تحریر : حافظ محمد ادریس تاریخ اشاعت     27-01-2026

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ!…(3)

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلامی لشکر شام و فلسطین کی طرف روانہ ہوئے تو خلیفۂ رسولؐ کے حکم پر حضرت عبادہؓ ان معرکوں میں شرکت کیلئے میدانِ جہاد میں پہنچ گئے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ کی سرکردگی میں کئی جنگوں میں حصہ لیا۔ ہر سپہ سالار نے ان کی شجاعت و بہادری اور جنگی مہارت و فراست کی تعریف کی اور آپؓ کو عرب کے بہادر ترین جنگ جوئوں کے مثل قرار دیا۔ اہم جنگوں میں فتوحات کے بعد آپ مدینہ واپس آ گئے اور صفہ پر اپنی مسند سنبھالی۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عبادہؓ نے جہاد بالسیف کا حق بھی ادا کیا اور جہاد بالّسان میں بھی اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ دونوں خلفا کے زمانے میں آپؓ کو مختلف اوقات میں مختلف مہمات پر روانہ کیا گیا۔ ایسے مواقع پر آپؓ کے بارے میں دربارِ خلافت سے جو الفاظ خطوط میں لکھے گئے وہ آپؓ کی شان کو ظاہر کرتے ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنے دورِ خلافت میں جن صحابہ سے مشورہ کیا کرتے تھے ان میں حضرت عبادہؓ بھی شامل ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ کے ساتھ بھی آپ کا تعلق بہت قریبی رہا۔ حضرت عمرؓ آپؓ کی خوبیوں کے قدردان تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ عبادہؓ علم و معرفت کے میدان میں بھی بے مثال ہیں اور معرکہ ہائے قتال میں بھی آپؓ کا کوئی ثانی نہیں ملتا۔ حضرت عمرؓ آپ کو ایک ہزار جنگجوئوں کے برابر شمار کرتے تھے۔ روم کے مقابلے پر اسلامی فوجوں نے بہت بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ جب مصر کے علاقے میں جنگیں شروع ہوئیں تو حضرت عمرو بن عاصؓ سپہ سالارِ لشکر تھے۔ آپؓ نے کئی شہروں کو فتح کر لیا۔
آپؓ نے کئی جنگوں میں حصہ لینے اور فتوحات حاصل کرنے کے بعد مدینہ آمد پر آنحضورﷺ کے روضۂ اقدس پہ حاضری دیتے ہوئے ہمیشہ آپﷺ پر درود و سلام پڑھنے کے ساتھ مسلمان فوجوں کی کامیابی کیلئے دعائیں بھی کیں۔ حضرت عمرو بن عاصؓ نے مصر کے کچھ علاقوں کو فتح کر لیا تھا اور سکندریہ کو فتح کرنے کیلئے پوری تیاری کے ساتھ حملہ کیا مگر اس شہر کو فتح کرنے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ جب حضرت عمرو بن عاصؓ کی طرف سے مدد طلب کی گئی تو حضرت عمرؓ نے فوراً مجاہدین کے چار دستے تیار کیے۔ ہر دستے میں ایک ہزار جنگجو تھے۔ آپؓ نے ان چاروں دستوں کے چار سپہ سالار مقرر کرتے ہوئے بہت حکمت اور محنت سے کام لیا۔ یہ تھے حضرت عبادہ بن صامتؓ، حضرت مقداد بن اسودؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت مسلمہ بن مخلّدؓ۔ چاروں جماعت صحابہ کے روشن ستارے تھے۔
آپؓ نے حضرت عمرو بن عاصؓ کے نام اپنے خط میں لکھا: میں تمہاری طرف چار لشکر بھیج رہا ہوں جن میں سے ہر کے اندر ایک ہزار مجاہدین ہیں اور ان چاروں کے کمانڈر اتنے بہادر اور تجربہ کار جنگجو ہیں کہ ان میں سے ہر ایک ایک ہزار جواں مردوں کے برابر شمار ہوتا ہے۔ جب یہ لشکر تمہارے پاس پہنچ جائیں تو پہلے ان کا استقبال کرو اور سب مجاہدین کو جمع کر کے ان کے سامنے جہاد کے فضائل بیان کرو۔ اس کے بعد مشاورت کے ساتھ دشمن پر زوردار حملہ کر دو۔ اس خط کے ملنے پر حضرت عمرو بن عاصؓ نے ایک بہت پُراثر خطاب فرمایا اور عبادہ بن صامتؓ کے نیزے پر اپنا عمامہ لٹکا کر پرچم کے طور پر انہیں دیا اور کہا: اس فوج کی قیادت آپؓ ہی کو کرنی ہے۔ آج آپؓ امیر عسکر ہیں۔
حضرت عبادہؓ نے اس جوش اور فراست کے ساتھ اپنی فوجوں کے ساتھ حملہ کیا کہ دشمن کے تمام دفاعی انتظامات ناکام ہو گئے۔ انہوں نے اس حملہ آور فوج کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر سب چھوٹوں بڑوں نے محسوس کیا کہ اب اس تازہ دم فوج کا مقابلہ ناممکن ہے۔ چنانچہ وہ اپنے قلعے کو چھوڑ کر جدھر منہ اٹھا ادھر بھاگ گئے‘ کچھ بحری راستوں سے اور کچھ خشکی کے راستوں سے یوں بھاگے کہ اگلے دن قلعے میں کوئی ایک بھی جنگجو نہیں تھا۔ اسلامی فوجوں کو دشمن کا چھوڑا ہوا کافی اسلحہ بھی مالِ غنیمت میں ہاتھ آیا۔ حضرت عبادہؓ کی یہ جرأت مندانہ قیادت تمام صحابہ کو ہمیشہ یاد رہی۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس وقت حضرت عبادہؓ کی عمر ساٹھ سال سے اوپر ہو چکی تھی۔
حضرت عبادہؓ کو حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں فلسطین کا قاضی مقرر کیا اور فرمایا کہ آپؓ بطور قاضی فیصلے کرنے کے ساتھ علم و معرفت کا کام بھی اس علاقے میں جاری رکھیں۔ چنانچہ اب آپؓ کا مدرسہ مدینہ منورہ میں صفہ کے بجائے فلسطین کے علاقے میں قائم ہو گیا۔ آپؓ کے عدالتی فیصلوں سے فلسطین کے گورنر حضرت امیر معاویہؓ کو اختلاف ہوتا تھا۔ آپؓ ہر فیصلہ کرتے وقت قرآن و حدیث سے حوالہ دیتے تھے۔ جب تکرار بڑھی تو حضرت عبادہؓ کو یہ بات سخت ناگوار گزری۔ ظاہر ہے کہ وہ سابقون الاولون میں سے تھے جبکہ حضرت امیر معاویہ فتح مکہ کے بعد اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ آپؓ کا فرمانا تھا کہ دیگر معاملات میں گورنر صاحب اپنے فیصلے کریں مگر عدالتی معاملات میں دخل نہ دیں‘ جبکہ حضرت امیر معاویہؓ کی رائے تھی کہ بطور گورنر انہیں ہر معاملے پر نظر رکھنی ہوتی ہے۔
حضرت عبادہؓ اس صورتحال سے دل برداشتہ ہو کر واپس مدینہ آ گئے۔ حضرت عمرؓ کی نظر آپ پر پڑی تو پوچھا: عبادہؓ کیسے آناہوا؟ تو انہوں نے پوری روداد سنا دی۔ اس پر آپؓ نے فرمایا کہ آپ جیسے بزرگوں کے دم قدم سے یہ دنیا اور اس کا نظام قائم ہے‘ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ آپؓ کے معاملات میں کوئی دوسرا شخص دخل دے۔ آپؓ واپس جا کر اپنی ذمہ داری سنبھال لیں۔ اب آپؓ دربارِ مدینہ کے نمائندے ہیں‘ گورنر کے ماتحت نہیں۔ اسی مضمون کا خط حضرت معاویہؓ کو بھی لکھ دیا۔ اس خط میں آپؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کو لکھا کہ آپ اپنے معاملات تک محدود رہیں اور عبادہ بن صامتؓ کے معاملات میں دخل نہ دیں۔ حضرت عبادہؓ نے یہ عدالتی خدمت سرانجام دینے کے ساتھ اب خطہ فلسطین کو بھی علم و عرفان کی روشنی سے مالامال کر دیا۔
حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد جب حضرت عثمان غنیؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو حضرت امیر معاویہؓ پورے شام کے گورنر بنا دیے گئے۔ خلیفۂ راشد کی خدمت میں انہوں نے خط لکھا کہ امیر المومنین عبادہ بن صامتؓ کو واپس مدینہ بلا لیں؛ چنانچہ امیر المومنین نے آپؓ کو مدینہ آنے کا حکم دیا۔ آپؓ مدینہ میں پہنچے تو حضرت عثمانؓ کے پاس مسلمانوں کا ایک مجمع لگا ہوا تھا۔ آپؓ خاموشی سے ایک جانب بیٹھ گئے۔ حضرت عثمانؓ نے دیکھا تو بڑے احترام کے ساتھ کہا: آئیے اور بتائیے کیا حال ہے؟ اس موقع پر حضرت عبادہؓ نے ایک زبردست خطاب فرمایا جس میں خاص بات یہ تھی کہ لوگو! رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے بعد آنے والے امربالمعروف کو منکر اور منکر کو معروف سے بدل دیں گے۔ صورت یہ ہو گی کہ ناجائز امور کو جائز سمجھا جائے گا لیکن یاد رکھو کہ معصیت کے کاموں میں کسی کی اطاعت جائز نہیں‘ تم لوگ ہرگز برائی سے اپنے آپ کو آلودہ نہ کرنا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved