کراچی میں گل پلازہ کے سانحہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان نے جہاں ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی وہیں ملک کے موجودہ نظام کے آگے بھی بڑا سوال نشان لگا دیا ہے کہ ایسے واقعات کیونکر ہوتے ہیں؟متعلقہ ادارے عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں کیونکر ادا نہیں کرتے‘ اتنے بڑے سانحات پر ذمہ داروں کا تعین کیوں نہیں ہوتا‘ اعلیٰ حکام اور حکومتی ذمہ داران جوابدہ کیوں نہیں ٹھہرتے؟ سانحۂ گل پلازہ پر ملک میں ایک نئی صورتحال نے جنم لیا ہے‘ خصوصاً قومی اسمبلی کے اندر پیدا شدہ صورتحال نے حکومتی اتحادیوں کو بھی امتحان میں ڈال دیا‘ جب ایوان میں 18ویں ترمیم کے حوالے سے تحفظات سامنے آئے اور حکومتی ذمہ داران اور اتحادی ایک دوسرے پر برستے دکھائی دیے۔ جن کا کہنا تھا کہ اگر اختیارات کی تقسیم نچلی سطح تک ہوتی اور شہری بہبود کے اداروں کو بااختیار بنایا جاتا تو ایسے سانحات رونما نہ ہوتے۔ خواجہ محمد آصف کے اُس بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا جس میں انہوں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ قرار دیا اور کہا کہ 25کروڑ عوام کو بااختیار بنانے کیلئے ملک میں فعال مقامی حکومتیں ناگزیر ہیں‘ آمریت کے دور میں بھی مقامی حکومتیں قائم رہیں لیکن اب ایسا کیوں نہیں۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے سانحہ گل پلازہ کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت آخر کب کراچی کو ترجیح دیں گے۔ انہوں نے نئے انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ پیپلز پارٹی کے ذمہ داران قادر پٹیل اور شہلا رضا نے ان اختلافات کے جواب میں کہا کہ ایک سانحہ کو جواز بناتے ہوئے معاملات 18ویں ترمیم تک پہنچ گئے‘ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی ادارے ہونے چاہئیں مگر یہ دل کی بھڑاس نکالنے کا کون سا موقع ہے۔ مذکورہ صورتحال سے ایک بات تو ظاہر ہو رہی ہے کہ 18ویں ترمیم کے حوالے سے حکمران جماعت کے تحفظات ہیں اور وہ بدلتے حالات میں اس میں مزید ترمیم کرتے ہوئے آگے بڑھنے کے خواہاں ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کسی قیمت پر 18ویں ترمیم پر کچھ دینے کیلئے تیار نہیں اور اس حوالے سے اس نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے خواجہ آصف کے 18ویں ترمیم سے متعلق بیان کی واپسی پر بھی زور دیا گیا لیکن حکومت نے اسے خواجہ آصف کا ذاتی بیان قرار دیا۔ لیکن کیا اصل معاملہ ایسا ہی ہے؟ حالات اس کی تصدیق نہیں کر رہے‘ باخبر حلقے تو 18ویں ترمیم پر ہونے والی تنقید کو مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کہنا ہے کہ وفاق مزید دباؤ کا متحمل نہیں ہو سکتا‘ اس لیے این ایف سی میں ترمیم‘ نئے صوبوں کی تشکیل اور بامقصد بلدیاتی سسٹم کیلئے آگے بڑھنا ہو گا جس کیلئے قانون سازی ناگزیر ہے۔ 18ویں ترمیم کے نتیجہ میں جس طرح صوبوں کو اختیارات ملے تھے‘ اسی طرح اس ترمیم میں اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی کی بات بھی کی گئی تھی لیکن صوبائی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کے نظام سے صرفِ نظر کیا اور سب کچھ اپنے پاس رکھا۔ سبھی سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں مضبوط بلدیاتی نظام اور مقامی حکومتوں کے نمائندوں کو اختیارات کی منتقلی کی یقین دہانی تو کراتی ہیں لیکن جب حکومت میں آتی ہیں تو بلدیاتی انتخابات سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں اور اپنے اختیارات اور وسائل کی مزید تقسیم کیلئے بھی تیار نہیں ہوتیں۔ صوبوں نے 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات تو لے لیے مگر وہ ادارہ جاتی طور پر اس کیلئے تیار نہ تھے جس کی وجہ سے تعلیم‘ صحت اور دیگر سماجی شعبے ابتری کا شکار ہو چکے ہیں اور مرکز کی مالی گنجائش مزید کم ہو گئی ہے۔ صوبوں کو اختیارات اور وسائل کی منتقلی کے بعد تسلسل کے ساتھ مقامی حکومتوں کا قیام کیوں عمل میں نہیں لایا گیا‘ اس حوالے سے ہر سیاسی جماعت اور ان کی قیادت کا مؤقف مختلف ہے لیکن اب اس حوالے سے سٹیٹس کو برقرار رہتا نظر نہیں آ رہا‘ اس لیے کہ وفاق کیلئے قرضوں پر سود کی ادائیگی سمیت متعدد مالی معاملات پریشان کن ہوتے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث بھی جاری ہے اور اطلاعات ہیں کہ اس پر سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔ بظاہر تو پیپلزپارٹی 18ویں ترمیم کی طرح نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بھی اپنی ضد پر قائم ہے بلکہ وہ سندھ کے بجائے پنجاب کی تقسیم کی خواہاں ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ دنیا میں گورننس کو بہتر بنانے اور عوام الناس کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اختیارات کی تقسیم کیلئے چھوٹے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جاتے ہیں اور کوئی ملک ایسا نہیں جس میں وقت کے ساتھ صوبوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا‘ لہٰذا یہ سوال بجا ہے کہ ملکِ عزیز میں ایسا کیوں ممکن نہیں ہو سکتا۔ جبکہ نئے صوبوں کی بنیاد بھی سیاسی‘ لسانی یا علاقائی حیثیت کے بجائے انتظامی امور کو قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے وقت میں اس معاملے پر کیا پیش رفت ہوگی اس پر غور و خوض جاری ہے۔ سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے عمل میں پیش رفت کیلئے تیار ہوتی ہیں یا اس میں رکاوٹ بنتی ہیں‘ یہ دیکھنے کیلئے ابھی مزید انتظار کرنا ہو گا۔ سیاسی ماہرین کا تو کہنا ہے کہ جس تیزی سے یہ عمل آگے بڑھ رہا ہے جب اس پرکوئی حتمی فیصلہ سامنے آئے گا تو سیاسی جماعتیں اسے روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی کیونکہ یہ عمل کسی ایک صوبہ تک محدود نہیں‘ چاروں صوبوں تک وسیع ہو گا۔ جہاں تک بلدیاتی نظام کی فعالیت کا سوال ہے تو مجوزہ ترمیم میں بلدیاتی انتخابات کو آئینی تحفظ دینے کی تجویز بھی موجود ہے تاکہ ملک کے اندر جمہوریت کے تسلسل کیلئے صرف وفاقی اور صوبائی اسمبلیاں ہی وجود میں نہ آئیں بلکہ مقامی حکومتوں کا قیام بھی عمل میں لایا جائے تاکہ جمہوری نظام زیادہ مضبوط ہو اور مقامی حکومتیں اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے شہری اور دیہی مسائل حل کر سکیں۔ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی مخالفت کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی کیونکہ دنیا بھر میں جہاں مضبوط جمہوری حکومتیں کام کر رہی ہیں وہاں ان کی بنیاد بااختیار مقامی حکومتیں ہیں‘ جس کے انتخابات کا تسلسل ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ بھارت میں بھی بلدیاتی انتخابات کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ اب تو الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی مقامی حکومتوں کے قیام کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تجاویز دے رہا ہے اس لیے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اب کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں تک این ایف سی میں ترمیم کے عمل کا سوال ہے تو اس حوالے سے پیپلز پارٹی اپنے حصے پر کمپرومائز نہ کرنے کا عندیہ دے چکی ہے بلکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری تو صوبوں کیلئے مزید وسائل کا مطالبہ کرتے دیکھائی دیتے ہیں تاکہ اپنے حصہ پر کسی کٹ سے بچا جا سکے۔ لیکن بدلتی علاقائی صورتحال اور عالمی سطح پر پیدا شدہ رجحانات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر صوبے اپنے وسائل پر کمپرومائز کیلئے تیار نہیں ہوتے تو پھر انہیں وفاق کا کچھ بوجھ ضرور اٹھانا پڑے گا۔ بعض اخراجات‘ جو وفاق کیلئے اٹھانا ممکن نہیں‘ اس میں صوبوں کو وفاق کا ساتھ دینا ہو گا۔اس صورتحال میں کہا جا سکتا ہے کہ ممکنہ طور پر آنے والے دنوں میں 28ویں آئینی ترمیم بھی اسی طرح منظور ہو جائے گی جس طرح 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم منظور ہوئیں‘ جن پر سیاسی جماعتوں نے تحفظات کے باوجود ملک کے وسیع تر مفاد میں سر تسلیم خم کر لیا۔ سیاسی جماعتوں کو 18ویں ترمیم پر کمپرومائز اور 28ویں ترمیم کی منظوری کیلئے نہ چاہتے ہوئے بھی پیش رفت یقینی بنانا پڑے گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved