کالم کی سرخی اُن تاریخی الفاظ پر مشتمل ہے‘ جو سترہویں صدی میں برطانوی پارلیمان میں ایک نہایت پُرجوش‘ غضبناک اور جذباتی مباحثے (جو برطانوی ایوان میں غیر معمولی واقعہ تھا) کے دوران ایک رکن Oliver Cromwell نے اپنے مخاطب وزیر کو کہے تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران یہی الفاظ برطانوی رکن پارلیمان Leo Amery نے وزیراعظم چیمبرلین کے سامنے دہرائے تھے۔ شاید آپ کے لیے یقین کرنا مشکل ہو مگر سچ یہ ہے کہ وزیراعظم اس پر اتنے شرمندہ ہوئے کہ مستعفی ہو کر گھر چلے گئے۔ اگر میں مذکورہ چھ الفاظ کراچی کے میئر کو مخاطب کر کے دہرائوں تو مجھے رتی برابر بھی امید نہیں کہ وہ اپنے اس عہدے کوفی الفور چھوڑ دیں گے۔
کراچی میں آتشزدگی کے حالیہ سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد ایک سو کے قریب ہے۔ بدقسمتی سے وہ تمام افراد جو بدستور لاپتا ہیں‘ اب فوت شدگان میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ بلدیہ ٹائون فیکٹری میں آگ لگ جانے (یا لگائے جانے) سے 275 کے لگ بھگ افراد کی موت کے بعد گُل پلازہ حادثہ نہ صرف کراچی بلکہ ملکی تاریخ میں آتشزدگی کا دوسرا بڑا سانحہ ہے۔ اس کی سو فیصد ذمہ داری کراچی کے میئر (جو اطلاعات کے مطابق 22 گھنٹے بعد جائے حادثہ پر پہنچے) اور کراچی کے شہری اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ کتنا اچھا ہوتا کہ جس وقت میئر کراچی پلازے کی جلتی عمارت پر پہنچے تھے‘ تب کوئی شہری اُنہیں غالب کا یہ مشہور مصرع سناتا:
کریدتے ہو جو اَب راکھ‘ جستجو کیا ہے
اگر میئر کراچی کو ذرہ بھر بھی احساس ہوتا کہ یہ مجرمانہ غفلت کتنے بڑے سانحے کی ذمہ دار ہے تو وہ اس حادثے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خود مستعفی ہو جاتے۔ میئر کراچی کے مطابق بارہ سو دکانوں میں سے کسی ایک میں بھی فائر الارم نہ تھا‘ جو آگ کی پہلی چنگاری بھڑکنے پر ہی خطرے کی گھنٹی بجا دیتا اور سینکڑوں جانوں کو بچا لیتا۔ نہ صرف یہ کہ ساری عمارت میں ایک بھی الارم نہ تھا بلکہ آگ بجھانے کا کوئی آلہ بھی نہ تھا‘ جو عالمی معیار کے مطابق ہر دکان میں نہیں تو پوری عمارت میں پچاس سے سو تک تو ضرور ہونے چاہئیں تھے۔ (انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق ہر تین ہزار سکوائر فٹ کے لیے کم از کم ایک آگ بجھانے والا سلنڈر لازمی ہے‘ جس کا کسی بھی جگہ سے فاصلہ 75 فٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے) کراچی میں آگ لگ جانے کے واقعات اتنے تواتر سے ہو رہے ہیں کہ دکانوں میں فروخت کئے جانے والے سامان سے پہلے وہاں فائر الارم سسٹم نصب کرنے کا قانون بننا چاہیے۔ کراچی کارپوریشن (جس کے سربراہ بھی میئر ہیں) کا فرض تھا کہ وہ اس امر کو یقینی بناتی کہ عمارت میں آگ لگ جانے کی صورت میں خبردار کرنے والے الارمز اور آگ بجھانے کے آلات نصب ہیں۔
دوسری بڑی مجرمانہ غفلت یہ سامنے آئی کہ کہ فائر بریگیڈ پانچ سے دس منٹ (برطانیہ کے معمولات کے مطابق) کے بجائے جائے حادثہ پر 45 منٹ بعد پہنچی‘ جب تک آگ پوری طرح پھیل چکی تھی۔ تیسری غفلت یہ تھی کہ فائر بریگیڈ نے آگ بجھانا شروع کی تو پانی ختم ہو گیا۔ ظاہرہے کہ پانی کا متبادل انتظام کرنے میں مزید وقت لگا۔ چوتھی غفلت یہ تھی کہ دو دن تک فائر بریگیڈ قیامت خیز آگ کو پانی سے بجھانے کی کوشش کرتی رہی۔ قریب 150 برس قبل جب فائر بریگیڈ کا خیال سوچا گیا تھا‘ اس وقت آگ بجھانے کے لیے پانی استعمال ہوتا تھا۔ ان ڈیڑھ سو سالوں میں سائنس نے جو ترقی کی ہے‘ اس کی رُو سے اب کیمیکل آگ فوم سے بجھائی جاتی ہے۔ پانی کا استعمال اب بیشتر صورتوں میں متروک ہو چکا مگر شاید یہ خبر ابھی کراچی والوں تک نہیں پہنچی‘ لہٰذا یہ ماتم کا مقام ہے۔ پانچویں بری خبر یہ تھی کہ آگ بجھانے والے عملے کے پاس نہ آگ سے محفوظ رکھنے والے (فائر پروف) لباس تھے اور نہ آکسیجن ماسک۔ وہ انگارے کی طرح دہکنے والی عمارت کے قریب جاتے تو وہی حال ہوتا جو عمارت میں موجود افراد کا ہوا۔ اس دوران ایک بہادر فائر فائٹر فرض کی ادائیگی میں جان کی قربانی دے کر مقامِ شہادت پا گیا۔ یہ کالم نگار اُس کو جھک کر سلام کرتا ہے۔
کراچی کے حکام نے پہلے اعلان میں صرف تین افراد کے جاں بحق ہونے کا ذکر کیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حقیقت میں یہ تعداد ایک سو سے بھی زائد ہے۔ تاحال 72 افراد کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ بیسیوں اب بھی ''لاپتا‘‘ ہیں۔ دراصل ''لاپتا‘‘ کی ترکیب استعمال کر کے ہم اپنے دل کو یہ جھوٹی تسلی دے رہے ہیں کہ لاپتا افراد کوئلہ بن چکی عمارت سے بھلے چنگے باہر نکل آئیں گے۔ یہ دروغ گوئی اور حقائق سے چشم پوشی کی بدترین مثال ہے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے لاکھ اختلافات سہی مگر 20 جنوری کو انہوں نے قومی اسمبلی میں جو تقریر کی‘ وہ قابلِ صد تحسین ہے۔ انہوں نے ایمانداری سے مقامی حکومتوں کی حالتِ زار (نہ وسائل واختیارات اور نہ عوامی حمایت و عوامی نمائندگی) کا رونا رویا اور اسے گل پلازہ میں آگ لگنے کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ خواجہ آصف نے برملا اعتراف کیا کہ نام نہاد جمہوری حکومتوں کے مقابلے میں آمرانہ اادوار میں بلدیاتی اداروں پر زیادہ توجہ دی گئی۔ خواجہ آصف کے مقابلے پر پیپلز پارٹی کی خاتون رکنِ اسمبلی کی تقریر اُتنی ہی شرمناک تھی۔ ان کا استدلال وہی تھا کہ زیادہ بارش ہو تو زیادہ پانی آئے گا۔ حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ انہیں جلتی ہوئی عمارت کو لواحقین کی جانب سے بے بسی سے دیکھنے اور آہ وبکا اور نالہ وشیون کی ہلکی سی آواز بھی سنائی نہ دی۔ سینکڑوں بے گناہ افراد جل کر راکھ ہو جائیں تو اُن کی بلا سے۔ وہ اس آگ کو ایک قدرتی آفت کی طرح سمجھتی ہیں جس کا نہ کوئی مداوا ہے اور نہ کوئی علاج۔ مجھے شکایت صرف کراچی کارپوریشن یا میئر سے نہیں بلکہ اپنے خطبا اور واعظین سے سے بھی ہے۔ اقبال نے بجا طور پر کہا تھا:
تہِ محرابِ مسجد سو گیا کون
خطبا اور واعظین اگر اپنی تقریروں اور بیانات میں سماجی فرض ادا کرتے تو شاید ہمارے دکھی دل اتنا بڑا سانحہ دیکھنے کے صدمے سے بچ جاتے۔ کیا یہ منبر نشینوں (خطیبوں اور واعظین) کا فرض نہیں کہ وہ کمرشل عمارتوں میں جمعہ کی نماز سے پہلے جو خطبہ ارشاد فرماتے ہیں‘ اس میں نمازیوں کو (جو اکثریت دکانداروں پر مشتمل ہوتی ہے) آگ لگ جانے کے شدید خطرے سے خبردار کرتے اور اُنہیں یہ بتاتے کہ نہ صرف وہ خود بلکہ ان کی دکانوں پر سودا خریدنے والے گاہک بھی اتنے بڑے خطرے سے دوچار ہیں اور موت ان کے چاروں طرف منڈلا رہی ہے۔ اگر ان میں سماجی ذمہ داریوں کا ادراک ہوتا تو وہ دکانداروں کو‘ اپنے آپ کو اور اپنے گاہکوں کو موت سے بچانے کی کوشش کرتے۔ تعلیمی اداروں کا بھی یہ اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنے طالب علموں اور طالبات کو ان کے شہری فرائض (جن میں آگ سے بچائو سرفہرست ہونا چاہیے) سے آگاہ کریں۔ اجازت دیجئے کہ میں اس سانحے کو اجتماعی نالائقی اور فرض ناشناسی کا شاخسانہ لکھوں۔
آخری خبر یہ ملی کہ جل جانے والی عمارت میں مسجد آگ سے محفوظ رہی ہے۔ ان شاء اللہ جب وہ دوبارہ آباد ہو تو اس میں پہلا خطبہ آگ لگ جانے کی صورت میں ضروری حفاظتی کارروائی کے بارے میں دیا جائے اور آنے والے وقت میں بھی خطیب صاحب ایک ایک نمازی سے پوچھیں کہ اس نے کیا حفاظتی تدابیر اختیار کی ہیں۔ کراچی کے سانحہ کے ہم سب ذمہ دار ہیں مگر ہمارے سیاسی اور سماجی قائدین سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved