اور کون سی مارشل قومیں۔ اپنے کو خوش کرنے کیلئے کیسی کیسی کہانیاں ہم بناتے رہے۔ اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ بڑی روایات کے ہم امین ہیں۔ کوئی پوچھے تو سہی کون سی روایات؟ پہلی جنگِ عظیم کا طوفان جب اُٹھا تو بارہ چودہ روپے ماہوار پر تقریباً چھ لاکھ سے زائد فوجی ہندوستان سے انگریز سرکار کے مختلف محاذوں پر گئے۔ پرانی تصویریں تو دیکھیں‘ ہمارے صوبیدار اور رسالدار صاحبان انگریز کی وردیوں میں ملبوس کس فخریہ انداز سے برطانوی افسروں کے پیچھے کھڑے ہیں۔ فرانسیسی کالونیوں میں بھی دیسی رجمنٹیں بنیں لیکن جس تعداد میں ہندوستانی سپاہ نے تاجِ برطانیہ سے وفاداری نبھائی ایسی کوئی اور مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی۔
یہ تو پہلی جنگِ عظیم کی بات ہوئی‘ دوسری جنگِ عظیم میں بھی ہندوستانی افسران اور سپاہ نے وفاداری کے تمام پیمانے پورے کئے۔ یہ جو بعد میں ہمارے سرخیل بنے جیسا کہ اسکندر مرزا ‘ ایوب خان‘ یحییٰ خان‘ صاحبزادہ یعقوب خان اور پتا نہیں کتنے اور‘ یہ سب کے سب تاجِ برطانیہ کے بھرتی کردہ تھے۔ جو افسری کی کمیشن لیتے اُن کے بارے میں کہا جاتا کہ انہوں نے بادشاہ کی کمیشن لی ہے۔ حریت کے افسانے یہاں گھڑے گئے‘ نہیں تو انگریز سامراج کے خلاف خوئے بغاوت ہم مسلمانوں میں کم نظر آتی تھی۔ مسلمان تھے جنہوں نے آزادی کیلئے قربانیاں دیں لیکن بہت قلیل تعداد میں۔ جسے ہم تحریکِ آزادی کہتے ہیں اُس میں ہم مسلمانوں کا حصہ بہت کم تھا۔ حسرت موہانی جیل گئے اور وہاں چکی پیسی لیکن کتنے اور ایسے تھے؟ ہاں سبھاش چندر بوس کی انڈین نیشنل آرمی میں سرکردہ عہدوں پر کئی مسلمان فائز رہے لیکن اُن میں سے بیشتر بھارت کے ہو گئے کیونکہ اُن کا تصورِ آزادی مسلم لیگ کے نظریات سے قدرے مختلف تھا۔
ٹیپو سلطان کے خلاف جو فوجیں آراستہ ہوئیں اُن کی کمان تو انگریز کر رہے تھے لیکن عام سپاہ ہندوستانی ہی تھے۔ کیا گُر انگریزوں نے نکالا اور اس دیس کے باسیوں کی کمزوریاں کس انداز سے سمجھیں کہ تھوڑی سی تنخواہ پر یہیں کے لوگوں کو اپنی رجمنٹوں میں بھرتی کیا اور پھر یورپین طرز کی ٹریننگ دے کر اُن رجمنٹوں میں ڈسپلن اور صلاحیت پیدا کی۔ ٹیپو سلطان کے خلاف انگریز تو تھے ہی لیکن مرہٹے بھی خلاف ہوئے اور نظام حیدرآباد بھی۔
جب ٹیپو سلطان کو یہاں شکست ہوئی‘ امریکی تاجِ برطانیہ سے اپنی آزادی حاصل کر چکے تھے۔ ذرا موازنہ تو کیجئے‘ تب جن 13 امریکی ریاستوں نے تاجِ برطانیہ کے خلاف بغاوت کی اُن کی کل آبادی 25 لاکھ تھی۔ اُس وقت پورے ہندوستان کی آبادی 10 کروڑ سے زیادہ تھی۔ یعنی 25 لاکھ کی آبادی نے تاجِ برطانیہ کو میدانِ جنگ میں ہرایا اور 10 کروڑ آبادی بتدریج تاجِ برطانیہ کے سامراجی تسلط کے نیچے آتی گئی۔ اصل ورثہ تو ہمارا یہ ہے کہ مٹھی بھر انگریز آئے اور فتح در فتح کرتے چلے گئے۔ 1857ء کی بغاوت ہوئی تو اُسے کچلنے والے کون تھے؟ برطانوی فوج کے پنجابی اور پٹھان سپاہی۔ یہ ہماری تاریخ ہے‘ یہ ہمارا ورثہ اور اسی ورثے پر مملکتِ خداداد کی بنیادیں استوار ہوئیں۔ اس دیس کے فرزندوں کی جنگی صلاحیت بھی ملاحظہ ہو۔ 1857ء کی بغاوت میں لال قلعہ اور دلّی شہر باغیوں کے قبضے میں آ گئے تھے۔ شمالی دلّی کا ایک بلند ٹیلہ رہ گیا تھا جس پر انگریز کمان کی فوج مورچہ زن رہی۔ تقریباً ایک سال تک یہ صورتحال قائم رہی اور متعدد حملوں کے باوجود مسلمان اور ہندو باغی اُس ٹیلے کو فتح نہ کر سکے۔ سال بعد جب انگریزوں کو پنجاب اور سرحد سے کمک پہنچی اُنہوں نے پھر دلّی اور لال قلعہ پر دھاوا بولا اور پھر دلّی کے ساتھ وہ ہوا جس نے نادرشاہ اور امیر تیمور کی یاد تازہ کردی۔
سنہ 47ء سے پہلے ہم کوئی فاتح قوم تو نہیں تھے۔ انگریزوں کے غلام رہے اور اس اعتبار سے ایک شکست خوردہ قوم تھے۔ ضرورت تو اس امر کی تھی کہ سانچہ کچھ اس طرح بنتا کہ اُس میں سے ایک نئی قوم کندن بن کر نکلتی۔ لیکن کیا نصیب ہمارے کہ قائداعظم کو چھوڑ کر ایک سے ایک نمونہ قوم کی گردن پر چڑھا رہا۔ کسی ایک نمونے سے نجات ملتی تو اُس سے بڑھ کر نمونہ براجمانِ اقتدار ہو جاتا۔ دعویٰ ہر بار یہی ہوتا کہ دنیا کی تمام عقل ہم میں سموئی ہوئی ہے اور تم جو رعایا ہو ایک تو اپنے معاملات خود چلانے کے قابل نہیں نہ اپنا صحیح مفاد کہ تمہارے لیے کیا بہتر ہے‘ سمجھ سکتے ہو۔ اس لیے رہبر ہم ہیں اور ہم ہی بتا سکتے ہیں کہ منزل کہاں اور اُس تک پہنچنا کیسے ہے۔ اٹھہتر سال ہو گئے اور یہ ناٹک نہیں بند ہو رہا۔ غلام محمد اور اسکندر مرزا سے لے کر آگے والے نمونوں تک یہی سلسلہ اور یہی انداز چل رہا ہے۔ سمجھنے کی بات البتہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ یہ کوئی انوکھا نہیں ہو رہا۔ جو ہماری تاریخ رہی ہے‘ چوکیداری اور وفاداری کے جن مراحل سے ہمارے آباؤ اجداد گزرے‘ اُسی مطابقت سے ہمارے حالات بنے۔ ہماری تاریخ اور ہماری موجودہ حالت میں گہرا رشتہ ہے‘ یا یوں کہئے دونوں لازم و ملزوم ہیں۔
رونا البتہ یہ کہ کوئی تو آتا جو اس سلسلے کو توڑتا۔ مانا کہ انگریزوں کی ملازمت کرنے والے جن کی ابتدائی نشوونما غلامی کے دور میں ہوئی‘ اُن سے کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی تھی۔ ان میں کوئی ایسا نہ تھا جس پر یہ تہمت لگ سکے کہ عظیم ویتنامی رہنما ہوچی من کی صورت نظر آتی ہے۔ پر اتنی بڑی مخلوق میں سے کوئی تو نکلتا جو اس قوم کو حریت کے تقاضے بتا سکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو میں خوبیاں تھیں کہ قوم کو ایک نیا راستہ دکھائیں لیکن اُن کے مزاج میں قباحتیں اور خامیاں بھی بہت تھیں۔ اور اگر اُن کے دورِ حکمرانی کا میزان کیا جائے تو تباہی کا پلڑہ کارناموں سے زیادہ لگتا ہے۔ ملاحظہ تو ہو کہ اتنا پڑھا لکھا انسان جو تاریخ کا گہرا ادراک رکھتا تھا اور 1965ء میں ایک فضول اور اپنے اثرات کے حوالے سے تباہ کن جنگ کا بڑا موجد بنے۔ مملکتِ خداداد میں شروع دن سے مسائل تو بہت تھے لیکن دیس کے راجوں مہاراجوں نے جو ایک خبط اپنے اوپر سوار کیا وہ ہندوستان دشمنی کا تھا۔ قومی توانائیاں اس خواہ مخواہ کی دشمنی کی نذر ہوتی رہیں۔ ایک غریب اور غلامانہ ذہنیت رکھنے والا ملک اُس کے پاس ویسے ہی وسائل زیادہ نہ تھے لیکن جو شروع کے دنوں سے ہی دشمنی کا ہوّا کھڑا کیا گیا جو تھوڑا بہت تھا اُس کا بیشتر حصہ اُس بے جا کے جنون میں صَرف ہوتا رہا۔
حالت یہ ہے لیکن جہاں دیکھو کوئی مَلک یا چودھری نظر آئے گا‘ کوئی راجہ اور کوئی مخدوم اور کوئی سردار۔ یعنی ان القابات سے لگے کہ یہاں کوئی عام آدمی نہیں بستے سارے کے سارے پیدائشی ارِسٹوکریٹ ہیں۔ یہ بھی کیا کمال ہے کہ اتنے سرداروں اور مخدوموں کے ہوتے ہوئے گزارا اس پارسائی کے قلعے کا مانگے تانگے پر ہوتا ہے۔ دو تین ممالک ہیں جو سالانہ مہربانی نہ کریں تو ملکی حساب کتاب خراب ہو جائے۔
یہ بھی اس ریاست کا کمال دیکھئے کہ 78سال میں فیصلہ یہ نہیں ہو سکا کہ معاملاتِ مملکت کیسے چلانے ہیں۔ نہ جمہوریت چلی اور نہ کوئی کام کی آمریت آئی اور اب کیفیت آدھا تیتر آدھا بٹیر والی ہے۔ جسے عزت بخشنے کیلئے ہائبرڈ نظام کا لقب دیا گیا ہے۔ یعنی بنیادی معاملات تو ٹھیک سے ہوئے نہیں لیکن ساتھ ہی نہ ختم ہونے والا پارسائی اور اخلاقیات کا درس۔ ناصح اتنے اور دوغلا پن ایسا کہ منافقت کا کوئی دیوتابھی آئے تو شرما جائے۔ امورِ ریاست اور معاشرے کے روزمرہ معاملات میں اب اعلیٰ ترین قدر دوغلاپن ہی رہ گیا ہے۔ بات وہ کرنی جس کا اصلیت سے کوئی رشتہ نہ ہو۔ جس کو دیکھو اسی میں لگا ہوا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved