تحریر : جاوید حفیظ تاریخ اشاعت     22-01-2026

سفارتی ریوڑیاں

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف چند روز قبل مراکش گئے تھے‘ جہاں ان کا استقبال کرنے والوں میں پاکستان کے سفیر سید عادل گیلانی بھی شامل تھے۔ انٹرنیٹ کو کھنگالا تو پتا چلا کہ موصوف کی عمر 82 سال کے قریب ہیں اور ابھی چند ماہ پہلے ان کی تقرری ہوئی ہے۔ شنید ہے کہ صحت بھی اچھی نہیں‘ پیدل چلنے میں دشواری ہے۔ خیر سفیر نے کون سا پیدل چلنا ہوتا ہے‘ اس کے پاس تو چمکدار سیاہ رنگ کی مرسڈیز کار ہوتی ہے۔ اس سے پہلے وہ بوسنیا میں بھی سفیر رہے لیکن بقول شاعر:
رموزِ مملکت خویش خسرواں دانند
میں 1974ء میں قاہرہ میں عربی زبان سیکھ رہا تھا کہ بھٹو حکومت نے وہاں احمد سعید کرمانی صاحب کو سفیر لگا دیا۔ موصوف لاہور میں سیاست اور وکالت کرتے تھے۔ بھٹو صاحب کے خلاف 1970ء کے الیکشن میں کھڑے ہوئے اور بری طرح شکست کھائی۔ بھٹو صاحب جملے چست کرنے کے بڑے ماہر تھے۔ کسی کو آلو خان اور کسی کو ڈبل بیرل خان کا خطاب دے رکھا تھا۔ ایک دفعہ کسی اخبار نویس نے پریس کانفرنس میں احمد سعید کرمانی کے بارے میں پوچھا تو بھٹو صاحب بولے Kirmani, who is she?۔ یہ جملہ بڑا مشہور ہوا تھا۔ بھٹو صاحب کی یہ خاصیت تھی کہ دشمن بھی 'رجوع‘ کر لے تو کوئی نہ کوئی انعام ضرور دیتے تھے؛ چنانچہ کرمانی صاحب کو مصر میں سفارت دی گئی۔
قاہرہ بڑا شاندار شہر ہے لیکن موصوف کا وہاں دل نہ لگا۔ عربی سے بھی نابلد تھے اور سفارتی آداب سے بھی ناواقف۔ سفارتی روایت ہے کہ نیا سفیر اپنی اسناد پیش کرنے کے بعد دوسرے سفیروں سے ملنے جاتا ہے۔ اگر سفیر کسی غیرمعروف ملک کا ہو تو ضروری ہوتا ہے کہ اس ملک کے بارے میں کچھ پڑھ لیا جائے۔ کرمانی صاحب افریقہ کے کسی ملک کے سفیر کو ملنے گئے اور اسے پوچھا: ایکسیلنسی آپ کے ملک کا دارالحکومت کون سا ہے۔ یہ بات سفارتخانے کے اُس لوکل سٹاف ممبر نے آکر سب افسروں کو بتائی جو مترجم کے طور پر ساتھ گیا تھا۔ کافی عرصے تک یار لوگ اس بات کو بطور لطیفہ سناتے رہے۔ کرمانی صاحب کا دوسرا دکھ یہ تھا کہ سفارتخانے میں اردو‘ اور دیگر سفرا کے ساتھ ملاقات کے دوران ہر وقت انگلش بولنا پڑتی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ میرے ساتھ کوئی پنجابی میں بھی بات کرے۔ وہ فیملی لاہور میں چھوڑ آئے تھے اور سفیرِ پاکستان کے وسیع و عریض گھر میں ان کا تنہائی کا احساس مزید شدید ہو جاتا تھا۔ مجھے چند مرتبہ انہوں نے کہا کہ شام کو فارغ ہو تو آ جانا‘ دریائے نیل کے کنارے سیر کریں گے‘ اور میں چلا جاتا۔ وہ دلچسپ آدمی تھے‘ لطیفے خوب سناتے تھے۔ ہم پنجابی بولتے بولتے لمبی سیر کرتے۔ کرمانی صاحب کہتے کہ مجھے لاہور کی مال روڈ بہت یاد آتی ہے‘ اور پھر لاہور کی نہاری‘ سری پائے‘ چکن چنا‘ کلچے‘ ہریسہ اور خطائیاں یاد کرنے لگتے۔ سفارت انہیں سزا لگتی تھی لیکن ڈالروں میں تنخواہ اور فارن الاؤنس بہت بھاتے تھے۔
1975ء کے آغاز میں میرا ٹرانسفر دمشق ہو گیا۔ یہاں میرے سفیر سیف الرحمن کیانی تھے۔ پشاور کے اوسط درجہ کے وکیل تھے۔ پیپلز پارٹی کے ابتدائی ممبران میں سے تھے۔ بھٹو صاحب نے انہیں جدہ میں سفیر لگایا ‘حالانکہ اتنے اہم ملک میں کسی تجربہ کار سفارتکار کو ہی بھیجاجانا چاہیے۔ کیانی صاحب سعودی عرب میں زیادہ دیر نہ چل سکے تو پھر انہیں دمشق بھیج دیا گیا۔شریف انسان تھے لیکن شکی مزاج اور وہمی بھی تھے۔ ایک دن ڈیفنس اتاشی گروپ کیپٹن یونس کو اپنے دفتر بلایا اور پوچھنے لگے کہ ہمارے سفارتخانے کے اوپر سے تاریں گزر رہی ہیں‘ یقینا یہ کسی نے جاسوسی کیلئے لگائی ہوں گی۔ ڈیفنس اتاشی نے بتایا کہ یہ ٹیلیفون کی تاریں ہیں اور مزید کئی عمارتوں کے اوپر سے بھی گزر رہی ہیں۔
اُن دنوں دمشق پاکستان سے مغربی ممالک آنے جانے والی پی آئی اے کی پروازوں کا اہم سٹاپ اوور تھا۔ ایک مرتبہ فیض احمد فیض اور ڈاکٹر محمد اجمل اکٹھے آئے اور دو روز کیلئے کیانی صاحب کے گھر ٹھہرے۔ شام ڈھلی تو فیض صاحب نے سفیر صاحب سے سامانِ راحت کی فرمائش کی۔ کیانی صاحب نہ سامانِ راحت کے شوقین تھے اور نہ ہی گھر پر رکھتے تھے۔ فیض صاحب حیران ہوئے کہ سفیر کا گھر اور اس قدر خشک۔ ان کی رپورٹنگ بھی کمزور تھی۔ شام نے لبنان میں افواج داخل کر دیں تب بھی انہوں نے کوئی جامع رپورٹ نہیں بھیجی اور فارن آفس نے اس بات پر ناراضی کا اظہار بھی کیا لیکن تب تک کیانی صاحب جا چکے تھے۔ ان کے بعد جنرل (ر) سرفراز خان دمشق میں سفیر تعینات ہوئے‘ جو 1965ء کی جنگ میں لاہور میں ڈویژن کمانڈر تھے۔ کسی اخبار نے انہیں محافظِ لاہور لکھنا شروع کر دیا‘ اسی خیال میں جنرل صاحب نے لاہور سے بھٹو صاحب کے مد مقابل الیکشن بھی لڑا۔ یہ وہی حلقہ تھا جہاں سے احمد سعید کرمانی اور ڈاکٹر جاوید اقبال بھی امیدوار تھے۔ 1970ء کے الیکشن میں بھٹو صاحب کے مقابلے میں جیتنا ناممکن تھا‘سو جنرل (ر) سرفراز بھی ہارے۔
جنرل سرفراز کی تعیناتی کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ 1974ء میں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس ہوا تو معزز مہمانوں کو ٹھہرانے کیلئے اہم لوگوں کے خوبصورت گھر مستعار لیے گئے۔ ان گھروں میں ایک گھر جنرل (ر) سرفراز کا تھا۔ شام کے صدر حافظ الاسد اُن کے گھر ٹھہرے اور جاتے ہوئے انہیں شام آنے کی دعوت بھی دے گئے۔ جنرل صاحب نے اپنی فیملی کے ہمراہ شام کی سیر کی اور واپس آکر بھٹو صاحب کو باور کرایا کہ میرے شامی قیادت سے اچھے تعلقات ہیں اور دمشق میں سفیر کی پوسٹ بھی خالی ہے۔ اُس زمانے میں شامی صدر حافظ الاسد اور بھٹو صاحب کے مابین دوستی اور احترام کا رشتہ تھا۔ دونوں سوشلسٹ اور سیکولر سوچ کے داعی تھے۔ بھٹو حکومت نے ہی شام میں پاک فضائیہ کے پائلٹ بھیجے تھے اور ہمارے ہوا بازوں نے وہاں اپنا لوہا بھی منوایا تھا۔ 1977ء میں جنرل ضیا الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا تو ہمارے دو طرفہ تعلقات پر بھی اثر پڑا اور پہلے والی گرمجوشی نہیں رہی۔
جنرل سرفراز شام میں حضرت زینبؓ کے مزار پر تواتر سے جاتے تھے اور اچھے مسلمان تھے ۔ سفارتکار کا کام ملنا ملانا ہوتا ہے‘ اس کے گھر دعوتیں باقاعدگی سے ہونی چاہئیں اور اسے دوسرے سفرا اور وزرا کے دعوت نامے تسلسل سے آنے چاہئیں۔ میرا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ عسکری پیشے اور سفارتکاری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک عسکری ڈویژن میں دس ہزار سے زائد لوگ زیر کمان ہوتے ہیں جبکہ دمشق کے سفارتخانے کے تمام افسران اور سٹاف ملا کر کوئی بارہ تیرہ لوگ تھے۔ عسکری اہداف میں ٹارگٹ سامنے نظر آتا ہے جبکہ سفارتی اہداف خاصے مختلف ہوتے ہیں۔ سفارتکار اپنے ملک کی تشہیر کرتا ہے اور بندوق کے بغیر قوم کا دفاع کرتا ہے۔ اس کا کام حکومتی اور پرائیویٹ سیکٹر کی اہم شخصیات سے روابط بنانا ہوتا ہے۔ اسی لیے اچھا سفارتکار ہمہ وقت متحرک رہتا ہے اور کافی سوشل ہوتا ہے۔ جنرل صاحب کے دوست بہت کم تھے‘ ویسے بھی وہ کھوئے کھوئے رہتے تھے۔ پھر ان کے ساتھ زبان کا بھی مسئلہ تھا۔ وہ عربی نہیں جانتے تھے اور شامی اشرافیہ عربی جانتی تھی یا فرانسیسی۔ البتہ تحریری رپورٹنگ کے بارے وہ اپنے پیشرو صاحب سے بہت بہتر تھے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved