اس سے کون انکار کر سکتا ہے! جو ملک عوام نے بنایا تھا‘ وہ خواص کی خواہشوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ تقسیمِ برصغیر کی بنیاد ہندو آبادی کی اکثریت سے جڑے ہوئے خطرات تھے۔ اکثریت والے تو واہگہ بارڈر سے اُدھر رہ گئے لیکن خطرات سارے بارڈر کراس کرکے اِدھر آ گئے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد کا جو لٹریچر دستیاب ہے‘ اس کے مطابق یہ جنگ جو ہندو‘ مسلم‘ سکھ‘ عیسائی‘ سب نے مل کر لڑی تھی‘ اس کا اصلی شکار راجے مہاراجے نہیں بلکہ غریب طبقات ہوئے۔ دہلی میں بہادر شاہ ظفر نے ہاتھ کھڑے کر دیے جبکہ کوئی اہم انقلابی مسلم کمیونٹی لیڈر اس بغاوت کو لیڈ کرنے کے لیے موجود نہیں تھا۔ اس لیے وہ چھوٹے طبقات جو نوکری کی غرض سے انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے تھے‘ ان پر خاندانوں سمیت قیامت ٹوٹ پڑی۔ غاصب فرنگی راج نے مسلمانوں پر معاشی ترقی کے دروازے بند کر ڈالے تاکہ کوئی دوسرا غدر نہ مچ سکے۔ اپنے ہی وسائل تک مقامی حقدار لوگوں کی رسائی کی اس محرومی نے ہندوستان کی آزادی کو اور ساتھ ساتھ ہندو اکثریت سے نجات کے نعرے کو بھی ہوا دینا شروع کر دی۔ آج کے ایک ارب انسانوں سے زائد کی ہندو آبادی کے ملک میں مسلمانوں کی تعداد اُس وقت کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ بنتی تھی۔ اس لیے استحصال کے کھلے خدشات اپنی جگہ درست تھے۔ حضرتِ اقبالؒ‘ حضرتِ قائداعظمؒ‘ لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر سمیت مشرقی اور مغربی پاکستان کے مسلم عمائدین نے قیادت کا حق ادا کیا۔ یوں ہم انگریزی راج سے آزاد ہو گئے۔ یہ ایک ایسی جدوجہدِ آزادی تھی جس میں نہ کوئی ہتھیار بند مزاحمت ہوئی‘ نہ ہی کوئی فوجی حملہ۔
آج پون صدی گزرنے کے بعد 25 کروڑ لوگوں کے ذہنوں میں یہ حقیقت پختہ ہو گئی کہ ملک اور اس کے وسائل سفید انگریزوں کے ہاتھ سے نکل کر رنگ دار انگریزوں کے قبضے میں چلے گئے۔ کسی زمانے میں درۂ واخان کے ذریعے روس ہمارا پہلا پڑوسی ملک تھا۔ دوسرا عوامی جمہوریہ چین‘ تیسرا افغانستان‘ چوتھا ایران اور پانچواں بھارت۔ بنگلہ دیش تب ایک جان کا دوسرا قالب تھا۔ ہمارے مشرقی پاکستان کے پڑوس میں بھارت کے علاوہ دو مزید ملک بھی تھے۔ جن میں سے ایک برما تھا اور دوسرا بے آف بنگال میں تھائی لینڈ۔ یوں ان سات ممالک میں آٹھواں بنگلہ دیش شامل کر کے دیکھ لیں۔ پھر تلاش کریں ہمارے ملک کے علاوہ کس دوسرے ملک کے سیاستدان عام آدمی کے استعمال کی چینی پیدا کرنے والی شوگر ملوں کے مالک ہیں۔ قریب ترین سے انڈیا کی مثال لیتے ہیں۔ جہاں اڈانی‘ بِرلا‘ ٹاٹا اور امبانی انڈیا کے اندر سب بڑے صنعتی کمپلیکس کے مالکان ہیں۔ کبھی آپ نے سنا کوئی بِرلا بہار کا وزیراعلیٰ بنا۔ کوئی ٹاٹا کاروباری زور پر سیاست میں آکر پرائم منسٹر آف انڈیا کے عہدے تک پہنچا۔ یا کوئی امبانی انڈیا کا صدر بنایا گیا۔ اڈانی چاہے تو بِرلا‘ ٹاٹا اور امبانی سب کو شامل کرکے اپنے وسائل سے ایک پورا ملک خرید سکتا ہے۔ کیا ایسے خاندان نے کبھی بھارت کی سیاست میں منہ ماری کی۔ ایران میں پہلوی خاندان‘ جو بنیادی طور پر فوج سے سیاست میں آیا تھا‘ اسے چھوڑ کر باقی سب سیاست کار عام گھرانوں کے لوگ تھے‘ جو بڑے بڑے عہدے پر آتے رہے۔
1970ء کے عشرے میں پاکستان‘ ایران‘ افغانستان اور ترکی‘ چاروں ممالک کا علاقائی اتحاد تھا جس کا نام RCDرکھا گیا۔ یعنی ریجنل کوآپریشن فار ڈویلپمنٹ۔ اس اتحاد کے دیگر دو ممالک افغانستان اور ترکی پر نظر ڈالیں۔ سیاستدان اوگلو ہو یا اردوان‘ دونوں عام لوگ ہیں۔ مُلا عمر ہو یا شمالی اتحاد کا شیرِ پنج شیر‘ یہ سارے بھی عام لوگ ہیں۔ نہ ان میں سے کوئی شوگر مل مالکان‘ نہ ہی کسی کی کوئی سٹیل مل سرکاری ٹھیکوں کے بل پر دوڑی‘ نہ ان کی ملکیتی ٹرانسپورٹ چلی‘ نہ وہ مرغی کے کاروبار سے منسلک تھے اور نہ ہی انڈے کی گریڈنگ کر کے اسے چار مختلف قیمتوں میں بیچنے کی صلاحیت سے مالا مال تھے۔ اگر ہم اپنے گریبان میں نظر ڈالیں تو ہم سب مختلف وجوہات کی بنا پر مغرب کے ملکوں کو کوستے رہتے ہیں‘ ساتھ ہی پورے یقین سے ان معاشروں کو جہنم کا ایندھن سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ سوال تو بنتا ہے کہ کوئی صاحبِ کروفر بتائے! کیا یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ میں کسی خاندان کا 30 سے 40 سال تک راج رہا‘ کس امریکی ریاست میں خاندانی حکمرانی چل رہی ہے‘ ایسا کون سا گورا یا کالا عوامی نمائندہ ہے جس کے بچے پیدا ہوتے ہی کھرب پتی ہو جاتے ہیں؟ ٹرمپ Exception کہہ لیں‘ جو ایسے واحد امریکی صدر ہیں جن کے خلاف No Kingکے نعرے لگتے ہیں۔
مغرب میں مزید دیکھ لیں۔ انگلستان کو پہلے واٹر لُو کی جنگ میں نپولین بونا پارٹ کی فوجوں کے خلاف فتح دلانے والے کا ہم نام ہی نہیں جانتے۔ نہ یہ جانتے ہیں کہ اس نے کتنی انڈسٹریاں لگائیں۔ وہ فاتح کتنے سال اقتدار میں باریاں لیتا رہا۔ اس کے بعد فرسٹ ورلڈ وار‘ سیکنڈ ورلڈ وار جو زیادہ شدت کے ساتھ برطانیہ اور انگلش چینل کے ارد گرد لڑی گئی۔ اس میں برطانیہ کو فتح یاب کرنے والا وزیراعظم سر ونسٹن چرچل جنگ ختم ہوتے ہی وزیراعظم کا الیکشن ہار گیا۔ ووٹروں نے اسے شکست دے کر کہا: چرچل صاحب جنگ کے زمانے کے لیے اچھے وزیراعظم تھے‘ ہم نے ان کو اس لیے مسترد کیا کہ اب انگلستان کو ایک ایسے وزیراعظم کی ضرورت ہے جو امن کے ساتھ برطانیہ کو ترقی کی راہ پہ ڈالنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اپنے ہاں پچھلے 78 سال سے دو نعرے مسلسل لگائے جا رہے ہیں۔ آئیے مل کر ان نعروں کی نقاب کشائی کریں۔
ہمارا پہلا پسندیدہ نعرہ: یہ نعرہ کہتا ہے ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے۔ اس نعرے کے نام پرملک میں کئی بار Internally Displaced Persons (آئی ڈی پیز) کے کیمپ لگائے گئے۔ پھر ان کی باعزت واپسی اور بحالی کے کریڈٹ لیے گئے۔ چند سال کے وقفے کے بعد پتا چلا کہ دہشت گردی کی جڑ ہمارے ہاتھ نہیں آ سکی۔ سادہ سی بات ہے۔ کسی بھی پبلک پالیسی کو بار بار آزمانے سے ہر بار ایک ہی نتیجہ نکلے گا۔ اگر نتائج بدلنے ہیں تو پہلے پالیسی بدلنا پڑے گی۔
ہمارا دوسرا پسندیدہ نعرہ: اب پاکستان نئی اُڑان بھرے گا۔ یہ نعرہ پچاس کے عشرے میں شروع ہوا۔ 1971ء میں ملک کا نقشہ بدل گیا‘ لیکن نعرہ نہ بدلا۔ قدرت کا کرنا ایسا ہوا‘ ان نعروں کو تمغے بنا کر سینے پہ سجانے والی نسل بدل گئی ہے۔ جب سے یہ خبر سامنے آئی کہ اگلے الیکشن میں اڑھائی کروڑ بچے اور بچیاں اٹھارہ سال کے ہو کر ووٹر بن جائیں گے‘ سرکاری بابو اور بابے ہلکان و پریشان و ویران ہو گئے۔ ان کی پریشانی وہ افراطِ زر نہیں ہے جس نے 78 سال کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ غریب آدمی کیا اب تو سفید پوشوں کو بھی کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ووٹر کی عمر میں اضافہ اور دھڑا دھڑ مخصوص و محدود ترقی کی دوڑ شروع ہے۔ حال ہی میںایک کھرب پتی ادارہ‘ جس میں پدم پتی قیمت کی جائیدادوں کے ڈھیر لگے ہیں‘ وہ بھی اس مخصوص ترقی کی نذر ہو گیا۔
جب پالیسی یہ ہوکہ صرف مخصوص لوگوں نے ترقی کرنی ہے۔ پھرعوام کا اللہ ہی حافظ!
ترے حضور مرے ماہ و سال کی دیوی
میں ارضِ خاک کا پیغام لے کے آیا ہوں
سمجھ سکے تو سمجھ لے کہ استعاروں میں
میں اپنی زیست کا ابہام لے کے آیا ہوں
مری صدا میں دھڑکتا ہے کائنات کا دل
بہ طرزِ خاص! غمِ عا م لے کے آیا ہوں
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved