تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     26-01-2026

کہاں قبضہ نہیں؟

آپ کے ذہن میں اگر یہ سوال اُبھر ے کہ کس چیز کا قبضہ‘ اور یہ کس سے چھڑوائیں تو جواب آپ کے ذہن میں جو بھی ہو اس کو درست مان لیں گے۔ کہاں قبضہ نہیں‘ کراچی سے لے کر چترال تک‘ کئی دہائیوں سے ایک ہی نوع کی نسلِ انسان قابض ہیں‘ جس میں مَیں‘ آپ اور یہ بیچارے عوام شامل نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ قبضہ کون چھڑوائے اور یہ کارنامہ کون انجام دے سکے گا‘ اور ہماری قومی زندگی میں یہ لمحہ کب آئے گا۔ ابھی تو ایک بات صاف نظر آرہی ہے اور آپس کی بات ہے ہم اسے اپنی پوری شعوری زندگی کی ابتدا سے ہی دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ہاں کچھ خاص طبقات ہی بر سر اقتدار رہے ہیں‘ اور اگر اس میں کوئی تبدیلی آئی یا حالات کروٹ کھاتے ہیں یا کسی گروہ کے ہاتھ ڈھیلے اور گرفت کمزور ہوتی ہے تو دوسرا گروہ‘ اکثر کچھ نادیدہ اندرونی اور بیرونی طاقتوں کے تعاون سے قبضے کی جائزیت کا پروانہ حاصل کرتا رہا ہے۔ مگر اب تو میثاقِ جمہوریت کے زمانے میں ہم سانس لے رہے ہیں‘ اور یہ نہ پوچھیں کہ اس کے آنے جانے کا سلسلہ کتنا تکلیف دہ ہے‘ اور نہ جانے کب تک ہماری نسل کے کمزور لوگوں کے لیے رک جائے۔ بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہر صوبے کا ایک ہی بااختیار آدمی ہے جس کا سکہ اسی طرح سے چلتا ہے جس طرح کسی زمانے کے راجوں اور مہاراجوں کا چلتا تھا۔
یہ جو میثاقِ جمہوریت تھا قوم اور سیاسی گھرانوں کے درمیان نہ تھا۔ اس میں نہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی قوتوں کا ہاتھ تھا نہ ان کی رائے شامل تھی۔ یہ دو سیاسی گھرانوں کے درمیان تھا۔ کوئی بتائے کہ کیسے ان کی جماعتیں اس میں شامل تھیں۔ کچھ ہرکارے کاغذی کارروائی کے لیے ادھر ادھر کرسیاں میزیں ٹھیک کرتے نظر آئے تھے۔ چلو اسے میثاقِ جمہوریت ہی مان لیتے ہیں مگر جس قسم کی مداخلت کے خلاف تھا اب آج کل کے پیوندی نظام میں وہ دونوں گھرانے کہاں کھڑے ہیں اور کون ہے جو آشیر بادسے محروم ہے۔ اب تو سب گروہ جو ماضی میں ایک دوسرے سے اُلجھتے تھے‘ باہمی مفاد میں اکٹھے ہیں۔ اگر ملک و قوم کے مفاد میں سب اکٹھے ہوں اور جمہوریت کو چلنے دیں تو اس میں ہم سب خوش اور ملک پُرسکون ہو جائے گا۔ مسئلہ عوام اور ملک کا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کا‘ اور یہ بھی کس کو معلوم نہیں کہ یہ سب کیوں اکٹھے ہیں‘ بلکہ جو کچھ انہوں نے ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ کیا وہ سب کچھ کیوں مٹی میں مل گیا؟ ہمارے کلچر میں بانٹ کر کھانے کی مضبوط روایت ہے۔ اور یہ تو امریکہ اور یورپ بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں بھی ہے۔ اب یہاں گروہوں کی نوعیت کام اور انجام کی بات نہیں کر سکتے‘ صرف گروہ ہی ذہن میں رکھیں کہ جب کوئی تیسری طاقت ابھر کر سامنے آتی ہے اور ان سب کو لپیٹ میں لینے کا ارادہ رکھتی ہے تو خوف سب کو اکٹھا کر دیتا ہے۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ ایسا کوئی خطرہ کبھی تھا اور نہ ہو سکتا ہے۔ ایک دوسری وجہ بانٹ کر کھانے کی یہ ہوتی ہے کہ لڑنے جھگڑنے سے ہم نے دیکھ لیا ہے کہ نقصان سب کا ہوتا ہے۔ بہتر ہو گا کہ آپ کے علاقوں میں آپ کی عملداری ہم تسلیم کرتے ہیں اور جہاں ہم ہیں آپ ہمارا حقِ شاہی تسلیم کریں۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں اگر جمہوریت اور آئین کے اصول کارفرما ہوں۔ مگر اس وقت ملک چھ چھوٹی بڑی اکائیوں میں بٹا ہوا ہے‘ اور نئی طرز کے راجے اور مہاراجے مقرر ہو چکے ہیں‘اور اقتدار کا ارتکاز ایک بڑی جگہ اور پھر لاہور‘ کراچی‘ پشاور‘ کوئٹہ‘ گلگت اور مظفرآباد میں ہے۔ آخری شہر کو آپ کو اسلام آباد بھی پڑھ سکتے ہیں۔
جب تک کوئی مربوط طریقہ کار نہ ہو نہ جمہوریت اور نہ ہی کوئی اور نظام دنیا کی تاریخ میں کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ اگراکائیوں کے تمام اختیارات ایک شخصیات میں مرکوز کر دیے جائیں یہ طریقہ کار جدید ریاست کا نہیں قرونِ وسطیٰ کی جاگیرداری سلطنتوں کا بنتا ہے۔ حال ہی میں ہونے والے دو واقعات کا ذکر اس نکتے کو سمجھنے کے لیے کافی ہو گا۔ کراچی میں ایک پلازہ کو آگ لگی جسے بجھانے میں چار پانچ دن لگ گئے‘ اور تقریباً 70 کے قریب شہری راکھ میں مل گئے۔ اخبار کے مطابق نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے۔ ہر صوبے کا وزیراعلیٰ راجوں کی طرح بلاشرکت غیرمالک بنا ہوا ہے۔ نظام ایسا ہے کہ آپ کسی کو ذمہ دار آسانی سے نہیں ٹھہرا سکتے۔ پیچھے گرم اور ٹھنڈی جگہوں پر بیٹھ کر اصل فیصلے کرنے والے پارٹی باس جو مرضی حکم دیں‘ ان کی گرفت ممکن نہیں کہ اختیارات قانونی طور پر ہر صوبے کے وزیراعلیٰ کے پاس ہیں۔ آگے وہ احکام صادر فرماتے ہیں‘ اکثر زبانی کلامی اور اپنے قابلِ بھروسہ کارندوں کے ذریعے۔
ہر صوبے کی شہری انتظامیہ ہو یا دیہات کا انتظام‘ ایک ہی شخص کے ہاتھ میں نظر آتا ہے۔ پوری دنیا میں رجحان اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کا ہے‘ شہری حکومتوں کا ہے۔ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ہاں چونکہ پہلے تو گنگا بہتی نہیں‘ اگر کچھ پانی اور آب و تاب باقی رہ گئی ہے‘ تو الٹی بہتی ہے۔ بر سر اقتدار گروہ اقتدار آپس میں بانٹ کر عوام کے نمائندوں کو‘ جو شہر‘ قصبہ‘ گاؤں اور دیہات کی سطح پر ہونے ضروری ہیں‘ مالی وسائل اور اختیار میں حصہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ جہاں کہیں عدالت کے احکامات کا احترام ہوا اور مقامی حکومتیں ہیں‘ وہاں بھی وسائل اور اختیار صرف انہیں ملے جو تابعداری کے فرائض انجام دینے کے لیے تیار تھے۔ ہم ایک عرصہ سے بلکہ نصف صدی سے گزارش کرتے آئے ہیں کہ آئین اور جمہوریت کو اپنی حقیقی روح کے ساتھ نافذ ہونے دیں تو قبضہ گروہ خود بخود تاریخ کی مٹی پر ڈھیر ہو جائیں گے۔
ثبوت کے لیے دورِ ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں اور نہ اس کے لیے کسی قیاس آرائی کی ضرورت ہے۔ اب کیا کریں کہ جمہوری عمل اور آئین پر بھی گرفت انہی گروہوں کی مضبوط ہو جائے یا کر دی جائے تو پھر ملک اور عوام داد رسی کے لیے کدھر جائیں گے۔ اب اس امدادِ باہمی گروہی اتحاد کی حکومت اور حکومتوں کو چار سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ کوئی بتائے کہ کون سی منزل ہم نے طے کی ہے۔ صرف ہر طرف‘ ہر شہر سے لوگ ہزاروں درخت کٹنے کی دہائی دے رہے ہیں‘ لیکن حسب دستور تحقیق ہورہی ہے۔ برطانیہ میں ایک درخت کے کاٹنے کے بارے میں دو مضمون اورمقالے لکھ چکا ہوں‘ اور دو ملزمان کو وہاں سزا ہو چکی ہے۔ اسلام آباد کے ہزاروں درختوں کے قاتلوں کو شاید ہی کبھی ہو۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved