تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     20-01-2026

کچھ بھی تو ٹھیک نہیں جا رہا

پاکستان میں تحمل‘ برداشت اور رواداری کی حالت یہ ہے کہ اب یا تو آپ میرے ساتھ ہیں یا پھر میرے مخالف کے ساتھ ہیں۔ اگر آپ میرے لیڈر یا مرشد کے ممدوح نہیں تو آپ یقینا میرے مخالف کے ایجنٹ ہیں۔ آپ کو اب یہ حق قطعی طور پر حاصل نہیں کہ آپ اپنا ذاتی نقطہ نظر آزادی‘ سہولت اور عزت کے ساتھ پیش کر سکیں۔ درمیانی راستہ اب مکمل طور پر ختم یا بند ہو چکا ہے۔ اگر آپ موجودہ حالات کا رونا روئیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ موجودہ حکمرانوں کے ناقد ہیں۔ ظاہر ہے تنقید تو مخالف ہی کرتے ہیں لہٰذا اکائی کے آفاقی قاعدے کے مطابق آپ موجودہ حکمرانوں کے مخالف ہیں اور اس حساب سے سیدھے سیدھے پی ٹی آئی کے حامی بلکہ باقاعدہ یوتھیے ہیں۔
بندہ پوچھے اگر آپ آج آٹا چینی لینے بازار جائیں اور ہر دو اشیا ریکارڈ مہنگی قیمت پر ملیں تو تبرا کس پر کرنا واجب بنتا ہے؟ موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سنبھالے چار سال ہونے والے ہیں‘ اب تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ گنے اور گندم کی فصل گزشتہ حکمرانوں کے دور میں کٹ کر منڈی میں آئی تھی۔ کالم کی تنگ دامنی کے باعث اب یہ بھی ممکن نہیں کہ آٹے اور چینی کی حالیہ قیمتوں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اس معاملے کو ایوب خان کے زمانے میں ہونے والے اُن نعروں سے شروع کیا جائے جو آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اس سلسلے میں شاید عوامی بے چینی کا پہلا باقاعدہ ردعمل تھے۔ اخبار مقدمہ ابن خلدون نہیں کہ برسوں آپ کی لائبریری کی زینت بنا رہے۔ یہ خبر سے جڑی ہوئی ایسی دستاویز ہے جو روزانہ سورج کی طرح طلوع ہوتی ہے اور شام کو غروب ہو جاتی ہے۔ اس کی کل زندگی یہ ہے کہ اگر یہ آج اخبار ہے تو کل ردی ہو کر اپنے کالموں سمیت ردی فروش کے کاٹھ کباڑ میں پڑا ہوگا۔ اخبار شاید لکھی‘ چھپی اور پڑھی جانے والی سب سے کم عمر اور ناپائیدار شے ہے۔
ہم جیسے لکھنے والوں کا المیہ یہ ہے کہ جب ہم عمران خان کے دورِ حکومت میں خوابوں کے ہوائی قلعے بناتے ہوئے کٹوں‘ وچھوں‘ مرغیوں اور بھنگ کی کاشت سے ملکی معیشت کو بام عروج پر لے جانے والے منصوبوں پر‘ مراد سعید کے سوئٹزرلینڈ کے بینکوں سے دو سو ارب ڈالر وصول کرکے آئی ایم ایف کے منہ پر مارنے جیسے دعوؤں پر‘ عثمان بزدار جیسے نابغہ روزگار کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کا چیف ایگزیکٹو لگانے پر‘ پیسے دے کر ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او لگانے کی ایجاد پر‘ سرکاری اداروں میں کی جانے والی من پسند تقرریوں پر‘ وزیراعظم جیسے معزز اور ہمہ جہت عہدے کو ملکی بہتری اور عوامی فلاح کے بجائے ہمہ وقت مخالفین پر تنقید کیلئے مرکوز کرنے پر اور ہمیں ڈنمارک کے سائیکل سوار وزیراعظم کا جھانسہ دے کر خود سرکاری ہیلی کاپٹر کو رکشے کی طرح استعمال کرنے پر کچھ لکھتے تھے تو اُن کے جانثار ہمیں پٹواری قرار دینے کے ساتھ ساتھ اپنی بدکلامی‘ بدتمیزی اور بدزبانی کی بھرپور صلاحیتوں کی نوک پر چڑھاتے ہوئے ممکنہ حد تک رگیدتے تھے۔ اگر ہم اب موجودہ حکمرانوں کی نااہلیوں‘ نالائقیوں اور خامیوں پر قلم اٹھاتے ہیں‘ فارم 47کا ذکر کرتے ہیں‘ ووٹ کو عزت دو والوں کے ہاتھوں ووٹ کی تحقیر و تذلیل پر قلم اٹھاتے ہیں یا ملکی معیشت پر ان کے جھوٹ سے بھرے ہوئے بیانیے کا کچا چٹھا کھولتے ہیں تو ن لیگیے اور تنخواہ دار پٹواری ٹائپ سیاسی غلام زادے ہمیں یوتھیے قرار دے کر اپنے دل کے حسرتوں اور ناآسودہ خواہشات کا سارا غصہ ہم پر نکال کر اپنا دل ٹھنڈا کرتے ہیں۔ لیکن کم از کم اس فقیر کو اس کی رتی برابر پروا ہے اور نہ ہی ملال کہ اسے اپنی ناقابلِ اصلاح خراب عادتوں کا بھی خوب اندازہ ہے اور اپنے اپنے لیڈر اور مرشد کی غیرمشروط وفاداری میں جکڑے ہوئے عقل سے باقاعدہ قطع تعلق کرنے والے مریدوں کی ذہنیت اور صلاحیتوں کا بھی مکمل ادراک ہے۔ ایسے میں یہ سب کچھ حالانکہ You asked for it کے زمرے میں آتا ہے مگر درویش صرف مطمئن ہی نہیں‘ خوش بھی ہے۔ کسی نے درست کہا ہے کہ ''کسی شے پر بلا دلیل ایمان لے آنے والوں کے نزدیک دلیل سے بات کرنے والا خائن اور کذب بیان ہوتا ہے‘‘۔ اب ایسے لوگوں سے بندہ کیا بحث کرے جو دلیل‘ ثبوت یا حقائق وغیرہ جیسی چیزوں کو فضولیات سمجھتے ہوں۔ کسی جگہ پر پڑھا کہ بحث کرنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ شہد کی مکھی گندگی پر بیٹھنے والی مکھی کو کبھی بھی اس بات پر قائل نہیں کر سکتی کہ شہد پاخانے سے بہتر ہے۔
کچھ عرصہ پہلے جب اس قلم گھسیٹ نے لکھا کہ کئی ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنیاں پچیس کروڑ آبادی والے اس ملک کی مارکیٹ کو چھوڑ کر واپس جا رہی ہیں اور ملکی پیداواری یونٹس‘ خصوساً ٹیکسٹائل یونٹس بند ہو رہے ہیں جو ملکی جی ڈی پی میں کمی سے قطع نظر روزگار کے حوالے سے بہت الارمنگ صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ان صنعتوں اور اداروں کے بند ہونے کے باعث ملازمتوں سے فارغ ہونے والے لوگ پہلے سے قومی لیبر فورس کے مطابق گزشتہ سال ملک میں بیروزگاری کی شرح‘ جو سال 2023-24ء میں 6.8فیصد تھی‘ 2024-25ء میں بڑھ کر 7.1 فیصد ہو گئی ہے۔ اب اس موازنے پر بھی تنخواہ دار اعتراضیے پٹواری کہیں گے کہ اس خائن اور بے ایمان کالم نویس نے ان سالوں کا تذکرہ نہیں کیا جب اس ملک پر عمران خان کی نااہل حکومت فائز تھی تو سوچا لگے ہاتھوں آج یہ والا معاملہ بھی لپیٹ ہی دوں۔ 2018-19ء میں یہ شرح 6.9 فیصد تھی جو 2019-20ء میں کم ہو کر 6.6 فیصد ہو گئی۔ 2020-21ء میں یہ شرح مزید کم ہو کر 6.3 فیصد ہو گئی۔ 2021-22ء میں بھی یہ شرح 6.3 فیصد ہی تھی جبکہ 2022-23ء میں یہ شرح 6.8 فیصد ہو گئی۔ یہ تمام اعداد و شمار حکومتِ پاکستان کے فنانس ڈپارٹمنٹ کے لیبر فورس سروے پر مشتمل ہیں۔
اس کالم نویس کے ملکی صنعتوں کے بند ہونے اور ملٹی نیشنلز کے ملک چھوڑ جانے والے کالم پر تنخواہ داروں نے ایک پنجابی لفظ کے مطابق بڑا ''کاکو رولا‘‘ مچایا مگر گزشتہ دنوں اس بات کا اقرار خود وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کیا اور پھر دوچار روز قبل فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (FPCCI) کے پیٹرن اِن چیف اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) کے سابق صدر ایس ایم تنویر نے‘ جو گزشتہ نگران حکومتِ پنجاب کے وزیر صنعت و تجارت و توانائی بھی تھے‘ اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ملک میں گزشتہ دو سال کے دوران ٹیکسٹائل کے 100سے زائد یونٹس بند ہو چکے ہیں۔ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ ایک اور اندازے کے مطابق ٹیکسٹائل کی کل 187 ملز بند ہو چکی ہیں جس سے کم از کم 50 ہزار لوگ بیروزگار ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ ایس ایم تنویر سیاسی طور پر غیرجانبدار اور بزنس کمیونٹی کے نمایاں نمائندے کے طور پر اپنا خاص مقام رکھتے ہیں۔ اگر انہیں غیرجانبداری کے زمرے سے خارج بھی کیا جائے تو کم از کم وہ آج کل والی راندۂ درگاہ پارٹی سے ہر گز تعلق نہیں رکھتے‘ وگرنہ وہ گزشتہ نگران حکومت میں وزیر تو کسی صورت میں بھی نہ ہوتے۔
جنوبی پنجاب‘ جو کبھی کپاس اور جننگ کا گڑھ تھا‘ فارغ ہو چکا ہے۔ پانچ سو کے لگ بھگ جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔ بدترین حکومتی پالیسی کے طفیل کسان کی جو گندم بائیس سو روپے من میں فروخت ہوئی تھی آج اڑتالیس سو سے پانچ ہزار روپے من فروخت ہو رہی ہے۔ پہلے کسان برباد ہوا اب عوام لٹ رہی ہے۔ سستی گندم عوام کو تو نہیں ملی‘ ہاں! البتہ ذخیرہ اندوزوں کے مزے ہیں۔ ایک طرف کچھ بھی ٹھیک نہیں جا رہا جبکہ دوسری طرف لاہور کی زمین حکومتی بینروں سے سجی ہوئی ہے اور آسمان رنگدار پتنگوں سے سجنے جا رہا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved