پاکستان میں ٹریژری بلز کی شکل میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جنوری کے پہلے 16 دنوں میں ٹریژری بلز میں غیر ملکی سرمایہ کاری 114.7 ملین ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ اسی عرصے میں صرف 18.5 ملین ڈالر کا سرمایہ نکالا گیا‘ یعنی خالص سرمایہ کاری تقریباً 96 ملین ڈالر رہی‘ جو گزشتہ ساڑھے چھ ماہ میں بلند ترین سطح ہے۔ تاہم اس دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں شدید کمی دیکھی گئی۔ سٹاک ایکسچینج سے بھی غیر ملکی سرمایہ کار اپنا پیسہ نکالتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جنوری کے شروع دنوں میں سٹاک مارکیٹ میں 17 ملین ڈالر آئے جبکہ 61.5 ملین ڈالر کا اخراج ہوا۔ البتہ قرضوں کی مارکیٹ نے غیر ملکی سرمائے کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے جس کی بڑی وجہ ڈالر ریٹ میں استحکام اور جب چاہیں فنڈز نکلوانے کی سہولت ہے۔ یہ سرمایہ کاری اس وقت بھی جاری ہے جب سٹیٹ بینک نے ٹریژری بلز کی شرحِ منافع میں نمایاں کمی کی ہے۔ 21 جنوری کی نیلامی میں ایک ماہ ٹی بل کی شرح 9.8 فیصد‘ تین ماہ 9.89 فیصد‘ چھ ماہ 9.94 فیصد اور بارہ ماہ 10 فیصد تک محدود کر دی گئی ہے۔ ملکی معیشت کے مجموعی اشاریوں پر نظر ڈالی جائے تو مہنگائی کی اوسط شرح کم ہو کر 3.5 فیصد تک آ چکی ہے‘ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اور مالی سال کے اختتام تک ترسیلاتِ زر 40 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 10 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا جبکہ کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 90 ہزار پوائنٹس کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ مگر ان عوامل کے باوجود معاشی نمو سست روی کا شکار ہے کیونکہ پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں تقریباً 34 فیصد زیادہ ہے جبکہ برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار طویل مدت کے بجائے قلیل مدتی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ موجودہ معاشی استحکام پائیدار معاشی اصلاحات کیلئے ایک اہم موقع فراہم کر سکتا ہے‘ اگر اسے بنیادی اصلاحات‘ برآمدات کے فروغ اور پیداواری شعبے کی بحالی کے موقع میں تبدیل نہ کیا گیا تو معیشت کا انحصار ''ہاٹ منی‘‘ پر ہی رہے گا‘ جو کسی بھی وقت واپس جا سکتی ہے۔ اس عارضی اعتماد کو مستقل سرمایہ کاری میں بدلنے کے لیے فوری اور مؤثر اصلاحات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حکومت نے اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے اوپن بولی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں کی غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ماضی میں گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدوں پر شفافیت‘ مسابقت اور قومی مفاد کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اوپن بڈنگ کا عمل اگر واقعی قواعد وضوابط کے مطابق ہوا تو یہ نہ صرف بہتر ریونیو فراہم کر سکتا بلکہ سروس ڈلیوری اور انفراسٹرکچر میں بہتری کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ تاہم خدشہ یہ بھی ہے کہ کہیں یہ عمل کاغذی شفافیت تک محدود نہ رہ جائے۔ دوسری جانب نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کے لیے فنانشل ایڈوائزر کی تقرری اور جوائنٹ وینچر کے ذریعے مکسڈ یوز ڈویلپمنٹ کا منصوبہ بھی ایک نازک فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ پاکستان کا بیرونِ ملک واحد قیمتی رئیل اسٹیٹ سرمایہ ہے‘ اور ماضی میں تاخیر اور کمزور فیصلوں نے اربوں روپے کے ممکنہ فائدے کو متاثر کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس بار بہترین ٹرانزیکشن سٹرکچر اپنا سکے گی یا مالی دباؤ کے تحت ایک اور سٹرٹیجک اثاثہ کم قیمت پر دے دیا جائے گا؟ اگر درست مارکیٹنگ‘ شفاف بولی اور سخت شرائط کے ساتھ یہ معاہدہ کیا گیا تو روزویلٹ ہوٹل پاکستان کے لیے مستقل آمدن کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
طویل عرصے تک دو ہندسوں میں رہنے والی شرح سود اب مسلسل کمی کی طرف گامزن ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ رواں ہفتے شرحِ سود 9.75 فیصد تک کر دی جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ مارچ 2022ء کے بعد پہلی مرتبہ سنگل ڈیجٹ میں آئے گی۔ اس سے سٹاک مارکیٹ اور کاروباری شعبے میں بہتری آ سکتی ہے۔ سود کی شرح میں کمی معاشی نمو کی حمایت کا اشارہ سمجھی جاتی ہے۔ دیگر اقتصادی اشاریے بھی اس بات کی تائید کر رہے ہیں کہ ملک کی معیشت بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ تعمیراتی شعبے میں سیمنٹ کی طلب مضبوط ہوئی ہے‘ کھاد کی فروخت بڑھ رہی ہے‘ آٹو سیکٹر میں فروخت بڑھی ہے اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی کے رجحانات بھی سود کی شرح میں کمی کے حق میں ہیں۔ اوسط مہنگائی کی موجودہ شرح تقریباً 5.1 فیصد ہے‘ جو سٹیٹ بینک کے 5 تا 7 فیصد کے درمیانی ہدف میں آتی ہے۔ مہنگائی میں کمی سے سٹیٹ بینک کیلئے شرحِ سود کم کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان میں ٹیکس نظام ہمیشہ ایک اہم اور حساس موضوع رہا ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا ہے کہ اب ٹیکس ادارے میں کرپشن کیلئے کوئی برداشت نہیں ہوگی۔ اس حوالے سے کچھ عملی اقدامات بھی ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اثر ورسوخ استعمال کرنے والے کچھ افسران کو فوری معطل اور ایک آفیسر کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس طرح کے اقدامات یہ پیغام دیتے ہیں کہ حکومت ٹیکس نظام کو شفاف بنانے کے حوالے سے پوری طرح سنجیدہ ہے۔ البتہ ایک گرفتاری کافی نہیں‘ نظام کو تبدیل کرنے کے لیے سخت فیصلے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ایف بی آر میں متعدد اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کار اس وقت ایف بی آر کی پالیسیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بزنس کمیونٹی پر دباؤ ڈالنے کے بجائے ایف بی آر افسران پر سخت چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے تو بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس کولیکشن جی ڈی پی کے لحاظ سے اب بھی خاصی کم ہے۔ سیلز ٹیکس کا ہدف جی ڈی پی کا 5.5 فیصد ہے مگر حقیقی وصولی تقریباً 3.1 فیصد ہے۔ انکم ٹیکس بھی ہدف سے کم جمع ہو رہا ہے۔ اس کا اثر نہ صرف سرکاری اخراجات پر پڑتا ہے بلکہ معاشی ترقی اور زرمبادلہ پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔ ٹیکس ادارے کی جانب سے مراعات میں اضافے کے مطالبات تو کئے جاتے ہیں لیکن کارکردگی کیلئے ابھی تک کوئی مضبوط اور مربوط نظام سامنے نہیں آ سکا۔
حکومت نے کیش لیس معیشت کے رجحان کو مضبوط کرنے کیلئے ریٹیل دکانوں پر کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کی آپشن کو لازمی قرار دیا ہے۔ وزیرِ مملکت برائے خزانہ کے مطابق ہر دکاندار کو کم از کم ایک ڈیجیٹل پیمنٹ آپشن فراہم کرنا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا اور نقد لین دین پر انحصار کم کرنا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے اور معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ چھوٹے کاروبار بھی مالی نظام کا حصہ بن سکیں گے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر اس حوالے سے قانون سازی پر بڑی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے‘ جوکیش لیس پاکستان پروگرام کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ دوسری جانب تمباکو انڈسٹری کے حوالے سے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد میں کمزوریاں اب بھی دیکھی جا رہی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سگریٹ برانڈز کے خلاف کارروائی تیز کی جائے گی لیکن یہ کب ہو گا‘ اس بارے میں کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ دعوے اور منصوبے تو بہت پیش کیے جاتے ہیں لیکن اصل چیلنج عملدرآمد کا ہے۔ اگر کیو آر کوڈ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مؤثر انداز میں نافذ کر لیا گیا تو یہ اقدام نہ صرف ٹیکس وصولی میں بہتری لا سکتا ہے بلکہ پاکستان کو ایک جدید‘ شفاف اور دستاویزی معیشت کی طرف لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved