پاکستان کو کیا بورڈ آف پیس کا حصہ بننا چاہیے؟
عالمی منظر نامہ ابہام کی گرفت میں ہے۔ اس کا واحد سبب صدر ٹرمپ کی شخصیت ہے۔ خارجہ امور میں ایک حد تک پیش بینی ممکن ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کا تقاضا کیا ہے؟ عرب ایران کشمکش کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ آنے والے دنوں میں ترکیہ کا کردار کیا ہوگا؟ ان تمام سوالات کے جواب ممکن ہیں۔ ان کی روشنی میں ہمارے لیے قدرے آسان ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی حکمتِ عملی طے کر سکیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے مگر ایک ایسا کردار عالمی سیاست کا حصہ بن گیا ہے جس کی موجودگی میں یہ کہنا آسان نہیں رہا کہ آنے والا کل کیسا ہو گا۔ وہ جب تک ہیں‘ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ پھرکسی معاہدے کی کوئی حیثیت ہے اور نہ کسی قول کی۔ یہی وہ مخمصہ ہے جس کا ساری دنیا کو سامنا ہے۔ پاکستان نے اس بورڈ کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا‘ بھارت مگر ابھی تک گومگو کی کیفیت میں ہے۔
صدر ٹرمپ کے بارے میں یہ تاثر بڑھا ہے کہ وہ کسی عالمی معاہدے کے پابند ہیں نہ کسی اخلاقی ضابطے کے۔ ان کے سامنے ایک بڑا ہدف ہے اور وہ ان کی ذاتی کامیابیاں ہیں۔ بطور امریکی صدر‘ وہ کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا تعلق امریکی مفادات سے بھی ہے مگر ثانوی۔ اصل حیثیت ان کی ذات کو حاصل ہے۔ وہ پاپولر سیاست کا ایک مظہر ہیں‘ جنہیں جمہوری نظام کی کمزوری سامنے لے آئی ہے۔ اس کے مظاہر پاکستان اور بھارت میں بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ ممالک بھی اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں مگر اس کے ا ثرات محدود اور مقامی ہیں۔ صدر ٹرمپ جو کچھ کر رہے ہیں یا کریں گے‘ اس کے اثرات عالمگیر ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ عالمی منظرنامے سے غیر متعلق ہو جائے؟ کیا وہ کسی مزاحمتی تحریک کا حصہ بن جائے؟
یہ جاننے کے لیے خارجہ امور کا ماہر ہونا ضروری نہیں کہ تنہائی کوئی راستہ نہیں ہے۔ دنیا کا ہر ملک یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے معاشی اور سیاسی مفادات عالمی منظر نامے سے ہم آہنگ ہو جائیں۔ وہ بین الاقوامی معاشی عمل میں شامل ہو اور بین الاقوامی فورمز پر اس کی نمائندگی ہو تاکہ وہ فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ بن جائے۔ خاجہ پالیسی کا ایک بڑا ہدف یہی ہوتا ہے۔ گزشتہ ایک دو سال میں‘ دنیا میں کچھ ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جنہوں نے پاکستان کو اہم تر بنا دیا ہے۔ پاکستان نے اب تک ان تبدیلیوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔ دنیا اس کو تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان ان برسوں میں بھارت کی نسبت زیادہ اہم سمجھا گیا ہے۔ ان کامیابیوں کے بعد اگر پاکستان اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے تو اس کا یہ قدم اسے عالمی حالات سے غیر متعلق بنا سکتا ہے اور پاکستان جیسا ملک یہ خطرہ مول نہیں لے سکتا۔
صدر ٹرمپ اس کوشش میں ہیں کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے کوئی فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ پاکستان کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ یہ کردار ایسا نہ ہو جس سے فلسطینیوں کو مزید نقصان پہنچے‘ اگرچہ اس مرحلے پر 'مزید‘ کا لفظ بے معنی ہو چکا۔ بے بصیرت قیادت نے انہیں عجیب مقام پہ لا کھڑا کیا ہے۔ آج اسی کو غنیمت سمجھا جا رہا ہے کہ جو جانیں بچ گئی ہیں انہیں ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ پاکستان کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اہلِ فلسطین کے پاؤں تلے جو زمین بچ گئی ہے‘ کم ازکم وہ تو باقی رہے جہاں کھڑے ہو کر وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکیں۔ پاکستان یہ کردار اسی وقت ادا کر سکتا ہے جب وہ ان فورمز پر موجود ہو جہاں مستقبل کے فیصلے ہونے ہیں۔ اس حوالے سے دیکھیں تو پاکستان کو اس بورڈ کا حصہ بننا چاہیے۔
پاکستان نے اس موقع پر جس مؤقف کو دہرایا ہے وہ اس وقت مسئلہ فلسطین کا سب سے بہتر ممکنہ حل ہے۔ یہ 1967ء سے پہلے کے جغرافیے کی بحالی ہے۔ اسرائیل خود کو ان سرحدوں تک محدود کرے جہاں وہ عرب اسرائیل جنگ سے پہلے تھا۔ فلسطین ایک آزاد مملکت بنے‘ یروشلم جس کا دارالحکومت ہو۔ پاکستان اس مطالبے پر کھڑا ہے۔ میں نہیں جانتا یہ اب ممکن رہا ہے یا نہیں لیکن کم ازکم بورڈ آف پیس جیسے فورم سے اس کے لیے آواز تو اٹھنی چاہیے۔ یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب پاکستان اس کا حصہ بنے گا۔
ابتدا ہی سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم نکتہ یہ رہا ہے کہ و ہ سعودی عرب اور ترکیہ جیسے دوستوں کے ساتھ کھڑا رہے۔ اس وقت یہ دونوں ممالک اس بورڈ کا حصہ ہیں۔ مستقبل میں پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان جس دفاعی تعاون کی بات ہو رہی ہے اس کو حقیقت بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پاکستان بین الاقوامی معاملات میں ان دوست ممالک کے ساتھ ہم آواز ہو۔ پھر یہ کہ اس فورم پر اگر فلسطینیوں سے ہمدردی رکھنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گی تو اس کا فائدہ اہلِ فلسطین ہی کو پہنچے گا۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان اگر اس بورڈ سے الگ رہتا ہے تو اس سے فلسطینیوں کو کیا ملے گا اور خود پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟ پھر یہ کہ کیا عالمی سطح پر اس وقت کوئی امریکہ مخالف محاذ موجود بھی ہے‘ پاکستان جس کا حصہ بن جائے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ ہماری بصیرت نے سوویت یونین کو ختم کر کے جس طرح عالمی توازن کو پامال کیا ہے یہ اس کا نتیجہ ہے کہ آج امریکہ کو چیلنج کرنے والا کوئی فورم موجود نہیں۔ چین اور روس کو فلسطینیوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر ہے تو صرف اتنی کہ امریکی اثر ورسوخ کو محدود رکھا جائے۔ اس نظر سے دیکھیے تو اس بورڈ سے وابستگی کے بغیر آپ کے پاس کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں جس کی کوئی عملی افادیت ہو۔
اس وقت تمام دنیا کو یہ کوشش کر نی چاہیے کہ صدر ٹرمپ کا دور خیریت سے گزر جائے۔ انہوں نے کچھ بڑا کر کے دکھانا ہے اور اس 'کچھ‘ کے بارے میں کوئی پیش گوئی ممکن نہیں۔ اس وقت تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ غزہ کے علاقے میں بین الاقوامی سطح کی کوئی ہائوسنگ سکیم بنانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے معاشی مفادات کو تحفظ دے سکیں۔ وہ چاہیں گے کہ اہلِ فلسطین کو کہیں اور جا بسایا جائے۔ وہ اس بورڈ سے یہی فائدہ کشید کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس میں وہ کتنے کامیاب ہوتے ہیں‘ یہ بعد کی بات ہے۔ ان کے شر سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ان کے قریب رہا جائے۔ اس بورڈ میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری زبان بندی ہو جائے گی۔ ہم کسی وقت بھی اس کے خلاف آواز اٹھا سکتے اور الگ ہو سکتے ہیں۔ اس وقت تیل اور اس کی دھار کو دیکھنا چاہیے۔ صدر ٹرمپ ایک کاروباری آدمی ہیں‘ اس لیے انہوں نے بورڈ کی مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کی شرط بھی شامل کی ہے۔ پاکستان اتنے پیسے تو نہیں دے سکتا اس لیے تین سال کی رکنیت کافی ہے تاکہ ہمیں اتنی مہلت مل جائے جب تک ٹرمپ صدارت کے منصب پر فائز ہیں۔
خارجہ پالیسی یا باہمی تعلقات مستقل نہیں ہوتے۔ ان کا تعلق فریقِ ثانی پر بھی ہوتا ہے۔ وہ اگر معاہدوں کی پاسداری نہیں کرتا تو فریقِ اوّل بھی ان کا پابند نہیں رہتا۔ اگر پاکستان صدر ٹرمپ کی مدتِ صدرات کو خیریت سے گزار دیتا ہے تو یہ ہماری خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ پاکستان کی شمولیت فلسطینیوں کے مزید خون کو بہنے سے روکنے میں معاون ہو گی۔ ان پر زندگی کا دروازہ کھلے گا جسے دوستوں اور دشمنوں نے مل کر بند کر دیا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved