تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     25-01-2026

انوکھی جمہوریت‘ انوکھے سیاستدان

سانحہ گل پلازہ نے پورے پاکستان کو ہلا دیا ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے‘ ہر دل میں اضطراب کی لہریں اُٹھ رہی ہیں۔ آگ پر دو دن تک قابو نہ پایا جا سکا‘ درجنوں افراد جل گئے‘ اربوں بلکہ کھربوں کا سامان راکھ ہو گیا۔ روح فرسا مناظر ٹیلی ویژن سکرین اور سوشل میڈیا کے ذریعے ملک بھر میں دیکھے جا رہے تھے لیکن کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ پلازہ کے اردگرد ہجوم بھی آہ وبکا میں مصروف تھا لیکن نہ آگ بجھ رہی تھی‘ نہ اس کی زد میں آنے والوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ لاشوں کی شناخت ممکن نہیں رہی تھی‘ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے پتا چلانے کی کوششیں اب تک جاری ہیں کہ کس کی باقیات‘ کس سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن ذمہ دار کوئی ایک ہو تو کارروائی بھی ہو‘ بلڈنگ پلان کس نے منظور کیا‘ خلاف ورزی کس کس نے کی‘ کس نے کہاں آنکھیں بند رکھیں اور کس کی کھلی آنکھیں بھی کسی کو جھنجھوڑ نہ سکیں۔ فائر الارم سسٹم کیوں نصب نہیں تھا‘ اخراج کے راستے کیوں کھلے نہیں تھے‘ ماضی کو کریدا جا رہا ہے‘ برسوں پرانی فائلیں کھنگالی جا رہی ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام لگائے جا رہے ہیں۔ گل پلازہ جیسے درجنوں کیا سینکڑوں پلازے کراچی بلکہ ملک بھر میں موجود ہیں جن کی تعمیر میں کسی قاعدے اور ضابطے کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔ سروے ماضی میں بھی ہو چکے‘ اب پھر اعلانات ہو رہے ہیں کہ ایک ایک عمارت کا جائزہ لیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور جماعت اسلامی کے رہنما ایک دوسرے سے اُلجھے ہوئے ہیں۔ سندھ کی صوبائی حکومت شرمندہ ہے‘ حسبِ معمول معافی کی خواستگار‘ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی بہانے تراش رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما کراچی کو وفاقی علاقہ قرار دے کر اسلام آباد کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جناب مصطفی کمال نے دھواں دار پریس کانفرنس میں یہ بم چلایا ہے اور اب جوابی گولا باری کی زد میں ہیں۔ جناب خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سانحے کی تحقیقات وفاقی اداروں سے کرائی جائیں‘ نیب‘ ایف آئی اے وغیرہ وغیرہ ذمہ داران کا تعین کریں۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک باقاعدہ تحریری آئین موجود ہے‘ اسی کے تحت کاروبارِ مملکت (برا یا بھلا) چلایا جا رہا ہے۔ کسی صوبائی معاملے میں وفاقی حکومت کی مداخلت ممکن نہیں رہی۔ آزادی کے فوراً بعد صوبائی حکومتوں کی مُشکیں کسنے کے جو جملہ حقوق مرکزی حکومت نے اپنے قبضے میں لے رکھے تھے‘ وہ سب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔ رائج الوقت آئین کے مطابق وفاقی حکومت حسبِ خواہش صوبائی حکومتوں کے کان پکڑ سکتی ہے اور نہ کھینچ سکتی ہے‘ اُنہیں گھر بھجوانا تو کیا مرغا بنانے کی اجازت بھی اسے حاصل نہیں رہی۔
یہ درست ہے کہ سندھ میں گزشتہ کئی سال سے حکومت بلاشرکتِ غیرے پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ آج بھی پیپلز پارٹی صوبائی اسمبلی میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت رکھتی ہے‘ اور تو اور تاریخ میں پہلی بار کراچی کا میئر بھی اس کا نامزدہ کردہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم نے بھی برسوں اس شہر پر راج کیا ہے۔ یہاں پتّا بھی اُس کی رضا کے بغیر نہیں ہل سکتا تھا۔ اسمبلی میں اُس کی جو بھی حیثیت رہی ہو‘ سندھ کے شہری علاقوں پر ''حکومت‘‘ اُسی کی تھی۔ اس دوران جو کچھ ہوا اُس کا ذکر آتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی اس شہر کی ایک بڑی سیاسی حقیقت ہے‘ اُس کے میئر بھی منتخب ہوتے رہے ہیں جنہیں آج بھی اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے لیکن سندھ کا اقتدار کبھی اُس کے پاس نہیں رہا۔ مسلم لیگ (ن) البتہ یہاں کے سیاہ وسفید میں کسی نہ کسی حد تک حصہ دار رہی ہے۔ تحریک انصاف کو بھی پذیرائی ملی اور اب بھی اُس کا حلقہ اثر وسیع تر ہے لیکن وہ اپنے آپ کو سنبھال نہیں پا رہی‘ کراچی کو سنبھالنے کی بات تو بعد کی ہے۔
سانحہ گل پلازہ کراچی کا کوئی پہلا سانحہ نہیں تھا‘ اس سے پہلے بھی کئی سانحات پیش آ چکے ہیں لیکن بدانتظامی اور بے کرداری میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پاکستان کی جمہوریت اس لحاظ سے انوکھی ہے کہ یہاں جس کے پاس جو اختیار آ جاتا ہے‘ وہ اُس سے چمٹ جاتا ہے۔ اپنا نام ''عوام‘‘ رکھ کر اپنا کِلّہ مضبوط کرنے میں لگ جاتا ہے۔ جب وفاقی حکومت جملہ اختیارات پر قابض تھی تو صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کرنے والے زندگی اجیرن بنائے ہوئے تھے‘ دن رات اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے فوائد گنواتے رہتے تھے‘ جب اٹھارہویں ترمیم نے صوبوں کو مالا مال کر دیا تو صوبائی دارالحکومتوں پر قابض عناصر ''خزانے‘‘ پر سانپ بن کر بیٹھ گئے۔ ضلع اور تحصیل کی سطح تک اختیارات اور وسائل کی منتقلی اُن کو منظور نہیں ہو پائی۔ پاکستان کی انوکھی جمہوریت مقامی حکومتوں کی ضرورت اور اہمیت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے۔ آئین واضح طور پر اس کا حکم دیتا ہے لیکن اس کے لیے قانون سازی آج تک نہیں ہوئی۔ مقامی حکومتوں کو صوبوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے‘ وہ جس طرح چاہیں اُن سے کھیلتی رہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ مقامی حکومتوں کے قیام اور تحفظ کے لیے باقاعدہ قانون سازی ہو‘ جس طرح وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے معاملات اور اختیارات واضح ہیں اسی طرح مقامی حکومتوں کے حقوق وفرائض بھی دو جمع دو چار کی طرح واضح ہوں۔ جس طرح وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کا ناطقہ بند نہیں کر سکتی‘ اسی طرح صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کا جینا بھی دوبھر نہ کر سکیں۔ اختیارات تقسیم ہوں گے تو ہر سطح پر ذمہ داری کا احساس ہو گا اور گورننس بھی بہتر ہو سکے گی۔
جس طرح ہماری جمہوریت انوکھی ہے‘ اُسی طرح ہمارے سیاست دان بھی انوکھے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں‘ ایک دوسرے کی بات پر توجہ دینے پر آمادہ نہیں۔ ایک دوسرے کے لتے لینے کا شوق ان میں دیوانگی کی حد تک ہے۔ ایک سانحے کے بعد دوسرا سانحہ برپا کرنے کے لیے تو یہ میدان میں اُتر آتے ہیں لیکن اس کے اسباب واثرات کا جائزہ لینے کی فرصت انہیں کم ہی مل پاتی ہے۔ کراچی میں جو کچھ ہوا‘ اُس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا (اور اب بھی یہ ہو سکتا ہے بلکہ ہونا چاہیے) کہ سندھ کی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما سر جوڑ کر بیٹھتے‘ مسائل کی نشاندہی کرتے اور اُن کا حل ڈھونڈنے کی مشترکہ کاوش کا آغاز کر دیتے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر لازم تھا (اور ہے) کہ وہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک چھت کے نیچے جمع کریں‘ کراچی کی زبوں حالی اور بدانتظامی دور کرنے کا جامع منصوبہ بنائیں۔ کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے‘ ہر صوبے اور علاقے کے ہزاروں نہیں لاکھوں افراد یہاں رہائش پذیر ہیں۔ کراچی کے حالات بہتر ہوں گے تو پورے ملک میں بہتری آئے گی‘ اُسے سندھ سے چھین کر مرکز کے سپرد کرنے یا الگ صوبہ بنانے کی باتیں تو رکھیے ایک طرف‘ اُس کی بلدیہ اور میئر کو تو وہ سب اختیارات دیجیے جو اُن کا حق ہیں۔ تعمیر وترقی کاپانچ سالہ منصوبہ بنائیے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے مؤثر قدم اُٹھائیے‘ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے چند سو ارکان کی اجارہ داری قائم کرنے کا نام جمہوریت نہیں رکھا جا سکتا۔
(یہ کالم روزنامہ ''دُنیا‘‘ اور روزنامہ ''پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved