حکمران‘ پیر‘ عالم‘ دانشور‘ صحافی... یہ سب راہنما ہیں۔ رجحان ساز ہیں۔ اگر یہ مثال نہیں بنیں گے تو سماج ان سے کوئی اثر قبول نہیں کرے گا۔ ان کی بات فضا میں تحلیل ہو جائے گی۔
شادی کبھی ایک سماجی تقریب تھی۔ آج جاہ وجلال اور ثروت ودولت کا اشتہار ہے۔ پیر ہو یا عالم‘ سیاستدان ہو یا ریاستی منصب دار‘ تاجر ہو یا زمیندار‘ ان کے بیٹوں بیٹیوں کی شادیاں ملک بھر میں بحث کا موضوع بنتی ہیں۔ شہر کی ٹریفک درہم برہم ہو جاتی ہے۔ دولت کی نمائش ہوتی ہے۔ تحفوں کے انبار لگ جاتے ہیں جن میں سے ایک ایک کی مالیت لاکھوں کروڑوں میں ہوتی ہے۔ یہ تحفے ظاہر ہے کہ تعلقِ خاطرکی وجہ سے نہیں‘ دنیاوی وجاہت کے پیشِ نظر دیے جاتے ہیں۔ جو تاجر ایک غریب رشتہ دار کی مدد پر چند ہزار روپے خرچ کرنے کا روادار نہیں‘ ریاستی مناصب پر فائز شخصیات کے بیٹے بیٹی کی شادی پر لاکھوں کروڑوں کا تحفہ دیتا ہے۔ دینے والا اور لینے والا‘ دونوں جانتے ہیں یہ تحفہ کیوں دیا جا رہا ہے۔
نمائش کے اس کلچر میں شادی کا حقیقی مقصد کہیں کھو گیا ہے۔ شادی ہماری روایت میں ایک خاندان کی تشکیل کا آغاز ہے جسے کل سماج کی اکائی بننا ہے۔ یہ خوشی کا موقع ہے۔ اس میں ان لوگوں کو شریک کیا جاتا ہے جن سے آپ کا ذاتی تعلق ہوتا ہے۔ ذاتی تعلق کے دو مظہر ہیں: رشتہ دار اور ذاتی دوست‘ جن سے آپ کا خاندانی تعلق قائم ہو جاتا ہے‘ جن کے بچے آپ کوچچا کہتے ہیں اور آپ کے بچے ان کو چچا سمجھتے ہیں۔ رشتہ دار یا دوست لازم نہیں کہ آپ کی طرح خوشحال ہوں۔ جب شادیاں دولت اور سماجی تعلقات کی نمائش کا مظہر بن جاتی ہیں تو رشتہ دار اور عزیز دوست پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ شادی کے موقع پر کھانے کا اہتمام بھی سماجی حیثیت کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ غریب رشتہ دار اور قریبی دوست شریک تو ہو جاتے ہیں مگر دل پر بوجھ لیے جاتے اور اس میں اضافے کے ساتھ واپس آتے ہیں۔
کیا اس طرح لوگوں کو شادی بیاہ کی حقیقی خوشی نصیب ہوتی ہے؟ مجھ جیسا متوسط گھرانے کا ایک فرد شاید اس سوال کا درست جواب نہ دے سکے۔ کہتے ہیں جذبات موضوعی ہیں۔ میرے نزدیک خوشی کا جو تصور ہے‘ شاید امرا کے طبقے سے مختلف ہو۔ شاید میں اس نفسیاتی ساخت کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا جو ثروت مند گھرانوں کے بچے میں پیدا ہو جاتی ہے۔ انسانی فطرت کا مطالعہ مگر یہ بتاتا ہے کہ انسانی شخصیت کی بنیادی ساخت ایک جیسی ہے۔ قرآن مجید اس کے لیے 'شاکلہ‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ خوشی ہر دل میں ایک جیسی حقیقت کے طور پر نمودار ہوتی ہے۔ آپ خوش ہوتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ وہی قریب ہو جو آپ کے دل کے قریب ہے۔ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ ان کی شادیوں پہ لاکھوں اور کروڑوں کے تحفے دینے والے ان کے دل کے نہیں‘ ان کے منصب کے قریب ہیں؟
میں حسنِ ظن رکھتا ہوں کہ یہ دولت جائز ذرائع سے حاصل کی گئی ہے۔ شادی پر اٹھنے والے اخراجات آپ کی خون پسینے کی کمائی ہے۔ میں اس بات کو بھی مانتا ہوں کہ سماجی تعلقات ہمسر کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ آپ جس سماجی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں‘ آپ کی رشتہ داریاں اور دوستیاں بھی اسی طبقے میں ہوں گی۔ رشتہ داری اور سماجی تعلق کا حلقہ مگر کتنا وسیع ہو گا؟ کیا خیبر سے کراچی تک‘ ہر امیر آدمی آپ کا دوست ہے؟ کیا ہر سرمایہ دار اور بڑے منصب والا آپ کا رشتہ دار ہے؟ کیا جائز دولت کی نمائش کا کوئی اخلاقی جواز موجود ہے؟ یہ نمائش سے بڑھ کر فضول خرچی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ فضول خرچ کے بارے میں قرآن مجید نے کیا کہا ہے؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کے سماج پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
یہ سب افراد وہ ہیں جو رجحان ساز ہیں۔ یہ قوم کی قیادت کے منصب پر فائز ہیں۔ ان کا کام لوگوں کے سامنے اپنی مثال پیش کرنا ہے۔ ریاست اور حکومت کے اہم مناصب پر فائز لوگ جب اپنے کردار کی گواہی پیش نہیں کریں گے تو ان کی گفتار بے اثر رہے گی۔ سادگی پر ایک عالم کا وعظ بے معنی ہے اگر وہ خود سادگی کا مظہر نہیں بنتا۔ کفایت شعاری پر حکومتی اور ریاستی ذمہ دار کی نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا اگر وہ خود اس نصیحت پر عمل نہیں کرتا۔ صحافی اور کالم نگار کا اگر اپنا دامن صاف نہیں تو اس کو یہ حق نہیں کہ دوسروں کے دامن پر دھبوں کی نشاندہی کرے۔ پیر کا اگر اپنا تزکیہ نہیں ہوا تو وہ دوسروں کا خاک تزکیہ کرے گا؟
اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو وسائل دے رکھے ہیں تو وہ ان کو خرچ بھی کر سکتا ہے۔ دولت کو تجوریوں میں بند رکھنا بھی پسندیدہ نہیں۔ اعتراض اس پر نہیں‘ وسائل کی نمائش اور فضول خرچی پر ہے اور وہ بھی ان لوگوں کی جو سماج کی راہنمائی کرتے ہیں۔ اس سے سماج میں جو رجحان پیدا ہوتا‘ وہ بہت سے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا دیتا ہے۔ لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی مجبور ہوتے ہیں کہ اس رجحان کو اپنائیں۔ دوسرے وسائل نہ رکھتے ہوئے‘ بھی اسی راستے پر چلتے ہیں۔ اسی سے کرپشن اور بدعنوانی کا دروازہ کھلتا ہے کہ عام آدمی جائز وسائل سے یہ سب کچھ نہیں کر سکتا۔ جو بدعنوانی نہیں کر سکتا وہ نفسیاتی عوارض کا شکار ہو جاتا ہے۔ پاکستانی قوم کی اکثریت اگر آج نفسیاتی مریض بن چکی ہے تو اس میں دولت کی نمائش کے اس کلچر کا بڑا ہاتھ ہے۔ کسی دور میں شادیوں پر ایک کھانے کا حکم صادر ہوا تھا۔ افسوس کہ یہ قانون حکمران طبقے کی بے حسی کی نذر ہو گیا۔ اس قانون کا بننا دراصل یہ اعتراف ہے کہ نمائش کا یہ کلچر اصلاح طلب ہے‘ سماج کے لیے بوجھ ہے۔
پاکستان میں آج وسائل کی تقسیم میں عدم توازن اپنے عروج پر ہے۔ ایک طرف خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد بڑ ھ رہی ہے اور دوسری طرف دولت اور وسائل کی کمی نہیں مگر وہ اغنیا کے ہاتھوں میں جمع ہو رہے ہیں۔ وہ ہندو بنیے کی طرح ان کو چھپا کر نہیں رکھتے‘ ان کی نمائش بھی کرتے ہیں۔ اس باب میں ایک غلط فہمی یہ ہے کہ ایثار کرنے سے یہ نمائش جائز ہو جاتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ان لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو انفاق کرتے ہیں اور بڑے پیمانے پر۔ یقینا اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا اجر محفوظ ہو گا۔ انفاق سے مگر فضول خرچی کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ آپ کو وسائل خود پر خرچ کرنے کا حق تو ہے مگر اسراف کا نہیں۔ پھر اگر آپ راہنما ہیں تو آپ کی ذمہ اداری اس سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ کو تو مثال بننا ہے۔
چند برس پہلے امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کی بیٹی کی شادی تھی۔ تحفوں کا انبار لگ گیا۔ سید صاحب نے کہا: یہ سب تحفے جماعت اسلامی کے بیت المال میں جمع کرا دیے جائیں‘ یہ تحفے مجھے نہیں امیر جماعت اسلامی کو ملے ہیں۔ میری یہ خواہش ہی رہی کہ حکمران طبقے میں سے کوئی اٹھے اور بیٹی یا بیٹے کی شادی پر ملنے والے تحائف توشہ خانے میں جمع کرا دے۔ یہ عجب طرفہ تماشا ہے کہ بیرونِ ملک سے ملنے والے تحائف قومی خزانے میں جانے چاہئیں کہ وہ منصب کے سبب سے ملے ہیں مگر ملک کے اندر اسی منصب کی وجہ سے ملنے والے تحفے لوگوں کے گھروں کو چلے جائیں۔ یاد رکھیں‘ عوام حکمرانوں کی تقریروں سے نہیں‘ ان کے اعمال سے اثر لیتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved