تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     19-01-2026

شاہی ٹٹو

'شاہی‘ کا مطلب تو آپ جانتے ہوں گے۔ دوسرے معنوں میں بادشاہی‘ اور شاید ٹٹو کا بھی۔ اس لفظ کو عنوان بنانے کی غرض سے صبح سویرے ادھر اُدھر نگاہ ڈالی تو اس کا ایک دلچسپ مطلب یہ نکلا کہ ارادہ تو ہے‘ پر طاقت نہیں۔ عام طور پر ٹٹو چھوٹے گھوڑے کو بھی کہتے ہیں۔ وہ دن یاد ہے‘ ایران کے سابق شہنشاہ رضا شاہ پہلوی جب 16 جنوری 1979ء کو جہاز میں اپنا سب کچھ لاد کر کسی نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ اس سے تقریباً چار ماہ قبل تعلیم کی غرض سے امریکہ روانہ ہوا تو مشہور زمانہ امریکی ہوائی کمپنی پین ایم کی وہ آخری پروازوں میں سے تھی جو کراچی کے بعد تہران کے ہوائی اڈے پر رکتی تھی۔ چلتی وہ بمبئی سے تھی۔ پاکستان میں تب ایران کے حالات کے بارے میں سب راوی چین ہی چین لکھتے تھے اور خبروں کا واحد ذریعہ کچھ بچے کھچے اخبار‘ جن پر سنسرشپ کی پابندیاں تھیں‘ اور ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن تھے۔ مجھے نہیں یاد کہ یہاں کوئی لرزہ خیز قسم کی خبر چھپی ہو۔ جونہی ہماری کلاسیں وہاں شروع ہوئیں تو خزاں کے اس موسم میں ہماری جامعہ میں روزانہ 12 بجے ایرانی طلبہ سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہوتے اور مرگ بادشاہ کے نعرے لگاتے۔ یہ تو وہاں جا کر پتا چلا کہ ایران کے حالات کس قدر بگڑے ہوئے ہیں۔ ہماری حکومت یہاں شاہ سے وفاداری اور مشرقِ وسطیٰ کے پرانے نظام سے جڑی ہوئی تھی۔ شاہ کا پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک میں امریکی سائے کی وجہ سے بہت اثر ونفوذ تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے جونہی خزاں زمستان میں تبدیل ہوا‘ امریکی میڈیا شاہ کی ایران سے اُڑان کے بارے میں خبریں دے رہا تھا جس کی منزل نامعلوم تھی۔ امریکہ میں صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ شاہ کو پناہ دینے کے لیے تیار نہ تھی۔ اس کہانی کو یہاں چھوڑتے ہیں۔ چند دن پہلے ان کے بیٹے رضا پہلوی کی پریس کانفرنس کو مغربی میڈیا پر دیکھا تو پرانی کہانی ذہن میں گردش کر گئی جو پس منظر کے طور پر آپ کے سامنے رکھی ہے۔
ایران کی تاریخ اور سیاست میں ہماری دلچسپی پرانی ہے‘ اور دو چار دفعہ اس کے بارے میں کہیں پڑھایا بھی ہے۔ ایران کے معزول شاہی خاندان کے بارے میں سب اچھی بُری خبروں سے واقفیت ہے۔ شاہ کی سب سے چھوٹی بیٹی‘ شہزادی لیلیٰ پہلوی کی 31 سال کی عمر میں لندن میں خودکشی کے بارے میں پڑھا تو دل میں کچھ چبھن سی محسوس ہوئی۔ جب اسلامی انقلاب آیا تو اُس کی عمر آٹھ سال تھی۔ موجودہ رضا پہلوی بھی تب کہیں طالبعلم تھا۔ اس خاندان اور ایران کے موجودہ حالات کی اپنی داستان ہے‘ طویل بھی اور غمگین بھی۔ ایران ہو یا کسی اور ملک کے حالات‘ تاریخ کے بغیر آپ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں ماریں گے یا جذبات کا شکار ہو جائیں گے۔ جس سال برصغیر کے مسلمانوں نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی‘ 1906ء میں‘ اُسی سال ایران میں آئین بنا تھا۔ مجلس یا پارلیمان وجود میں آئی تھی۔ اگرچہ بادشاہت مظفر الدین شاہ قاجار کے ہاتھ میں تھی۔ قاجار شاہی خاندان بنیادی طور پر ترک نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ پہلا جمہوری ایرانی انقلاب تھا جس کے نتیجے کے طور پر بادشاہ نے آئین پر دستخط کیے۔ ایرانی دانشور اور سیاستدان گزشتہ صدی کے اوائل ہی میں آئینی بادشاہت کی طرف قدم بڑھا رہے تھے۔ رضا شاہ پہلوی کے والد رضا خان اور ان کے خاندان کا تعلق فوجی گھرانے سے تھا۔ مظفر الدین شاہ نے رضا خان کو 1921ء میں سردارِ سپاہ مقرر کیا۔ ہم اپنی اردو زبان میں اسے سپہ سالار کہتے ہیں۔ چار سال بعد رضا خان نے‘ جب بادشاہ ملک میں نہیں تھا‘ اُس کا تختہ الٹ دیا اور ساتھ ہی مجلس نے اسے بادشاہ مقرر کر دیا۔
رضا شاہ اوّل‘ جس نے پہلوی سلطنت کی بنیاد رکھی‘ عوام میں مقبول‘ اصلاح پسند اور قوم پرست تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران رضا شاہ نے غیر جانبداری دکھائی تو امریکہ اور روس نے مل کر ایران پر قبضہ کر لیا مگر یہاں طاقت میں امریکہ کا پلڑا بھاری تھا۔ اس دوران رضا شاہ کو بزور طاقت بادشاہت سے دستبردار ہونے پر مجبور کرتے ہوئے اس کے بیٹے‘ جس کی آخری پرواز کا ذکر اوپر کیا ہے‘ کو تخت پر بٹھا دیا گیا۔ بادشاہ اور پارلیمان کے مابین گزشتہ نصف صدی سے کبھی سمجھوتا‘ کبھی تناؤ اور کبھی کھلی چپقلش دیکھنے میں آتی رہی۔ ایران کی آئینی جمہوری قوت بادشاہ کو وہی درجہ دینا چاہتی تھی جو برطانیہ کے آئین میں ہے۔ ان قوتوں میں ہر نظریے کے لوگ تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سرد جنگ کا آغاز ہوا تو امریکی مفادات ایران پر مرکوز ہو گئے‘ کہ وہ شاہ کی آخری پرواز تک خطے کی تزویراتی تصویر کا سب سے زیادہ نمایاں لنک تھا‘ بلکہ طاقتور علاقائی قوت کا مہرہ سمجھا جاتا تھا۔ امریکی اثر ورسوخ اور بادشاہ کی اطاعت کے خلاف ایک عرصے سے ایرانیوں کے ذہن میں نفرت پیدا ہو چکی تھی۔ ایرانی اپنے وسائل‘ خصوصاً تیل کی دولت کو اپنی تحویل میں لینا چاہتے تھے۔ اپریل 1951ء میں ڈاکٹر مصدق وزیراعظم بنے تو انہوں نے تیل کی صنعت کو برطانیہ کے چنگل سے آزاد کرانے کی غرض سے قومیا لیا۔ اس پر مغربی دنیا میں کھلبلی مچ گئی۔ رضا شاہ بھی ملک چھوڑ کر بھاگ گیا۔ دو سال بعد برطانیہ اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے مصدق حکومت کا تختہ الٹ دیا اور رضا شاہ کو جہاز میں بٹھا کر واپس تہران لا کر تخت پر بٹھا دیا گیا۔
آج کی صورتحال کے بارے میں گزارش ہے کہ کچھ لکھنے اور بولنے سے پہلے ایرانیوں کی اپنے ملک کی خودمختاری‘ آزادی اور اقتدارِ اعلیٰ کی حفاظت کی اس پرانی تاریخ کو بھی ذرا ذہن میں رکھ لیں۔ آج کل پھر وہی کوششیں زورو ں پر ہیں۔ ان ایجنسیوں میں اب اسرائیل کو بھی شامل کر لیں‘ اور رجیم چینج بدلے ہوئے عالمی نظام اور مشرقِ وسطیٰ کے معروضی حالات کے تناظر میں کوئی راز کی بات نہیں۔ ایران میں بے چینی کے اسباب کی ذمہ داری جب ہمارے مبصرین ایرانی سیاسی نظام‘ اسلامی انقلاب اور داخلی عوامل پر ڈالتے ہیں تو مجھے وہ خاموشی یاد آتی ہے جب ایران میں شاہ کے خلاف انقلابی جذبہ زوروں پر تھا۔ موجودہ رضا‘ جسے شاہی ٹٹو کہا جائے تو درست ہوگا‘ کھلم کھلا امریکی اور اسرائیلی مداخلت کو دعوت دے رہا ہے‘ بلکہ درخواست کر رہا ہے کہ حملہ کرو‘ ایران کو تباہ کرو‘ اور میرے لیے اقتدار کی راہ ہموار کرو۔ اس میں دو آرا نہیں کہ ایرانی قیادت کے کئی داخلی اور خارجی فیصلے درست نہیں تھے‘ مگر کون سا دنیا کا ملک ہے جو غلط اقدامات کا مرتکب نہیں ہوا؟ اگر ایرانیوں کی جمہوری اور آئینی حقوق کی جدوجہد کو دیکھیں تو وہ اپنے وسائل کا خود حل نکال سکتے ہیں اور ایسا ضرور ہوگا۔ ایران کی رجیم کے خلاف امریکہ اور دیگر ممالک ایک عرصہ سے تخریب کاری میں ملوث ہیں۔ یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ماضی میں ایسی کوششیں ناکام ہوئیں۔ ایران پر اقتصادی پابندیوں کا گہرا جال‘ وہ بھی کئی دہائیوں سے‘ پھیلانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ کمزور رجیم کے خلاف بغاوت کو بھڑکایا جائے۔ ایران کے اندر ایک تقسیم ضرور نظر آتی ہے جو بنیاد پرست انقلابیوں اور اصلاح پسند مدبروں کے درمیان ہے‘ جن کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا آیا ہے۔ امریکی یا اسرائیلی مداخلت کے حق میں نہ ایرانی عوام ہیں اور نہ ہی مختلف نظریاتی دھڑے۔ اگر ہیں تو اُسی نوع کے لوگ جو ڈاکٹر مصدق کو اقتدار سے محروم کر کے رضا شاہ کو امریکی جہاز پر واپس لائے تھے۔ شاہی ٹٹو اور اُس کے حامی بھی ایک ایسے ہی جہاز پر بیٹھ کر ایران پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ یاد رکھیں‘ امریکہ اور اسرائیلی مداخلت نہ صرف ایران اور ایرانیوں کو تباہ کر دے گی بلکہ اس آگ کے شعلے اور ان کی حرارت علاقے میں دور دور تک پھیلے گی۔ ایران زندہ باد!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved