام کی ''پُراثرمہمات‘‘ کا ہدف بنا ہوا ہے۔ ڈینش حکام کی جانب سے امریکی سفارت کاروں کی طلبی بھی ہوئی کیونکہ ایسی خفیہ کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں جن کا مقصد ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کافی عرصے سے گرین لینڈ میں نجی طور پر امریکی شہریوں اور ڈینش حکام سے رابطے میں ہے اور انہیں گرین لینڈ کی آزادی کی تحریک کے حوالے سے خاموش رہنے کا مشورہ دیتا رہا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر گرین لینڈ کے باشندے ڈنمارک سے آزادی کے حامی ہیں مگر اقتصادی بقا پر گفت و شنید جاری ہے۔ٹرمپ انتظامیہ مختلف عوامی پلیٹ فارمز کے ذریعے گرین لینڈ اور ڈنمارک کی قیادت پر دباؤ ڈال رہی ہے ۔ وائٹ ہاؤس نے بارہا کہا کہ گرین لینڈ کا فوجی طاقت سے حصول ہمیشہ سے آپشن رہا ہے‘ جسکی تصدیق سٹیفن ملر جیسے سینئر مشیروں نے بھی کی۔ دیگر امریکی حکام‘ خصوصاً نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک سٹریٹجک جواز گڑھتے ہوئے یہ مؤقف اپنایا کہ ڈنمارک روس اور چین کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں گرین لینڈ کو مناسب سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مارچ 2025ء میں جے ڈی وینس نے گرین لینڈ کے عوام سے کہا تھا کہ وہ ڈنمارک سے تعلقات ختم کریں کیونکہ ڈنمارک نے جزیرے کے دفاع میں خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کی۔ مئی 2025ء میں اس حوالے سے متعدد رپورٹس بھی جاری کی گئیں۔
امریکی جارحانہ اقدامات کے جواب میں ڈنمارک اور گرین لینڈ نے قومی اتحاد کو مضبوط رکھنے کی مشترکہ رابطہ حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ گرین لینڈ کا مستقبل صرف اس کے عوام نے طے کرنا ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں نیٹو کا وجود بھی خطرے میں ہے۔ گرین لینڈ اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کی ناکامی کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ یورپی ممالک کوپن ہیگن کیلئے کس حد تک کھڑے ہوں گے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved