تحریر : حافظ محمد ادریس تاریخ اشاعت     20-01-2026

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ …(2)

حضرت عبادہؓ کے مواخاتی بھائی حضرت ابومرثد اور ان کے فرزند حضرت مرثد رضی اللہ عنہما دونوں بدری صحابہ تھے۔ 'رسول رحمتﷺ‘ جلد اول میں بدری صحابہ کی فہرست میں ان باپ بیٹے کے بھی ذکر ہے۔ حضرت ابومرثدؓ کا نام کناز بن حصین بن یربوع تھا اور اپنے بیٹے مرثد کی نسبت سے ابومرثد کنیت اختیار کی۔ اصلی نام سے زیادہ ان کی کنیت معروف تھی۔ وہ 4 ہجری میں واقعۂ رجیع میں شہادت کے مقام پر فائز ہوئے۔ حضرت ابو مرثدؓ کی شہادت پر ان کے خاندان کے ساتھ حضرت عبادہؓ بن صامت بھی بہت غمزدہ ہوئے۔ واقعہ رجیع میں دھوکے کے ساتھ صحابہ کو شہید کیا گیا تھا۔
جنگی مہمات میں حضرت عبادہؓ کی شمولیت ایسی مثالی تھی کہ کوئی ایک موقع بھی ایسا نہیں جس میں وہ غیر حاضر ہوئے۔ مدینے کے اندر رہنے والے قبائل بنو قینقاع‘ بنو نضیر اور بنو قریظہ انتہائی بدطینت‘ وعدہ خلاف اور غدار تھے۔ آنحضورﷺ نے مدینہ آتے ہی ان لوگوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس میں طے پایا کہ مدینہ میں رہنے والے تمام لوگ بیرونی حملے کی صورت میں مل کر مدینہ کا دفاع کریں گے۔ یہ معاہدہ 'میثاقِ مدینہ‘ کہلاتا ہے۔ تمام یہودی قبائل نے اس معاہدے کی ہمیشہ خلاف ورزی کی۔ بنو قینقاع سونے اور لوہے کا کام کرتے تھے۔ انصاری خواتین زیورات بنوانے کیلئے ان کے محلے میں جاتی تھیں۔ ان بدبختوں نے مسلم خواتین کی شان میں گستاخیاں شروع کر دیں۔ اسی حوالے سے صحابہ کرام اور ان کے درمیان جھگڑا بھی ہوا‘ اس کے نتیجے میں ایک مسلمان شہید اور ایک یہودی قتل ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ نے ان بدطینت لوگوں کی خباثتوں سے تنگ آ کر ان کو وارننگ دی کہ وہ مدینہ سے فوراً نکل جائیں۔ انہوں نے اس نوٹس کے جواب میں رعونت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے میدانِ بدر میں قریش کے مقابلے پر جنگ لڑی جو لڑنا جانتے نہیں تھے‘ یہ ہمارے مقابلے پر آئیں گے تو پتا لگ جائے گا کہ جنگجو کیسے ہوتے ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے ان کے اس شرانگیز چیلنج کے جواب میں ان کے قلعوں کا محاصرہ کر لیا۔ دو ہفتوں کے محاصرے کے بعد ان لوگوں کے ہوش ٹھکانے آ گئے اور انہوں نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیے۔ حضورﷺ نے ان سے کوئی بدلہ تو نہیں لیا مگر فرمایا کہ اب یہ مدینہ میں نہیں رہ سکیں گے۔ یہ فیصلہ سناتے ہوئے آپﷺ نے فرمایا کہ تین دن کی مہلت ہے‘ ہتھیاروں کے سوا باقی جو سامان اٹھا کر لے جا سکتے ہو لے جائو۔ اگر اس کے بعد تم کوئی یہاں پایا گیا تو اس کا انجام بہت برا ہو گا۔ ان کا غرور خاک میں مل چکا تھا۔ حضرت عبادہؓ بن صامت کی ذمہ داری لگی کہ ان کے اخراج کے دوران نگرانی کریں کہ ان میں سے کوئی ہتھیار لے کر نہ جائے۔
زمانہ جاہلیت میں حضرت عبادہؓ کے ان لوگوں کے ساتھ حلیفانہ تعلقات تھے مگر جب اللہ تعالیٰ کا حکم آ گیا کہ کافر مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے تو انہوں نے ان سے مکمل طور پر قطع تعلقی کر لی اور ان سے اعلانیہ برأت کا اظہار کیا۔ ارشاد ربانی ہے: ''اے مسلمانو! یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست مت بنائو‘ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہو سکتے ہیں (تمہارے نہیں)۔ اگر تم میں سے کوئی ان سے دوستی کرے گا تو انہی میں شمار ہو گا۔ یقینا اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے‘‘ (المائدہ: 51)۔ یہ مضمون قرآن کریم میں کئی دیگر مقامات پر بھی دہرایا گیا ہے۔ سورہ آلِ عمران میں ارشادِ ربانی ہے: ''مومنین اہلِ ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور یارو مددگار ہرگز نہ بنائیں۔ جو ایسا کرے گا اللہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ہاں یہ معاف ہے کہ تم (مشکل حالات میں) ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرزِعمل اختیار کرو مگر اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ (آلِ عمران: 28)
حضرت عبادہؓ کی جو ذمہ داری آنحضورﷺ نے لگائی اسے انہوں نے بحسن وخوبی پورا کیا۔ انہوں نے دن رات بنو قینقاع کے محلے میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ پوری ذمہ داری سے ان کی نگرانی کی اور کسی یہودی کو کوئی ہتھیار حتیٰ کہ چھری‘ چاقو تک بھی ساتھ نہیں لے جانے دیا۔ غزوۂ بدر و احد میں حضرت عبادہؓ نے پوری بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔ غزوۂ احزاب میں خندق کی کھدائی سے لے کر دشمنوں کے میدان سے بھاگ جانے تک مسلسل اپنے محاذ پر ڈٹے رہے۔ یہودیوں کے دیگر دونوں قبائل بنونضیر اور بنوقریظہ کے مقابلے پر ہونے والی جنگوں میں بھی وہ سرگرمِ عمل رہے۔ اسی طرح غزوۂ خیبر کے طویل معرکوں میں بھی حضرت عبادہؓ آنحضورﷺ کے ہم رکاب تھے۔ کئی دنوں کے شدید مقابلے کے بعد خیبر کے سب قلعے یکے بعد دیگرے فتح ہوتے چلے گئے۔ ان قلعوں کی تعداد دس تھی اور ہر ایک بہت مضبوط پتھر کی فصیلوں سے بنایا گیا تھا مگر اللہ کے لشکروں کے سامنے یہ مٹی اور ریت کے ڈھیر ثابت ہوئے۔ حضرت عبادہؓ ان جنگوں میں پورے عزم وہمت کے ساتھ اوّل سے آخر تک شریک رہے۔ صلح حدیبیہ‘ بیعت رضوان‘ فتح مکہ‘ غزوۂ حنین اور سب سے بڑی جنگ غزوۂ تبوک میں آپؓ نے پورے ذوق وشوق اور ایمانی جذبے کے ساتھ شرکت کی۔ غرض کسی معرکے میں غیر حاضر نہیں ہوئے۔ حضرت عبادہؓ کی اس عزیمت وسعادت پر صحابہ کرام ان پہ رشک کرتے تھے مگر آپؓ کی یہ شان تھی کہ کبھی ذرا برابر بھی فخر کا اظہار نہ کیا بلکہ سراپا تشکر رہا کرتے تھے۔ حضرت عبادہؓ کی زندگی میں عجزو انکسار کا غلبہ تھا مگر جب کبھی کوئی غلط بات یا کام دیکھتے تو پوری ایمانی قوت اور مردانگی کے ساتھ کھلے عام اس کے خلاف زبان کھولتے۔
حضرت عبادہؓجب مدینہ میں ہوتے تو نبی اکرمﷺ کی زیارت کیلئے باقاعدگی سے حضورﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے۔ ایک آدھ مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ آپؓ بیمار پڑ گئے اور مجلس میں حاضر نہ ہو سکے۔ آنحضورﷺ کو معلوم ہوا تو حضورﷺ خود ان کے گھر میں تشریف لے گئے۔ رسولِ خداﷺ کی آمد پر حضرت عبادہؓ کے سب گھر والے بہت مسرور ہوئے۔ شہدا سے متعلق مشہور حدیث اسی موقع پر آنحضورﷺ نے بیان فرمائی۔ آپﷺ نے حضرت عبادہؓ کا حال احوال پوچھا تو گفتگو کے دوران جہاد اور شہادت کا تذکرہ بھی ہوا۔ حضورﷺ نے اپنے صحابی سے پوچھا: عبادہ! تمہارے علم میں ہے کہ شہید کون ہے؟ یہ سوال سن کر انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ ذرا مجھے اٹھا کر تکیے کے سہارے بٹھا دو۔ جب بیٹھ گئے تو عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! شہید وہ ہے جسے ایمان کی دولت نصیب ہوئی‘ جس نے راہِ خدا میں ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے جان کی بازی لگائی۔ حضورﷺ نے یہ سن کر فرمایا: اس صورت میں میری امت کے شہیدوں کی تعداد قلیل ہو گی۔ پوچھا گیا کہ آپ فرمائیں کہ شہید کون ہے؟ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں قتل ہونا شہادت ہے۔ اس کے علاوہ کسی بندۂ مومن کا پانی میں ڈوب کر مر جانا‘ ہیضہ سے وفات ہو جانا‘ طاعون یا اسی نوعیت کی دوسری بیماریوں میں موت آ جانا‘ عورت کا بچے کی پیدائش کے وقت (زچگی میں) فوت ہو جانا وغیرہ سب شہادت کی اموات ہیں (صحیح مسلم‘ مسند احمد)۔ حضرت عبادہؓ بن صامت شدید بیمار تھے مگر آنحضورﷺ کی تشریف آوری کے بعد طبیعت بہتر ہونے لگی اور چند ہی دنوں میں آپؓ بستر علالت سے اٹھ کر اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔ کچھ عرصے کے بعد خود آنحضورﷺ کی طبیعت ناساز ہوئی اور بیماری مسلسل بڑھتی چلی گئی۔ حضرت عبادہؓ دن میں کئی بار مسجد نبوی میں جاتے اور آنحضورﷺ کے حجرہ مبارک کے پاس کھڑے ہو کر رسول کریمﷺ کا حال احوال پوچھتے۔ آپؓ کے بقول وہ ایام آپ کیلئے شدید اضطراب وپریشانی کے دن تھے۔ جب آنحضورﷺ کا وصال ہوا تو دیگر صحابہ کی طرح حضرت عبادہؓ بھی بہت زیادہ غمزدہ ہوئے۔ وصالِ نبوی کے بعد آپؓ نے دیگر سرگرمیاں چھوڑ کر مستقل طور پر صفہ پر اپنی مسند سنبھال لی اور علم کی روشنی پھیلاتے رہے۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved