تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     20-01-2026

غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت

غزہ کے نہتے انسانوں کو آگ کا ایندھن بنانے‘ معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے اور 80 ہزار سے زائد بے گناہ لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے بعد آخر کار عالمی قوتوں کو غزہ میں امن کا خیال آ ہی گیا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں یہ باب سیاہ حروف سے لکھا جائے گا کہ کس طرح گزشتہ ایک سال کے دوران دنیا کی بڑی طاقتوں نے دانستہ طور پر اس بدترین انسانی المیے پر مجرمانہ چپ سادھے رکھی اور سفاکیت کے اس ننگے ناچ کو جاری رہنے دیا۔ جب غزہ کے ہسپتال ملبے کا ڈھیر بن رہے تھے اور مائیں اپنے بچوں کی لاشیں اٹھائے دہائیاں دے رہی تھیں‘ تب عالمی ایوانوں میں خاموشی کا راج تھا۔ اب جبکہ غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی ہے اور جغرافیائی و انسانی بساط لہو سے رنگ دی گئی ہے تو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس معاملے کو حل کرنے اور امن کا کریڈٹ لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ محض ایک انتظامی منصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی اقدام نظر آتا ہے جس کے ذریعے طاقتور ممالک اپنے گزشتہ ایک سال کے تعصب اور خاموشی پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس اور جنگ کے بعد کے انتظام کے لیے متعلقہ اداروں کی تشکیل کا اعلان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس منصوبے کے تحت تین بنیادی ڈھانچے کام کریں گے‘ جن میں ایک مرکزی بورڈ ہو گا جس کی صدارت خود صدر ٹرمپ کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ کی حکمرانی کے لیے فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جبکہ ایک دوسرا ایگزیکٹو بورڈ مشاورتی کردار ادا کرے گا۔ وائٹ ہاؤس نے ان بورڈز کے لیے ابتدائی ناموں کی فہرست بھی جاری کر دی ہے جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو‘ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر‘ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا جیسے بااثر نام شامل ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد حکمرانی کی صلاحیت سازی‘ تعمیرِ نو‘ سرمایہ کاری کی ترغیب اور بڑے پیمانے پر فنڈنگ کی فراہمی بتایا گیا ہے جو بظاہر ایک معاشی حل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اس عالمی منظر نامے میں پاکستان کا کردار اور مؤقف انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی اس بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی باقاعدہ دعوت دی ہے‘ جس کی تصدیق ترجمان دفتر خارجہ نے کی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک نازک لیکن تاریخی موقع ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ اصولی مؤقف رہا ہے کہ غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی ہونی چاہیے اور فلسطینیوں کو 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد ریاست ملنی چاہیے جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔ شہباز شریف کو اس بورڈ میں شامل کرنے کی پیشکش اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان عالمِ اسلام کی ایک اہم ایٹمی طاقت اور توانا آواز ہے‘ جس کی شمولیت کے بغیر کسی بھی علاقائی امن منصوبے کو اخلاقی اور سیاسی ساکھ حاصل نہیں ہو سکتی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں امن کے لیے عالمی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور مظلوم فلسطینیوں کے مقدمے کو ہر سطح پر اٹھائے گا۔
غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے دو اہم ترین فریق حماس اور اسرائیل ہیں‘ لیکن اس مجوزہ بورڈ پر دونوں جانب سے شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔ اسرائیل نے اس عبوری بورڈ کی تشکیل پر اعتراض کرتے ہوئے اسے اپنی پالیسی کے خلاف قرار دیا ہے‘ جبکہ فلسطینی اسلامی جہاد نے اسے اسرائیل کے مفاد میں ایک یکطرفہ اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی غیرجانبداری پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ محض کاغذوں پر بورڈ آف پیس بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے جب تک کہ زمین پر موجود اصل فریقین کی رائے اور فلسطینی عوام کی حقیقی آزادی کو مد نظر نہیں رکھا جاتا۔ کسی بھی ایسے حل کو‘ جو فلسطینیوں کی مرضی کے بغیر باہر سے مسلط کیا جائے‘ عوامی قبولیت حاصل ہونا ناممکن ہے اور یہ مستقبل میں مزید تنازعات کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ عالمی تناظر میں اس وقت دو اہم حکمت عملیاں زیرِ بحث ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ ایسے کسی بھی عمل کا بائیکاٹ کر دیا جائے جو بڑی طاقتوں کے زیرِ اثر ہو‘ لیکن دوسری صورت یہ ہے کہ پاکستان اور ترکیہ جیسے مسلم ممالک اس پلیٹ فارم کا حصہ بن کر وہاں فلسطینیوں کے حقوق کا مقدمہ لڑیں۔ میدان سے باہر رہ کر تنقید کرنے سے کبھی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوتے‘ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی فورمز پر موجود رہ کر اسرائیل کے جارحانہ عزائم کو روکا جائے اور تعمیرِ نو کے نام پر فلسطینیوں کی آزادی کا سودا نہ ہونے دیا جائے۔ پاکستان اور ترکیہ کی اس بورڈ میں موجودگی اس بات کی ضمانت بن سکتی ہے کہ غزہ کی بحالی میں انسانی حقوق اور اسلامی اقدار کا خیال رکھا جائے گا اور متاثرین تک امداد کی منصفانہ رسائی ممکن ہو سکے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ غزہ اس وقت تاریخ کے بدترین انسانی المیے سے گزر رہا ہے جہاں شدید سردی‘ بارش اور خوراک کی قلت نے زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور انسانیت سسک رہی ہے۔ اس وقت سب سے بڑی ترجیح سیاست نہیں بلکہ انسانی ہمدردی ہونی چاہیے۔ متاثرین کو فوری طبی امداد‘ خوراک اور پناہ گاہوں کی فراہمی کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ کے اصل فریقین کو ایک ایسی مستقل جنگ بندی پر آمادہ کرنا ہو گا جس کی ضمانت عالمی طاقتیں دیں۔ جنگ بندی کے بغیر تعمیرِ نو کی کوئی بھی کوشش ریت کی دیوار ثابت ہو گی۔ عالمی برادری کو اب مصلحتوں سے نکل کر ایک ایسا حل نکالنا ہو گا جو مستقل بنیادوں پر فلسطینیوں کو ان کی اپنی زمین پر عزت اور وقار کے ساتھ رہنے کا حق دے۔
یہ بات آشکار ہو چکی ہے کہ غزہ کا مسئلہ اب صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ یہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ غزہ بورڈ آف پیس جیسے اقدامات تبھی کامیاب ہو سکتے ہیں جب ان کی بنیاد انصاف پر ہو‘ نہ کہ سیاسی کریڈٹ لینے پر۔ پاکستان کو اس بورڈ میں شامل ہو کر نہ صرف فلسطینیوں کا وکیل بننا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو یہ باور کرانا ہے کہ امن تبھی ممکن ہے جب قبضے کا خاتمہ ہو اور مظلوم کو اس کا حق ملے۔ حماس نے غزہ جنگ میں اپنی قیادت کھو دی‘ تنظیم اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ حماس کی موجودہ قیادت بخوبی جانتی ہے کہ اس کی شروع کردہ جنگ کی وجہ سے غزہ کی پوری پٹی کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہے۔ لاکھوں لوگ اپنی زمینوں سے دربدر ہوئے۔ یہ بھی واضح ہے کہ حماس آسانی سے کسی بیرونی طاقت پر اعتماد کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہو گی۔ پیس بورڈ میں پاکستان اور ترکیہ کی موجودگی حماس کو یہ موقع فراہم کرے گی کہ وہ مسلم ممالک کی قیادتوں پر اعتماد کر سکیں۔ غزہ کو اب مزید تجربہ گاہ بنانے کے بجائے ایک ٹھوس اور منصفانہ سیاسی حل کی طرف بڑھنا ہو گا‘ ورنہ تاریخ ان عالمی طاقتوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جنہوں نے خون کی اس ہولی پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ پائیدار امن صرف اور صرف انصاف کی فراہمی اور فلسطینیوں کی مکمل آزادی میں پنہاں ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved