تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     29-01-2026

12 فروری، بنگلہ بہار کا دن

دو ہفتوں کے بعد بنگلہ دیش اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ سے گزرے گا۔ سترہ کروڑ لوگوں میں لگ بھگ 13کروڑ ووٹر نئے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ووٹنگ سو فیصد تو کبھی نہیں ہوا کرتی لیکن توقع ہے کہ بڑی تعداد میں ووٹرز اپنا حق استعمال کریں گے۔ بنگلہ دیش میں 300 حلقوں کیلئے ووٹ پڑیں گے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ وہاں صرف قومی اسمبلی ہے‘ صوبائی اسمبلیوں کا وجود نہیں۔ اُس دن قومی اسمبلی کے ایوان اور ریفرنڈم دونوں کیلئے ووٹ پڑنے ہیں۔ 12 کروڑ 76 لاکھ ووٹرز میں پانچ کروڑ 56 لاکھ ووٹرز نوجوان ہیں یعنی جن کی عمر 37 سال سے کم ہے۔ یہ تعداد 43.5 فیصد بنتی ہے۔ ان میں بھی لگ بھگ ساڑھے تین کروڑ ووٹرز وہ ہیں جن کا تعلق جین زی سے ہے۔ تیس سال سے کم عمر نوجوانوں نے ہی وہ تحریک چلائی تھی جس کے نتیجے میں حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے اور یہ تعداد اس دن فیصلہ کن فتح یا شکست میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ 12 فروری کو قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ جو ریفرنڈم ہونا ہے وہ جولائی چارٹر کے بارے میں ہے اور دستوری اصلاحات کی بات کرتا ہے۔ یہ ریفرنڈم آئندہ ملکی سمت کیلئے بہت اہم ہو گا۔
تیسری دنیا کے ملکوں میں انتخابات کبھی آسان اور پُرسکون مرحلہ نہیں ہوتے۔ قتل‘ تصادم‘ ٹکراؤ‘ مار پیٹ ان انتخابات کا ایک لازمی حصہ ہوا کرتے ہیں۔ برصغیر ان معاملات میں دوسرے خطوں سے زیادہ پُر تشدد ہے اور بنگلہ دیش میں سیاسی شعور اور اہلِ بنگال کی بڑھی ہوئی جذباتیت برصغیر میں بھی سب سے آگے نظر آتی ہے؛ چنانچہ انتخابات کے دنوں میں مد و جزر معمول کی بات ہے۔ حال ہی میں بنگلہ دیش کے سفر میں مجھے بار بار مشورہ دیا گیا کہ میں بسوں یا ٹرینوں میں سفر کرنے سے گریز کروں اور یہ درست مشورہ تھا۔ اگرچہ بنگالی عوام کی غالب اکثریت پاکستان سے محبت کرتی ہے لیکن دیگر عناصر خاص طور پر کالعدم عوامی لیگ اور اس کی حامی جماعتوں کے لوگ بہرحال موجود ہیں‘ اور پاکستان کیلئے ان کی مخالفت ڈھکی چھپی نہیں۔ میں اس قیام میں ہر طبقے کے لوگوں سے ملتا رہا ہوں‘ خاص طور پر نئی نسل کے لوگوں اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات سے اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتا رہا ہوں کہ الیکشن کے نتائج کس جماعت کے حق میں نکلیں گے۔ یہ نسل جن میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات بھی تھے‘ برسر روزگار نوجوان بھی اور سائیکل رکشہ چلانے والے بھی۔ ان سے بات چیت کا خلاصہ یہی تھا کہ ان سب کو احساس ہے کہ یہ انتخابات کتنے اہم ہیں اور ان میں بھرپور شرکت کتنی ضروری ہے؛ چنانچہ وہ کسی بھی جماعت کو ووٹ ڈالیں‘ میرے خیال میں اس نسل کے لوگوں میں ووٹوں کی شرح بھرپور رہے گی۔ انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے‘ یہ صورتحال لمحہ لمحہ بدل رہی ہے۔ سرویز بھی تازہ ترین صورتحال مکمل بیان نہیں کرتے لیکن اندازے کیلئے پیش کیے جا سکتے ہیں۔ بنگلہ دیشی فورمز اور انسٹیٹیوٹس کے جنوری میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق بی این پی یعنی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی مقبولیت 34.7 فیصد تھی جبکہ جماعت اسلامی 33.6 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھی۔ یہ فرق بہت کم ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ بی این پی نے 10 جماعتوں اور جماعت اسلامی نے 11 جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا ہوا ہے۔ عوامی لیگ کے میدان میں نہ ہونے کے باعث اصل مقابلہ انہی دونوں اتحادوں کے بیچ ہے۔ انہی دو جماعتوں کو حسینہ واجد نے اپنے اقتدار کے زمانوں میں مسلسل دبائے رکھا تھا۔ جماعت اسلامی پر تو بہت مدت تک پابندی رہی۔ سچ یہ ہے کہ جتنی قربانیاں جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش میں دی ہیں‘ وہ بی این پی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ ایک صاحبِ نظر بنگالی دوست نے میرے سوال پوچھنے پر کہا کہ اقتدار اسی کو ملنا چاہیے جس نے زیادہ خون دیا ہو۔ اور خون زیادہ اسلامی جماعتوں خاص طور پر جماعت اسلامی نے دیا ہے۔ حال ہی میں یونیورسٹیوں کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے طلبہ گروپ نے بڑی تعداد میں ڈھاکہ یونیورسٹی‘ جگن ناتھ یونیورسٹی‘ راجشاہی یونیورسٹی اور چٹاگانگ یونیورسٹی سمیت کئی اداروں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ میں سات جنوری کو پرانے ڈھاکہ میں جگن ناتھ یونیورسٹی کے سامنے کھڑا تھا۔ مغرب کا وقت تھا اور یونیورسٹی کے اندر اور باہر لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے تھے جو اُس دن انتخابی نتائج سننے کیلئے بیتاب تھے۔ نتائج کا اعلان ہوا اور جگن ناتھ یونیورسٹی میں آئی سی ایس یعنی اسلامی چھترا شبر کے مکمل پینل نے کامیابی حاصل کی۔ یہ نوجوان نسل کی سوچ کا رخ بھی بتاتا ہے اور اس کا اثر یقینا ملکی انتخابات پر بھی پڑے گا۔
شجو (شاید شجاع الدین) اُترا ڈھاکہ کے اس ہوٹل میں ریسٹورنٹ منیجر تھا جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا۔ عمر پچیس‘ چھبیس سال۔ میری اس سے انتخابی نتائج پر گفتگو ہوتی رہی۔ وہ جماعت کا بھرپور حامی ہے اور اس کا خیال تھا کہ جماعت کا انتخابی اتحاد اگلی حکومت سنبھالے گا۔ اس کے بہت سے ہم خیال نوجوان بھی یہی امید کرتے ہیں۔ کسی بھی جماعت کے حامی اس کیلئے پُرجوش ہوا کرتے ہیں لیکن یہ صرف جوش ہی نہیں تھا‘ اس کے پیچھے حقائق بھی ہیں۔ وہ حقائق جنہیں نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ دائیں بازو کے جن لوگوں سے میری گفتگو ہوتی رہی ان کے خیال میں یہ ان جماعتوں کیلئے ملک اور نظام بدلنے کا ایک سنہری موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ یہی تاثر دیگر نوجوانوں کا تھا۔ قوم پرست عناصر اگرچہ جولائی 25ء کی تحریک میں دب گئے لیکن وہ معاشرے میں موجود ہیں‘ اور خیال یہی ہے کہ بی این پی کو ان تمام لوگوں کے ووٹ پڑیں گے جو یا عوامی لیگ کے حامی ہیں یا بائیں بازو سے ہم خیال ہیں۔ اس لیے مقابلہ بہت سخت ہو گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی جماعت اقتدار میں آئے‘ اسے کام کرنا پڑے گا اور فرسودہ اور گلے سڑے نظام کی تبدیلی کے بغیر عوام راضی نہیں ہوں گے۔ ورنہ اگلی حکومت کو بھی ایک بڑی تحریک کا سامنا ہو سکتا ہے۔
میرے خیال میں انتخابات میں چند نکات بہت اہم ہوں گے اور نتائج کا انحصار بھی انہی پر ہو گا۔ اول تو غیرملکی قوتوں (خصوصاً بھارت) کی ترجیح کیا ہو گی اور وہ اس کیلئے کیا کوششیں کریں گی۔ بظاہر یہ قوتیں اسلامی ذہن کے لوگوں کو برسر اقتدار نہیں دیکھنا چاہیں گی۔ دوم یہ کہ بنگلہ دیش کی اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار ہو گا؟ کیا اسے ووٹرز کے نتائج قبول ہوں گے یا اسے اپنی مرضی کے نتائج چاہئیں۔ البتہ ایک بھرپور عوامی لہر کے ہوتے ہوئے نتائج کی تبدیلی اتنی آسان نہیں ہوگی۔ تیسرا بڑا عنصر ان بیس لاکھ سرکاری ملازمین کا ہے جنہیں عوامی لیگ نے چن چن کر اپنے زمانوں میں ملازمتوں پر لگایا تھا اور بہت سی اہم پوسٹیں اب بھی ان کے پاس ہیں۔ اتنی بڑی تعداد کو یکدم بدل دینا ممکن نہیں‘ اس لیے سرکاری عملہ اب بھی وہی ہے۔یہ افراد من پسند نتائج کیلئے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب غیرسیاسی میدان کی طاقتیں ہیں۔ سیاسی میدان میں جس جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ‘ دیہات اور شہروں میں اس کے کارکنوں کا کا فعال کردار‘ 12 فروری کو ووٹرز کو گھروں سے نکال کر پولنگ تک لانے کی طاقت اور انتظام بہتر ہو گا‘ وہ برتر رہے گی۔ ان معاملات میں بھی جماعت اسلامی اور اتحادی جماعتیں برتری رکھتی ہیں۔ لیکن اسلامی اندولن پارٹی بنگلہ دیش جو پہلے ان 11 جماعتوں میں شامل تھی جو جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد میں ہیں‘ اور بعد میں اختلاف کی بنا پر الگ ہو چکی‘ کئی حلقوں میں جماعت کے ووٹ تقسیم کر سکتی ہے۔ ایک امکان سوچتے ہوئے ڈر لگتا ہے لیکن اگردونوں میں سے کسی بڑے اتحاد نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کردیا تو ملک ایک نئے تصادم اور خونریزی کی راہ پر جا سکتا ہے۔ خدا نہ کرے ایسا ہو! لیکن میرا خیال ہے کہ 12 فروری بنگلہ دیش کیلئے ایک خوش آئند‘ مستقبل گیر اور روشن راستے کا دن ثابت ہو گا۔یہ بنگلہ بہار کا دن ہوگا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved