تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     19-01-2026

برآمدات‘ بجلی اور ڈیجیٹل معیشت

برآمدات بڑھانے سے متعلق وزیراعظم کے حالیہ اعلانات کے بعد عوامی سطح پر یہ تاثر اجاگر ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ حکومت نے برآمدات میں اضافے کیلئے ایکسپورٹ ایمرجنسی لگانے اور عملی اقدامات میں تیزی لانے پرغور شروع کر دیا ہے۔ موجودہ حالات میں معیشت کو سہارا دینے کا پائیدار راستہ برآمدات کا فروغ ہی ہے۔ اس وقت پاکستان کی سالانہ برآمدات تقریباً 32 ارب ڈالر ہیں‘ جنہیں آئندہ چار سال میں بڑھا کر 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر کے مطابق اگر چار سال میں یہ ہدف حاصل نہ کیا گیا تو پاکستان کو ایک مرتبہ پھر دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے مالی مدد لینا پڑ سکتی ہے۔ وزیر صاحب کا خدشہ درست ہو سکتا ہے بلکہ عمومی رائے یہ ہے کہ ممکن ہے کہ چار سال سے قبل ہی دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت پڑ جائے۔ اس وقت پاکستان پر دوست ممالک کے تقریباً 13 ارب ڈالر کے قلیل مدتی قرضے واجب الادا ہیں‘ جو معیشت پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اب درآمدات اور اخراجات پر منحصر ترقی کے بجائے برآمدات پر مبنی معاشی ماڈل کی بات کر رہی ہے۔ برآمدات میں رکاوٹوں کی ایک بڑی وجہ ٹیکس ریفنڈز کی تاخیر کو سمجھا جا رہا ہے۔ دسمبر میں ایف بی آر کو 330 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا رہا جبکہ اسی دوران ریفنڈ کی ادائیگی میں تقریباً 47 فیصد کمی کی گئی۔ یعنی ٹیکس ریفنڈ روک کر ٹیکس اہداف پورے کرنے کی کوشش کی گئی۔ نہ ٹیکس اہداف حاصل ہوئے اور نہ ہی برآمدکنندگان کی مشکلات میں کمی آ سکی۔ اس کا براہِ راست اثر صنعت اور برآمدی شعبے پر پڑ سکتا ہے کیونکہ صنعتکاروں کا سرمایہ حکومت کے پاس رکا ہوا ہے۔ گزشتہ 24 برسوں میں پاکستان کی برآمدات میں تین گنا تک اضافہ ہو سکا جبکہ اسی عرصے میں ویتنام کی برآمدات 26 گنا بڑھ چکی ہیں۔ شاید پاکستان نے ویلیو ایڈیشن اور نئی عالمی منڈیوں پر توجہ نہیں دی۔ آج بھی ملکی برآمدات کا بڑا حصہ روایتی ٹیکسٹائل اور خام زرعی مصنوعات تک محدود ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ معیشت میں استحکام آ چکا اور پہلی سہ ماہی میں شرح نمو 3.7 فیصد رہی‘ لارج مینو فیکچرنگ نے ابتدائی چار ماہ میں پانچ فیصد ترقی دکھائی۔ تاہم یہ نمو اس وقت تک پائیدار نہیں سمجھی جا سکتی جب تک برآمدات میں واضح اور مسلسل اضافہ نہ ہو۔ اگر حکومت ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور برآمدکنندگان کے اعتماد کی بحالی میں کامیاب ہو جاتی ہے تو 60 ارب ڈالر کا ہدف مشکل ضرور مگر ناممکن نہیں۔ بصورتِ دیگر پاکستان ایک بار پھر قرضوں کے چنگل میں پھنس سکتا ہے۔
برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی ایک اہم وجہ مہنگی توانائی بھی ہے۔ بجلی کے شعبے کی مشکلات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ مالی سال 2025ء میں بجلی کے شعبے کی ایکویٹی 800 ارب روپے منفی ہو گئی۔ اس کی بڑی وجوہات بجلی چوری‘ ریکوری کا کم ہونا اور فروخت میں کمی ہیں۔ پاور سیکٹر کے کل واجبات تقریباً نو کھرب 20 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں‘ جبکہ اثاثے آٹھ کھرب 40 ارب روپے ہیں۔ صرف نظام کو چلانے کیلئے حکومت نے ایک سال میں ایک کھرب روپے سے زائد سبسڈی دی جن میں 552 ارب روپے ڈسکوز کو دیے گئے۔ بجلی کی تقسیم کار دس میں سے چھ کمپنیاں خسارے میں رہیں۔ ان کمپنیوں کو محض گزشتہ سال 258 ارب روپے کا نقصان ہوا‘ جبکہ مجموعی خسارہ تین کھرب روپے تک پہنچ چکا۔ سب سے زیادہ نقصان کوئٹہ الیکٹرک کو ہوا جس کا سالانہ خسارہ تقریباً 113 ارب روپے ہے۔ اب اسے سولر پر منتقل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ ان نقصانات کا بوجھ آخرکار عوام پر ہی ڈالا گیا۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور 3.23 روپے فی یونٹ سرچارج نے پاکستان کو خطے میں سب سے مہنگی بجلی والا ملک بنا دیا ہے۔ نتیجتاً گھریلو اور صنعتی صارفین تیزی سے سولر پر منتقل ہو رہے ہیں۔ حکومت اب ڈسکوز کی نجکاری کی بات کر رہی ہے‘ مگر جب تک بجلی چوری‘ ناقص نظام اور ریکوری کے مسائل حل نہیں ہو جاتے‘ بجلی بحران ختم ہونے کے امکانات کم ہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ حکومت کاروباری برادری کو بھرپور مواقع فراہم کر رہی ہے جس سے پاکستان خوشحال اور مضبوط ملک بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ دوسری جانب چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی فیڈریشن کے صدر کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے دسمبر میں 100 سپننگ اور 400 جننگ فیکٹریاں غیر فعال ہو چکیں اور گزشتہ دو برس میں 150 بڑی ٹیکسٹائل فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔ بھارت میں بجلی کا ریٹ سات سینٹ جبکہ پاکستان میں 12.5سینٹ ہے۔ امریکہ کی بھارت پر بھاری پابندیوں کے باوجود پاکستان برآمدات کے اچھے آرڈرز لینے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا‘ کیونکہ بجلی کی قیمتوں میں تقریباً 63 فیصد کا فرق ہے۔ ایسے حالات میں 25 فیصد اضافی ٹیرف کے باوجود پاکستان مسابقت کے قابل نہیں ہے۔
ادھرحکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے سب سے مقبول طریقے پرسنل بیگیج سکیم کو ختم کر کے ایک نئی پالیسی کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک میں درآمد ہونے والی تقریباً 99 فیصد چھوٹی گاڑیاں اسی سکیم کے ذریعے آتی تھیں مگر اب گاڑی صرف اسی ملک سے خریدی جا سکے گی جہاں درآمد کنندہ مقیم ہو اور ایسی گاڑیاں ایک سال تک فروخت نہیں کی جا سکیں گی۔ حکومت نے پہلے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو گاڑی درآمد کرنے کی سہولت دی تھی لیکن اس سہولت کا غلط استعمال کرنے کی خبریں سامنے آتی رہیں جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے سے ہنڈی حوالہ میں بھی کمی آ سکتی ہے کیونکہ پرسنل بیگیج سکیم کے تحت زیادہ ادائیگیاں ہنڈی حوالہ سے کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔ یہ اقدام مقامی آٹو سیکٹر کیلئے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ جب درآمد شدہ گاڑیاں محدود ہوں گی تو صارفین مقامی گاڑیوں کی طرف رجوع کریں گے جس سے پیداوار اور سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں غیر ضروری‘ اوور سپلائی یا قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔ فوری طور پر متوسط طبقے کیلئے بہتر اور سستی درآمدی گاڑی حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے لیکن اگر حکومت مقامی صنعت کو فروغ دینے اور درآمدات کو منظم کرنے میں کامیاب رہی تو طویل مدت میں پاکستان کی آٹو مارکیٹ زیادہ مستحکم اور محفوظ ہو سکتی ہے۔ پہلے پاکستان میں تین یا چار آٹو مینوفیکچرنگ کمپنیاں تھیں اب ان کی تعداد 13 ہو چکی ہے۔ نئی کمپنیاں توقع کر رہی تھیں کہ اگر وہ ملک میں سرمایہ کاری لا رہی اور نوکریاں فراہم کر رہی ہیں تو استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ ختم ہونی چاہیے۔ نئے فیصلے کو اس پس منظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کی کرپٹو کمپنی‘ ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں‘ جس کے تحت سرحد پار لین دین اور ڈیجیٹل ادائیگی کے آرکیٹکچر کے بارے میں تکنیکی سمجھ بوجھ کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ کرپٹو اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے مالی شمولیت بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان اپنا ذاتی ڈیجیٹل کرنسی سٹرکچر بھی قائم کر سکتا ہے جو ملکی مالیاتی نظام میں شفافیت اور جدت لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز پاکستان کے مرکزی بینک کے ساتھ کام کرے گی اور اپنے ایک ارب ڈالر کے سٹیبل کوائن کو ادائیگیوں کے ڈیجیٹل ڈھانچے کے ساتھ ضم کرے گی۔ اس سے بینکنگ نظام میں شفافیت آ سکتی ہے اور سرحد پار مالیاتی لین دین بھی آسان اور محفوظ ہو سکتا ہے۔پاکستان پہلے ہی دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو پلیٹ فارم بائنانس کے ساتھ دو ارب ڈالر تک کے حکومتی مالیاتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور بلاک چین پر تقسیم کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل مالیاتی انقلاب کی جانب قدم بڑھایا جا رہا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved