اس آیت (النسآء: 36) سے غلام احمد پرویز کے ذہن میں ایک اور مفہوم آیا کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست مظلوموں اور پریشاں حال لوگوں کی داد رسی اور نصرت نہیں فرماتا‘ بلکہ وہ اپنے بندوں کے ذریعے ان کی مدد کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح آفاق یعنی اللہ تعالیٰ کے تکوینی نظام میں اس کا قانونِ فطرت کارفرما ہے‘ اسی طرح انسانوں کی دنیا میں بھی اسی کی کارفرمائی ہے۔ پھر انہوں نے قرآنی آیات کا حوالہ دیا: ''وہ آسمان سے زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے‘ پھر وہ کام اس کی طرف اس دن میں چڑھے گا جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال ہے‘‘ (السجدہ: 5)۔ (2) ''وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے‘‘ (المعارج: 4)۔ لیکن جب اللہ کے بندوں کی کوئی جماعت میدانِ عمل میں آتی ہے تو جو انقلاب پچاس ہزار سال میں برپا ہونا ہے‘ وہ چند دنوں میں برپا ہو جاتا ہے۔ غزوۂ بدر کے تناظر میں سورۂ انفال آیت: 17 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یہ معنیٰ اخذ کیا کہ کمان رسول اللہﷺ کی تھی اور تیر اللہ تعالیٰ کے تھے اور یہ شعر لکھا:
تیرِ قضا ہر آئینہ در ترکَشِ حق است ؍ اما کشادِ آں زِ کمانِ محمد است
یعنی قضائے الٰہی کا تیر بہر حال حق کے ترکش سے نکلتا ہے‘ لیکن اسے محمد رسول اللہﷺ کی کمان سے چلا یا جاتا ہے۔ کمان سے تیر چلانا ایسا ہی ہے جیسے آج کل راکٹ لانچر ہوتا ہے۔ تَرکش دراصل تیر کَش ہے‘ یہ اس آلے کو کہتے ہیں جس میں تیر رکھے جاتے ہیں‘ ایک ایک تیر نکال کرکمان کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ اردو لغت میں اس کیلئے متبادل لفظ ''تیردان‘‘ہے۔ جنابِ غلام احمد پرویز علامہ اقبال کا یہ شعر نقل کرتے ہیں:
چوں فنا اندر رضائے حق شود ؍ بندۂ مومن قضائے حق شود
یعنی جب بندہ اللہ کی رضا میں فنا ہو جاتا ہے تو وہ حق کی قضا بن جاتا ہے‘ وہ ا لنّہایہ لابن اثیر سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ''میں تمہارے اور اللہ کے درمیان ہوں‘ میرے اور اللہ کے درمیان کوئی نہیں ہے اور یہ کہ اللہ نے مجھ پر یہ لازم قرار دیا ہے کہ میں تمہاری دعاؤں کو اس تک پہنچنے سے روکوں‘ سو تم اپنی شکایات مجھ تک پہنچاؤ اور جس کی رسائی مجھ تک نہ ہو تو وہ میرے مقررہ حاکموں سے رابطہ کرے ہم اُس کا حق اُس تک پہنچا دیں گے‘‘۔ انہوں نے علامہ اقبال کا یہ شعر بھی لکھا:
ہاتھ ہے اللہ کا‘ بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں‘ کار کُشا‘ کارساز
یہاں تک میں نے شاہکارِ رسالت سے پرویز صاحب کی عبارت کا خلاصہ پیش کیا ہے اور کوشش کی ہے کہ ان کا پورا مفہوم اد ا ہو جائے۔ اس میں انہوں نے دعا کا فلسفہ اور حکمت اپنی دانست کے مطابق تکوینی انداز میں یعنی ماتحتَ الاسباب بیان کی ہے‘ جس کی روح یہ ہے کہ بندوں کی حاجات بندوں تک پہنچ جائیں اور وہ ان کا مداوا کریں۔ ہماری دینی فہم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا بندے کی براہِ راست التجا ہے‘ فریاد ہے اور انصاف کی طلب ہے۔ اسی طرح گناہوں سے استغفار اور معافی کی التجا بھی دعا ہے‘ مشکلات سے نجات اور سلامتی کی طلب بھی دعا ہے۔
ایک کالم نگار نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ''دراصل دنیاوی معاملات میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا‘ دنیا کے معاملات دنیا کے اصولوں پر چلتے ہیں‘ یورپ نے اتحاد کیلئے کلیسائوں میں دعائیں مانگیں اور نہ اسرائیل نے عربوں کو شکست دینے کیلئے فقط دعائوں پر انحصار کیا‘ آج امریکہ اس وجہ سے سپرپاور نہیں کہ وہاں پادری ہر اتوار کو چرچ میں جاکر امریکہ کی سربلندی کیلئے دعائیں کرتے ہیں‘ بلکہ امریکہ کی طاقت انہی اصولوں کو اپنانے کی وجہ سے ہے جو دنیا میں طاقت کے حصول کیلئے اپنائے جاتے ہیں۔ یہ دنیا جن اصولوں کے تحت چلتی ہے‘ اگر وہ مذہب کے تابع ہوتے تو کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوتی‘ کوئی بچہ اپاہج پیدا نہ ہوتا‘ کوئی شخص بھوکا نہ سوتا‘ کوئی بے گناہ جنگ میں نہ مارا جاتا‘ کسی کمزور کی عزت نیلام نہ ہوتی‘ کسی زلزلے میں دودھ پیتے بچے ہلاک نہ ہوتے‘ یہ دنیا طبعی اور غیر طبعی قوانین کا مجموعہ ہے‘ جب ہم بے بس ہو کر خدا سے دعا کرتے ہیں تو دراصل اس سے ان قوانین میں ترمیم کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں‘ جو ممکن نہیں‘ کیونکہ اگر ایسا ہونا شروع ہو جائے تو پھر سردرد کی گولی تو ایمان والوں پر اثر کرے گی مگر پستول کی گولی ایمان والوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے گی‘ ہم سمجھتے ہیں کہ دعائوں سے دنیاوی مسائل حل ہو سکتے ہیں‘ پیغمبروں کی فضیلت اور اُن کی دعا کی بات الگ ہے‘ جسے ہم گناہگار نہیں پا سکتے‘ جبکہ مذہب کا یہ موضوع ہی نہیں‘‘۔ وہ مزید لکھتے ہیں: ''یہ کائنات کچھ آفاقی قوانین کے تحت چل رہی ہے‘ ان قوانین کے مجموعے کو ہم طبعی قوانین کہتے ہیں‘ آج سے ساڑھے تیرہ ارب سال پہلے جب یہ کائنات وجود میں آئی تو ساتھ ہی یہ طبعی قوانین بھی وجود میں آگئے‘ یہ قوانین کائنات میں یکساں انداز میں لاگو ہیں‘‘۔
ہمیں موصوف کی اس بات سے اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو پیدا کیا اور اس کے تکوینی نظام کیلئے قوانینِ فطرت بھی مقرر فرمائے‘ لیکن کیا خالق کا اس کے بعد کائنات سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے‘ کیا خالق کی مشیت اب بھی کائنات میں کارفرما نہیں ہے یا معاذ اللہ! وہ معطّل ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''اور سورج مقررہ راستے پر چل رہا ہے‘ یہ بہت غالب‘ بے حد علم والے کا بنایا ہوا نظام ہے اور ہم نے چاند کی منزلیں مقرر کی ہیں حتیٰ کہ وہ لوٹ کر کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے‘ نہ سورج کی مجال کہ وہ (چلتے چلتے) چاند کو پا لے اور نہ رات دن سے پہلے آ سکتی ہے اور ہر ایک (سیارہ) اپنے اپنے مدار میں تیر رہا ہے‘‘ (یٰس: 38 تا 40)۔ اور فرمایا: ''سورج اور چاند ایک حساب سے چل رہے ہیں‘‘ (الرحمن: 5)۔ موصوف کالم نگار نے عاجز مسلمانوں پر طنز فرمایا کہ وہ دعا کو ہر مسئلے کا حل سمجھتے ہیں‘ جبکہ قوانینِ فطرت میں دعا کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور نہ دعا کی تاثیر ہے‘ پھر انہوں نے قوموں کے عروج وزوال کے حوالے دیے اور آج کل مغربی قوتوں کو جو غلبہ حاصل ہے‘ وہ کسی دعا کے نتیجے میں نہیں ہے‘ بلکہ ان کی اپنی محنت‘ صلاحیت‘ اہلیت اور قابلیت کے نتیجے میں ہے‘ اس کا توڑ دعائوں سے نہیں ہو سکتا‘ کیونکہ قوانینِ فطرت اٹل ہیں۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ قوانینِ فطرت فاطِر پر حاکم نہیں ہیں‘ وہ قادرِ مطلق ہے‘ جب چاہے ان کو معطّل فرما سکتا ہے‘ ان سے ماورا اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے‘ جیسے آگ کا کام جلانا ہے‘ مگر جب اس کا حکم ہو ا تو وہی آگ ابراہیم علیہ السلام کیلئے سلامتی بن گئی تو اُس وقت قانونِ فطرت کی کارفرمائی کہاں گئی۔ پھر انہوں نے مثالیں دیتے ہوئے خلطِ مبحث سے کام لیا اور مثالیں دیتے وقت قانونِ فطرت یا طبعی قانون اور تشریعی قوانین کو خلط ملط کر دیا۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ قوموں کے عروج وزوال کا تعلق قوانینِ فطرت سے نہیں ہے‘ اللہ تعالیٰ کے تشریعی نظام سے ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کہیں یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ کسی استحقاق کے بغیر کلمہ پڑھنے والوں کو ساری ملتِ کفر پر غالب کر دے گا‘ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اُس نے غلبے کیلئے ''مومنِ کامل ‘‘ہونے کی شرط رکھی ہے اور اس کا ایک جامع مفہوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''کتنے ہی چھوٹے گروہ ایسے ہیں جو اللہ کے اذن سے بڑے گروہوں پر غالب آ گئے‘‘ (البقرہ: 249)۔ جیساکہ انہوں نے اسرائیل کی مثال دی ہے اورکسی حد تک طالبانِ افغانستان کی مثال بھی دی جا سکتی ہے کہ مادّی طاقت اور جدید اسلحے کی اہمیت مسلّم ہے‘ لیکن عزیمت واستقامت اور قوتِ ایمانی بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔ (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved