ہر انسان اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں سے متاثر ہوتا ہے۔ اس طبعی رغبت کی وجہ سے اس کی مختلف لوگوں سے شناسائی ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے دوستی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ دوست انسان کی زندگی کا اہم حصہ ہوتے ہیں اور ہر شخص اپنے معمولات اور مصروفیات کے دوران ان کی موجودگی سے سکون اور راحت محسوس کرتا ہے۔ معاشرے میں بہت سے لوگ منفی ذہنیت کے بھی پائے جاتے ہیں جو محض اپنے مفادات اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دوستیاں کرتے اور بعد ازاں اپنے رویے اور انداز کو تبدیل کر لیتے ہیں۔ انسان کو کئی مرتبہ دشمن اور مخالف اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا مفاد پرست‘ خود غرض اور منفی ذہنیت کے حامل دوست نقصان پہنچاتا ہے۔ احادیث شریف سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے‘ اس لیے ہمیں ہمیشہ اچھے دوستوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے بعض اہم نکات کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔
1) دوستی کرتے وقت طبقاتی تقسیم کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ جب انسان کسی سے دوستی کرتا ہے تو اس کو امارت یا غربت سے کہیں بڑھ کر دوست کی انسانیت اور دینداری کو اہمیت دینی چاہیے۔ بہت سے لوگ صرف امیر لوگوں سے دوستی کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خلوص کا کسی کی معاشی اور طبقاتی حیثیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر کسی میں اعلیٰ اخلاقی اقدار ہیں تو ایسے افراد کی جانب دوستی کا ہاتھ ضرور بڑھانا چاہیے۔ صحابہ کرام میں سے وہ صحابہ جنہیں رسول کریمﷺ کی بہت زیاہ قربت حاصل ہوئی ان کا تعلق ہر طبقہ زندگی سے تھا۔ اگرچہ ان صحابہ کرامؓ کی اکثریت غریب طبقے سے تعلق رکھتی تھی لیکن متمول اور صاحبِ حیثیت لوگ بھی آپﷺ کے قریبی رفقا میں شامل تھے۔ یہاں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی کریمﷺ نے رفاقت کے چنائو میں اگر اہمیت دی تو دینی اور شخصی اوصاف کو اہمیت دی۔ 2) جن لوگوں میں تکبر اور خودپسندی پائی جائے ایسے لوگوں سے کبھی دوستی نہیں کرنی چاہیے۔ خود پسندی کا شکار لوگ کبھی مشکل وقت میں انسان کے کام نہیں آتے‘ اس کے مدمقابل رواداری‘ عاجزی‘ انکساری اور مساوات کے اعلیٰ اصولوں پر یقین رکھنے والے لوگ ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے دوستوں کے کام آتے ہیں۔ کتاب وسنت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تکبر انتہائی ناپسند ہے اور وہ شخص جنت میں نہیں جا سکتا جس کے دل میں رائی کے ذرے برابر بھی تکبر ہو۔ تکبر انسان کے مثبت خصائص اور اوصاف کو بھی کچل دیتا ہے۔ ایسے لوگ انسان کی کمزوریوں اور منفی احساسات کو تقویت دینے کا سبب بنتے ہیں۔ انسان دنیا میں مختصر عرصے کیلئے آیا ہے اور اس نے یہاں چند برس کی زندگی گزارنے کے بعد اپنے پروردگار کی طرف پلٹ جانا ہے۔ لہٰذا اپنی حقیقت اور حیثیت کو پہچاننے والے لوگ ہی اخلاق اور رویوں میں مثبت تبدیلی کا سبب بنتے ہیں؛ چنانچہ ایسے لوگوں کی صحبت کو ترجیح دینی چاہیے جن میں اعلیٰ اخلاقی اقدار پائی جائیں۔ 3) ایسے لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرنا چاہیے جو بکثرت جھوٹ بولتے اور معمولی مفادات اور اہداف کے حصول کیلئے غلط بیانی سے کام لیتے ہوں۔ جھوٹ بولنے والے لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتے اور اس کی لعنت کے حقدار بن جاتے ہیں؛ چنانچہ انسان کو کتاب اللہ میں مذکور آداب پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اہلِ ایمان کو اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور سچوں کا ساتھ دینا چاہیے؛ چنانچہ انسان کو جھوٹ بولنے والے لوگوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جھوٹوں کی صحبت انسان کی شخصیت کو مسخ کر دیتی جبکہ سچے لوگوں کی صحبت سے انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
4) جب کسی کو دوست بنانا پڑے تو اس بات کو خصوصی اہمیت دینی چاہیے کہ وہ شخص لالچی نہ ہو۔ لالچی شخص اپنے مفادات کے حصول کیلئے ہر جائز اور ناجائز راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ وہ مجبوری کے تحت اگر کسی کے کام آ بھی جائے تو وہ اس کے بدلے دوسروں کے مال کو ہڑپنے کے منصوبے بناتا رہتا ہے۔ اس لیے جب کسی شخص کے بارے میں یہ پتا چل جائے کہ یہ شخص لالچی ذہنیت کا حامل ہے تو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ 5) دوستی کرتے ہوئے فضول خرچی کرنے والے لوگوں سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ ایسے لوگ انسان کے وسائل کو زبردست نقصان پہنچاتے ہیں‘ اس لیے کہ ان سے دوستی اور رفاقت کو برقرار رکھنے کیلئے انسان کو لغویات اور فضولیات کا حصہ بننا پڑتا ہے جو کسی بھی طور پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی نظروں میں پسندیدہ نہیں۔ یہ عمل سماجی اعتبار سے بھی انسان کی شخصیت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔
6) بہت سے لوگ اپنے معاملات میں انتہائی خود غرض ہوتے ہیں اور اپنے مفادات اور مقاصد کیلئے دوسروں کا نقصان کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ جب کسی شخص کے بارے یہ بھانپ لیا جائے کہ اس میں خود غرضی پائی جاتی ہے تو ایسے شخص سے دوستی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ خود غرض شخص کی دوستی انسان کو زندگی کے کسی نہ کسی موقع پر ضرور نقصان پہنچاتی ہے۔ جہاں انسان کو مخلص لوگوں کی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے‘ اس موقع پر مفاد پرست شخص کی موجودگی سے انسان مثبت اقدامات سے قاصر ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں انصاری صحابہ کرام کا ذکر کیا کہ جنہوں نے مہاجرین کی خدمت کرتے ہوئے انتہائی ایثار سے کام لیا اور اپنے گھر بار اور مال واسباب کے دروازے مہاجرین کیلئے کھول دیے جس کے سبب پہلی اسلامی ریاست کے قیام میں بہت زیادہ معاونت ملی۔ 7) جہالت ایک بہت بڑا عیب ہے‘ جو انسان کے نظریات کو مسخ کر دیتا ہے اور اس کے انسان کے سماجی رویوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ بہت سے غیر سنجیدہ رویوں کی بنیاد ہے اور اس کی وجہ سے انسان کے اخلاق پر بھی ناپسندیدہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔غلط رسوم ورواج‘ انتقام‘ شدت پسندی‘ بغض وعنا د اور حسد کا زیادہ تعلق جاہلانہ طرزِ زندگی اور سوچ کے ساتھ ہی ہے؛ چنانچہ جس انسان میں جہالت پائی جائے اور وہ علم وآگہی کے راستے سے دور ہو اس کی صحبت سے اجتناب کرنا چاہیے۔
8) معاشرے میں مختلف طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں‘ بعض لوگ ظلم کو معمولی عیب سمجھتے اور انسانوں کی مساوات پر یقین نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ دوسروں کے جان ومال‘ عزت وناموس کیلئے بہت بڑا خطرہ ہوتے ہیں۔ انسان کو ہر صورت ظلم سے اجتناب کرنا چاہیے اور ظالموں کی رفاقت اور دوستی کو کسی طور ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ اس کے مدمقابل رحمدل‘ شفیق اور محبت کرنے والے دوست احباب یقینا اللہ تبارک وتعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ ایسے لوگوں کی رفاقت اور صحبت سے انسانوں کے اخلاقی اوصاف نمایاں ہوتے اور دوسروں کے کام آنے کی رغبت اور صلاحیت پیدا ہوتی ہے؛ چنانچہ جب یہ بات معلوم ہو جائے کہ کسی شخص میں ظلم کی حمایت پائی جاتی ہے تو ایسے شخص سے اعراض کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
9) دوستی کے حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسے شخص کا انتخاب کیا جائے جو انسان کو اس کے اصل مقصد کی طرف پلٹانے میں معاون ہو اور وہ لوگ جو علمِ دین اور دینی واخروی کامیابی کے اصولوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ان کی رفاقت اور صحبت اختیار کرنا انسان کیلئے انتہائی مفید ہے؛ چنانچہ زندگی کے نشیب وفراز میں ان لوگوں کی رفاقت کو ترجیح دینی چاہیے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی یاد دلائیں۔ تاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کرامؓ نے ایسے طرزِ زندگی کو اختیار کیا کہ بعد میں آنے والے لوگ جب ان سے ملاقات کرتے تو وہ خود بخوداللہ کی طرف متوجہ ہو جایا کرتے تھے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے دوستوں کا انتخاب کرنے کی توفیق دے جن کی رفاقت سے دین ودنیاکے معاملات بہتر ہوں اور ایسے لوگوں سے بچائے جو دنیا وآخرت میں منفی رویوں کو فروغ دینے کا سبب بنتے ہیں‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved