سفر کی بھاگ دوڑ میں آرام کا موقع کم کم ہی ملتا ہے۔ خاص طور پر جب آپ کے پاس کسی ملک کیلئے دن کم ہوں اور ملاقاتیں اور کام زیادہ۔ آپ نہ تسلی سے سو سکتے ہیں‘ نہ اطمینان سے کاموں کی ترتیب بنا سکتے ہیں۔ بہت کچھ تو میزبانوں پر منحصر ہوتا ہے کہ انہوں نے کیا پروگرام بنایا ہے۔ چھ جنوری کو ڈھاکہ پہنچا تو نیند کی کمی اور تھکن سے سر گھوم رہا تھا۔ کولمبو کے ہوٹل والے اتنے بے مروت نکلے کہ رات کے آخری پہر ہی کال کر دی کہ تیار ہو جائیں‘ ایئر پورٹ کیلئے گاڑی آنے والی ہے‘ حالانکہ فلائٹ میں ابھی کئی گھنٹے پڑے تھے۔ صبح منہ اندھیرے کچی نیند سے اٹھنا کیسا ہوتا ہے‘ آپ جانتے ہیں۔ ابھی جبکہ فلائٹ میں قریب پانچ گھنٹے باقی تھے اور ایئر پورٹ دس منٹ کے فاصلے پر‘ ایسی بھی کیا عجلت کہ ہوٹل سے نکال باہر کیا جائے۔ ہمیں تو یہی لگا کہ سب ناشتہ نہ کرانے کے بہانے ہیں۔ سو ہوٹل والوں کیلئے کئی باتیں دل سے زبان پر آتے آتے رہ گئیں۔ کچھ آ بھی گئیں لیکن اردو میں۔ سو زبان سے ناواقفیت ہوٹل والوں کیلئے بہتر ثابت ہوئی۔ ہوا بہرحال وہی جو کولمبو ہوٹل والے چاہتے تھے کیونکہ اس معاملے میں ہر روز کے تجربے سے گزرتے تھے اور نہایت مشاق تھے۔ رات کے آخری پہرکولمبو کی خوابیدہ سڑکوں اور گلیوں سے گزرنا بھی ایک نیا تجربہ تھا۔ درخت اور پودے تک سر نہوڑائے نیند میں گم تھے اور ادھر ہم بس میں بیٹھے ایئر پورٹ کی طر ف سڑکیں ناپ رہے تھے۔ سکیورٹی‘ امیگریشن کے مراحل بہرحال جلدی طے ہو گئے۔ لائونج میں پہنچ کر کافی کا گرم گھونٹ سینڈوچ کے ساتھ گلے سے اترا تو آنکھیں کھلنے لگیں۔ رگوں کو گرم سیرابی اور جسم کو ایندھن ملا تو لگا کہ اب سفر ہو سکتا ہے۔ اقبال کے الفاظ میں ''عروقِ مردۂ مشرق میں خونِ زندگی دوڑا‘‘۔ جسم کو ایندھن ملتا رہے تو کام کرتا رہتا ہے‘ اور ایک دن وہ بھی آتا ہے کہ جتنا بھی ایندھن پھونک دو‘ جسم کو حکم دے دیا جاتا ہے کہ اب کام ختم۔
سو چھ جنوری کو ڈھاکہ میں دوپہر کی شکم سیری کے بعد چکراتے سر کے ساتھ بستر پر دراز ہوا اور ایسی نیند آئی کہ رات میزبانوں کی فون کال پر ہی آنکھ کھلی۔ رات کو میزبانوں میں سے ایک جناب محمد سرور کے گھر کھانے کیلئے جانا تھا۔ انہوں نے کافی افراد کو مدعو کر رکھا تھا۔ سرور صاحب ڈھاکہ کی کاروباری شخصیت ہیں‘ ٹیکسٹائل مل کے مالک۔ ان کا میرے مرحوم بڑے بھائی مفتی محمود اشرف عثمانی سے بہت گہرا اور اصلاحی تعلق رہا‘ اسی حوالے سے وہ مجھ سے بھی محبت کرتے ہیں۔ وہ ہمارے گھر بھی کئی بار تشریف لا چکے۔ اب انہیں میری آمد کا علم ہوا تو لاہور ہی میں ان کے فون آنا شروع ہو چکے تھے اور انہوں نے سب انتظام بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ سرور صاحب کا گھر دھان منڈی کے علاقے میں ہے جو ڈھاکہ کے اعلیٰ علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شیخ مجیب اور حسینہ واجد کے گھر بھی دھان منڈی میں تھے۔ 32دھان منڈی کی رہائش گاہ ہی شیخ مجیب کا مقتل ثابت ہوئی تھی۔ حسینہ واجد کے خلاف تحریک میں بھی یہ گھر جلایا اور مسمار کیا گیا تھا‘ جس کو حسینہ حکومت نے ایک میوزیم کی شکل دے دی تھی۔ دھان منڈی ڈھاکہ کا مہنگا علاقہ ہے لیکن بہت جدید نہیں۔ جدید رہائشی آبادیاں مختلف ناموں سے ڈھاکہ کا حصہ بن چکی ہیں۔ سرور صاحب کے نوجوان بچوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہ ہنستے مسکراتے نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اب والد کے ساتھ کاروبار بھی سنبھالتے ہیں۔ یہ تربیت دیکھ کر خوشی ہوئی کہ دونوں بڑے بیٹوں نے کھانے کی میز پر ایک ایک مہمان کی پلیٹ میں خود کھانا پیش کیا اور آخر وقت تک خود دسترخوان پر نہیں بیٹھے بلکہ مہمانوں کا خیال رکھتے رہے۔ حیرانی کی منزلیں ابھی باقی تھیں۔ میں نے کسی دستر خوان پر مچھلی کی اتنی قسمیں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ وہ اقسام جن کا نام بھی نہیں سنا تھا‘ تلی ہوئی‘ بھنی ہوئی یا پکی ہوئی شکل میں موجود تھیں۔ بڑے سائز کے جھینگے بھی رنگا رنگی میں شامل تھے۔ بنگال میں مچھلی اور چاول کا مرغوب ہونا تو بہت بار سنا اور پڑھا تھا لیکن بنگلہ دیش میں پہلے کھانے ہی میں اس کا عملی مظاہرہ نظر آ گیا۔ درمیانے سائز کی ایک مسلم مچھلی کا تعارف کرایا گیا لیکن افسوس نام یاد نہیں‘ بس یہ یاد ہے کہ بہت لذیذ تھی۔ روٹی موجود تھی لیکن حاضرین نے اس کی طرف توجہ کم ہی کی۔ چاولوں کی ایک اجنبی سی ڈش جو خوش منظر بھی تھی‘ بریانی کے نام سے کھلائی گئی۔ بنگلہ دیش میں بریانی میں چھوٹا چاول استعمال ہوتا ہے جو اگرچہ خوشبودار ہوتا ہے لیکن ہمارے لیے ذرا اجنبی ہے۔ ہمارے تالو کو باسمتی چاول کا ذائقہ ایسا چپکا ہوا ہے کہ کوئی اور قسم پسند ہی نہیں آتی۔ یہاں باسمتی چاول کی بھی بریانی ہوتی ہے جو ذائقے میں پاکستان اور بھارت کی بریانی جیسی ہے لیکن اسے کچی بریانی کہتے ہیں۔ کچھ دن بعد ایک جگہ ذرا تیز مسالوں والی حیدر آبادی بریانی بھی کھائی جو بہت عمدہ تھی۔ گویا بریانی بھی کئی طرح کی موجود ہے۔ اُس رات جو میٹھے کھائے ان کی حلاوت ابھی تک منہ میں گھلتی ہے۔ رس ملائی اور رس گلے کے الفاظ کو ذرا سا گول کرکے پڑھ لیں تو بنگال کی روش ملائی اور روش گولا بن جاتا ہے‘ لیکن حضور! بات نام کی نہیں‘ صفات کی ہے۔ ایسی رس ملائی اور ایسے رس گلے میں نے شاید کبھی نہیں کھائے تھے۔ یہ رس ملائی کی بھی شاید کوئی ذرا مختلف قسم تھی۔ بنگالی مٹھائیوں کی ہمیشہ سے تعریف سنتے آئے تھے اور سچ یہ کہ تعریف کم پڑتی ہے ان کیلئے۔ آپ جانتے ہیں کہ میٹھا الگ چیز ہے اور مٹھائی الگ۔ سو دونوں کی تعریف بھی الگ الگ ہونی چاہیے۔ بنگلہ دیش میں قیام کے دنوں میں کھانے کے بعد میٹھوں میں کئی ایسے میٹھے بھی کھائے جن کی شکل اور نام سے بالکل واقفیت نہیں تھی۔ ان میں بہت سے میٹھے چاول سے بنتے ہیں۔ کئی ایک کے بارے میں بتایا گیا کہ ان پر بہت محنت لگتی ہے۔ اب کیا کیجیے کہ حضرت انسان کوئی بھی کھانا اور کوئی بھی ڈش گھنٹوں اور دنوں کی محنت کے بعد تیار کرتا ہے اور نوالے سے منہ تک آنے میں چند سیکنڈ ہی لگتے ہیں۔
قیام گاہ تک پہنچتے پہنچتے بھرپور شکم سیری کا نشہ نیند بن کر آنکھوں میں اترنے لگا۔ ایک اچھی نیند نے تازہ دم کیا اور پھرایک نیا دن میرے سامنے تھا۔ میرے میزبانوں میں سے ایک ڈاکٹر عبدالعزیز نے مجھے اپنے ادارے کے معائنے کیلئے دعوت دی تھی۔ ڈاکٹر عبدالعزیز بی آئی آئی ٹی کے نام سے ایک بڑے ادارے کے سربراہ ہیں‘ جو نشر واشاعت کے ساتھ ساتھ تعلیم اور دیگر فلاحی منصوبوں میں کام کر رہا ہے۔ میری ملاقات ان سے استنبول‘ ترکیہ میں تین سال قبل ہوئی تھی جب ترکیہ نے مختلف مسلم ممالک کے ناشرین کے ایک نئے پلیٹ فارم‘ آئی یو آئی بی پی کا آغاز کیا تھا اور ہر ملک سے ایک نمائندہ بلایا تھا۔ پاکستان سے نمائندگی میری تھی اور بنگلہ دیش سے ڈاکٹر عبدالعزیز کی۔ ڈھاکہ میں ان کادفتر اتارا کے علاقے میں ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی شاخیں ڈھاکہ میں کام کر رہی ہیں۔ ہم پہنچے تو ان کے نائب ڈاکٹر شاہد نے اپنی ٹیم کے ساتھ استقبال کیا اور پورے ادارے کا معائنہ کرایا۔ ان کا نشر واشاعت کا شعبہ بہت فعال ہے۔ ایک اہم کام انہوں نے یہ کیا کہ ترک زبان سے بہت سی کتب کے‘ جن میں بچوں کی کتب بھی شامل ہیں‘ بنگلہ میں ترجمہ کرایا اور شائع کیا۔ مجھے بنگلہ دیش کی کتب کا معیار دیکھ کر خوشی ہوئی۔ کاغذ‘ طباعت‘ جلد سازی‘ ٹائٹل‘ ڈیزائن تمام شعبو ں میں معیار کا پورا اہتمام کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالعزیز بھی کچھ دیر بعد ہمارے ساتھ شامل ہو گئے اور اپنے سٹاف اور مختلف شعبوں کے ورکرز کا تعارف کرایا۔ کمپیوٹر پریزنٹیشن نے اس ادارے کا مکمل تعارف کروا دیا اور اب میرے سامنے اس کے گوشے واضح شکل میں آ چکے تھے۔ (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved