لاش مکمل نہیں‘ کہا جا رہا ہے کہ ڈی این اے دینا ہوگا کہ شاید بازو کہیں ملا ہے اور دھڑ کہیں اور۔ اس لمحے اُس ماں کے اندر سے جو چیخ نکلی وہ انسان کے ٹوٹنے کی آواز تھی۔ وہ آواز جو گلیوں میں نہیں گونجتی‘ جو مائیک پر نہیں آتی‘ جو ٹاک شوز کا حصہ نہیں بنتی مگر جو ایک ماں کے وجود کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیتی ہے۔ اس کا بیٹا شادی کی خریداری کیلئے گیا تھا‘ خوشیوں کا سامان اکٹھا کرنے گیا تھا‘وہ موت لینے نہیں گیا تھا‘مگریوں لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں بازار اب بازار نہیں رہے موت کے پھندے اور اجتماعی قبریں بن چکے ہیں۔ کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے صرف ایک عمارت کو نہیں جلایا اس آگ نے ناکام سسٹم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ محض حادثہ نہیں‘ ایک آئینہ تھا جس میں ہم سب کو وہ چہرہ دکھائی دے رہا ہے جس پر اقتدار کی ہوس ہے‘ منافع کا لالچ ہے‘ کرپشن کی چمک ہے مگر انسانیت کی کوئی رمق نہیں۔ اُس دن صرف ایک عمارت نہیں جلی‘ وہ جھوٹا بیانیہ بھی جل گیا کہ عوام ریاست کی اولین ترجیح ہیں۔ آگ کے شعلوں میں یہ حقیقت مزید واضح نظر آنے لگی کہ ہمارے ہاں فائل اور نقشے کی قیمت انسان سے زیادہ ہے۔ یہ آگ بتا گئی کہ کس طرح غیر قانونی تعمیرات برسوں چلتی رہتی ہیں اور کس طرح انتظامی آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ اندھیرے میں نہیں ہوتا! کیا خوفناک حقیقت ہے کہ اندر لوگ دم توڑ رہے تھے‘ باہر نظام حسبِ روایت دیر سے حرکت میں آیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس ملک میں عوام اصل ترجیح سے غائب کیوں ہیں؟ آخر کیوں ہر پالیسی‘ ہر فیصلہ‘ ہر منصوبہ‘ ہر قانون سازی میں عوام آخر میں آتے ہیں؟ ٹیکس عوام دیتے ہیں مگر تحفظ عوام کو نہیں ملتا۔ قرض عوام کے نام پر لیا جاتا ہے مگر فائدہ مخصوص طبقوں کو پہنچتا ہے۔ ملک کے معاشی حالات تشویشناک ہیں‘مہنگائی‘ بیروزگاری‘ قرض‘ خسارہ مگر حکمران طبقے کی زندگی میں کہیں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ کہاں خرچ ہونا تھا اور کہاں ہوا۔ کیا وہ ہسپتالوں پر لگا جہاں لوگوں کی زندگیاں بچ سکیں؟ کیا وہ فائر سیفٹی پر لگا؟ کیا وہ عمارتوں کو محفوظ بنانے پر خرچ ہوا؟ عوامی مسائل حل کرنے پر خرچ ہوا؟ غربت ختم کرنے پر خرچ ہوا؟ جو ذمہ داریاں حکمرانوں کی تھیں وہ پوری کرنے پر خرچ ہوا؟ یا طاقت کے مراکز‘ ذاتی آسائشوں‘ سیاسی مفادات‘ خاندانوں کے تحفظ اور اقتدار کے تسلسل پر لگتا رہا؟ یہ سوال تلخ ہے مگر ناگزیر ہے!
ملک کے معاشی حالات خراب ہیں جن کو کسی نہ کسی پردے میں چھپایاجارہا ہے۔ حکمران اور بیوروکریسی عوام کے ساتھ اعدادوشمار کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ عوام سے کہا جاتا ہے قربانی دیں‘ بجلی مہنگی ہے‘ گیس مہنگی ہے‘ آٹا مہنگا ہے‘ علاج مہنگا ہے مگر حکمرانوں کی قربانی کہاں ہے؟ کیا ان کے گھروں کی تزئین و آرائش رکی؟ پروٹوکول کم ہوا؟ بیرونِ ملک دورے کم ہوئے؟کیا ان کی زندگی سادہ ہوئی؟ ان کے خاندانوں کے مفادات محدود ہوئے؟ یا لوٹ مار کے پیسے کو مزید محفوظ بنانے کے انتظامات ہوتے رہے؟ ایسے لگتا ہے کہ نظامِ عدل بھی اپنی سوچ کے تحت فیصلے کرتا ہے‘ ادارے اپنی سہولت کے مطابق حرکت کرتے ہیں اور سیاستدان اپنی مرضی کے مطابق اصول بدلتے ہیں۔ مگر عوام؟ عوام ہر جگہ بے سہارا ہیں۔ وہ صرف مرنے کے بعد یاد آتے ہیں‘ وہ بھی چند دن کے لیے‘ پھر وہی سیاستدان اور وہی مفادات کا کھیل دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہر سانحے کے بعد انکوائری ہوتی ہے مگر وہ انکوائریاں سچ کو دفن کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ ذمہ داروں تک بات پہنچنے سے پہلے فائلیں دب جاتی ہیں‘ نام مٹ جاتے ہیں اور وقت سب کچھ دھندلا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن بار بار جنم لیتی ہے کیونکہ کرپٹ عناصر کو یہ معلوم ہے کہ سزا نہیں ملے گی۔ یہ مسئلہ کسی ایک شہر‘ کسی ایک صوبے یا کسی ایک حکومت تک محدود نہیں عوام ہر جگہ فراموش کر دیے گئے ہیں۔ مسائل کی نشاندہی ہر جگہ ہوتی ہے مگر حل کہیں نہیں۔ ہر جگہ نمائش زیادہ ہے عمل کم‘ ہر جگہ کیمرہ پہلے آتا ہے‘ اصلاح کے نام پر منصوبوں کے اعلانات ہوتے ہیں اور پھر وہی کاروبار شروع ہوجاتے ہیں۔ پھر وہی تماشا لگا رہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ نظام عوام کے لیے نہیں تو پھر کس کے لیے ہے؟ اگر یہ نظام عوام کی حفاظت نہیں کر سکتا تو پھر اس کی اخلاقی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ اگر ہر آگ کے بعد ہم صرف راکھ ٹٹولتے رہیں گے تو پھر اگلی آگ کے لیے ہم خود ایندھن بن رہے ہیں۔ وہ ماں جس نے اپنے بیٹے کو ٹکڑوں میں پہچانا‘ اس کے لیے کوئی عدالتی فیصلہ کافی نہیں۔ وہ باپ جو ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کر رہا ہے‘ اس کے لیے کوئی بیان تسلی بخش نہیں۔ ان کے لیے صرف ایک چیز معنی رکھتی ہے جوابدہی‘احتساب‘ سزا اور نظام کی اصلاح۔ اگر کچھ کرنے کا وقت ہے تو یہی ہے۔ عوام کے مسائل حل کرنا اصل ذمہ داری ہے۔ عوام کی جان کی حفاظت ریاست کا پہلا فرض ہے۔ اگر یہ فرض ادا نہیں ہو سکتا تو سب سیاست‘ قانون سازی‘ تقریریں بے معنی ہیں۔ یاد رکھیں گل پلازہ کوئی آخری سانحہ نہیں۔خدانخواستہ اگلی آگ کسی اور بازار میں لگ سکتی ہے‘ اگلی چیخ کسی اور ماں کے سینے سے نکلے گی اور یہاں یہی سوال دہرایا جارہا ہو گا۔ سیاسی فکر اور ریاست کے تصور پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں‘ اور یہ سب ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ ریاست کی اصل طاقت اس میں ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کے لیے کتنی تک پُر عزم ہے۔
ہنّا آرنڈٹ اپنی معروف کتابThe Origins of Totalitarianism میں لکھتی ہیں کہ جب ریاست میں انسانی جان کی قدر کم ہونے لگے‘ جب فرد محض ایک عدد بن جائے اور نظام اپنے آپ کو شہری سے زیادہ اہم سمجھنے لگے تو وہاں ظلم کسی ایک واقعے کی صورت میں نہیں آتا بلکہ روزمرہ کا معمول بن جاتا ہے۔ ایسے معاشروں میں حادثات نہیں ہوتے‘ وہاں صرف نتائج سامنے آتے ہیں ۔ یہ نتائج برسوں کی بے حسی‘ کرپشن اور طاقت کے غلط استعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب ریاست اپنے شہری کو تحفظ دینے کے بجائے اس سے صرف اطاعت‘ ٹیکس اور قربانی مانگنے لگے تو وہ سماجی معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے جس پر ریاست کی اخلاقی حیثیت قائم ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر قانون انصاف کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ طاقتور کے مفاد کا آلہ بن جاتا ہے‘ اور عوام کے لیے ہر دروازہ غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ بازار‘ سڑک‘ عمارت‘ ہسپتال حتیٰ کہ گھر بھی۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد دفن ہو جاتا ہے اور ہر سانحہ ایک اجتماعی سوال بن جاتا ہے۔ اور ہاں جب ایک ماں کو بتایا جائے کہ لاش مکمل نہیں کہ شناخت کے لیے ڈی این اے دینا ہوگا اور جواب میں ریاست صرف انکوائری کمیٹی اور بیان دے تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں رہتی یہ اخلاقی شکست بن جاتی ہے۔ تاریخ اورکتابیں ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ ایسی شکست کے بعد ریاست صرف نام کی رہ جاتی ہے‘ روح کھو دیتی ہے‘ اور عوام کے لیے خوف کی علامت بن جاتی ہے‘ تحفظ کی نہیں۔ اگر ریاست عوام کی جان نہیں بچا سکتی تو سچ یہ ہے کہ یہاں حکومتیں نہیں‘ صرف اقتدار کی حفاظت ہو رہی ہے اور عوام ٹیکس دینے کے بعد مرنے کے لیے چھوڑ دیے گئے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved