پاکستان اس وقت شدید مشکل کا شکار ہے۔ اگلے دو تین دنوں میں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں اپنی کرکٹ ٹیم بھیجنی ہے یا نہیں۔ اس کی وجہ بنگلہ دیش کا وہ فیصلہ ہے کہ وہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی ٹیم کو بھارت میچ کھیلنے نہیں بھیجے گا۔ بنگلہ دیش نے آئی سی سی کو درخواست کی تھی کہ ان کے میچز سری لنکا منتقل کر دیے جائیں۔ بنگلہ دیش کو امید تھی کہ پاکستان کے میچز پہلے ہی سری لنکا شفٹ ہو چکے ہیں لہٰذا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ان کے میچز بھی وہاں کرانے پر راضی ہو جائے گی۔اس امید کی وجہ یہ تھی کہ یہ ورلڈ کپ چونکہ جنوبی ایشیا میں ہو رہا ہے لہٰذا اس میں خطے کی بڑی ٹیموں کی شمولیت اہم ہے۔ اگر دیکھا جائے تو شاید بنگلہ دیش اور بھارت کے مابین کشیدگی اب پاک بھارت کشیدگی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ پاکستان کے میچز بھی اسی لیے سری لنکا رکھے گئے تھے کہ گزشتہ برس مئی میں دونوں ملکوں کی جنگ ہوئی تھی اور بھارتی عوام پاکستانی کھلاڑیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس وقت دونوں ملکوں میں ہر قسم کے تعلقات منقطع ہو چکے ہیں‘ لہٰذا ان حالات میں پاکستانی کھلاڑیوں کا بھارت جانامناسب نہیں ہوگا۔ لیکن جس طرح کی صورتحال بنگلہ دیش اور بھارت کے مابین پیدا ہوئی ہے اس کیلئے آئی سی سی تیار نہیں تھی۔
بنگلہ دیش کی درخواست جب مسترد کی گئی تو بنگلہ دیش نے ورلڈ کپ ہی کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس پر کرکٹ ورلڈ میں بہت تنقید ہو رہی ہے کہ جب سب کو علم ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات نہایت کشیدہ ہیں تو پاکستان کی طرح ان کے میچز بھی سری لنکا شفٹ کرنے میں کیا حرج تھا۔ بنگالیوں کا اعتراض ٹھوس حقائق پر مبنی تھا لیکن شاید بھارت یہ سمجھتا ہے کہ بنگلہ دیش کو سبق سکھانا ضروری ہے اور اس وقت آئی سی سی پر بھارت کا حکم چلتا ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ آئی سی سی کا 70 فیصد ریونیو وہیں سے آتا ہے۔ وہی بات کہ جس کے گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے۔ یوں اب پاکستان ایک مشکل صورتحال میں گِھر گیا ہے۔ یقینا پاکستان کیلئے فیصلہ آسان نہیں کہ وہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرے یا جا کر میچز کھیلے؟ اس فیصلے کو دو پہلوئوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ پاکستان عالمی کرکٹ بورڈ کا حصہ ہے اور اسے تمام میچز کی پابندی کرنی ہے۔ شیڈول طے پا چکا اور کچھ دن بعد ٹورنامنٹ شروع ہونے والا ہے۔ اس سے پہلے مئی کی جنگ کے بعد بھارت بھی پاکستان کے ساتھ دبئی میں ہی سہی‘ لیکن میچ کھیل چکا ہے۔ پھر پاکستان اتنے بڑے ٹورنامنٹ سے خود کو باہر رکھ کر اپنا مالی نقصان کرے گا کیونکہ بورڈ کو اس ورلڈ کپ سے ملینز آف ڈالر ملیں گے۔ یقینا محسن نقوی‘ جو پی سی بی کے چیئرمین ہیں‘ کے نزدیک یہ ملینز آف ڈالر اہم ہوں گے۔ ان کے پاس سینکڑوں دیگر وجوہات بھی ہوں گی کہ بنگلہ دیشی عوام کے ساتھ ہماری دوستی اور پیار اپنی جگہ لیکن ہمیں جذبات کے بجائے دانشمندی سے فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ دانشمندی ان کے نزدیک ٹورنامنٹ کھیلنا ہو گی۔ پاکستانی قوم کرکٹ کی دیوانی ہے‘ وہ ٹی وی پر دوسرے ملکوں کے کھلاڑیوں کو تو نہیں دیکھتی رہے گی۔ مگر اس سارے ایشو کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو کہیں زیادہ حساس اور اہم ہے‘ اور وہ ہے بنگلہ دیش اور بنگالی عوام! کہ وہ ہمارے اس فیصلے کو کیسے دیکھیں گے۔ اگر پاکستان بائیکاٹ نہیں کرتا خصوصاً اس مرحلے پر جب بھارت نے انہیں کرکٹ ورلڈ میں تنہا کر دیا ہے‘ تو وہاں پاکستان سے متعلق کیا تاثر ابھرے گا۔
پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان اور بنگلہ دیش ایک دوسرے کے بہت قریب آئے ہیں۔ حسینہ واجد کی 2008ء سے قائم ہونے والی حکومت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات تقریباً ختم ہو گئے تھے۔ پندرہ‘ سولہ برس تک دونوں ملکوں کے وزیراعظم نے ایک وزٹ تک نہیں کیا۔ بنگلہ دیش ایک طرح سے پاکستانیوں کیلئے نو گو ایریا بن گیا تھا۔ حسینہ واجد دور میں بنگلہ دیش کی نوجوان نسل میں پاکستان کے خلاف خوب نفرت پھیلائی گئی اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہش رکھنے والے بنگالی سیاستدانوں اور مذہبی لیڈروں کو پھانسیاں تک دی گئیں۔ لیکن حالات اچانک بدلے۔ جب طویل عرصے تک حسینہ واجد نے بنگالیوں کے ساتھ فاشسٹ رویہ رکھا تو ایک خونیں انقلاب نے ان کا تختہ الٹ دیا اور انہیں بھارت فرار ہونا پڑا۔ ان کو بنگلہ دیش میں ایک عدالت پھانسی تک کی سزا سنا چکی ہے اور بنگلہ حکومت بھارت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ حسینہ واجد کو ان کے حوالے کرے جہاں ان پر سینکڑوں نوجوانوں کے قتل کے کیسز چل رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو اس وقت بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات ویسے ہی ہو چکے ہیں جیسے کبھی پاکستان اور بنگلہ دیش کے 1971ء کے بعد رہے تھے۔ پاکستانیوں کے دل سے کبھی بنگالیوں کی محبت نہ نکلی تھی اور سقوطِ ڈھاکہ کے بعد انہیں شدت سے احساس ہوا کہ بنگلہ دیش بنوانے میں بنگالیوں سے زیادہ مغربی پاکستان کی سول ملٹری اشرافیہ اور سیاسی قیادت کا ہاتھ تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد روا رکھی گئی پالیسوں نے بنگالیوں کو مغربی پاکستان سے متنفر کیا۔ پاکستانی آج تک اس احساسِ جرم کا شکار ہیں کہ غلطی بنگالیوں کی نہیں بلکہ مغربی پاکستان کے مخصوص ٹولے کی تھی۔ البتہ باہمی تعلقات میں اتار چڑھائو بھی آتا رہا۔ بیگم خالدہ ضیا کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات کافی دوستانہ ہو گئے جبکہ حسینہ واجد کے دور میں بہت برے۔ ہم سمجھتے تھے کہ ہم بنگالیوں کو ہمیشہ کیلئے کھو چکے لیکن انقلاب کے بعد جس طرح وہاں حالات نے پلٹا کھایا‘ اس نے بنگالیوں اور پاکستانیوں کو پھر سے ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ اس وقت بنگالی نوجوانوں میں بھارت کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔اب وہ پاکستان کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ 2008ء میں جب میں الیکشن کور کرنے بنگلہ دیش گیا تھا تو اس وقت حسینہ واجد کی پارٹی نوجوان بنگالیوں سے پاکستان سے بدلہ لینے کے نام پر ووٹ مانگ رہی تھی۔ برسوں بعد آج کی نئی نسل الٹا حسینہ واجد کا لہو مانگ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان حالات میں پاکستان کو کیا کرناچاہیے؟ یقینا کچھ لوگ اسے جذباتی اپروچ سمجھیں گے اور کہیں گے کہ ہر ملک کو اپنے مفادات دیکھنے چاہئیں‘ پاکستان بھی اپنے مفادات کو مقدم رکھے۔ لیکن یاد رکھیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کا دونوں ماضی سے بندھے ہوئے‘ حال میں موجود اور مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اس وقت اگر پاکستان نے بنگلہ دیش کا ساتھ نہ دیا تو بھارتی ان کا مذاق اڑائیں گے کہ جن کے نعرے مارتے ہو اور جن کے پیچھے تم مرے جا رہے ہو ان کیلئے کرکٹ اور ڈالر تم بنگالیوں سے زیادہ اہم ہیں۔ آج کا نوجوان جذبات سے سوچتا ہے اور یقینا ورلڈ کپ میں پاکستان کی شمولیت کے فیصلے سے بنگالی نوجوان سخت مایوس ہوں گے۔ جتنا سفر ہم نے حسینہ واجد دور کے بعد طے کیا ہے‘ سب رائیگاں جائے گا۔ بنگال کی پرانی اور نئی نسل کو جوڑنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ پاکستان کو اس وقت بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے‘ چاہے اس کی کرکٹ ورلڈ یا مالی طور پر جو بھی قیمت ہو۔ اگر آج ''سمجھداری یا بالغ نظری‘‘ کا جواز بنا کر اپنے اپنے مفادات کو ترجیح دی گئی تو شاید جیسے بھارت حسینہ واجد کی خاطر بنگالی عوام کی ہمدردیاں کھو کر نفرت کما چکا‘ ہم بھی بنگالیوں کے نزدیک اسی مقام پر آ کھڑے ہوں۔ بنگالیوں کو محسوس ہو گا کہ 54 برس بعد پاکستان نے ان کے ساتھ ایک بار پھر دھوکا کیا ہے۔ تمام فیصلے دماغ سے نہیں ہوتے‘ بعض فیصلے دل سے بھی کیے جاتے ہیں‘ چاہے ان کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ اکثر جگہوں پر دل کے فیصلے ہی ٹھیک ثابت ہوتے ہیں۔ ورلڈ کپ؍ آئی سی سی سے ملنے والے تیس ملین ڈالر زیادہ عزیز ہیں یا سترہ کروڑ بنگالی‘ یہ فیصلہ کرنا اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved