تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     28-01-2026

زندگی کی اہم حقیقت

اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو عقل وشعور جیسی عظیم نعمت سے نواز رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے پاس قوتِ فیصلہ جیسی عظیم صلاحیت بھی موجود ہے۔ اپنے لیے کسی راستے کا تعین کرنا انسان کے لیے چنداں مشکل نہیں لیکن یہ ہمیشہ انسانوں کی کوتاہ بینی رہی ہے کہ وہ زندگی کی سب سے اہم حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے مفادات اور یہاں کے وسائل کو جمع کرنے میں اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے والا انسان نجانے کیوں اپنی آخرت کو سنوارنے کے حوالے سے عموماً غفلت کا شکار رہتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے متعدد مقامات پر انسانوں کو عطا کی جانے والی صلاحیتوں اور ان کے مثبت اور منفی استعمال کے حوالے سے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا ہے‘ جن میں سے بڑا گروہ اپنی خواہشات اور تمنائوں میں اس حد تک الجھ چکا ہے کہ وہ کسی بھی طور سیدھے راستے پر آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایسے لوگوں نے اپنا مقدر جہنم کے انگاروں کو بنا لیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ تکاثر میں انسانوں کی اسی غفلت اور کوتاہ بینی کا ذکر کچھ یوں فرماتے ہیں ''زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا۔ یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ ہرگز نہیں! تم عنقریب معلوم کر لو گے۔ ہرگز نہیں! پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں! اگر تم یقینی طور پر جان لو۔ تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے۔ اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔ پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے متعدد مقامات پر اس بات کو بڑی وضاحت سے بیان فرما دیا کہ ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہوگا اور اس کے بعد انسانوں کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ یومِ حساب کو دیا جائے گا۔ اس روز کی کامیابی کی حقیقت کے بارے میں بھی نشاندہی کر دی گئی کہ دنیا میں کامیابی کے حوالے سے پائے جانے والے تصورات کے مقابلے میں حقیقی کامیابی اسی شخص کو حاصل ہو گی جو آگ سے بچ کے جنت میں داخل ہو جائے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ آلِ عمران کی آیت: 185 میں ارشاد فرماتے ہیں ''ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیے جائو گے‘ پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے‘ بیشک وہ کامیاب ہوگیا‘ اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں ہر شخص کے لیے موت کے وقوع پذیر ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مذاہبِ عالم کا جس حقیقت پراتفاق ہے‘ وہ موت کا آنا ہے لیکن یہ لمحہ فکریہ ہے کہ انسانوں کی اجتماعی عقل میں موت کے بارے میں کسی قسم کے اختلاف نہ ہونے کے باوجود موت اور اس کے بعد آنے والی زندگی کے حوالے سے انسان شدید غفلت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انسانوں کی غالب اکثریت دنیا کی زندگانی کو اس حد تک ترجیح دیتی ہے کہ موت کے بعد والی زندگی کو یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ النازعات میں دو گروہوں کا ذکر کیا ہے‘ جن میں سے ایک گروہ دنیا میں اس حد تک کھو گیاکہ اس نے طغیانی و سرکشی کا راستہ اختیار کیا اور ناکامی کے راستے پر چل نکلا جبکہ دوسرا گروہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ملاقات پر یقین رکھنے کی وجہ سے اپنی خواہشات کو دبا کر اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النازعات کی آیات: 37 تا 41 میں اس حقیقت کو یوں بیان فرماتے ہیں ''تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہو گی)۔ اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہو گی)۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ہاں! جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہو گا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہو گا۔ تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے‘‘۔ بہت سے لوگ دنیا کے کرّوفر‘ ہیبت وحشمت اور اس کے مال واسباب کو جمع کر لینے کو حقیقی کامیابی تصور کرتے ہیں اور دنیا میں اس حد تک منہمک ہو جاتے ہیں کہ آخرت کی فکر کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ درحقیقت اپنی منزل سے ہٹ جاتے ہیں۔ ان کے مدمقابل وہ لوگ جو دین ودنیا کے حوالے سے ایسا طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں کہ دنیا کو دارالعمل سمجھتے ہوئے اس میں اپنے معاشی امور کو انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنے اخروی امور کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں‘ ایسے لوگ دنیا میں بھی کامیاب وکامران ہو جاتے ہیں اور آخرت میں بھی سرخرو ٹھہرتے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس حقیقت کا ذکر سورۃ الکہف کی آیات: 103 تا 108 میں کچھ یوں فرمایا ''کہہ دیجئے کہ اگر (تم کہو تو) میں تمہیں بتا دوں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟ وہ (لوگ) ہیں کہ جن کی دنیوی زندگی کی تمام تر کوششیں بیکار ہو گئیں اور وہ اسی گمان میں رہے کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کی ملاقات سے کفر کیا‘ اس لیے ان کے اعمال غارت ہو گئے؛ پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔ (حال یہ ہے کہ) ان کا بدلہ جہنم ہے کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کو مذاق میں اڑایا۔ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی اچھے کیے یقینا ان کے لیے الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے۔ جہاں وہ ہمیشہ رہا کریں گے (اور) جس جگہ کو بدلنے کا کبھی ان کا ارادہ ہی نہ ہوگا‘‘۔
انسان کی یہ کس قدر بے بصیرتی ہے کہ وہ اپنے اعزہ واقارب‘ دوست احباب اور گرد ونواح میں بہت سے لوگوں کو مرتا ہوا دیکھتا ہے لیکن نجانے کیوں یہ گمان کرتا ہے کہ وہ موت کی پکڑ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ وہ حوادث‘ بیماریوں اور عوارض کو غیروں کے لیے تو تسلیم کرتا ہے لیکن نجانے اس کا اپنا دل اس حقیقت کو کیوں تسلیم نہیں کرتا کہ وہ بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے اَوامرکے تابع ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا فیصلہ اس پر بھی غالب آ کر رہے گا۔ انبیاء کرام علیہم السلام نے جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحیدِ خالص کی دعوت دی‘ وہیں انہوں نے آخرت کی فکر کو بھی بہت زیادہ اجاگر کیا۔ اس کے پس منظر میں جہاں دیگر بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں‘ وہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے اچھے اور برے اعمال کا حتمی نتیجہ قیامت کے روز برآمد ہو گا۔ انسان جو ہر موقع پر اپنے نفع ونقصان کو مقدم رکھتا ہے‘ اس کو اس حوالے سے اپنی فکر کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے کہ موت وحیات اور انسانوں کی آمدورفت کے سلسلے کو دیکھ کر عبرت حاصل کرے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہونے کیلئے ابھی سے تیاری کرے۔
انسان اگر آخرت کی کامیابی کی اصل بنیاد کو سمجھ لے تو دین اور دنیا میں توازن پیدا کر کے زندگی گزارنا اس کے لیے چنداں مشکل نہیں رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک بہترین دعا کا ذکر کیا جسے عمرے اور حج کے دوران رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان پڑھا جاتا ہے۔ اس بہترین دعا میں دنیا اور آخرت کی کامیابیوں اور بھلائیوں کا ذکر ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 201 میں ارشاد فرماتے ہیں ''اور بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذابِ جہنم سے نجات دے‘‘۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اپنی اخروی زندگی سنوارنے کے لیے ابھی سے تیاری کرنے کی توفیق دے‘ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved