کسی بھی معاشرے میں تعلیم کا بنیادی مقصد انفرادی اور اجتماعی سطح پر تبدیلی لانا ہے تاکہ افراد کی زندگیوں میں تبدیلی آئے اور پھر اس تبدیلی کی جھلک معاشرے میں بھی دکھائی دے۔ تعلیم کو ایک مؤثر سماجی قوت میں بدلنے کیلئے استاد کا کردار سب سے اہم ہے۔ ایک اچھے استاد کیلئے یہ بات اہم ہے کہ وہ خود کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ معیاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تربیت کا مناسب اہتمام کیا جائے۔ پاکستان میں تعلیمِ اساتذہ کے پروگرامز کی تاریخ بہت پرانی ہے‘ جس میں جے وی‘ ایس وی‘ بی ٹی‘ بی ایڈ‘ ایم ایڈ کے پروگرامز پیش کیے جاتے رہے۔ کچھ عرصہ پیشتر دو محققین واروِک (Warwick) اور ریمر (Reimer) نے تعلیمِ اساتذہ کے پروگرامز پر تحقیق کی تو پتا چلا کہ ٹیچر سرٹیفکیٹ پروگرامز‘ جن کا مقصد تدریس میں بہتری لانا ہے‘ ان کا چار میں سے تین Achievements Tests سے کوئی تعلق ہی نہیں اور ایک کے ساتھ کمزور سا تعلق ہے۔ اس تحقیق نے پاکستان میں تعلیمِ اساتذہ کے پروگرامزکے مؤثر ہونے کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
تربیتِ اساتذہ کے جامع تصور کے مطابق ایک استاد میں تین سطحوں پر تبدیلیاں درکار ہوتی ہیں۔ یہ علم‘ طریقۂ تدریس اور رویے کی سطحات ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کے تعلیمِ اساتذہ کے پروگرامز کا جائزہ لیں تو پورا زور طریقۂ تدریس پر ہوتا ہے۔ روایتی قسم کے تعلیمِ اساتذہ کے ان پروگرامز میں اساتذہ میں اچھے استاد اور اچھی تدریس کی خوبیوں پر مشتمل فہرستیں اس مفروضے کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہیں کہ انہیں پڑھ کر وہ بھی اپنی تدریس کو بہتر بنا لیں گے۔ تعلیم اساتذہ کے اس ماڈل میں استاد Knowledge Producer کے بجائے محض Consumer of Knowledge کے روپ میں سامنے آتا ہے۔ سماجی تبدیلی کے حوالے سے جتنے نظریات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے‘ وہ جن ممالک سے درآمد کیے گئے ہیں‘ ان کی جماعت کے کمرے کا ماحول اور مسائل ہمارے اپنے تعلیمی مسائل سے یکسر مختلف ہیں۔ سو اس طرح استاد جب کمرۂ جماعت میں پڑھانے کیلئے جاتا ہے تو وہ پڑھائے جانے والے مواد کو جماعت کے کمرے کے ماحول سے بالکل مختلف پاتا ہے اور بمشکل ہی اس سے کوئی تعلق قائم کر پاتا ہے۔ شرکائے کورس کو کم ہی ایسے مواقع میسر آتے ہیں کہ وہ سکول کے مجموعی ماحول سے متعلق تنقیدی نظر سے فیصلہ سازی کرنے کے قابل ہو سکیں۔ نتیجتاً اساتذہ کے ہاتھ میں ایک جامد اور متعین شدہ تدریس کا ماڈل تھما دیا جاتا ہے۔ اس طرح تبدیلی کے عمل میں پڑھانے والوں کے خیالات اور کلاس کی عملی صورت میں فرق رکاوٹ بن کر سامنے آجاتے ہیں۔ ایک روایتی قسم کے تعلیمِ اساتذہ کے کورس میں بمشکل ہی تدریس اور تحقیق میں کوئی تعلق قائم کرنے کی کو شش کی جاتی ہے جس کی بنا پر اساتذہ نصاب میں کوئی جدت لا سکتے ہوں اور اس طرح مختلف ورکشاپس کے ذریعے اس خیال کو اور زیادہ مضبوط کیا جاتا ہے کہ استاد کی حیثیت تعلیمی نظام میں مشین میں لگے ایک چھو ٹے سے پرزے کی طرح ہے۔
اگرچہ سکول میں تبدیلی لانا ایک پیچیدہ معاملہ ہے لیکن تعلیمِ اساتذہ کے کورسز میں اس بات کو بہت کم اہمیت دی جاتی ہے۔ بعض بنیادی تصورات مثلاً تبدیلی ایک سست رو عمل ہے‘ اس پر کم ہی بحث کی جاتی ہے۔ تعلیمِ اساتذہ کے اداروں میں تبدیلی کے عمل کو خطرات سے دو چار کر دینے والا ایک اہم عنصر تبدیلی کے عمل کو مکمل اور جامع تبدیلی کے طور پر نہ سمجھنا ہے۔ تعلیمِ اساتذہ کے اداروں کو ایسے کورسز بھی پڑھانے کی ضرورت ہے جن میں وہ ادارے کے سربراہ‘ اساتذہ‘ منتظمین اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ بٹھا سکیں۔ ایک کامیاب تبدیلی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کیلئے فالو اَپ کے مؤثر نظام کا ہونا بہت ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ عام طور پر تعلیمِ اساتذہ کے کورسز میں اساتذہ کو تنہائی کے جزیرے میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ فالو اَپ کا نظام نہ صرف نگرانی بلکہ اساتذہ کو مدد فراہم کرنے میں بھی مفید ہوتا ہے۔ دیرپا تبدیلی کیلئے صدر معلم کا کردار بہت اہم ہے۔ اگر ہم ادارے کے سربراہ کو تبدیلی کے عمل کا حصہ بنا لیں تو کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ تعلیمِ اساتذہ کے کورسز میں کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ صدر معلم کے خیالات کو جگہ دی جائے۔ اس کا بالآخر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صدر معلم سکول کی سطح پر لائی جانے والی تبدیلیوں اور ان اساتذہ کو‘ جو اس تبدیلی کیلئے کام کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں‘ کم ہی تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس طرح تبدیلی کیلئے کئے جانے والے بہت سے مفید اقدامات‘ جن پر ان سے مشاورت نہ کی گئی ہو‘ صدر معلم کے آمرانہ نقطۂ نظر کی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ صدر معلمین کیلئے ایسے کورسز کی دستیابی بھی بہت کم ہے جہاں پر انہیں اختیارات کی منتقلی‘ سربراہِ ادارہ سے متعلقہ مسائل وغیرہ کے حوالے سے تربیت دی جا سکے‘ جس کی بنیاد پر وہ دیرپا تعلیمی تبدیلی کیلئے اقدامات کر سکیں۔
تبدیلی کے ضمن میں طاقتور عنصر نصاب ہے۔ پاکستان میں نصاب سازی قومی سطح پر کی جاتی ہے اور اساتذہ اس کو نافذ کرنے والے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر سکولوں میں درسی کتب کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اساتذہ اور انتظامیہ کی پوری توجہ کورس؍ نصاب کو مقررہ وقت میں ختم کرنے پر ہوتی ہے لہٰذا بہت سے اساتذہ تبدیلی کے عمل سے آگاہ ہوتے ہوئے بھی پابندیوں کی وجہ سے تبدیلی نہیں لا سکتے۔ زیادہ تر سکولوں میں سربراہان کا جائزہ سکول کے نتائج کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اسی بنا پر سربراہِ ادارہ امتحانی نتائج ہی کو اہمیت دیتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی استاد کا جائزہ اس کی کلا س کے نتائج کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ والدین کی توقعات اس سے مختلف نہیں ہوتیں۔ اس طرح طلبہ‘ والدین‘ سربراہِ ادارہ اور رفقائے کار کا دباؤ کسی بھی استاد کو تدریس کے دوران میں جدت اختیار کرنے سے روک دیتا ہے‘ اگر چہ وہ اس کیلئے کتنا ہی پُرجوش کیوں نہ ہو۔
تعلیمِ اساتذہ کے پروگرامز کو نظریہ (Theory) اور عمل (Practice) میں توازن قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سکولوں کا معائنہ‘ کلاس روم کا تدریسی مشاہدہ‘ جماعتی تدریس‘ انفرادی تدریس‘ پڑھانے سے پہلے اور بعد کی ملاقاتیں‘ نظری چیزوں کو عمل میں لانے کی چند تجاویز میں Teaching Practiceکو محض ایک رسمی سی کارروائی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے سوچ بچار پر مبنی سرگرمی کے طور پر قبول کیا جائے۔ شرکائے کورس کو براہِ راست کلاس میں پڑھانے کے بجائے پہلے سکول‘ کلا س روم‘ طلبہ اور اساتذہ سے شناسائی حاصل کر لینی چاہیے۔ باقاعدہ تدریس سے پہلے اس طرح کی ابتدائی سرگرمیاں اساتذہ کو تدریس میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔
تربیتِ اساتذہ کے پروگرامز میں ایک اہم چیز تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پورے تعلیمی پروگرام میں اساتذہ کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں کہ وہ طریقۂ تعلیم اور کورس پر تنقیدی انداز میں اظہارِ خیال کر سکیں اور ان کے متبادل پیش کر سکیں۔ یوں سیکھنے کا ایک مسلسل نظام تشکیل پا جائے گا۔ اس طرح تنقیدی خیالات نہ صرف ذاتی زندگی بلکہ سکول کی زندگی میں تبدیلی لانے کا باعث بن سکیں گے۔ تعلیمی اداروں میں تبدیلی کیلئے ہمیں استاد کے کردارکا ازسرِ نو تعین کرنا ہو گا۔ ان کا یہ نیا کردار نہ صرف انہیں سوچ بچار اختیار کرنے والا عملی مدرس (Reflective Practitioner) بلکہ تعلیمی نظام کو بہتر کرنے اور جماعت کے اندر اپنی کارکردگی بڑھانے والا استاد بنا دے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved