تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     27-01-2026

غزہ امن بورڈ میں شمولیت

غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کا سوال آسان نہ تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان بورڈ میں شامل ہو کر غزہ میں مستقل امن کیلئے مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے یا باہر رہ کر؟ البتہ ہمیں مولانا فضل الرحمن سے مکمل اتفاق ہے کہ یہ فیصلہ فردِ واحد میاں شہباز شریف اور اُن کی مٹھی میں بند کابینہ کے ذریعے نہیں پارلیمنٹ کی اجتماعی دانش کے ذریعے ہونا چاہیے تھا۔ اجتماعی دانش سے برادر اسلامی ملک کو یہ پیغام دیا گیا کہ اسلامی ملکوں کو باہمی مسائل جنگوں سے نہیں باہمی گفت و شنید سے حل کرنے چاہئیں۔
ہم مدتوں عرب دنیا میں مقیم رہے۔ اسلئے ہمیشہ یہی عرض کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کو ایک اسلامی ملک کی حیثیت سے عربوں کے باہمی جھگڑوں سے علیحدہ رہنا چاہیے۔ اگر ڈیووس جانے سے پہلے میاں شہباز شریف بڑے میاں صاحب کی ہدایت کے مطابق معاملہ پارلیمنٹ میں لے آتے تو اُن کی قدر و منزلت بڑھتی اور دنیا کی نظر میں پاکستانی جمہوریت کا قد کاٹھ اُجاگر ہوتا۔ مگر ایسا اسلئے نہیں ہو سکتا تھا کہ پاکستان اس وقت امریکہ کیساتھ اپنے تعلقات کے روحانی دور سے گزر رہا ہے۔ اسلئے وہ ڈیووس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن بورڈ کے شو سے باہر کیسے رہ سکتا تھا۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں کو اندازہ ہونا چاہیے کہ امریکہ کیساتھ تعلقات میں کبھی وارفتگی کبھی دوری‘ کبھی گرم جوشی کبھی سرد مہری اور کبھی بے اعتنائی اور کبھی مہربانی کے ادوار آتے جاتے رہتے ہیں۔ امریکہ یہ مختلف رویے اپنے بدلتے مقاصد کیلئے اختیار کرتا ہے‘ لہٰذا ہمیں بھی فیصلے رومانیت کے زیر اثر نہیں اپنے فائدے کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنے چاہئیں۔احسن اقبال صاحب جیسے بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ غزہ اور فلسطین کے وسیع تر مقاصد کیلئے پاکستان بورڈ کے اندر رہ کر بہتر کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان سرکاری نمائندوں نے تو محض حکومتی فیصلے کے دفاع کیلئے دھواں دھار تقریریں کیں مگر سفارتی دنیا کے بعض اہلِ نظر کا کہنا بھی یہ ہے کہ پاکستان امریکہ کے حلیف عرب و اسلامی ممالک سعودی عرب‘ ترکیہ‘ قطر اور مصر وغیرہ کیساتھ مل کر بورڈ کے اندر رہ کر خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
چند سطروں میں ہم فلسطین کا پس منظر بارِدگر آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ غزہ ایک طویل زمانے سے کبھی مکمل طور پر خود مختار نہیں رہا۔ 1947ء سے پہلے یہاں کا کنٹرول برطانیہ کے پاس تھا۔ 1947ء سے 1949ء تک فلسطین کا بہت بڑا علاقہ نکبہ کے دور سے گزرا۔ نکبہ سے مراد آفت‘ مصیبت اور مشکل کے ہیں۔ اس عرصے میں برطانوی فوجوں نے صہیونیوں کے ساتھ مل کر کم از کم سات لاکھ فلسطینیوں کو ارضِ فلسطین سے بزور شمشیر نکال باہر کیا تھا۔ آج جہاں اسرائیل ہے یہاں کے پانچ چھ سو دیہات سے توپوں اور بندوقوں کے بل بوتے پر فلسطینیوں کو اپنے آباؤ اجداد کی زمینوں سے نکال کر پڑوسی عرب ممالک میں دھکیل دیا گیا تھا۔1948ء کی عرب اسرائیل جنگ میں غزہ مصری کنٹرول میں چلا گیا۔ 1949ء سے لے کر 1967ء کی مصر اسرائیل جنگ تک غزہ مصری انتظامیہ کے ماتحت رہا۔ 1967ء سے 1994ء تک یہاں براہِ راست اسرائیلی حکمرانی رہی۔ 1994ء سے 2005ء تک غزہ فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت رہا۔ 2007ء سے لے کر آج تک غزہ میں داخلی طور پر حماس کی محدود اختیارات والی حکمرانی ہے‘ خارجہ معاملات پر اسرائیل کا کنٹرول ہے‘ غزہ کے اندر آنے والے جنوبی راستے کا انتظام مصر کے ہاتھ میں ہیں۔ سیاسی معاملات مغربی کنارے میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھ میں ہیں۔ انسانی امداد کے ذریعے خوراک‘ طبی سہولتیں اور تعلیم وغیرہ جیسے معاملات چلانے میں یو این او پیش پیش رہی ہے۔ اب غزہ پر امریکی کنٹرول قائم ہونے کی صورت میں حماس یا اہلِ غزہ کی واجبی سی داخلی حکمرانی پہلے کی طرح قائم رہے گی یا ختم ہو جائے گی؟ پاکستان سمیت اب تک امن بورڈ میں 20ممالک شامل ہو چکے ہیں یہاں اہم سوال یہ ہے کہ یو این او یا کسی اور عالمی ادارے کی طرف سے اس بورڈ کو کوئی مینڈیٹ حاصل نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس بورڈ کی سربراہی امریکی صدر کی حیثیت سے کریں گے یا ایک پرائیویٹ کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے یہ فرائض انجام دیں گے؟
اگر یہ کوئی ذاتی نوعیت کا انتظام و انصرام ہے تو یہ ٹرمپ صاحب کے زمانۂ صدارت کے مکمل ہونے پر اختتام پذیر ہو جائے گا۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ میں اس کا تا حیات چیئرمین رہوں گا۔ اب تک یہ تفصیلات واضح نہیں۔ ٹرمپ کے داماد جیرڈکشنر جو ایک بزنس مین اور سرمایہ کار ہیں‘ نے غزہ کی تعمیرِ نو اور یہاں کے تفریحی منصوبوں کے پروگرام کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ ایسا کس اتھارٹی کے تحت؟ کسی کو معلوم نہیں۔فرانس سمیت بہت سے یورپی ممالک نے ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت قبول نہیں کی۔ ڈیووس کے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ایک پُرجوش خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے امریکہ اور دیگر سپر پاورز نے عالمی نوعیت کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اس سے تو یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ معاملات کسی اصول ضابطے کے تحت نہیں محض بڑی قوتوں کی من مانی سے چلائے جائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خطاب کے بعد اپنے ٹویٹ کے ذریعے کینیڈا سے امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی ۔ وائٹ ہاؤس نے امن بورڈ کیلئے کم از کم 50ممالک کو دعوت دی تھی۔ پہلے تو یہ بورڈ صرف غزہ کیلئے تشکیل دیا گیا تھا مگر اب ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ وہ ساری دنیا میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری ادا کرے گی۔اس کا واضح مطلب تو یہ ہے کہ ٹرمپ نے یو این او اور اس کی سلامتی کونسل وغیرہ سے معاملات اچک کر اپنے ہاتھ میں لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ٹرمپ جس امن بورڈ ممبر سے برہم ہوں گے اسے یک بینی و دو گوش بورڈ سے نکال دیں گے۔
ابھی تک ایک نہیں کئی سوال جواب طلب ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ پہلے تو ایسی صورتحال میں یو این او کے زیر اہتمام کسی ملک کی فوج آ کر ایسے جنگ زدہ علاقے کا انتظام سنبھال لیتی تھی۔ اب اگر بقول ڈونلڈ ٹرمپ کہ حماس ہتھیار ہمارے حوالے کر دے‘ تو پھر غزہ کی سکیورٹی کا ذمہ دار کون ہو گا؟ دوسرا سوال یہ کہ امن بورڈ میں بہت سے مسلم و غیر مسلم ممالک شامل ہیں‘ غزہ میں تقریباً دو برس تک فلسطینیوں کی نسل کشی کرنیوالا اسرائیلی وزیراعظم بھی اس کا حصہ ہے مگر حماس کی قیادت کوشامل کیا گیا ہے نہ ہی فلسطینی اتھارٹی کی کوئی نمائندگی ہے۔ مسلمان ممالک غزہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ سے گارنٹی لیں کہ وہ یہاں مکمل سیز فائر کروائیں گے‘ پائیدار امن کا اہتمام کریں گے اور اہلِ فلسطین کی 1967والی حدود کے اندر القدس الشریف کے دارالحکومت کیساتھ بااختیار و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو امن بورڈ کے ترجیحی ایجنڈے میں شامل کروائیں گے۔ غزہ کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ ''سیز فائر‘‘ کے دوران سوئٹزر لینڈ میں امن بورڈ کے قیام سے صرف ایک روز قبل اسرائیلی فورسز نے غزہ میں 11فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ ان شہدا میں سے تین صحافی تھے۔ گزشتہ اکتوبر سے قائم کردہ سیز فائر سے لے کر اب تک اسرائیل 466اہلِ غزہ کے خون سے ہولی کھیل چکا ہے۔ اسلامی ممالک میں بالعموم اور پاکستان کے مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر بالخصوص غزہ امن بورڈ پر تنقید کی جا رہی ہے۔ یقینا مسلمانوں کے لیے یہ کوئی مثالی صور تحال تو نہیں مگر کیا کیا جائے اس وقت مسلمانوں کے پاس عصا ہے اور نہ کلیمی۔لہٰذا بااثر مسلمان ممالک کو امن بورڈ کے اندر مل کر اہل فلسطین کے لیے پائیدار امن کو یقینی اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ ہموار کرنا چاہیے۔ اگر وہ یہ کام نہ کروا سکیں تو پھر پاکستان تو ضرور امن بورڈ سے باہر آ جائے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved