آج وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایک دلچسپ بیان سنا کہ آئندہ پولیس؍ بیوروکریسی میں قائداعظم یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ لوگ آئیں گے۔ ان کا کہنے کا مطلب شاید یہ تھا کہ اس طرح پڑھے لکھے اور اچھی یونیورسٹی سے نکلے گریجوایٹ پاکستانی پولیس کا امیج اور کردار بدل دیں گے۔
میں آج کل بھارت میں چھپنے والی انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے ایک سابق افسر کی کتاب پڑھ رہا ہوں جو برٹش انڈیا سروس سٹرکچر سے لے کر موجودہ دور تک کی انڈین سروس کی تاریخ اور صورتحال کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ ایک شاندار کتاب ہے جو آپ کو بتاتی ہے کہ انگریزوں نے جب اس خطے میں طویل عرصے تک رہنے کا فیصلہ کیا اور انہیں یہاں بیورو کریسی اور اداروں کی ضرورت پڑی تو وہ کیسے آکسفورڈ اور کیمبرج میں جا کر وہاں کے فریش گریجوایٹس کو کہانیاں سنا کر یہاں لائے تھے کہ ان کا مستقبل برطانیہ کے بجائے ہندوستان میں زیادہ روشن ہے۔ 1947ء میں انگریزوں کے واپس جانے سے پہلے ہندوستان کی آبادی 34کروڑ تھی اور اُس وقت چار سو بیورو کریٹس پورے ہندوستان کو چلا رہے تھے۔ اندازہ کریں کہ اتنے بڑے خطے کو انگریز حکومت صرف چار سو افسران کی مدد سے مینج کر رہی تھی۔ اُس وقت افسران کیلئے امتحان کا جو معیار تھا‘ وہ پڑھ کر آپ کو احساس ہوتا ہے کہ کسی دور میں اس سروس میں شامل ہونے کیلئے کردار‘ ذہانت اور ایمانداری کتنے اہم جزو سمجھے جاتے تھے۔ اور اب چند دن پہلے ہی بھارت سے خبر آئی کہ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے ایک افسر کے گھر سے کروڑوں روپے کی رشوت برآمد کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ یہی حال پاکستان میں ہے۔
میں پہلے بھی شاید لکھ چکا ہوں کہ 2006ء کے بعد جو اکا دکا اچھی شہرت کے حامل بیورو کریٹ آپ کو مل جاتے تھے‘ وہ جب ریٹائرڈ ہوئے تو اس کے بعد جو بھی افسر ترقی کرکے اوپر گئے‘ ان میں سے اکثر کی گفتگو سن کر لگتا تھا کہ شاید کلرک یا سپرنٹنڈنٹ فیڈرل سیکرٹریز بن گئے ہیں۔ ایمانداری اور میرٹ محض ایک فراڈ بن گیا ہے۔ کینیڈا میں ہر دوسرے گھر میں پاکستانی افسران کے خاندان رہتے ہیں۔ یہ سب افسران میرٹ پر ہی مقابلے کا امتحان پاس کرتے ہیں‘ لیکن چند ایک افسران کو چھوڑ کر باقیوں کے بارے میں کتنے لوگ قسم دے سکتے ہیں کہ وہ ایماندار اور قابل ہیں؟
چند دن پہلے کراچی میں تھا تو وہاں ایک ریٹائرڈ افسر سے ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میں کوئی فرشتہ تھا لیکن ہمارے وقت میں پھر بھی کچھ شرم‘ حیا اور قناعت باقی تھی۔ اب تو افسر پہلے دن سے گنتی شروع کر دیتا ہے کہ آج کا سکور کیا رہا۔ افسردہ ہو کر کہنے لگے کہ جس محکمے سے میں ریٹائر ہوا تھا‘ وہاں میرے ایک کلائنٹ کا کام تھا کیونکہ اب میں اس فیلڈ کی پریکٹس بھی کرتا ہوں۔ جو افسر وہاں اب بیٹھا ہے‘ وہ میرا جونیئر تھا۔ اس نے میرے کلائنٹ سے ایک کیس میں دس کروڑ روپے لیے۔ اگلی دفعہ میں اس افسرسے ملا تو مجھے کہنے لگا کہ صاحب کچھ مزید دلوا دیتے تو بہتر تھا‘ دس کروڑ کم ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ میں ہکا بکا بیٹھا اس افسر کو دیکھتا رہا‘ جسے دس کروڑ بھی کم لگ رہے تھے اور مجھے کہہ رہا تھا کہ مزید دلوا دو۔ کہنے لگے کہ اب تو کوئی افسر ایک دن بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا‘ وہ سول سروس میں عوام کی خدمت کرنے نہیں بلکہ اپنی اور آنے والی نسلوں کی غربت دور کرنے آتا ہے۔ اکثر بیورو کریسی اب اُس کلاس سے آئی آرہی ہے جس کے نزدیک اپنی غربت دور کرنا پہلی ترجیح ہے۔ افسران کو اب اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ میرٹ پر آ رہے ہیں یا سفارش پر‘ ان کی مشترکہ کوشش یہی ہے کہ وہ پیسہ کیسے بنا سکتے ہیں۔ اس لیے تو وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس راز سے پردہ اٹھایا کہ پاکستانی بیورو کریسی اب پرتگال میں جائیدادیں خرید رہی ہے۔ سنا ہے وہاں ایک سابق بیورو کریٹ‘ جسے نیب نے اربوں روپے کے کرپشن کیس میں مفرور ڈکلیئر کیا ہوا ہے‘ پرتگال میں پاکستانی افسران کیلئے جائیدادیں خرید رہا ہے۔ وہ ان افسران کا فرنٹ مین ہے جو دولت یہاں کما رہے ہیں لیکن انہیں اسے باہر منتقل کرنے کے طریقۂ واردات کا علم نہیں۔
کچھ عرصہ قبل مجھے اسلام آباد میں ایک صاحب ملے جو اَب لندن میں ہوتے ہیں۔ میں ایک کیفے میں بیٹھا تھا‘ وہ پہچان کر میرے پاس آئے اور بتانے لگے کہ اس وقت کون کون سے ملکوں کی شہریت خریدی جا سکتی ہے اور یہ کہ میں بھی وہاں کا پاسپورٹ لے لوں۔ میں نے کہا کہ بھائی فدوی کے پاس نہ اتنے پیسے ہیں‘ نہ ہی یہ اپنی دھرتی ماں چھوڑ کر کسی اور ملک کی شہریت لینے کا شوق رکھتا ہے۔ پاکستان سے بڑی شناخت اور شہریت اور کوئی نہیں۔ انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل مجھے قائل کرنے کی کوششوں میں لگے رہے۔ پھر چند بڑے اینکرز اور صحافیوں کے نام بتائے کہ ان سے میرے بارے پوچھ لیں‘ وہ بھی میرے کلائنٹ ہیں‘ تسلی رکھیں‘ کوئی فراڈ نہیں ہو گا‘ میں صرف اپنی فیس لوں گا۔ وہ شخص بتانے لگا کہ وہ ہر تین چار ماہ بعد لندن سے پاکستان آتا ہے‘اس کے زیادہ تر کلائنٹس بیورو کریسی سے ہیں جن کے پاس بہت پیسہ ہے۔ اکثر کے پاس پیسہ کیش میں ہے جسے یہاں سے باہر منتقل کرنے کا الگ سے کمیشن طے ہوتا ہے اور جائیداد اور شہریت کا الگ سے۔ کہنے لگا کہ ہر تین ماہ بعد جب لندن واپس جاتا ہوں تو میرے پاس دس پندرہ کلائنٹس ضرور ہوتے ہیں۔ ہم پورا کام ایمانداری سے کرتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ بیورو کریٹس ہماری مشہوری کرتے ہیں کہ فلاں بندے سے بات کرو‘ کام ہو جائے گا۔ یوں ہمارے گاہک بڑھتے رہتے ہیں۔ ہمیں اپنی ساکھ بہت عزیز ہے۔ میں دلچسپی سے اس کی باتیں سنتا رہا۔ وہ ہنس کر کہنے لگا کہ بیورو کریٹس کے بعد ہمارے دوسرے بڑے کلائنٹس میڈیا پرسنز ہیں‘ اسی لیے آپ کو دیکھا تو سوچا کہ شاید آپ کو بھی ضرورت ہو۔ ان صاحب نے اپنا کارڈ بھی مجھے دیا لیکن میں نے بغیر دیکھے واپس کر دیا۔ کچھ حیران ہوئے تو میں نے کہا کہ دراصل مجھے اتنی ترقی کا شوق نہیں۔ بولے: سمجھ نہیں آئی۔ میں نے کہا: پھر آپ کوسمجھانے کیلئے سرائیکی کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ بعض دوست کہتے ہیں کہ یہ سچا ہے اور بعض کا ماننا ہے کہ محض حکایت ہے۔ بہرحال سچا ہے یا نہیں‘ اسے چھوڑیں‘ آپ ذرا اس بات میں چھپے خوبصورت پیغام پر توجہ رکھیں۔وہ شخص میرے قریب ہو کر بیٹھ گیا۔
ہمارے علاقے کے ایک سرکاری ملازم کی گریڈ سترہ سے گریڈ اٹھارہ میں ترقی ہوئی تو اسے دوسرے شہر ٹرانسفر کر دیا گیا کیونکہ گریڈ اٹھارہ کی سیٹ وہاںخالی تھی۔ اب اُس بندے نے پورا زور لگایا کہ اس کا ٹرانسفر نہ ہو اور وہ اپنے ہی شہر میں رہے کیونکہ ہمیں چند کلو میٹر کا سفر بھی پردیس لگتا ہے۔ سرائیکیوں کے ترقی نہ کرنے کی بڑی وجہ مونجھ اور پردیس کا خوف ہے۔ پہلے اس سرکاری ملازم نے محکمے کے سربراہ کو سفارش کرائی مگر کوئی فرق نہ پڑا۔ اسے بتایا گیا کہ پروموشن کو Actualize کرنے کیلئے اس کا دوسرے شہر جا کر جوائن کرنا ضروری ہے جس پر اس نے کہا کہ اسے گریڈ سترہ میں ہی رہنے دیا جائے کیونکہ وہ اپنا شہر نہیں چھوڑنا چاہتا۔ اسے کہا گیا اب تو پروموشن ہو چکی اور ایسا کوئی قانون نہیں کہ پروموشن ریورس کر دی جائے۔ ہر جگہ سے مایوس ہو کر آخر اس نے محکمے کے سربراہ کو خط لکھا کہ جب فدوی ترقی نہیں کرنا چاہتا تو آپ سب مل کر مجھے کیوں ترقی دینا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں بھی سرائیکی ہوں اور میرا بھی یہی حال ہے کہ فدوی ترقی نہیں کرنا چاہتا۔ ہنس کر بولا: میں نے تو آپ کا بھلا سوچ تھا‘ ورنہ یہاں تو سرکاری افسران کی لائن لگی ہوئی ہے۔ جواباً میں یہی کہہ سکا: گڈ لک برادر!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved