تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     25-01-2026

قندھار اور کابل کا ٹکراؤ

افغانستان میں بیرونی قوتوں کو شکست دینا جتنا آسان رہا ہے اندرونی طور پر استحکام برقرار رکھنا اتنا ہی مشکل ثابت ہوا ہے۔ 1989ء میں سوویت یونین کے انخلا کے بعد جب افغان مجاہدین نے کابل کا رخ کیا تو توقع تھی کہ ایک مستحکم اسلامی ریاست جنم لے گی لیکن حاکمیت کے جنون اور نسلی ولسانی تفاخر نے افغانستان کو بدترین خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیا۔ کابل کی گلیوں میں راکٹوں کی بارش اور عام شہریوں کا قتلِ عام اُس دور کا مقدر بن گیا۔ اسی شدید خونریزی اور لاقانونیت کے بطن سے 1994ء میں تحریک طالبان کا ظہور ہوا‘ جنہوں نے خود کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا اور بکھرے ہوئے افغانستان کو بزورِ شمشیر ایک چھتری تلے جمع کر دیا۔ آج کابل پر دوبارہ قبضے کے چند برسوں بعد افغانستان ایک بار پھر اُسی تاریخی دوراہے پر کھڑا نظر آتا ہے جہاں اتحاد کی بنیادیں ہلتی دکھائی دے رہی ہیں۔
افغان طالبان کی موجودہ حکومت میں پیدا ہونے والے اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کی حالیہ رپورٹس اور لیک ہونے والی آڈیوز نے افغان طالبان کے اتحاد اور مضبوط دیوار ہونے کے تاثر کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سنگین صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخونزادہ کی ایک مبینہ آڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں انہوں نے نہ صرف حکومت کے اندر سازشوں کا اعتراف کیا بلکہ انتہائی مایوسی کے عالم میں اپنے ساتھیوں کو انتباہ کیا کہ اگر یہ اندرونی اختلافات جاری رہے تو امارتِ اسلامیہ کا نام ونشان مٹ سکتا ہے۔ یہ اعتراف اس بات کی دلیل ہے کہ طالبان کی قیادت میں فکری اور انتظامی ہم آہنگی ختم ہو چکی ہے اور وہ اتحاد جو بیس سالہ جنگ کے دوران برقرار رہا‘ اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی دم توڑ رہا ہے۔ اس داخلی تصادم کا سب سے نمایاں پہلو قندھار اور کابل دھڑوں کے درمیان جاری سرد جنگ ہے۔ قندھار جہاں ملا ہبت اللہ مقیم ہیں‘ سخت گیر نظریات اور قدامت پسندی کا مرکز بن چکا ہے جبکہ کابل میں بیٹھی قیادت‘ جس میں سراج الدین حقانی سرفہرست ہیں‘ عملیت پسند طرزِ حکومت کی خواہاں ہے۔ کابل دھڑا یہ سمجھتا ہے کہ عالمی تنہائی سے نکلنے کیلئے خواتین کی تعلیم اور بین الاقوامی تعلقات میں لچک ضروری ہے جبکہ قندھار کی شوریٰ ان اقدامات کو نظریاتی پسپائی قرار دیتی ہے۔ یہ نظریاتی خلیج اب انتظامی ٹکراؤ میں بدل چکی ہے۔ جب قندھار سے انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا تو کابل کی وزارتوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا‘ جو مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ناکام ہونے کا ثبوت ہے۔ حقانی نیٹ ورک اور قندھاری قیادت کے مابین کشیدگی میں اس وقت مزید تیزی آئی جب طالبان وزیر خلیل حقانی کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے نے حقانی نیٹ ورک کے اندر عدم تحفظ اور غصے کی لہر دوڑا دی کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کے باوجود انہیں اقتدار کے مرکز سے دور دھکیلا جا رہا ہے یا سکیورٹی میں دانستہ کوتاہی برتی جا رہی ہے۔ یہ صرف ایک گروہ کا مسئلہ نہیں پورے طالبان ڈھانچے کی اندرونی کمزوریوں کو عیاں کرتا ہے کیونکہ حقانی نیٹ ورک عسکری طور پر سب سے مضبوط دھڑا سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مسلح تصادم میں بدلتی ہے تو افغانستان ایک بار پھر نوے کی دہائی جیسی بدترین خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے‘ جس کا فائدہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں اٹھائیں گی۔
دہشت گردی کے حوالے سے طالبان کی پالیسیوں پر بین الاقوامی دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے افغانستان میں موجود ایک چینی ریسٹورنٹ پر حملے نے بیجنگ کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا۔ اس حملے کے بعد طالبان کے انٹیلی جنس چیف مولوی عبدالحق وثیق غیر اعلانیہ طور پر بیجنگ طلب کیے گئے۔ طالبان ایک وڈیو کو بنیاد بنا کر سارا ملبہ داعش پر ڈال کر چین کو رام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم چینیوں پر حملوں میں ای ٹی آئی ایم‘ ٹی آئی پی اور القاعدہ کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ ان تنظیموں کے ساتھ وابستگی کے سبب طالبان کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے‘ اس لیے وہ تحقیقات کا رخ داعش کی جانب موڑنا چاہتے ہیں۔ چین جو طالبان کا سب سے بڑا معاشی حامی بن کر ابھرا تھا‘ اب ان کی سکیورٹی اہلیت پر سوال اٹھا رہا ہے۔ یہ صورتحال طالبان کیلئے بڑا سفارتی دھچکا ہے کیونکہ اگر چین ان پر سے ہاتھ کھینچ لیتاہے تو افغانستان کا معاشی بائیکاٹ مکمل ہو جائے گا اور طالبان کی حکومت کے پاس بقا کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کا انسانی المیہ اس وقت اپنی تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تازہ تخمینوں کے مطابق ایک کروڑ 70 لاکھ افغان شہری شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ گزشتہ سال غذائی بحران نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور ماہرین کا خیال ہے کہ رواں سال مزید 20 لاکھ بچے غذائی قلت کی وجہ سے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔ افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ایران سے لاکھوں مہاجرین کی زبردستی واپسی نے اس بحران کو انسانی تباہی میں بدل دیا ہے۔ یہ مہاجرین جب خالی ہاتھ اپنے ملک پہنچتے ہیں تو وہاں پہلے سے موجود قحط زدہ نظام ان کا بوجھ اٹھانے سے قاصر نظر آتا ہے۔
طالبان کی سخت گیر پالیسیوں اور انسانی حقوق بالخصوص خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں نے عالمی برادری کو امداد روکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ مغربی ممالک اور عالمی مالیاتی ادارے بضد ہیں کہ جب تک طالبان ایک شمولیتی حکومت تشکیل نہیں دیتے اور انسانی حقوق کا احترام نہیں کرتے ان کے منجمد اثاثے بحال نہیں کیے جائیں گے۔ اس سیاسی ضد کا خمیازہ افغان عوام بھگت رہے ہیں۔ مزید 30 لاکھ افراد قحط کے دہانے پر کھڑے ہیں لیکن طالبان قیادت اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کے بجائے نظریاتی سختی پر اڑی ہوئی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر انسانی بلکہ سیاسی خودکشی کے مترادف ہے کیونکہ بھوک اور افلاس ہمیشہ بغاوتوں کو جنم دیتے ہیں۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو طالبان نے خود کو ہمیشہ مذہبی نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا لیکن حکومت چلانا اور جنگ لڑنا دو الگ فن ہیں۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ کے بعد مجاہدین نے جو غلطی کی تھی وہی غلطی آج طالبان دہرا رہے ہیں۔ وہ اقتدار کو غنیمت سمجھ کر آپس میں تقسیم کر رہے ہیں جبکہ ریاست کی بنیادیں کھوکھلی ہو رہی ہیں۔ اگر قندھار اور کابل کے دھڑے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں ترک نہیں کرتے تو وہ وقت دور نہیں جب طالبان کا یہ دوسرا دور بھی پہلے دور کی طرح ایک تلخ یاد بن کر رہ جائے گا۔ افغانستان میں داعش کی بڑھتی موجودگی بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔ داعش نہ صرف طالبان کی نظریاتی حریف ہے بلکہ وہ ناراض جنگجوؤں کو اپنی طرف راغب کرنے میں بھی کامیاب رہی ہے۔ جب طالبان کے اندرونی اختلافات میڈیا کی زینت بنتے ہیں تو نچلی سطح کا جنگجو مایوسی کا شکار ہو کر داعش جیسے متشدد گروہوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ عمل افغانستان اور پاکستان سمیت پورے خطے کیلئے بڑا سکیورٹی رسک ہے۔ اگر طالبان اپنی صفوں میں اتحاد پیدا نہیں کرتے تو داعش افغانستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں اپنی متوازی حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے‘ جس کا نتیجہ لامتناہی جنگ کی صورت میں نکلے گا۔ ضروری ہے کہ طالبان کی قیادت اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے۔ انہیں یہ سمجھنا ہو گا کہ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سرپرستی یا انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا اب مزید ممکن نہیں۔ اپنی زمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان‘چین‘ ایران اور تاجکستان کو شدید سکیورٹی مسائل سامنا ہے جبکہ ازبکستان اور دیگر وسط ایشیائی ریاستوں کو بھی اسی قسم کے خدشات لاحق ہیں۔ افغان طالبان کو ہمسایہ ممالک کے خدشات کو دور کرنا ہی ہو گا۔ افغانستان کا استحکام محض طاقت میں نہیں بلکہ ایسے سیاسی ڈھانچے میں پنہاں ہے جہاں تمام اکائیاں خود کو شریک اقتدار سمجھیں‘ کیونکہ ان کی شمولیت کے بغیر پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved