شفیق الرحمن نے کہیں لکھا ہے کہ پاکستانی بچے بہت اچھے ہوتے ہیں۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ بڑے ہو جاتے ہیں۔
نوجوانوں پر ہم بے پناہ توانائیاں خرچ بلکہ ضائع کر چکے۔ جب اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تو اربابِ حل و عقد غالباً اس کا علاج ایک دوسری غلطی سے کرنا چاہتے ہیں۔ ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی۔ کہا جا رہا ہے کہ ووٹر کی عمر زیادہ کر دو۔ گویا نوجوانوں کی بصیرت پر بھروسا نہیں رہا۔ پہلے ایک غلطی کی جب عمر گھٹائی۔ اب اس کا ازالہ ایک دوسری غلطی سے کیا جا رہا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اس معاملے کو قومی نہیں‘ سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ اس افواہ پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ نوجوان ووٹر عمران خان صاحب کی طرف راغب ہے۔ لگتا ہے اس کی قلبِ ماہیت کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ اب اسے فیصلہ سازی کے عمل سے خارج کیا جا رہا ہے۔ ایک غلطی اور اس کے بعد دوسری غلطی۔ سچ یہ ہے کہ یہ نسل پندرہ برس پہلے ہماری توجہ کی مستحق بننی چاہیے تھی۔ اُس وقت ہم نے اسے نظر انداز کیا۔ جب وہ بڑی ہو گئی تو ہم نے اسے بدلنا چاہا لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
ماہرینِ نفسیات کی اکثریت کا خیال ہے کہ چھ سات برس تک انسان کی شخصیت کا بنیادی قالب مکمل ہو جاتا ہے۔ فرائیڈ نے اس کے تین مراحل بتائے ہیں۔ اس کے بعد ہم اپنی کوشش سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ اٹھارہ برس کی عمر تک یہ شخصیت پختہ ہو جاتی ہے۔ اس باب میں اور نظریات بھی موجود ہیں جیسے ارتقا کا نظریہ‘ مگر عمومی رائے یہی ہے کہ بچپن میں یہ عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شخصیت سازی کا کام گھر سے شروع ہوتا ہے۔ اگر گھر اور درسگاہ کے ماحول میں یکسانیت ہو اور دونوں مل کر فطری شخصیت کی تکمیل کریں تو پھر ایک قوم کھڑی کی جا سکتی ہے جو یکساں خصوصیات کی حامل ہو۔ ہم اس مرحلے پر شخصیت سازی پر توجہ نہیں دیتے۔ جب ایک شخصیت بن جاتی اور ہماری توقع کے مطابق نہیں ہوتی تو پھر اسے سنوارنے کی لاحاصل کوشش میں جُت جاتے ہیں۔ آج بھی یہی کیا جا رہا ہے۔ اگر ہماری خواہش ہے کہ پندرہ بیس برس بعد ایک نئی قوم بنائیں تو ہمیں آج سے اس نسل پر اپنی توجہ مرتکز کرنا ہو گی جو ماں کی گود میں ہے یا سکول کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
ایک اچھا اور مفید انسان بننے کے لیے چار عناصر کا اجتماع ضروری ہے: تنقیدی شعور‘ مضبوط اخلاقی وجود‘ اعلیٰ جمالیاتی ذوق اور زندگی گزارنے کا ڈھنگ‘ جسے لائف سکلز کہا جاتا ہے۔ یہ خصوصیات پیدا کرنے کی پہلی کوشش گھر میں ہونی چاہیے۔ انسان ایک عقلی مخلوق ہے۔ اس میں یہ صلاحیت بیدار کرنی چاہیے کہ وہ غلط اور صحیح کے مابین تفریق عقل کی بنیاد پر کر سکے۔ انسان ایک اخلاقی وجود رکھتا ہے۔ صحیح تر الفاظ میں وہ اصلاً ایک اخلاقی وجود ہی ہے۔ اس کی یہ صلاحیت بھی ترقی یافتہ ہونی چاہیے کہ وہ اچھے اور برے میں تمیز کر سکے۔ انسان جبلی طور پر خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ اس کے اس ذوق کی آبیاری ہونی چاہیے۔ چوتھی چیز ہنر ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جس عہد میں جی رہا ہے‘ اس کے مطالبات کیا ہیں۔ یہ زراعت کا دور ہے‘ صنعت کا ہے یا کمپیوٹر کا؟ تعلیم اور تربیت کو انہی چار دائروں میں مقید ہونا چاہیے۔
تنقیدی شعور کے لیے فلسفہ و ریاضی جیسے علوم ہیں۔ اخلاقی حس کی بیداری اور تربیت کے لیے مذہبی تعلیمات سے بہترعلم کوئی نہیں۔ پیغمبر آتے ہی اس لیے ہیں کہ انسان کو اخلاقی طور پر حساس بنائیں‘ اس کا تذکیہ کریں۔ جمالیاتی ذوق کی آبیاری فنونِ لطیفہ سے ہوتی ہے۔ ہنر کے لیے مہارتیں ہیں جو سکھائی جاتی ہیں۔ بنیادی تعلیم ان چار عناصر کی بنیاد پر بننی چاہیے۔ تعلیم کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو ان چاروں عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے نصاب سازی کرے اور اس کے ساتھ تعلیمی ماحول بھی تشکیل دے۔ اختصاصی تعلیم‘ چاہے وہ مذہب کی ہو یا کسی ہنر کی‘ یکساں بنیادی تعلیم کے بعد دی جائے۔ ایک فرد جس شعبے کا چاہے انتخاب کرے لیکن اس میں چار بنیادی خصوصیات لازم ہے کہ توانا ہوں۔
ہم جن معاشرتی برائیوں کا رونا روتے ہیں‘ ان کا سبب ان چاروں بنیادی خصوصیات کی کمی ہے۔ مذہب اور سیاست میں انسانوں کا جذباتی استحصال اس لیے ہوتا ہے کہ وہ ان امور میں عقل کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرتے۔ ایک شخص کی زندگی سے لوگ آگاہ ہوتے ہیں کہ وہ مذہبی فرائض کا تارک ہے لیکن وہ اسے اپنا مرشد مان لیتے اور اس کے بارے میں گمان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے قریب ہے۔ عوام بچشمِ سر دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی سیاست میں روز اپنا مؤقف بدلتا ہے‘ کسی اخلاقیات کا قائل نہیں۔ اس سے یہ امید لگا لیتے ہیں کہ وہ سیاسی نظام کی اصلاح کرے گا۔ ایک شخص آئین پامال کرتا ہے اور وہ اس کے اس وعدے پر یقین کر لیتے ہیں کہ وہ قانون کی حکمرانی قائم کرے گا۔ اسی طرح اخلاقی حس کمزور ہو جائے تو دوسروں کے جان و مال اور عزت و آبرو بے معنی ہو جاتے ہیں۔ جمالیاتی ذوق نہ ہو تو لطیف جذبات کا ادراک نہیں ہوتا۔ کسی بیوہ کے آنسو‘ کسی بیٹی کی گرد آلود رِدا‘ کسی بچے کی آہ‘ کوئل کی آواز‘ مصور کے رنگ‘ موسیقی کی تان‘ کوئی چیز شخصیت پر اثر انداز نہیں ہوتی اور انسان بنیادی انسانی جوہر سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر ایک نوجوان ہنر نہیں جانتا تو وہ زندگی کے لیے معاشی اسباب جمع نہیں کر سکتا اور ایک احتجاج پسند ہیجانی مخلوق میں بدل جاتا ہے۔ تعلیم اور تربیت اگر یہ خوبیاں پیدا کر دیں تو پھر وہ نسل تیار ہو جائے گی جو اپنے فیصلے خود کرے گی اور اس سے یہ امید کی جا سکے گی کہ وہ درست فیصلے کرے۔
اس وقت ریاست کو جس نوجوان کا سامنا ہے‘ اس کی شخصیت بیس پچیس برس پہلے بن چکی۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ اسے چند کانفرنسوں اور اجتماعات سے بدل ڈالیں تو یہ نہیں ہو گا۔ اس کو کوئی راستہ دینا پڑے گا۔ اس کو بدلنے کی کوشش میرا خیال ہے زیادہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کو مشغول (Engage) کرنے کے لیے کوئی حکمتِ عملی بنانا ہو گی۔ میں ان کاوشوں کی نفی نہیں کر رہا جو نئی نسل کو بدلنے کے لیے ہو رہی ہیں‘ میں اس جانب متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی کامیابی کے بارے میں زیادہ پُرامید نہ ہوں۔ زیادہ توجہ اس نسل پر دیں جسے پندرہ بیس برس بعد ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔
اس وقت ووٹر کی عمر زیادہ کرنا شکست خوردگی ہے۔ اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ کوئی حکومت یہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکتی کہ ہمیں نوجوانوں کی بصیرت پر بھروسا نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے ہی بیانیے کے جال میں پھنس چکی ہیں۔ اگر وہ کوئی جواز تراشنا چاہیں گی تو استہزا کا موضوع بن جائیں گی۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس نسل کے ساتھ معاملہ کریں‘ کچھ لو‘ کچھ دو کی بنیاد پر۔ توجہ اس نسل پر دیں جس کی شخصیت تشکیل کے مراحل سے گزر رہی ہے اور یہ مقصد تب حاصل ہو گا جب اس نسل کی تعلیم اور تربیت پر توجہ مرکز ہو گی۔ یہ مقصد ایک نصاب بنانے یا مذہب پر زیادہ اصرار سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے نئی نسل کی شخصیت سازی کرنا ہو گی۔ یہ کام آج ہی سے شروع کریں۔ پھر امید ہے کہ پندرہ بیس برس بعد آپ کو شفیق الرحمن کی طرح شکایت پیدا نہیں ہو گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved