جوناتھن سویفٹ (Jonathan Swift) 1667ء میں ڈبلن (آئر لینڈ) میں پیدا ہوا۔ تصانیف تو اس کی اور بھی ہیں مگر ایک ناول اس نے ایسا لکھا جس نے اسے شہرتِ دوام بخشی! اس ناول کا عنوان ہے Gulliver's Travels۔ یہ ایک علامتی کہانی ہے۔ سمندری سفر کے درمیان وہ ایک ایسے جزیرے میں جا پہنچتا ہے جہاں کے باشندے چھ انچ سے بھی کم قد کے مالک ہیں۔ یہ لوگ چھوٹی چھوٹی‘ بے معنی باتوں پر جھگڑتے ہیں۔ مثلاً اس بات پر کہ انڈا کس طرف سے توڑا جائے۔ اصل میں مصنف اُس زمانے کے برطانیہ پر طنز کر رہا تھا جہاں فضول باتوں پر مذہبی اور سیاسی جھگڑے ہوتے تھے۔ آج کل سوشل میڈیا پر جو کہرام برپا ہے وہ بھی ایسی ہی باتوں پر ہے۔ ہمارے پاس بھی کوئی جوناتھن سویفٹ ہوتا تو ایک لازوال ناول تخلیق کر دیتا۔
آدھی قوم اس غم میں بے حال ہو رہی ہے کہ شادی طمطراق سے ہوئی۔ کیوں ہوئی؟ بقیہ آدھی قوم اس طمطراق کا‘ اس تزک و احتشام کا‘ اس اسراف و تبذیر کا دفاع کر رہی ہے۔ دونوں فریق گتھم گتھا ہو رہے ہیں۔ گلوں کی رگیں سرخ ہو رہی ہیں۔ دہانوں سے جھاگ نکل رہی ہے۔ ایک دوسرے کے بزرگوں کے بارے میں نازیبا کلمات کہے جا رہے ہیں۔ کہیں صفحے کالے کیے جا رہے ہیں۔ کہیں وی لاگ میزائلوں کی طرح چھوڑے جا رہے ہیں! سچ یہ ہے کہ دونوں فریق غلط ہیں۔ پہلا اس لیے کہ وہ ایک دولت مند خاندان سے یہ توقع ہی کیوں کر رہا تھا کہ وہ بے پناہ دولت کی نمود و نمائش نہیں کرے گا؟ کیا پاکستان میں شادیاں سادگی سے ہوتی ہیں؟ کون ہے جو نمودو نمائش سے پرہیز کرتا ہے؟ یہ اس ملک کا مجموعی کلچر ہے کہ امیر تو امیر‘ غریب بھی اپنی بساط سے بڑھ کر خرچ کرتے اور ہر ممکن نمائش کرتے ہیں۔ حکمران بھی اسی سماج کا حصہ ہیں۔ قرونِ اولیٰ کے مسلمان نہیں! اعتراض نمائش پر نہیں کرنا چاہیے تھا‘ اعتراض صرف اس بات پر کرنا چاہیے تھا کہ سرکاری ذرائع اور وسائل‘ اگر استعمال ہوئے ہیں‘ تو کیوں استعمال ہوئے ہیں؟ دفاع کرنے والوں کی دلیل یہ ہے کہ یہ ان کا نجی معاملہ ہے۔ بہر حال حکمرانوں کو ایسے کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے جو رعایا سے انہیں ذہنی اور قلبی طور پر دور کریں اور عوام کے احساسِ محرومی کو زیادہ کر دیں۔ جہاں عام آدمی بجلی کے بل نہیں ادا کر سکتا اور ادویات خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا وہاں اگر حکمران زیورات‘ جواہرات اور قیمتی ملبوسات کا بازار لگائیں گے اور اپنی پرستانی زندگی پر پڑے ہوئے پردے اٹھا دیں گے تو عوام کے دل زخمی ہوں گے‘ نفرتیں بڑھیں گی اور حکمرانوں کی مقبولیت میں کمی واقع ہو گی!
ذوق کی پستی اس سے زیادہ کیا ہو گی کہ حکومت سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اپنا وزن کم کر لیا تو چہار طرف غُل برپا ہو گیا! کان پڑی آواز نہیں سنائی دے رہی۔ مبارکبادیں دی جا رہی ہیں۔ آفرین آفرین کے نعروں سے سوشل میڈیا کی چھت اڑنے کے قریب ہے۔ اندازے لگائے جا رہے ہیں۔ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ یہ کیسے ہو گیا۔ کوئی کہتا ہے کہ عملِ جراحی کا نتیجہ ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ڈائٹنگ کا کرشمہ ہے۔ یہ کیسے لوگ ہیں جن کے ذہنوں میں ان مبتذل سوچوں کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں۔ کیا ان کے پاس کہنے کو اور کچھ نہیں؟ سچ ہے کہ کم علموں اور کور چشموں کی سوچ شخصیات سے اوپر نہیں جاتی۔ جن کے ذہن پختہ ہوں وہ شخصیات نہیں‘ نظریات کے بارے میں سوچتے اور انہی پر بحث کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا تو اب آیا ہے‘ روایتی میڈیا ایک مدت سے عوام کی سوچوں کو کیچڑ میں لت پت کر رہا تھا۔ فلمی ستاروں نے عید کیسے منائی؟ فلاں کا پسندیدہ رنگ کیا ہے؟ فلاں کو کھانے میں کیا پسند ہے؟ اور تو اور ایک سنجیدہ‘ پڑھے لکھے‘ دانشور کالم نگار نے‘ جو مرحوم ہو چکے‘ اُس وقت کے صدرِ مملکت کے بارے میں یہ معرکہ آرا اطلاع دی کہ انہیں کوئٹہ کے سیب پسند ہیں!! اندازہ لگائیے علم کے اس ٹکڑے سے قوم کی کتنی ترقی ہوئی ہو گی! اور اگر لوگ اس قیمتی اطلاع سے محروم رہتے تو کتنے افسوسناک نقصان کا سامنا کرتے۔
ادھر قوم اس پریشانی میں مبتلا تھی کہ عزت مآب خاتون کا وزن کس تکنیک سے کم ہوا‘ اُدھر کراچی کی ایک بڑی عمارت نذر آتش ہو گئی۔ جانی اور مالی نقصان ہوا! کوئی قانون پسند ملک ہوتا تو آگ لگنے کے بعد متعلقہ اداروں کے سربراہ جیل میں ہوتے یا تختۂ دار پر جھول رہے ہوتے‘ یہ کوئی نہیں پوچھ رہا کہ جب منظور شدہ نقشے کی دھجیاں اڑائی جا رہی تھیں اور صوبائی حکومت کی عین ناک کے نیچے غیرقانونی دکانیں تعمیر کی جا رہی تھیں تو محکمے اور ان کے کارندے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے؟ کیا ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی یا ناجائز مال کی ہوس نے انہیں اندھا کر دیا تھا؟ سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا اور وہ مست تھے۔ سب کو معلوم ہے کہ سندھ کے ساتھ بالعموم اور کراچی کے ساتھ بالخصوص کیا ہو رہا ہے؟ کب سے ہو رہاہے؟ اور کون معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں؟ سب جانتے ہیں اور سب چپ ہیں! اوپر سے لے کر نیچے تک سب باخبر ہیں مگر بے خبر ہیں! ایک ایک تنکے کا پتہ ہے کہ کہاں سے کہاں جا رہا ہے مگر سب نے چہرے دوسری طرف کر رکھے ہیں۔ کچھ نے اس لیے کہ خوف زدہ ہیں اور ماتحت ہیں۔ کچھ نے اس لیے کہ دوستیاں اور تعلقات ہیں اور کچھ‘ جو روکنے کی قدرت رکھتے ہیں‘ اس لیے بے نیاز ہیں کہ ان کے اپنے کام تو ہو رہے ہیں! رہے عوام! تو وہ آگ میں جلیں یا بجلی پانی کے بغیر مریں‘ جلتے رہیں‘ مرتے رہیں! ان کی بلا سے بُوم رہے یا ہما رہے!!
فراقت کھانا پکانے کا ماہر ہے۔ کبھی مہمان زیادہ ہوں تو بلا لیتا ہوں۔ پرسوں آیا تو لگتا تھا برسوں کا بیمار ہے۔ پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگا: پچاس سال سے بری امام (اسلام آباد) میں رہ رہے تھے۔ جب گھر تعمیر کیا سی ڈی اے دیکھ رہا تھا۔ بجلی کا میٹر اس کے نام پر لگا ہوا تھا۔ اب اچانک گھر گرا دیے۔ کہاں جائیں؟ کیا کریں؟ یہ صرف ایک شخص کی‘ ایک کنبے کی کہانی ہے۔ ہزاروں خاندانوں کو گزشتہ چند دنوں کے دوران گھر سے بے گھر کر دیا گیا! آبادیوں کی آبادیاں منہدم کر دی گئیں! جب یہاں تعمیرات ہو رہی تھیں تب قانون کہاں تھا؟ اس وقت کیوں نہ روکا گیا؟ جن افسروں اور اہلکاروں نے تساہل برتا اور اپنے فرائض ادا نہ کیے انہیں سزا کیوں نہیں دی جا رہی؟ یہ چشم پوشی جو وہ کرتے رہے‘ کس قیمت پر کی جاتی رہی؟ ہے کوئی پوچھنے والا؟ کوئی حساب کتاب؟ کوئی پوچھ گَچھ؟ کوئی نیائے؟ مبینہ طور پر عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا مگر اس کی پروا نہ کی گئی۔ لازم ہے کہ وفاقی حکومت کی متعلقہ وزارت اس ضمن میں صورتحال کی وضاحت کرے۔ اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کیا جائے۔ جو کچھ سننے میں آ رہا ہے‘ اگر اس میں صحیح اور غلط‘ خلط ملط ہیں تو جو سچ ہے سامنے آنا چاہیے۔
ویسے حیرت ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی بارہ کو شہری انتظامیہ نے آج تک اپنی تحویل میں نہیں لیا۔ جرائم پیشہ افراد کا یہ گڑھ مکمل طور پر آزاد ہے اور شہر کے عین وسط میں ہے۔ اس کے اندر ایک نامعلوم جہان آباد ہے۔ اس کی تطہیر کیوں نہیں کی جاتی! یہاں کے مکانات کیوں نہیں گرائے جاتے؟ ترنول اور بارہ کہو میں لاتعداد غیرملکی اب بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔ زیر زمین جرگہ سسٹم چل رہا ہے۔ قانون ان کے بارے میں کیوں چپ ہے؟؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved