دنیا کے جمہوری ملکوں اور معاشروں میں مقامی حکومتوں کا نظام عوام کو درپیش مسائل کے حل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جمہوری معاشروں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات تسلسل کے ساتھ ہوتے ہیں اور انہیں ممکنہ اختیارات کے ساتھ وسائل کی فراہمی بھی یقینی بنائی جاتی ہے۔ پاکستان کے آئین میں بلدیاتی سسٹم کو آرٹیکل 140اے کے تحت سیاسی اور انتظامی حوالے سے خود مختار کرنے کی بات تو کی گئی ہے مگر بلدیاتی انتخابات کو آئینی تحفظ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے یہاں انتخابی عمل کا تسلسل یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ سیاسی جماعتوں کے آئین اور ان کے منشور میں بھی بلدیاتی سسٹم کو بااختیار بنانے کی بات کی گئی ہے لیکن عملاً سیاسی جماعتوں اور حکومتوں نے اس حوالے سے گریز برتا اور ماضی میں جب بھی بلدیاتی انتخابات ہوئے‘ عدالت کی ہدایت اور الیکشن کمیشن کے دبائو پر ہوئے ۔ صوبائی حکومتیں اس حوالے سے خود بھی صرفِ نظر کرتی رہیں اور برملا ان اداروں کے اختیارات بیورو کریسی کے ذریعے استعمال میں لائے گئے۔ آج جب ملک میں مضبوط سیاسی اور جمہوری سسٹم کی بات ہوتی ہے تو ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ مضبوط سیاسی سسٹم بلدیاتی انتخابات اور مقامی حکومتوں کے قیام ہی سے ممکن ہے اور اسی سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
آج پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مسئلہ درپیش ہے ۔یہاں آخری بلدیاتی انتخابات ایک دہائی قبل ہوئے تھے‘ اس کے بعد سے مختلف صوبائی حکومتیں اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے گریزاں نظر آتی ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے برسر اقتدار آنے کے بعد پنجاب میں موجود بلدیاتی اداروں کو معطل کر کے نئے انتخابات کرانے کا عندیہ دیا تھا لیکن ساڑھے تین سالہ دور میں اس جانب پیشرفت نہ ہو سکی۔ اس کے بعد قائم ہونے والی مسلم لیگ (ن) اور نگران دور میں بھی یہ عمل ممکن نہ ہو سکا ۔اس دوران بلدیاتی قوانین میں کئی تبدیلیاں بھی کی گئیں۔ گزشتہ برس پنجاب اسمبلی نے 2025ء کا بلدیاتی ایکٹ منظور کیا لیکن اس کو پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے عدالت عالیہ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ جماعت اسلامی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء کے حوالے سے عوامی ریفرنڈم کے نام پر ایک بھرپور سرگرمی بھی کی جس کا مقصد ایکٹ میں تبدیلی کیلیے دبائو اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد تھا تاہم اس حوالے سے کوئی خاص پیشرفت نہ ہو سکی البتہ بلدیاتی سسٹم کے حوالے سے کچھ تحریک ضرور پیدا ہوئی۔
پنجاب حکومت نے بلدیاتی ایکٹ 2025ء کے تحت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا اور الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ دس جنوری تک بلدیاتی حد بندی اور دیگر تکنیکی مسائل حل کرکے الیکشن کمیشن کو شیڈول کے اعلان کے لیے گرین سگنل دے دیں گے لیکن اطلاعات یہ ہیں کہ حد بندیوں کا عمل پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا اور اب الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے ضمن میں 22 جنوری کو اجلاس طلب کر رکھا ہے‘ جس میں پنجاب کے چیف سیکرٹری اور لوکل گورنمنٹ سیکرٹری کو بھی طلب کیا گیا ہے جنہوں نے 13اکتوبر 2025ء کو الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کرائی تھی کہ حلقہ بندی‘ رولز کنڈکٹ آف الیکشن‘ یونین کونسلوں کی تعداد‘تصدیق شدہ نقشہ جات اور دیگر امور کی حتمی دستاویز10جنوری تک مہیا کر دی جائیں گی لیکن پنجاب حکومت اب تک یہ ممکن نہیں بنا سکی۔ اب 22 جنوری کے اجلاس کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب میں لوکل گورنمنٹس کی میعاد31 دسمبر2021ء کو ختم ہوگئی تھی لیکن صوبائی حکومتوں نے الیکشن کے انعقاد سے احتراز برتتے ہوئے مختلف اقدامات کو الیکشن کے التوا کا ذریعہ بنایا اور اب یہ امر خود الیکشن کمیشن کے لیے چیلنج بنتا نظر آ رہا ہے۔ صوبے میں انتخابات کا انعقاد پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے اور اب پنجاب حکومت کی جانب سے اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے پر الیکشن کمیشن نے اجلاس طلب کیا ہے‘ دیکھنا یہ ہے کہ مذکورہ اجلاس میں التوا کا کیا جواز پیش کیا جاتا ہے۔ ویسے اگر سیاسی حالات وواقعات کا جائزہ لیا جائے تو فی الحال بلدیاتی انتخابات کا انعقاد جلد ممکن نظر نہیں آ رہا۔
دوسری جانب اسلام آباد میں انتخابی عمل کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت اور شیڈول بھی الیکشن کمیشن واپس لے چکا‘ جس کی وجہ حکومت کی جانب سے دس جنوری کو اسلام آباد کے لیے نیا بلدیاتی حکومتی ترمیمی آرڈیننس جاری کرنا ہے‘ جس میں وفاقی دارالحکومت کی مقامی حکومت کا ڈھانچہ ہی یکسر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں 15 فروری کو بلدیاتی الیکشن کے شیڈول کا اعلان کر رکھا تھا۔ بلدیاتی انتخابات کے پے در پے التوا کا عمل سیاسی جماعتوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔جو جماعتیں ملک میں جمہوریت اور جمہوری عمل کے تسلسل کی داعی ہیں وہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے سنجیدگی کیونکر ظاہر نہیں کر رہیں؟ جن اراکین اسمبلی نے صوبوں میں اس حوالے سے ہونے والی قانون سازی میں حصہ لیا اور انتخابی عمل کا حصہ بنے‘ جو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مضبوط و مستحکم اور بااختیار مقامی حکومتوں کے داعی ہیں‘ وہ خود ہی بلدیاتی اداروں کی بے اختیاری کے عمل کے فریق بھی ہیں۔ اسمبلی میں قواعد و ضوابط معطل کرکے متفقہ طور پر اس قانون کو منظور کیا گیا اور اس بل کے حوالے سے دس ماہ تک مشاورت بھی کی گئی مگر پنجاب اسمبلی کے فورم پر اپوزیشن نے اس سارے عمل سے کنارہ کشی اختیار کئے رکھی۔ اب وہ اس کی خامیوں پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں اور انہوں نے مذکورہ ایکٹ کو عدالت عالیہ میں چیلنج بھی کر رکھا ہے۔ یہ معاملہ کورٹ میں زیر التوا ہونا بھی انتخابات کے التوا کی ایک وجہ گردانا جاتا ہے۔ بڑا سوال یہی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات‘ مقامی حکومتوں کو اختیارات کی فراہمی اور اس سسٹم کی مضبوطی سے گریزاں ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے لیے نئے اختیارات تو اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے مرکز سے لے چکی ہیں لیکن وہ اضلاع کی سطح پر اپنے اختیارات کی فراہمی نہیں چاہتیں اور خود اراکین اسمبلی بھی بلدیاتی سسٹم کو اپنے اختیارات پر قدغن قرار دیتے ہیں اور اس کی بڑی وجہ ترقیاتی سکیموں اور ان کے لیے فنڈز کی فراہمی ہے۔ مقامی حکومتوں کے قیام کے بعد اراکین اسمبلی کا اپنے حلقوں میں ترقیاتی عمل کے حوالے سے وہ اثر و رسوخ باقی نہیں رہے گا لہٰذا وہ اس ضمن میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔
آج کی بڑی ضرورت مضبوط جمہوری و سیاسی نظام ہے اور اس کے لیے بلدیاتی سسٹم کو مؤثر اور فعال بنانا ہوگا۔ اس کے لیے ان اداروں کی آئینی حیثیت کافی ہے؛ تاہم ان کے انتخابات کو بھی آئینی تحفظ دینا ہوگا اور ملک بھر میں بلدیاتی انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے چاروں صوبوں میں ایک ہی وقت بلدیاتی انتخابی عمل یقینی بنانے پر پیشرفت ہونی چاہیے۔ اطلاعات تو ہیں کہ مجوزہ28ویں ترمیم میں بلدیاتی سسٹم کو مضبوط اور مؤثر بنانے کے اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں لیکن اس پر کب پیشرفت ہو گی‘ یہ دیکھنا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved