ملک کی ترقی اور استحکام کا دارومدار اس کے وفاقی ڈھانچے کی مضبوطی اور مرکز اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پر ہوتا ہے۔ وفاقی طرزِ حکومت میں مرکز اور صوبے ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ دست و بازو ہوتے ہیں۔ جب وفاق اور صوبے ایک دوسرے کی قوت بنتے ہیں تو ملک تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتا ہے‘ معیشت مستحکم ہوتی ہے اور بیرونی و اندرونی خطرات کا مقابلہ کرناآسان ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اکائیوں اور وفاق میں مخاصمت‘ شک اور بے یقینی پیدا ہو جائے تو سب سے پہلے اعتماد کی دیوار گرتی ہے‘ اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو پھر ریاست کے لیے ناگزیر فیصلے بھی سیاسی اختلافات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اس وقت وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان پیدا ہونے والی صورتحال تشویشناک حد تک سنگین ہو چکی ہے۔ وادیٔ تیراہ میں دہشت گردی کے خلاف مجوزہ آپریشن اور اس پر متضاد بیانات نے اس خلیج کو وسیع کر دیا ہے۔وفاقی حکومت اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف صوبائی حکومت اسے عوامی مفادات اور صوبائی خود مختاری کے خلاف تصور کر رہی ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی بحران کا نتیجہ ہے جو قومی یکجہتی کے لیے انتہائی مہلک ہے۔
وادیٔ تیراہ میں شدت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈآپریشن کا فیصلہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہوا جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بھی شریک تھے۔ تاہم اس فیصلے کے بعد جو سیاسی منظرنامہ ابھرا وہ حیران کن ہے۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ کے مطابق یہ فیصلہ صوبائی ایپکس کمیٹی میں ہوا تھا اور پولیس کی عدم صلاحیت کے باعث آپریشن ناگزیر تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عباداللہ نے ڈی سی کی جانب سے جرگہ کے ساتھ معاہدے کا ذکر بھی کیا اورآئی جی کی بریفنگ کے مطابق پولیس میں اس آپریشن کی صلاحیت نہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ دونوں اعلیٰ افسران صوبائی حکومت کے ماتحت ہیں‘ تاہم وزیراعلیٰ نے عوامی اجتماع میں آپریشن کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے پختون قوم کے خلاف سازش اور بند کمروں کے فیصلے قرار دیا۔ وزیراعلیٰ کا یہ مؤقف کہ آئندہ وفاق کے ساتھ ہر بات تحریری اور ثبوت کے ساتھ ہو گی‘ اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ اکائیوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ جب صوبے کا سب سے بڑا انتظامی سربراہ وفاق پر عدم اعتماد کا اظہار کردے تو اس سے ریاست کے ستون کمزور ہوتے ہیں۔ وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے وادیٔ تیراہ کو خالی کرانے کی خبروں کی تردیدکرتے ہوئے اسے بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا قرار دیا۔ وفاق کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہے ہیں اور کسی قسم کی آبادی کی منتقلی کا منصوبہ نہیں۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی کہا کہ لوگوں کی نقل مکانی دہشت گردوں کے خوف سے ہے نہ کہ آپریشن کی وجہ سے۔ اس صورتحال میں یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اگر وفاق کی جانب سے پیش کردہ حقائق حقیقت پر مبنی ہیں تو صوبائی حکومت کے تحفظات کی بنیاد کیا ہے؟ دوسری جانب اگر صوبائی سطح پر کچھ خدشات پائے جاتے ہیں تو وفاق کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کا ازالہ کرے۔ درحقیقت یہ ادارہ جاتی ابہام ہی وہ اعتماد کا فقدان ہے جو قومی سلامتی کی کوششوں کو کمزور کرتا ہے۔ ریاست کے لیے ناگزیر ہے کہ مرکز اور صوبے کے درمیان معلومات کا تبادلہ اس قدر شفاف ہو کہ دشمن عناصر اس خلا کا فائدہ نہ اُٹھا سکیں کیونکہ بیانیوں کا تضاد نہ صرف دہشت گردوں کو پنپنے کا بالواسطہ موقع فراہم کرتا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی غیر یقینی کی فضا پیدا کرتا ہے۔
خیبرپختونخوا بلاشبہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ اس مٹی نے ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے‘ معیشت تباہ ہوئی اور سماجی ڈھانچہ بکھر گیا۔ پختون عوام نے صفِ اول کا کردار ادا کرتے ہوئے جو قربانیاں دی ہیں تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ ایسی صورتحال میں تقاضا تو یہ تھا کہ وفاق اور صوبہ دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے۔ قومی سلامتی کے معاملے پر سیاست کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے لیکن بدقسمتی سے یہاں بھی سیاسی نمبر گیم شروع ہو چکی ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کے پیچھے کئی گہرے اور پیچیدہ اسباب کارفرما ہیں۔ بنیادی وجہ سیاسی تقسیم ہے‘ جہاں مرکز اور صوبے میں حریف جماعتوں کی حکمرانی کی وجہ سے سیاسی مخاصمت اب ریاست کے حساس معاملات پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اطراف سے بامقصد ڈائیلاگ کے بجائے میگا فون ڈپلومیسی اور جلسوں میں ایک دوسرے پر الزام تراشی نے رابطوں کے فقدان کو جنم دیا ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات خاص طور پر فوجی آپریشنز کے نتیجے میں ہونے والی بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے مقامی قیادت اور عوام میں مستقل خوف پیدا کر رکھا ہے جسے وفاقی سطح پر دور کرنے کی ضرورت ہے۔ پشتون روایات سے واقفیت رکھنے والا شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ نقل مکانی کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں حالیہ بحران سے نکلنے کا راستہ بامقصد مذاکرات اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی میں ہے۔ وفاق کی جانب سے جامع اور مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری میں صوبائی حکومت کی شمولیت ناگزیر ہے تاکہ قومی سلامتی کے اقدامات پر کسی قسم کے شکوک و شبہات کی گنجائش نہ رہے اور مشترکہ اہداف کا حصول ممکن ہو سکے۔ دونوں طرف کی قیادت خاص طور پر صوبائی ذمہ داران کو چاہیے کہ قومی حساسیت کا ادراک کرتے ہوئے عوامی جلسوں میں بیانات کے بجائے پارلیمان‘ نیشنل سکیورٹی کمیٹی اور ایپکس کمیٹیوں جیسے اعلیٰ آئینی فورمز پر اپنا مقدمہ پیش کریں کیونکہ ریاست کے دفاعی فیصلے سڑکوں پر نہیں کیے جا سکتے۔ اس عمل میں شفافیت اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ تمام سکیورٹی بریفنگز اور معاہدوں کو طے شدہ ضابطوں کے تحت رکھا جائے تاکہ کسی بھی غلط فہمی کا ازالہ ہو سکے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وفاقی حکومت کی جانب سے شہریوں کے تحفظ اور کم سے کم نقل مکانی کی یقین دہانیوں پر صوبائی حکومت کو مثبت ردعمل دینا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار نظرآئے اور عوامی اعتماد کی بحالی کے ساتھ ساتھ ریاست کی رٹ ہر صورت برقرار رہے۔
اعتماد کا فقدان ایسی دیمک ہے جو وفاقی ڈھانچے کی مضبوطی کو کمزور کرتی ہے‘ جس کا ادراک ہر دو اطراف کو ہونا چاہیے۔ وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان حالیہ کھچاؤایک انتظامی اختلاف ہی نہیں قومی سلامتی کے وسیع تر مفاد کا معاملہ بھی ہے‘ جہاں وفاق کی جانب سے ملک گیر استحکام کی کوششوں کو صوبائی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ اگرچہ ریاست کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ایک ناگزیر قومی فریضہ ہے تاہم وفاق کے ان اقدامات کی کامیابی کے لیے عوامی تائید اور صوبائی حکومت کا مثبت رویہ کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام فریق سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر قومی وحدت کو ترجیح دیں‘ کیونکہ وفاق کی مضبوطی ہی میں صوبوں کی بقاہے۔ شدت پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی اتحاد کی بھی اشد ضرورت ہے اور یہ اتحاد تبھی ثمرآور ہو گا جب وفاق کی رہنمائی میں تمام اکائیاں باہمی اعتماد اور ہم آہنگی کی فضا کو فروغ دیں گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved