تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     30-01-2026

’’ٹلی صاحب‘‘

سر ولیم مارک ٹلی پورا نام تھا مگر ہمارے برصغیر کے تمام ممالک میں انہیں کچھ لوگ ٹلی اور کچھ احترام اور محبت سے 'ٹلی صاحب‘ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ یہ بھی ان شخصیات میں سے ایک تھے جن کی ہمارے دل میں بہت قدر ہے کہ اپنی محنت‘ پیشے سے گہری وابستگی‘ یکسوئی‘ لگن اور اَن تھک استقلال سے دنیا کی نگاہوں میں قدر اور بڑا مقام پایا۔ گزشتہ ہفتے دہلی میں 90 سال کی عمر میں وہ چل بسے۔ ہماری ان کے نام اور کام سے شناسائی نصف صدی کے لگ بھگ رہی‘ شاید اس سے بھی زیادہ۔ پاکستان میں ٹلی صاحب نے 1977ء کی قومی اتحاد کی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریک میں اتنی شہرت حاصل کی کہ دیہات میں بھی عام لوگ‘ کورے اَن پڑھ قومی ریڈیو کی نشریات پر کوئی دھیان یا اعتبار نہیں کرتے تھے اور ہر شام بی بی سی اردو ہندی سروس سے ان کی طرف سے داخلی حالات کے بارے میں خبروں کو سننے کے لیے بے قرار رہتے تھے۔ ملک بھر میں ہنگامی صورتحال‘ جو 1971ء کی جنگ کے بعد چلی آرہی تھی‘ وہ عوامی دور میں بھی اسی طرح قائم رہی۔ اس کا مطلب تو آپ اپنی تاریخ کے حوالے سے سمجھ گئے ہوں گے کہ بنیادی حقوق جو آئین میں درج ہیں انہیں قومی مفاد کے ناقابلِ فہم تشریح کے تقاضوں کے تحت حکومت ادھر ادھر کر سکتی ہے۔ عوامی دور میں بھی کوئی پریس کی آزادیاں نہیں تھیں‘ اگر تھیں تو صرف سرکاری اخباروں کی حد تک۔ حزبِ اختلاف کی حمایت میں لکھنے‘ بولنے کی تو کسی میں ہمت نہ تھی۔ اس تحریک کے دوران جن صحافیوں‘ اخباروں اور رسالوں نے لکھنے کی جرأت کی تو انہیں بند کر دیا گیا اور ان کے خلاف مقدمات بنا کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس تحریک اور اس سے قبل 1977ء کے انتخابات کو اس درویش نے قریب سے دیکھا تھا۔ ویسے تو ہر چھوٹے بڑے شہر میں لوگ روزانہ کی بنیاد پر نکلتے تھے‘ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مسلح پولیس اور بدنام زمانہ فیڈرل سکیورٹی فورس کے دستے ان پر حملہ کریں گے مگر کراچی‘ لاہور اور تب لائل پور اس کے مراکز میں سے تھے۔ ہم لاہور میں جامعہ پنجاب میں درس و تدریس کر رہے تھے اور شام تک ویسے تو خبریں سینہ بہ سینہ ہر گھر تقریباً پہنچ جاتی تھیں لیکن عام لوگوں کو ٹلی صاحب کی خبر کا انتظار رہتا تھا۔ حکومت کے خاتمے کے بعد کئی سال تک جب کبھی دیہات میں جانا ہوا تو لوگ ٹلی صاحب کی خبروں کے انتظار میں رہتے تھے۔ بھٹو صاحب کی حکومت نے مارک ٹلی اور بی بی سی پر تنقید تو کی مگر انہیں ملک سے نکالا نہیں تھا۔ اس کے برعکس جب محترمہ اندرا گاندھی نے 1975ء میں بھارت میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا اور ٹلی صاحب نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں غیر جانبداری سے نبھائیں تو انہیں 24 گھنٹے کے نوٹس پر ملک بدرکر دیا گیا تھا۔ 18 ماہ کے بعد جب وہاں انتخابات ہوئے‘ مسز گاندھی کی کانگریس پارٹی شکست سے دوچار ہوئی تو ٹلی صاحب اپنی اخباری ٹلی کھڑکاتے واپس آ دھمکے۔ میری نظر میں ہمارے خطے میں صحافیوں کو سخت جان ہونے کے ساتھ ساتھ کئی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ نہ معاشرہ جمہوری اور رواداری کی قدروں کی پاسداری کرتا ہے اور نہ حکومتوں کا مزاج‘ جو بھی وہ اپنی پہچان بنائیں اور اپنی حمایت میں بیانیہ ترتیب دیں‘ جمہوری روایت کے مطابق ہوتا ہے۔ ٹلی صاحب نے بہت ہی مشکل حالات میں جنوبی ایشیا کی جنگوں‘ اندرونی کشمکش‘ فرقہ ورانہ فسادات‘ بدامنی اور حکومت مخالف تحریکوں اور مسلح گروہوں کی کارروائیوں کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچایا۔ کئی مرتبہ وہ خود بھی تشدد کا شکار ہوئے۔ بھٹو صاحب کو ضیا الحق کی طرف سے گرفتاری کے بعد ضمانت ملی اور وہ ایک بہت بڑے جلوس کے ساتھ لاہور ایئر پورٹ سے آ رہے تھے تو راستے میں جہاں جیالوں نے شاہ احمد نورانی صاحب کی دستار مبارک کی بے حرمتی کی وہاں ٹلی صاحب کی کچھ مرمت بھی کی۔ بھارت میں بھی کئی مرتبہ متشدد گروہوں اور سیاسی کارکنوں کے ہاتھوں تکالیف اٹھائیں مگر ثابت قدم رہے۔ نہ ملک چھوڑا اور نہ ہی کھری کھری خبریں دینے میں کوئی کمی کی۔
اگر تمام خطے کے ممالک میں بنگلہ دیش سے لے کر پاکستان اور بھارت اور سری لنکا میں لوگوں سے یہ سوال کیا جائے کہ آپ ریڈیو کے کسی صحافی کا نام بتائیں تو یقینا ان کی زبان پر ٹلی صاحب کا نام آئے گا۔ ہو سکتا ہے کہ ہماری نئی نسلیں ان سے واقفیت نہ رکھتی ہوں مگر ہماری نسل کے لوگوں کے ذہنوں میں ٹلی صاحب کی مہر آخری وقت تک ثبت رہے گی۔ ان پر عوامی اعتبار کی یہ کیفیت تھی کہ جب تک بی بی سی پر خبر نہ آتی‘ لوگ کسی اور ذرائع پر یقین نہیں کرتے تھے۔ آنجہانی راجیو گاندھی صاحب کو جب بتایا گیا کہ ان کی والدہ وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے محافظوں نے قتل کر دیا ہے تو کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بی بی سی لگا کر اس کی تصدیق کی‘ کہ ریڈیو ساتھ ہی کہیں پڑا ہوا تھا۔ ساٹھ سال تک وہ بھارت میں مقیم رہے اور پورے خطے میں سیاستدانوں‘ صحافیوں‘ دانشوروں اور سماجی تحریکوں کے رہنماؤں سے ان کی رفاقت اور دوستی رہی۔ اکثر لوگ ان کی شکل سے نہیں بلکہ نام سے پہچانتے تھے کہ ان کا میڈیا ریڈیو تھا۔ کئی مرتبہ جب بھی کوئی گورا بھارت کے کسی دور دراز علاقے میں رپورٹنگ کیلئے گیا تو جو بھی اس کا نام ہو‘ لوگ اسے ٹلی صاحب ہی کہتے‘ جس سے وہ کافی بدمزہ بھی ہوتا۔ مگر ٹلی صاحب کا احترام بھی ان کے دلوں میں مزید گہرا ہو جاتا۔
مارک ٹلی کی زندگی کا سفر بھی عجیب تھا۔ 1935ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے والد ریلوے کے ملازم اور تاجر تھے۔ بچپن ان کا وہاں گزرا اور پھر وہ نو سال کی عمر میں تعلیم کیلئے برطانیہ گئے۔ سکول کے بعد انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں مسیحیت کے دینی علوم میں داخلہ لیا اور ارادہ رہبانیت کا تھا مگر وہاں دل نہ لگا۔ فوراً ہندوستان کی راہ لی اور بی بی سی میں ایک معاون کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک نامور صحافی بن گئے۔ شاید ہی کوئی غیرملکی صحافی ایسا مقام حاصل کر سکا ہو جو ٹلی صاحب نے بھارت میں حاصل کیا۔ وہ ہندی خوب جانتے تھے کہ بچپن سے لگاؤ تھا اور اس خطے کی تاریخ‘ ثقافت اور سیاست اور مذاہب پر مکمل عبور تھا۔ وہ خود ایک چلتی پھرتی تاریخ تھے۔ انہوں نے ایسے ہی موضوعات پر 10 کتابیں لکھی ہیں جو تاریخ اور سیاست کے طالب علموں کیلئے ہمارے خطے کی سماجیات اور انسانی معاشروں کی نفسیات کو سمجھنے کیلئے ضروری ہیں۔ ٹلی صاحب نے آزادی اور آزاد فکر کا پوری زندگی دفاع کیا اور اسی بنیاد پر انہوں نے بی بی سی کو ادارے کے سربراہ کی طرف سے آمرانہ رویے کی بنیاد پر 1994ء میں خیرباد کہہ دیا تھا۔ وہ برطانیہ اور دنیا کے کئی نشریاتی اداروں کیلئے کام کر تے رہے۔ ہندوستان ان کے اندر‘ اور وہ ہندوستان میں جذب ہو چکے تھے۔ یہاں تک کہ اپنے بیوی بچوں کو بھی برطانیہ میں چھوڑ دیا۔ تعلق رکھا‘ توڑا نہیں تھا مگر وہ رہے اپنے اپنائے ہوئے ملک میں۔ اس خطے کی تاریخ میں جب بھی صحافت‘ خصوصی طور پہ ریڈیو اور نشریاتی صحافت کے بارے میں لکھا جائے گا تو ٹلی صاحب اس تاریخ میں ایک نمایاں نام رہیں گے۔ ایسے لوگ اس مقام تک پہنچنے کیلئے جب اپنی ذمہ داریوں کو اپنی آزادانہ سوچ کے مطابق پورا کرتے ہیں تو سب لوگ ان سے خوش نہیں ہوتے۔ صحافیوں کے خلاف سیاسی رہنماؤں اور ان کے غلام گردشوں کی طرف سے جانبداری کا الزام لگانا عام سی بات ہے۔ ٹلی صاحب کو بھی ہر دور میں ایسی ہی تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کی انہوں نے کبھی پروا نہ کی۔ اور اچھی صحافت میں یہ روایت ہمیشہ رہی ہے۔ انہیں جو عزت احترام اور وقار ملا‘ بہت کم لوگوں کے نصیب میں آتا ہے۔ بھارت نے انہیں اعلیٰ ترین ایوارڈ پدما بھوشن اور شری بھوشن دیے اور برطانیہ نے سر کا خطاب دیا۔ ہمارے لیے وہ ٹلی صاحب رہیں گے۔ یہ بے تکلفی بھی محبت کی علامت ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved