بہت سے زمینی حقائق زمین پر پہنچ کر ہی ٹھیک سمجھ آسکتے ہیں۔ وہ جو کہا گیا کہ شنیدہ کے بود مانند دیدہ‘ اس کے سچ میں کیا کلام ہے۔ دیکھا ہوا ہمیشہ سنے ہوئے سے برتر ہوتا ہے۔ رواں ماہ چھ جنوری سے 17 جنوری تک بنگلہ دیش میں گزارا ہوا وقت بہت سے عقدے حل کرنے کیلئے بہترین رہا۔ یہ میرا بنگلہ دیش کا پہلا سفر تھا۔ میں نے بنگلہ دیش پر بہت سی تحریریں اس سفر سے پہلے لکھ رکھی تھیں اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ نہ صرف یہ تحریریں پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش میں بھی پڑھی جاتی رہیں بلکہ ان میں سیاسی اور معاشرتی معاملات جس طرح ذکر کیے گئے تھے‘ وہ درست تھے۔ مجھے کئی لوگوں نے بتایا کہ ہم آپ کے کالم پڑھتے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے عام لوگوں کی سوچ بھی جس طرح سمجھی گئی تھی‘ وہ بھی درست نکلی البتہ بہت سی باتیں بہتر انداز میں سمجھ آ گئیں۔
ایک عقد ے کے سوا سب باتوں کی تشریح ہوتی چلی گئی۔ اس عقدے کو بھی اگر میں معجزاتی کہوں تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ میں خود سے یہ سوال پوچھتا ہوں اور آپ سے بھی جواب چاہتا ہوں کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ اہلِ بنگال میں بھارت سے بیزاری کی حد تک نفرت اور پاکستان سے محبت کی حد تک پسندیدگی پیدا ہو گئی۔ یہ معجزہ کیسے ہوا کہ کئی نسلوں کو پانچ دہائیوں تک نصابوں میں پڑھایا جاتا رہا کہ پاکستان نے بنگلہ دیش پر کیا کیا ظلم کیے تھے۔ لاکھوں بنگالیوں کے قتل‘ اغوا اور نجانے کیا کیا کہانیاں سنائی گئیں۔ پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعلق توڑا گیا۔ آنے جانے پر پابندیاں لگائی گئیں۔ پاکستان سے تجارت قریب قریب ممنوع کردی گئی۔ اردو کو ظالم زبان قرار دے کر بنگالی کو اس کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا۔ کئی عشروں تک بھارت کی ثقافتی‘ تجارتی‘ معاشی اور سفارتی یلغار کروائی گئی۔ بھارت کو بہترین دوست اور پاکستان کو بدترین دشمن قرر دیا گیا۔ حسینہ واجد نے اپنے ہر مخالف کو پاکستان کا حامی ''رضاکار‘‘ ہونے کا طعنہ دیا اور اسی بنیاد پر گولیاں‘ پھانسیاں اور جیلیں مقدر ٹھہریں۔ عوامی لیگ کے علاوہ بھی سیاسی جماعتوں کے اقتدار میں پاکستان سے سرد مہری کا رویہ ہی رکھا گیا۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ 55 سال ان پالیسیوں کے بعد اصولاً کیا ہونا چاہیے تھا؟ کیا اس کا نتیجہ عام آدمی کے دل میں پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت ہونا چاہیے؟ کیا اس کا نتیجہ بھارت سے نفرت اور اس کی دشمنی ہونی چاہیے؟ کیا اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ آپ پورے بنگلہ دیش میں اردو بولیں تو اسی فیصد لوگ چاہے بول نہ سکیں لیکن سمجھ سکتے ہوں؟ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا؟ اسباب کے لحاظ سے تو یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ نسل جس نے 1971ء اپنی آنکھوں سے دیکھا اس کے دل میں تو پاکستانیوں کیلئے نفرت ہونی چاہیے تھی۔ وہ جنریشن زی جو 1971ء کے پچیس‘ تیس سال بعد پیدا ہوئی‘ اسے تو پاکستان سے کوئی واسطہ مطلب نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ معجزہ کیسے ہوا کہ اہلِ بنگال میں ہر نسل کا فرد خواہ کسی بھی طبقے سے ہو‘ یونیورسٹی کالج سے ہو‘ مدرسے سے ہو‘ شہر سے ہو یا دیہات سے۔ پاکستان کیلئے ہر ایک کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے۔ ان کی آنکھوں اور چہرے میں نفرت اور عناد کی رمق نہیں ملتی۔ یہ معجزہ کیسے ہوا؟ میں ڈھاکہ‘ کاکس بازار‘ چٹاگانگ‘ لوہا گرہ‘ سلہٹ‘ بھالوکا‘ میمن سنگھ‘ غازی پور‘ حبیب نگر اور ان بے شمار قصبوں دیہات میں گھومتا پھرتا اور گزرتا رہا جن کے مجھے نام نہیں آتے۔ گھروں‘ مسجدوں‘ ہوٹلوں‘ طعام گاہوں‘ دکانوں‘ فیکٹریوں میں آتا جاتا رہا اور ہر طبقے کے لوگوں سے ملتا جلتا رہا۔ میں کوشش کرتا تھا کہ پاکستانی شلوار قمیص پہنوں اور لوگوں کے تاثرات جانوں۔ میں اردو میں بات چیت کو ترجیح دیتا تھا‘ ورنہ مجبوراً انگریزی۔ لوگ عام طور پر شکل‘ خدوخال‘ لباس اور زبان سے مجھے پہچان لیتے تھے۔ مجھے تو ہر ایک سے محبت ملی‘ پاکستان کیلئے پیارے جملے سننے کو ملے۔ پاکستان آنے کی شدید خواہش کا اظہار ملا۔ پاکستانی ڈراموں کی تعریف ملی اور بھارت سے بیزاری اور نفرت کا ملا جلا اظہار۔ یہ معجزہ ہو گیا لیکن کیسے ہوا‘ مجھے نہیں معلوم۔
ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش میں سیاسی شعور اور سیاسی تحریکوں کا مرکز سمجھی جاتی ہے۔ قومیت کی نمائندہ بھی۔ اس کی اٹھائی ہوئی تحریکیں پورے ملک میں پھیلتی ہیں۔ 50کے عشرے کی بنگالی زبان کیلئے تحریک ہو یا 1971ء کے لگ بھگ قومیت کی بنیاد پر تحریکیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی سب میں پیش پیش تھی۔ اسی ڈھاکہ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں دو بار جانا ہوا۔ اساتذہ‘ طلبہ و طالبات سے ملاقاتیں ہوئیں۔ شعبہ اردو ڈھاکہ یونیورسٹی نے میرے لیے 15جنوری کو ایک تقریب کا اہتمام کیا لیکن میں اُس دن سلہٹ میں تھا اس لیے موجودگی ممکن نہیں تھی‘ سو معذرت کرنا پڑی۔ لیکن ڈھاکہ یونیورسٹی میں جتنی بھی ملاقاتوں کا موقع ملا‘ اس میں پاکستان اور پاکستانیوں سے دوری کہیں نظر نہیں آئی۔ نئی نسل پاکستان آنے کیلئے بے تاب نظر آئی۔ وہ اردو جانتی اور سمجھتی ہے‘ خواہ ٹھیک سے بول نہ سکتی ہو۔ میں نے سوچا اردو کیسے اس ملک میں اتنی مقبول ہے جو الگ ہی زبان اور قومیت کی بنیاد پر ہوا تھا۔ مجھے اس کی دو واضح وجوہات نظر آئیں۔ مدارس‘ اور پاکستانی اردو ڈرامے۔ مدرسوں کا نظام بنگلہ دیش میں شاید پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط ہے اور اردو زبان پہلے درجے سے آخر تک لازمی ہے۔ کئی علوم میں اردو اور عربی میں پرچہ حل کرنے پر اضافی نمبر ہیں۔ مدارس کے بیشمار اساتذہ پاکستان کے تعلیم یافتہ ہیں‘ چنانچہ اردو روانی سے بولتے اور لکھتے پڑھتے ہیں۔ یہ سب ایک طرح سے بنگلہ دیش میں پاکستان اور اردو کے سفیر ثابت ہوئے۔ اہلِ مدرسہ نے 1971ء کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ اردو سے لاعلمی اپنے پورے علمی ذخیرے سے کٹ جانا ہو گا‘ اس لیے انہوں نے اردو سے جڑے رہنے کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح پاکستانی ڈراموں کی غیرمعمولی مقبولیت پورے بنگلہ دیش میں عروج پر ہے۔ مجھے کئی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے بتایا کہ ہمیں اردو زبان پاکستانی ڈرامے دیکھ دیکھ کر آئی ہے۔
حالیہ سفر میں ایسا نہیں ہوا کہ میرا ملنا جلنا کسی خاص حلقے اور طبقے تک محدود رہا ہو۔ میرا تاثر ہے کہ اہلِ بنگال میں سیاسی شعور بھی زیادہ ہے اور وہ اپنے حقوق کے معاملے میں جذباتی بھی ہیں۔ بنگلہ میوزیم میں بھی جانا ہوا جو بنگالی زبان کی تحریک کے یادگار کے طور پر ایک تاریخی عمارت کے اندر قائم کیا گیا ہے۔ اسی طرح بنگلہ اکیڈمی بنگالی زبان کے فروغ کیلئے ایوب خان کے زمانے میں قائم کردہ سرکاری ادارہ ہے‘ جو اَب تک کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ اگرچہ خود مختار ہے لیکن ڈھاکہ یونیورسٹی کے اندر واقع ہے۔ میں اس کے سربراہ سے بھی ملا جو بنگلہ زبان کے آدمی ہیں اور قومیت پرست ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ اکیڈمی زبان کی لغات پر بھی کام کر رہی ہے اور اگرچہ پورے ملک میں چند چھوٹی زبانوں سے قطع نظر بنگالی زبان تو ایک ہے لیکن اس کے لہجے اور تلفظ مختلف بھی ہیں۔ ان سب پر بنگلہ اکیڈمی کام کرتی ہے۔ اس کے شعبہ مطبوعات کا اشاعتی معیار بھی متاثر کن ہے۔ یہ سب تفصیل بتانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ میری ملاقاتیں مختلف نظریات کے لوگوں سے ہوتی رہیں‘ اور میں ان سب کے مختلف تاثر نوٹ کرتا رہا۔ ظاہر ہے عوامی لیگ کے حامی جو اَب بھی مختلف سرکاری اداروں میں اوپر سے نیچے تک بڑی تعداد میں موجود ہیں‘ اُس عوامی تحریک سے ہم آہنگ نہیں جس کے نتیجے میں حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح قومیت پرست ذہن بھی موجودہ تبدیلیوں سے خوش نہیں بلکہ خوفزدہ ہے جس میں قومیت سے ہٹ کر تحریک اٹھائی گئی اور جس کی قیادت دائیں بازو کے ہاتھ میں رہی ہے۔ میں نے یہ سوال کئی بنگالیوں سے پوچھا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان اور اردو کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔ ان میں ایک صاحب کا کہنا تھا کہ یہ محبت شروع ہی سے تھی البتہ اسے دبایا جاتا رہا ہے۔ ایک صاحب کا خیال تھا کہ بھارت سے بیزاری اور پاکستان سے محبت حالیہ کچھ عشروں کی پیداوار ہے۔ بات کچھ بھی ہو‘ اصل بات یہ ہے کہ معجزوں کی تشریح نہیں ہو سکتی اور یہ معجزہ ہوتے ہم نے دیکھا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved