یہ چھ بچیاں تھیں اور چودہ بچے! چلئے یوں کہہ لیتے ہیں کہ چھ خواتین تھیں اور چودہ حضرات!! یہ ملک کے اطراف و اکناف سے آئے تھے۔ ان کے رنگ مختلف تھے۔ زبانیں اپنی اپنی تھیں۔ سیاسی نظریات الگ الگ تھے۔ مگر تین چیزیں سب میں مشترک تھیں! پہلی یہ کہ سب پاکستانی تھے۔ دوسری یہ کہ سب لٹریچر سے وابستہ تھے۔ تیسری یہ کہ سب اردو بولتے تھے۔
پاکستان اکادمی ادبیات (پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز) کے جتنے بھی سربراہ آئے‘ سب نے اپنی طرف سے کوشش کی کہ ادب اور ادیبوں کی بہتری کیلئے کام کریں۔ سب کا اپنا اپنا طریقِ کار تھا۔ اپنی اپنی اپروچ تھی اور اپنی اپنی حکمت عملی تھی۔ پہلے سے جو کچھ موجود تھا‘ ہر ایک نے اس میں مثبت اضافہ ہی کیا۔ تاہم موجودہ سربراہ‘ ڈکٹر نجیبہ عارف نے ایک بالکل نئی جہت متعارف کرائی اور ایک ایسا کام کیا جو پہلے نہیں ہوا تھا۔ یہاں یہ عرض کرنا لازم ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ سے رشتہ داری ہے نہ ان سے کوئی کام نہ غرض! اکادمی ادبیات میں جانا بھی صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی تقریب کیلئے خصوصی دعوت دی گئی ہو۔ یہاں تو طارق نعیم کا شعر ہی اس لیے پسند ہے کہ مزاج پر صادق آتا ہے:
یوں ہی تو کُنجِ قناعت میں نہیں آیا ہوں
خسروی‘ شاہجہانی‘ مری دیکھی ہوئی ہے
ڈاکٹر صاحبہ نے ملک کے دور افتادہ گوشوں سے نوجوان ادیبوں اور شاعروں کو اسلام آباد بلانے کا سلسلہ شروع کیا۔ گزشتہ برس پہلا گروہ تھا جو وفاقی دارالحکومت آیا۔ طریقِ کار شفاف رکھا گیا ہے۔ میڈیا میں اشتہار دیا جاتا ہے۔ شرائط بتائی جاتی ہیں۔ جو نوجوان دلچسپی ظاہر کرتے ہیں‘ ان کے کوائف پرغیرجانبداری سے غور ہوتا ہے۔ منتخب ہونے والوں کو اکادمی کے خرچ پر اسلام آباد بلایا جاتا ہے۔ ہفتہ یا دس دن اکادمی کے مہمان خانے (رائٹرز ہاؤس) میں قیام کرتے ہیں۔ اس دوران انہیں ہر ممکن ایکسپوژر مہیا کیا جاتا ہے۔ وہ اکادمی میں ہونے والی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ ان کیلئے خصوصی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ اہم ترین حصہ اس پروگرام کا سینئر ادیبوں سے خصوصی ملاقاتوں پر مشتمل ہے۔ ادیب انہیں اپنے ہاں مدعو کرتے ہیں‘ گفتگو ہوتی ہے‘ مکالمہ ہوتا ہے‘ سوال و جواب ہوتے ہیں۔ یہ نوجوان تو سیکھتے ہی ہیں‘ سینئر ادیب بھی اس نئی نسل سے بہت کچھ اخذ کرتے ہیں۔ گزشتہ برس بیس افراد پر مشتمل پہلا بیچ تھا‘ اس میں تین خواتین تھیں۔ اب کے‘ یعنی اس سال خواتین کی تعداد چھ ہے (تیس فیصد) جو حوصلہ افزا ہے ۔ امید ہے کہ ہوتے ہوتے یہ تعداد پچاس فیصد تک پہنچ جائے گی۔ اس سارے منصوبے کیلئے فنڈز درکار ہوتے ہیں۔ جو لوگ کارِ سرکار سے آشنا ہیں‘ جانتے ہیں کہ وزارتِ خزانہ سے فنڈز حاصل کرنا آسان کام نہیں۔ پھر‘ وزارتِ خزانہ اور اکادمی کے درمیان‘ اکادمی کی اپنی وزارت (قومی ورثہ و ثقافت) بھی پڑتی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ اور ان کی ٹیم کی بہادری ہے کہ انہیں اس پروجیکٹ کیلئے مطلوبہ فنڈز حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی۔
آج کل نوجوان ادیبوں کا یہ وفد آیا ہوا ہے۔ یہ خواتین و حضرات گھوٹکی‘ خیر پور‘ لاڑکانہ‘ حیدرآباد‘ نوشہرہ‘ مانسہرہ‘ چارسدہ‘ مینگورہ‘ کوئٹہ‘ خاران‘ خضدار‘ جڑانوالہ‘ لیہ‘ شاہ پور‘ ساہیوال‘ حافظ آباد‘ سکردو‘ گانچھے اور مظفر آباد سے ہیں۔ ان کے انتخاب میں قومیت‘ علاقہ یا مذہب نہیں دیکھا گیا۔ صرف یہ دیکھا گیا ہے کہ ادب سے وابستہ ہوں اور پاکستانی ہوں۔ فرخ یار اور محمد حمید شاہد جیسے ثقہ اہلِ قلم کے ہاں ان نوجوانوں کے اعزاز میں تقاریب منعقد ہوئیں جن میں گفتگو اور بحث مباحثہ ہوا۔ یہ وہ فائدہ ہے جو صرف اسلام آباد جیسے شہر میں آکر ہی اٹھایا جا سکتا تھا۔ ڈاکٹر امینہ اکادمی کی طرف سے اس منصوبے کی انچارج ہیں۔ ڈاکٹر امینہ اردو ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور ایک اچھی لکھاری اور نقاد ہیں۔ ان کی معیت بھی ان نوجوانوں کیلئے علمی حوالے سے نفع بخش ہے۔ وابستگانِ ادب کا یہ خوش اطوار گروہ میرے ہاں بھی جلوہ افروز ہوا۔ مستقبل کے ان بڑے ادیبوں کو نصیحت تو خیر کیا کرنا تھی‘ کچھ مشورے ضرور دیے۔ تین نکات‘ بطور خاص ان کے ساتھ شیئر کیے گئے۔ اول یہ کہ پاکستان امریکہ ہے نہ یورپ نہ جاپان۔ ان ترقی یافتہ ملکوں میں قلم کے زور سے آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ کتاب لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتی ہے۔ بھاری رائلٹی دی جاتی ہے۔ پاکستان میں یہ سب کچھ ممکن نہیں ہے۔ 25کروڑ کی آبادی میں ادبی کتاب ایک ہزار کی تعداد میں چھپتی ہے۔ بہت کم‘ بہت ہی کم کتابیں ایسی ہیں جو دوسرے یا تیسرے ایڈیشن تک پہنچ پاتی ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ جیسا ادیب تو خال خال ہی ہوتا ہے جس کی ایک ایک تصنیف کے لاتعداد ایڈیشن چھپے ہیں اور چھپ رہے ہیں۔ اس لیے نوجوان ادیبوں پر لازم ہے کہ سب سے پہلے معقول روزگار کا بندوبست کریں اور ادب میں اس طرح نہ کھو جائیں کہ فیملی کی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکیں! پاکستان جیسے ملک میں ادب کی فری لانسنگ خطرے سے خالی نہیں۔ آسودگی اور خوشحالی پر ادیب کا بھی حق ہے اور اس کیلئے کوشش کرنا ضروری ہے۔ دوم یہ کہ سوشل میڈیا کے نشے سے پرہیز کرنا ہو گا۔ ادبی جریدوں میں چھپنے کو ترجیح دینا ہو گی۔ ادبی جریدے تربیت گاہ کا کام بھی کرتے ہیں۔ فنون‘ اوراق‘ سویرا اور شب خون جیسے عظیم الشان ادبی پرچوں کی پرانی فائلوں کو حاصل کرنا چاہیے اور ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ چند معیاری پرچے آج بھی نکل رہے ہیں۔ سوم یہ کہ ادبی مناقشوں‘ مناظروں اور مجادلوں سے کوسوں دور رہنا چاہیے۔ ہر شخص توجہ کے قابل ہوتا ہے نہ ہر موضوع اور نہ ہر اعتراض! بیکار کی بحثوں میں نہیں پڑنا چاہیے۔ دوسروں پر اعتراضات کرنے اور ان کی غلطیاں نکالنے کے بجائے مطالعہ پر اور تخلیقی کام پر توجہ دینی چاہیے۔ بہت سے صاحبانِ کمال نے مناقشوں اور مجادلوں میں پڑ کر اپنے آپ کو ضائع کر دیا۔ اس سے برکت بھی اٹھ جاتی ہے اور وقت کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔ ان نوجوانوں کے سوالات بہت اچھے تھے اور اہم تھے۔ انہوں نے غزل‘ نثری نظم اور دیگر اصناف کے حوالے سے جاندار سوالات پوچھے۔ خود بھی بحث میں حصہ لیا۔
ادب اور سیاست کے حوالے سے جو نزاکتیں درپیش آتی ہیں ان پر بھی بات ہوئی۔ یوں ان کے ساتھ مکالمہ خود میرے لیے بہت مفید تھا اس لیے کہ ہماری عمر کے ادیبوں کو نئی نسل سے سیکھنے کیلئے بہت کچھ ملتا ہے! تقریب میں معروف شاعر اور اسلام آباد کی ادبی اور ثقافتی زندگی کے روح و رواں جناب محبوب ظفر بھی موجود تھے۔ سوال جواب کے سیشن میں انہوں نے نظم و ترتیب کو توازن سے گرنے نہ دیا۔
چند تجاویز پیش کرنے کی جسارت کی جا رہی ہے بشرطیکہ اکادمی ادبیات ان تجاویز کو دخل در معقولات پر نہ محمول کرے! اول یہ کہ جن سینئر ادیبوں سے ملاقات کرائی جاتی ہے‘ ان کے حوالے سے ان نوجوانوں سے فیڈ بیک لیا جائے۔ یہ ملاقاتیں کتنی مفید تھیں؟ اس بارے میں ان کی رائے لی جائے۔ دوم یہ کہ قیام کے آخر میں ہر نوجوان اس پورے منصوبے کے متعلق اپنے تاثرات تحریری شکل میں اکادمی کو دے‘ مزید بہتری کیلئے اپنے تجربے کی روشنی میں تجاویز بھی پیش کرے اور کوتاہیوں کی بھی نشاندہی کرے۔ سوم یہ کہ ایک ٹرپ ان نوجوانوں کو ٹیکسلا عجائب گھر اور وہاں کے آثار قدیمہ کا بھی لگوایا جائے۔ چہارم یہ کہ ان نوجوانوں کو کسی بڑے پبلشنگ ہاؤس میں لے جایا جائے تا کہ ادب اور کتاب کے درمیان جو سفر درپیش ہوتا ہے اس کی تفصیلات اور نزاکتوں سے آگاہ ہوں!! پبلشنگ ہاؤس والوں سے ان نوجوانوں کا سیشن لازم ہے تاکہ انہیں اشاعت کی دنیا سے کچھ واقفیت حاصل ہو۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved