تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     25-01-2026

انٹرنیشنل کرکٹ میں نیا رواج

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے میچز کے دوران سکیورٹی کے حوالے سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے خدشات مسترد کیے جانے کے بعد بنگلہ دیش نے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سکاٹ لینڈ کو بنگلہ دیش کی جگہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے میچز کھلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں سکاٹ لینڈ کی ٹیم کو تیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس طرح ایک ٹورنامنٹ سے پائوں پیچھے ہٹانا مالی لحاظ سے بنگلہ دیش کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے لیکن بنگلہ دیش کو مالی نقصان سے دوچار کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچا جانا چاہیے کہ اُس نے ٹورنامنٹ میں شمولیت نہ کرنے کا فیصلہ مجبوراً اور آئی سی سی کی جانب سے مناسب انتظامات نہ کرنے کی وجہ سے کیا ہے۔
اس سے یہ ضرور واضح ہو جائے گا کہ جو مسائل کسی ایک ٹیم کو درپیش ہوتے ہیں دوسری ٹیم کو بھی ویسے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر بھارت کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں آ کر میچز کھیلنے میں سیکورٹی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے اور ان خطرات کے پیش نظر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نیوٹرل مقام پر میچز کا اہتمام کر سکتی ہے تو ویسے ہی خدشات کی بنا پر بنگلہ دیش کے لیے بھی انتظامات کیے جانے چاہئیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس معاملے کو لے کر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی پر جانبدار ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ آئی سی سی اس الزام کے جواب میں کیا کہتی ہے یہ تو آنے والے دنوں میں پتا چلے گا‘ فی الحال سوال یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں کرکٹ کو تباہ کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟
اس سوال کا سیدھا اور سادہ جواب یہ ہے کہ سب سے پہلے کرکٹ کو تباہ کرنے کے ذمہ دار وہ تین بڑے ممالک ہیں جنہیں 'بگ تھری‘ قرار دیا جاتا ہے اور جنہوں نے خود کو باقی ممالک سے ممتاز سمجھا اور دیگر ممالک کو کمتر۔ ان ممالک میں بھارت‘ آسٹریلیا اور انگلینڈ شامل ہیں۔ یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا تھا کہ مذکورہ بالا تینوں ممالک کرکٹ سے حاصل ہونے والے ریونیو کا 75 فیصد کماتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کرکٹ برابری کا کھیل نہیں رہا جس میں ہار جیت کا فیصلہ کھیل کے میدان میں ہوتا ہو‘ بلکہ یہ ریونیو اور پیسے کا کھیل بن چکا ہے۔ مجھے تو یہ بالکل ویسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پانچ ممالک کو ویٹو کا حق حاصل ہو یعنی یہ پانچ ممالک‘ دوسرے لفظوں میں کرکٹ کے مذکورہ بالا تینوں ممالک جو فیصلہ کر لیں وہی حتمی فیصلہ ہو گا اور باقی ممالک کی رائے نظر انداز کر دی جائے گی۔ اندیشہ یہ لاحق ہے کہ اسی فارمولے کے تحت کہیں کسی روز یہ فیصلہ سامنے نہ آ جائے کہ چونکہ بگ تھری کرکٹ سے حاصل ہونے والے ریونیو کا 75 فیصد کماتے ہیں تو باقی ٹیموں کو اپنے 75 فیصد میچ کرکٹ کے ان تین نام نہاد بڑے ممالک کے آگے خود بخود ہار جانے چاہئیں۔ ماضی میں کھیلوں کو امن‘ سلامتی‘ تعاون اور مساوات کا پیامبر سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ ریونیو کے ترازو پر تولے جانے والی چیز بن چکے ہیں۔
بات ہو رہی تھی بنگلہ دیش کی جانب سے اپنی کرکٹ ٹیم کو سکیورٹی خدشات کی بنا پر ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میچوں کے لیے بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے کی۔ میرے خیال میں معاملہ ایسا نہیں ہے کہ بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے اور اس کی جگہ سکاٹ لینڈ کی ٹیم کو شامل کرنے کے بعد معاملہ یہیں پر رک جائے گا اور حالات معمول پر آ جائیں گے‘ بلکہ خدشہ یہ ہے کہ یہ ایشو آئی سی سی کی The ICC Dispute Resolution Committee کے پاس جائے گا اور وہ کمیٹی ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ بنگلہ دیش کے خدشات کتنے درست ہیں اور آئی سی سی کا فیصلہ کیا ہے اور کیا ہونا چاہیے۔ اگر بنگلہ دیش آئی سی سی ڈِسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی کے فیصلے سے مطمئن نہ ہوا تو وہ سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزان (Lausanne) میں واقعThe Court of Arbitration for Sport (سی اے ایس) کا دروازہ بھی کھٹکھٹا سکتا ہے۔ کھیلوں کے حوالے سے تنازعات طے کرنے والی اس عالمی عدالت کا فیصلہ بہرطور حتمی ہو گا کہ اس کے بعد کوئی اور ایسا فورم نہیں جہاں اس فیصلے کے خلاف اپیل درج کرائی جا سکے۔
کھیلوں کے حوالے سے عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ دنیا بھر سے مختلف کھیل کھیلنے والے کھلاڑی اور ٹیمیں دوسری ٹیموں یا ممالک کے ساتھ اپنے تنازعات کے حوالے سے اس عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہے ہیں اور وہاں سے انہیں انصاف بھی میسر آتا رہا ہے۔ پاکستان بھی مختلف معاملات کے حوالے سے کئی بار اس عدالت سے رجوع کر چکا ہے۔ ابھی تین ہفتے پہلے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایشیا کپ انڈر 19 کے فائنل میں بھارتی کھلاڑیوں کے متعصبانہ اور غیر اخلاقی رویے کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا تھا کہ فائنل میچ کے دوران بھارتی کھلاڑی مسلسل پاکستانی ٹیم کو اشتعال دلانے کی کوشش کرتے رہے جو کھیل کے اصولوں اور سپورٹس مین سپرٹ کے منافی ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم کے اس رویے سے متعلق آئی سی سی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جا رہا ہے‘ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنا چاہیے اور کرکٹ کو باہمی احترام اور مثبت مقابلے کا ذریعہ ہونا چاہیے‘ نہ کہ اشتعال انگیزی کا۔ اگر یہ معاملہ آئی سی سی میں حل نہ ہوا تو ظاہر ہے کہ کھیلوں کی عالمی عدالت ہی اگلا مرحلہ ہو سکتی ہے۔
بہتر تو یہ تھا کہ ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیے جاتے اور کھیل کو کھیل سمجھا جاتا اور ہارنے‘ جیتنے اور دوسری ٹیم سے برتر ہونے کا فیصلہ کھیل کے میدان میں کیا جاتا‘ لیکن خود کو بڑا سمجھنے کا خنّاس بھارتی کرکٹ بورڈ کو دوسرے ممالک کی ٹیموں کے ساتھ بلاوجہ الجھنے پر مجبور کرتا رہتا ہے؛ چنانچہ بھارتی کھلاڑی کبھی دوسرے ممالک میں جا کر کھیلنے سے انکار کر دیتے ہیں‘ کبھی کھیلوں کی اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکار کر دیتے ہیں اور کبھی کھیل کے دوران دوسری ٹیم کو اشتعال دلانے کے لیے نا مناسب رویہ اختیار کرتے رہتے ہیں۔ بنگلہ دیش بھی بھارت کے اسی منفی اور نا مناسب رویے کا شکار نظر آتا ہے۔ حتمی بات پھر وہی کہ آئی سی سی اگر بھارت کے اعتراضات کو فوقیت دیتے ہوئے نیوٹرل مقام پر کرکٹ میچز کا شیڈول جاری کر سکتا ہے تو یہ سہولت بنگلہ دیش کی ٹیم کو کیوں نہیں مل سکتی اور کیوں بنگلہ دیش کی ٹیم کو ایک اہم ٹورنامنٹ سے باہر نکال دیا گیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ بنگلہ دیش کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے آئوٹ ہونے کا جرمانہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو نہیں بلکہ بھارتی کرکٹ بورڈ کو کیا جانا چاہیے‘ آپ کا کیا خیال ہے؟ کرکٹ میں سکیورٹی خطرات پر سوال اٹھانے والی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے نکال باہر کرنے کا جو رواج آج ڈالا جا رہا ہے‘ کسی روز بھارت اس اصول‘ ضابطے یا رواج کی زد میں آ گیا تو کیا ہو گا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved