یوں تو ہمارے نظام کی تیر ہ بختی کی وجہ سے بیماریاں دندناتی اور لوگوں کو روندتی پھرتی ہیں۔ ہیلتھ پالیسی‘ سوشل ویلفیئر پالیسی کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں۔ قومی میزانیے میں سب سے کم ترجیح محکمۂ صحت کو ملتی ہے۔ اس لیے صحت کے شعبے کے لیے قومی بجٹ کا دو فیصد بھی مختص نہیں کیا جاتا۔ فرض کریں اگر 25 کروڑ لوگوں کی صحت کے لیے دو فیصدمختص ہو بھی جائے تو اس کو بھی تین حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
صحت کے بجٹ کا بڑا حصہ وزیرِ صحت اور سیکرٹری صحت سے شروع کر کے وزارتِ صحت‘ اس کے ذیلی اداروں اور توند برداروں کی تنخواہوں‘ پروٹوکول‘ الاؤنسز اور عیاشیوں پر خر چ ہو جاتا ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جو خزانے میں اگلے بجٹ کے لیے واپس ڈال دیا جاتا ہے کیونکہ وہ شعبۂ صحت کا بلیک ہول کہلاتا ہے۔ یعنی Lack of spending capacity۔ ویسے فرینکلی بات کریں تو یہ المیہ کسی ایک وزارت کا نہیں ہے بلکہ ہر سال مئی کے مہینے کے وسط میں کافی تعداد میں وزارتیں اور ان کے ذیلی ادارے ایسا طے شدہ بجٹ جو پورے مالی سال میں خرچ نہ ہو سکے‘ اسے Re-appropriationکے نام پر وزارتِ خزانہ کو واپس کر دیتے ہیں۔ میرے لیے یہ بات سنی سنائی نہیں بلکہ وفاقی وزارتِ پارلیمانی امور کی تین دفعہ سربراہی کے دوران یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ تیسرے درجے پر صحتِ عامہ کے لیے منظور کی گئی رقم کو کبھی سیلاب کے نام پر‘ کبھی کسی سکیورٹی ایشو پر اور کبھی مال بنانے والے بڑے تعمیراتی پراجیکٹس پر خر چ کر دیا جاتا ہے۔ یہ تو تھا حال بڑی جیل میں قید 25 کروڑ لوگوں کے لیے صحت کی سہولتوں کا۔ اڈیالہ ہو یا گوجرانوالہ سینٹرل جیل‘ ملتان کی جیل ہو یا مکران کا بندی خانہ۔ ان کے اندر ہسپتالوں کا کیا حال ہے یہ آپ فوجداری ٹرائل کرنے والے کسی جج یا وکیل سے پوچھ لیں۔
ان زمینی حقائق کی روشنی میں یہ روٹین کی بات ہے کہ صاحبِ استطاعت قیدی اور حوالاتی اپنی مرضی کے نجی ہسپتالوں سے علاج کروانے کی سہولت رکھتے ہیں جبکہ ہائی پروفائل قیدی اپنے ذاتی ڈاکٹروں اور ان کی مرضی کے ہسپتالوں میں جاکر علاج کرواتے آئے ہیں۔ جسے یقین نہ آئے وہ میاں نواز شریف کی وی آئی پی قید کے دوران جیل خانے کے باہر کھڑی ایمبولینس کی تصویر دیکھ لے۔ یا پھر ہسپتالوں میں پلیٹ لیٹس کے علاج والی تصویروں اور وڈیوز سے دل بہلا لے۔
عمران خان نے909 دن سخت ترین موسموںمیں بنیادی سہولتوں کے بغیر قید تنہائی میں گزارے ہیں۔ پچھلے کچھ دن سے قیدی نمبر 804 کی صحت کے حوالے سے شہرِ اقتدار کے انویسٹی گیٹو صحافیوں میں کھسر پھسر شروع تھی۔ اسی حوالے سے دو میڈیا ہاؤسز کے نام دار رپورٹرز میرے پاس بھی آئے جن میں سے ایک کا دعویٰ تھا کہ عمران خان کو آنکھ کی بیماری میں ایمرجنسی علاج کی ضرورت ہے۔ اسی دوران ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر نے یہ خبر بریک کی کہ عمران خان کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آدھی رات کو لایا گیا تھا۔ اس خبر کی تردید کرنے میں وزیروں نے اپنے اپنے خیالات کے خچر دوڑا دیے۔ اس بے ہنگم دوڑ کے دھول دھپے میں سے چار نکاتی بیانیہ سامنے آیا۔ یہ بیانیہ وفاق اور پنجاب کی فارم 47 کابینہ کے وزیروں کی ٹی وی اور میڈیا ٹاک پر مشتمل ہے۔
عمران خان کی بیماری پر پہلا سرکاری بیانیہ: کابینہ ارکان کی ایک ٹولی نے منہ پکا کر کے یہ جھوٹ ان لفظوں میں بولا کہ قیدی نمبر 804سو فیصد صحت مند ہیں‘ ان کی بیماری یا تکلیف کا پروپیگنڈا 8 فروری سے پہلے کارکنوں کو مشتعل کر کے سڑکوں پر لانے کی سازش ہے‘ عمران خان کو کوئی بیماری ہی نہیں ہے اس لیے انہیں پمز یا کسی دوسرے ہسپتال لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
عمران خان کی بیماری پر دوسرا سرکار ی بیانیہ: کابینہ کی ایک دوسری ٹولی نے ٹی وی سکرینوں پریہ منترا چلایا کہ اڈیالہ جیل کے اندر ایک سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال موجود ہے جس میں ہر بیماری کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ اگر کبھی عمران خان علیل ہوئے اور ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو ہم فوراً انہیں جیل ہسپتال میں لے جائیں گے۔ فی الحال انہیں کسی ہسپتال کی ضرورت درپیش نہیں۔
عمران خان کی بیماری پر تیسرا سرکاری بیانیہ: یہ بیانیہ بڑے شدو مد سے پیش کرنے والے کیبنٹ ممبر نے میڈیا کے سامنے اعترافی بیان دے کر سب کو حیران کر دیا۔ سرکاری ترجمان کے اس بیان سے ثابت ہوا کہ حکومت عمران خان کی بیماری کو جان بوجھ کر چھپا رہی تھی۔ اعترافی بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کو پمز ہسپتال آنکھوں کے مسئلے کے حوالے سے لے جایا گیا۔ باقی زبانی جمع خرچ اور عمران خان کی بدترین مخالفت کے علاوہ‘ ان کا علاج کرنے والے نہ تو کسی ڈاکٹر کا نام سامنے آیا‘ نہ ہی اتنے بڑے سرکاری ہسپتال نے اتنے بڑے لیڈر کے حوالے سے اپنا آفیشل مؤقف قوم کے سامنے رکھا۔
یہیں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ عمران خان کو پمز لانے کے سرکاری اعتراف نے ثابت کیا کہ انگریزی اخبار کے رپورٹر کی سٹوری درست تھی۔ اس سٹوری میں دو خوفناک باتیں سامنے آئیں۔ پہلی یہ کہ مذکورہ اخباری رپورٹ کے مطابق عمران خان صاحب کی پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں کے ایک بورڈ نے باقاعدہ سرجری کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرجری کے وقت ان کے اہلِ خانہ‘ ان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان یا اہلیہ بشریٰ عمران کو وہاں کیوں نہیں بلایا گیا۔ انگریزی اخبار کی خبر کی رو سے عمران خان کی بیماری کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ انہیں مکمل بے ہوش کرنے کی دوا (Anesthesia) دے کر ان کی سرجری کی گئی۔ مریضوں کی تاریخ میں شاید پہلا موقع ہے کہ عمران خان جیسی عالمی شہرت یافتہ شخصیت اور پاپولر لیڈر کے کسی رشتہ دارکو نہ ہسپتال لے جانے کے بارے میں اطلاع دی گئی اور نہ ہی سرجری کے پروسیجر کی۔
اس فریب دہی نے کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ عمران خان کی فیملی اور پی ٹی آئی ان شکوک و شبہات کا بجا طور پر حق رکھتے ہیں کہ آئسولیشن میں بغیر کسی ہمدرد کی موجودگی کے ان کی سلامتی کو کسی سازش کا شکار تو نہیں بنایا گیا۔ یہ خدشہ اس لیے بجا ہے کہ وفاقی وزرا اور (ن) لیگ کے کئی عہدیداران خان صاحب سے متعلق بے شمار سخت بیان آن کیمرہ دے چکے ہیں۔ ساتھ ہی اپنی زندگی کو درپیش اس قسم کے خدشات کا اظہار عمران خان خود بھی کھل کر کر تے آئے ہیں۔
عوام کے عدم اعتماد کا شکار ہاری ہوئی ٹولیاں نمائندہ کہلا سکتی ہیں نہ حکومت۔ قوم اس بھان متی بندوبست سے سوال کرتی ہے کہ عمران خان کی بیماری کیوں چھپائی؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved