مرزا غالب نے کہا تھا: سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری۔ سو سے نہ سہی مگر دو پشت سے محمود اچکزئی کا پیشہ ''سیاست گری‘‘ ہے۔ اچکزئی صاحب سے فقیر کی ہلکی پھلکی یاد اللہ ہے۔ میں نے 2002ء سے 2008ء تک کی قومی اسمبلی کی گیلری میں بیٹھ کر کئی بار اُن کی تقاریر سنیں۔ میں نے انہیں ہمیشہ جمہوریت‘ خوشگوار سیاست‘ باہمی احترام اور تحفظِ آئین کی باتیں کرتے ہوئے سنا۔ مرزا غالب ہی کی زبانی اُنکا مسلک بھی سن لیجئے:
آزادہ روہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل
ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
محمود خان کے والد عبدالصمد خان اچکزئی کا تعلق گلستان بلوچستان سے تھا۔ وہ ایک معروف قبائلی شخصیت‘ سیاسی رہنما‘ ادیب اور انسانی حقوق کے علمبردار تھے۔ ان کی زندگی کا طویل عرصہ جیلوں میں گزرا۔ محمود اچکزئی کی سیاسی تربیت میں مرحوم عبدالصمد اچکزئی کا بہت بڑا کردار تھا۔ والد گرامی مولانا گلزار احمد مظاہری مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ان ساتھیوں میں شامل تھے جنہیں ایوب خانی حکومت نے 1964ء میں پس دیوار زنداں بھیج دیا تھا۔ والد صاحب کے بارے میں میری کتاب ''زندگانی۔ جیل کہانی‘‘ میں شامل ان کی مطبوعہ ڈائری میں انہوں نے تحریر فرمایا: ''آج 7مئی 1964ء کو خان عبدالصمد اچکزئی کو سیالکوٹ جیل سے لائل پور جیل منتقل کیا گیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ بتا رہے تھے کہ آپ لوگوں کے حوالے سے اخبارات اور اسمبلی میں لائل پور جیل کی سختیوں کی بات ہوئی تو حکومت نے اچکزئی صاحب کو یہاں بھیج دیا۔ ہم نے اچکزئی صاحب کو کھانا بھیجا‘ بہت خوش ہوئے اور شکریہ ادا کیا‘‘۔ والد محترم کی جیل ڈائری کے کئی مقامات پر عبدالصمد اچکزئی صاحب کا تذکرہ ملتا ہے۔ تب سختی کے باوجود جیل کے اندر میل جول کی سہولتیں موجود تھیں۔
محمود خان اچکزئی ایک جہاندیدہ اور سرد و گرم چشیدہ سیاستدان ہیں۔ ایک بار وہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور تین چار بار وہ قومی اسمبلی کے ممبر بن چکے ہیں۔ موجودہ قومی اسمبلی میں وہ اپنی صلح کل پالیسی کی بنا پر بہت نمایاں ہوئے۔ اگست 2025ء میں جب عمر ایوب کو نااہل قرار دیا گیا تو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے والے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود اچکزئی کو تحریک انصاف کی طرف سے اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا۔ پانچ ماہ تک اس نامزدگی کا نوٹیفکیشن نہیں ہوا۔ جب سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 16جنوری 2026ء کو انہیں باقاعدہ قائد حزبِ اختلاف نامزد کیا تو سیاسی و صحافی حلقوں کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ سچ پوچھیں تو پارلیمنٹ اب مکمل ہوئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر اسمبلی کیلئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا قائد ایوان۔ خبروں کے مطابق سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے علامہ راجہ ناصر عباس کی سینیٹ میں بطور اپوزیشن تقرری کا فیصلہ کر لیا ہے‘یہ بھی ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ دیگر کئی سینئر صحافیوں کے برعکس فقیر کے پاس حصولِ معلومات کے کوئی شخصی ذرائع نہیں‘ ہم تو جو کچھ عرض کرتے ہیں وہ الیکٹرانک میڈیا پر سنی اور اخبارات و جرائد میں پڑھی ہوئی معلومات ہی سے اخذ کردہ ہوتا ہے؛ البتہ یہ محسوس ہو رہا ہے کہ یقینی طور پر مراکزِ طاقت کے زاویۂ نگاہ میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔ اسی طرح ہمارا یہ بھی اندازہ ہے کہ اچکزئی صاحب کی اس تقرری میں میاں نواز شریف کا بھی مرکزی کردار ہوگا۔ سبب کچھ بھی ہو‘ اچکزئی صاحب کی یہ تقرری جمہوریت و سیاست کیلئے باعث خیر ہوگی۔ محمود خان اچکزئی قومی اور علاقائی سیاست میں کسی قسم کے تشدد کے کبھی قائل نہیں رہے۔ وہ صرف اور صرف جمہوریت اور تحمل و برداشت کی سیاست کے پرچارک ہیں۔ 2004ء سے 2010ء تک کے زمانے میں ان سے اسلام آباد میں کئی بار تبادلۂ خیال کا موقع ملا تھا۔ چند ماہ قبل وہ اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر لاہور آئے تھے تو ان سے ملاقاتوں کا موقع ملا تھا۔
اچکزئی صاحب ان دنوں بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن اور میاں نواز شریف مل کر بیٹھیں‘ وہ پاکستان کے آئین‘ جمہوریت‘ صاف شفاف انتخابات‘ قانون کی حکمرانی‘ پارلیمنٹ کی بالادستی اور ایک بااختیار الیکشن کمیشن پر اتفاقِ رائے قائم کریں۔ اس میثاقِ جمہوریت پر عمران خان سے دستخط میں کرا لوں گا۔ موجودہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور سابق سپیکر اسد قیصر کے بارے میں ہماری ہمیشہ نہایت مثبت رائے رہی ہے۔ اچکزئی صاحب کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ مخالف بلکہ متحارب سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر کیسے لانا ہے۔ تحریک انصاف کے بعض قائدین و کارکنان کو اچکزئی صاحب کی نامزدگی کے بارے میں پہلے کچھ تحفظات تھے‘ مگر جب عمران خان نے بنفس نفیس انہیں نامزد کر دیا تو پھر کسی تبصرے کی کوئی گنجائش نہیں۔ دوسری طرف بعض سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران خان اچکزئی صاحب پر مذاکراتی سفر کے دوران کسی بھی وقت بے اعتمادی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اسد قیصر صاحب کے بقول اچکزئی صاحب کے پاس مذاکرات کا مکمل مینڈیٹ ہے۔ یوں بھی عمران خان کو انگریزی محاورے کے مطابق یہ علم تو ہوگا کہ Half confidence is no confidence۔ ہماری رائے میں اچکزئی صاحب جیسے صلح کل اور صلح جُو شخص کی بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اس اہم منصب پر نامزدگی سے یہ عیاں تھا کہ اب تحریک انصاف پارلیمنٹ اور مذاکرات کی طرف مائل ہے۔ اچکزئی صاحب کے خیالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ وہ ملک کے سرحدی علاقوں میں بھی طاقت کے بجائے ڈائیلاگ سے مسائل حل کرنے پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ اس وقت ملک کی حکمران جماعت سمیت دیگر جماعتیں بھی سیاسی استحکام کی ضرورت محسوس کر رہی ہیں۔ ہماری مغربی سرحدوں پر افغانستان و ایران میں جو صورتحال ہے‘ اس کے پیشِ نظر یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سیاسی کے ساتھ ساتھ ملک کیلئے معاشی استحکام بھی ازبسکہ ضروری ہے۔ پاکستان کے صنعتکار برملا بیان دے رہے ہیں کہ انڈسٹری وینٹی لیٹر پر ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ایک بڑے دفاعی معاہدے کے بعد بھی کوئی قابلِ ذکر سرمایہ کاری ملک میں نہیں آئی۔ اگر مقتدر حلقوں میں صرف سیاسی قوتوں کا ذکر کیا جائے تو یہ ایک سہ فریقی امتحان ہے۔ پہلا امتحان تو جناب محمود خان اچکزئی کا ہے کہ کیا وہ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان جیسا کردار ادا کر سکیں گے؟ ہمیں زمانہ طالب علمی اور اس کے بعد بھی کئی بار نوابزادہ صاحب سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا تھا۔ وہ دلیل اور دلجوئی‘ دونوں طریقوں سے سامع کو قائل کرنے اور ملکی و قومی اتحاد اور جمہوریت کیلئے آمادۂ مذاکرات کرنے کی قدرتی صلاحیت سے مالا مال تھے۔ جناب محمود اچکزئی کی شخصیت میں بھی بابائے جمہوریت والی کشش اور سیاسی خوش طبعی بڑی حد تک موجود ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جناب اچکزئی آٹھ فروری کے روز پی ٹی آئی کی طرف سے دی گئی پہیہ جام کی ہڑتال سے پہلے پہلے کتنا بریک تھرو کر پاتے ہیں۔
تحریک انصاف کے قائدین نے بھی اچکزئی صاحب سے بہت امیدیں باندھ رکھی ہیں۔ تاہم اگر وہ سیاست کو پُرجوش گرم بیانوں اور سڑکوں سے پارلیمنٹ کے اندر لانے اور تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ بہت بڑی سیاسی پیشرفت ہو گی۔ اس کے ساتھ اچکزئی صاحب کے ساتھ جڑی تحریک انصاف کی اُمیدیں کہ جن میں بانی سمیت دیگر قیدیوں کی رہائی شامل ہے‘ کی راہ بھی کسی حد تک ہموار ہو سکتی ہے۔ہماری دعا ہے کہ جناب محمود خان اچکزئی کے ساتھ قوم کی وابستہ اُمیدیں برگ و بار لے آئیں اور ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کا دور دورہ ہو۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved