تحریر : کنور دلشاد تاریخ اشاعت     30-01-2026

طاقت کا کھیل

دنیا کے بیشتر ممالک عالمی سطح پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کیلئے بظاہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اشیرباد کے محتاج دکھائی دیتے ہیں۔ یہ عمل وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے‘ لیکن طویل مدتی اہمیت اور عالمی مقام صرف قابلیت‘ مضبوط اداروں‘ جدت‘ مؤثر سفارت کاری اور وسیع بین الاقوامی نیٹ ورک ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ڈیووس میں بورڈ آف پیس کے معاہدے پر دستخط کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف جس انداز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سرگوشیوں میں مصروف دکھائی دیے‘ عالمی میڈیا میں اس منظر پر مختلف زاویوں سے رپورٹنگ کی گئی‘ کہیں اسے شہباز شریف کی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا تو کہیں اسے خوشامدانہ رویہ کہا گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن بورڈ کے حوالے سے دیگر ممالک کے تحفظات اور خدشات سے بخوبی آگاہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں جو مناظر دیکھنے میں آئے‘ وہ اس امن بورڈ کے ابتدائی طور پر پیش کیے گئے تصور سے خاصے مختلف تھے۔ اقوامِ متحدہ نے جس امن منصوبے کی اصولی توثیق کی تھی‘ اس میں غزہ کے امن انتظامات کی نگرانی کے لیے ایک بین الاقوامی بورڈ تشکیل دینے کی بات شامل تھی‘ تاہم بعد ازاں اس بورڈ کے حوالے سے سامنے آنے والی تجاویز اور مسودات میں کہیں غزہ کا واضح ذکر شامل نہیں دکھائی دیتا‘ جو اس منصوبے کی ساکھ پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ایک جانب صدر ٹرمپ خود کو امن‘ قانون اور عالمی نظم و ضبط کا علمبردار ظاہر کرتے ہیں‘ مگر دوسری جانب ان کی عملی پالیسیاں کھلی دھونس‘ معاشی دباؤ اور طاقت کے استعمال پر مبنی نظر آتی ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک کو معاشی پابندیوں‘ قرضوں کی شرائط اور بھاری ٹیرف کی دھمکیوں کے ذریعے ایسے معاہدات پر مجبور کیا جا رہا ہے جو درحقیقت ان کی خودمختاری اور معاشی آزادی کو محدود کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ نام نہاد غزہ پیس بورڈ اور یکطرفہ عالمی معاہدے دراصل امن کے بجائے جدید دور کی معاشی غلامی کی ایک نئی صورت ہیں۔ زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ معاملہ محض معاہدات تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف ممالک کے قدرتی وسائل‘ خصوصاً تیل‘ گیس اور معدنی ذخائر پر براہِ راست یا بالواسطہ کنٹرول کی کوششیں بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہیں۔
اسی تناظر میں تیسری دنیا کے ممالک کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی ایسی ہی عالمی منصوبہ بندی کا شکار ہوئے۔ بھٹو صاحب کا خواب تھا کہ تیسری دنیا کے ممالک ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور وہ ان ممالک کے لیے قائدانہ کردار ادا کریں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے تیسری دنیا کے ممالک کی ایک گرینڈ کانفرنس منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا‘ جس میں ساٹھ سے زائد ممالک کے سربراہان کی شرکت متوقع تھی۔ یہ کانفرنس مارچ 1977ء میں اسلام آباد میں منعقد ہونا تھی‘ جس کے لیے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سربراہی میں ایک خصوصی سیکرٹریٹ قائم کیا اور مختلف وزارتوں سے قابل ترین بیورو کریٹس کو اس میں شامل کیا گیا۔ مجھے یہ اعزاز حاصل رہا کہ میں اس تھرڈ ورلڈ کانفرنس سیکرٹریٹ کا ڈپٹی سیکرٹری جنرل تھا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ذاتی دلچسپی اور براہِ راست سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ساٹھ ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومت نے اس کانفرنس میں شرکت پر اصولی آمادگی ظاہر کر دی تھی‘ مگر اچانک حالات نے رخ موڑ لیا۔ سات جنوری 1977ء کو بھٹو صاحب نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں اور سات مارچ 1977ء کو انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا گیا۔ یوں یہ کانفرنس مؤخر کر دی گئی اور اس کا سیکرٹریٹ بھی تحلیل کر دیا گیا۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو کانفرنس مؤخر نہ کرتے اور 1973ء کے آئین کے مطابق عام انتخابات اپنے وقت پر ہوتے تو یہ الیکشن اکتوبر 1978ء میں ہوتے‘ لیکن کابینہ کے بعض بااثر ارکان‘ اعلیٰ عسکری عہدیداران اور سیاسی مشیروں کے دباؤ کے تحت قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ کیا گیا‘ جسے ناقدین امریکی مفادات سے ہم آہنگ قرار دیتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس دور میں بعض شخصیات کے امریکی اداروں سے روابط پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
اسی پس منظر میں آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کے بارے میں دیے گئے بیانات کو دیکھا جائے تو صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔ جہاں تک بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت جیسے اہم فیصلے کی بات ہے تو وزیراعظم کو اس فیصلے سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ اگرچہ دفتر خارجہ اور مقتدر حلقوں کی جانب سے پہلے ہی واضح کیا جا چکا ہے کہ افواجِ پاکستان حماس کے خلاف کسی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گی۔ افواجِ پاکستان فلسطین یا کسی بھی مسلمان ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوں گی۔ افواج سے متعلق کیے جانے والے سبھی فیصلے ہمیشہ قومی مفاد کے تابع ہوتے ہیں۔ حکومت کا یہ مؤقف کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ دیگر مسلم ممالک کی مشاورت سے کیا گیا ہے‘ تاہم پاک فوج نہ حماس کو غیرمسلح کرے گی اور نہ ہی فلسطین سمیت کسی مسلمان ملک کے خلاف کسی کارروائی کا حصہ بنے گی‘ درحقیقت پاکستانی عوام کے جذبات اور قومی سوچ کی درست ترجمانی کرتا ہے۔ بعض حکومتی وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا‘ لیکن دفتر خارجہ کے واضح مؤقف سے یہ خطرہ زائل ہو گیا ہے۔ تاہم پاکستانی عوام کو ابھی تک غزہ امن منصوبے کے پسِ پردہ محرکات اور عالمی مفادات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب قومی اسمبلی اور سینیٹ کی جانب سے ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ رکھنے سے متعلق بل کی منظوری‘ جو پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے پیش کیا تھا‘ اس امر کا واضح پیغام ہے کہ حکومت کی جانب سے شفافیت کا نظام صرف عوام کے لیے مختص رکھا گیا ہے۔ عوام کا تو بلاامتیاز احتساب کیا جاتا ہے ‘ مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد اپنے اثاثوں کو ریاستی راز قرار دے سکتے ہیں۔ یہ قانون محض ایک ترمیم نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے تابوت میں آخری کیل کے مترادف ہے۔ احتساب کا دروازہ بند کر کے حکمران طبقے نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ عوام کا کردار صرف ووٹ ڈالنے تک محدود ہے‘ سوال اٹھانا ان کا حق نہیں رہا۔ اگر سینیٹ سے منظوری کے بعد صدرِ مملکت نے اس بل کی منظوری دے دی تو اراکین اسمبلی کی ناجائز آمدنی‘ کرپشن اور منی لانڈرنگ پر سوال اٹھانا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ اسی لیے قانونی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ یہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 19-A سے متصادم ہے اور ممکن ہے وکلا اور سماجی حلقے اسے آئینی عدالت میں چیلنج کر دیں۔
اُدھر اسلام آباد میں چالیس ہزار کے قریب درختوں کی بے رحمانہ کٹائی پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی اور اس کی چیئرپرسن شیری رحمن کا غیر مؤثر رویہ دارالحکومت کے عوام کے لیے مایوس کن رہا۔ توقع تھی کہ وہ شہری انتظامیہ کے چیئرمین کے خلاف تادیبی کارروائی کریں گی‘ مگر سینیٹ کمیٹی کا اجلاس محض رسمی کارروائیوں تک محدود رہا‘ جس سے پارلیمانی نگرانی کے نظام پر عوامی اعتماد مزید کمزور پڑ گیا۔ اسلام آباد میں درختوں کے اس قتلِ عام نے ازمنہ قدیم کی اس روایت کی یاد تازہ کر دی جس میں اقتدار کے تحفظ کے لیے زندگیوں کو روند دیا جاتا تھا۔ جس شہر یا ریاست سے درخت ختم کر دیے جائیں وہاں دیرپا خوشحالی برقرار نہیں رہ سکتی۔ اولیائے کرام کی زندگیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ درخت لگانا اور ان کی حفاظت کرنا محض ماحولیات نہیں بلکہ بقائے انسانی کا اصول ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved