تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     30-01-2026

جمہوریت، سالمیت اور تجارت

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضور نبی کریمﷺ کی امت کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ تم سے پہلے (حکمرانی کے کئی) نظام گزر چکے۔ اور پھر فرمایا ''یہ دن ہیں جنہیں ہم انسانوں کے درمیان اوپر نیچے کرتے رہتے ہیں‘‘ (آلِ عمران: 140)۔ مسلمانوں نے اپنے وقت کی دو سپر پاورز کو شکستِ فاش دی تھی۔ یہ روم اور فارس کی طاقتیں تھیں۔ ایمان کی برکت اور جدید حربی مہارتوں سے مسلمان دنیا کی واحد سپر پاور بن گئے۔ مغربی اقوام نے انہی سے سبق پڑھ کر اپنے آپ کو بدلا۔ سائنس میں ترقی کی‘ مسلمانوں میں فکری آزادی کا جو ماحول تھا اسے اپنایا۔ اسی طرح مسلمانوں میں جمہوری رویے اگر 20 فیصد تھے تو مغربی دنیا نے نوے فیصد تک جمہوری رویوں کو اپناتے ہوئے جمہوری نظام بنا ڈالا۔ جنگی ٹیکنالوجی میں بھی وہ ٹاپ پر آ گئے؛ چنانچہ مسلمانوں کی حکومتیں ان کے ہاتھوں گرنے لگ گئیں۔ سپین کے سقوط کے بعد عثمانی سلطنت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ ہمارے برصغیر میں مغل سلطنت سے اقتدار چھن گیا۔ دیگر علاقائی حکمران باجگزار بن کر رہ گئے۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے برصغیر کے مسلمانوں کو دو عظیم لیڈر عطا فرمائے۔ دونوں ہی ایمان میں مضبوطی کے اعتبار سے ہمالیہ کے پہاڑ تھے اور جمہوری جہان میں سکون سے بہتے ہوئے میٹھے پانیوں کے دریا تھے۔ یہ دو لیڈر حضرت علامہ اقبالؒ اور حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ تھے۔ برصغیر میں مسلم سیاستدان بھی کم نہ تھے۔ اسی طرح دینی رہنمائوں کی بھی کوئی کمی نہ تھی مگر مذہبی اور سیاسی اعتبار سے برصغیر کی امت مسلمہ کو جوڑنے کے لیے جو لیڈر کوالیفائی کرتے تھے برصغیر کی زمینی حقیقت کے عین مطابق‘ وہ علامہ اقبال اور قائداعظم تھے۔
برطانیہ سمیت یورپ کے کئی ممالک میں آج بھی بادشاہتیں موجود ہیں۔ ان بادشاہتوں نے بروقت اس حقیقت کا ادراک کر لیا تھا کہ مکمل مٹنے کے بجائے وہ اپنے آپ کو آئینی کردار تک محدود کر لیں تو ان کی بقا کا بندوبست ہو جائے گا؛ چنانچہ جمہور کا عوامی نظام اپنی آب وتاب اور کامل اختیار کے ساتھ جمہوری نمائندوں کو منتقل کرنا ہوگا۔ پھر یہی ہوا۔ دوسری جانب ہم اہلِ اسلام کی قدیم سلطنتیں اور بادشاہتیں بدلتے ہوئے دنوں کے تیوروں کا ادراک نہ کر سکیں اور اپنے عوام ہی کے رویوں سے غالب قوتوں کے ہاتھوں سے گر گئیں۔ ایسے حالات میں آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر حضرت قائداعظم کی قیادت میں جہاندیدہ رہنما کھڑے ہو گئے۔ یہ سب حضرت قائداعظم کا دست وبازو بن گئے۔ لیاقت علی خان‘ سردار عبدالرب نشتر‘ سر آغا خان‘ مولانا ظفر علی خان‘ نواب وقار الملک اور قاضی عیسیٰ کے علاوہ جلیل القدر علماء میں مولانا شبیر احمد عثمانی‘ پیر مہر علی شاہ گولڑوی‘ مولانا حسرت موہانی‘ سید دائود غزنوی اور دیگر بہت سارے نام ہمارے محسنین میں شامل ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی سمیت سب کو اللہ تعالیٰ فردوس میں اکٹھا کرے۔ ان سب نے بدلتے دنوں کو محسوس کر لیا‘ آنے والے دور کو بھانپ لیا اور کارنامہ یہ سرانجام دیا کہ کانگریس کے پُرفریب چال اور آر ایس ایس کے خونیں جبڑوں سے پاکستان نام کا ملک نکال لیا۔ اس ملک کا عبوری نقشہ جب لارڈ مائونٹ بیٹن کو دکھایا تو اس کا آہنی پنجہ بھی ڈھیلا پڑ گیا۔ بس پھر دنوں کی بات تھی اور دنیا نے دیکھا کہ محمد علی جناح اپنے زمانے کی عالمی سیاست کے قائداعظم بن کر سامنے آئے۔ وہ ''لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی بنیاد پر پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ آج یہ ملک ہمارے ہاتھوں میں امانت ہے۔ ہم اس کے پاسبان ہیں‘ یہ ہمارا پاسبان ہے۔ ہماری نسلوں ہی کا نہیں‘ یہ عالم اسلام اور انسانیت کا پاسبان ہے۔ امن اور آزادی کا پاسبان ہے۔ اور سب سے بڑھ کر سرزمین حرمین شریفین کا پاسبان ہے۔
پاکستان جمہوری جدوجہد سے معرضِ وجود میں آیا۔ یہ اسلامی دنیا کا واحد ملک ہے جو جمہوری جدوجہد سے وجود میں آیا۔ جمہوریت اس کی گھٹی میں ہے۔ مسلم لیگ 1906ء میں بنی تھی تو یہیں سے پاکستان کی جمہوری تاریخ کا آغاز ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کی جمہوری تاریخ کی عمر آج ایک سو بیس سال ہو چکی ہے۔ میں اس اعتبار سے بھی اہلِ پاکستان کے ضمیر اور خمیر کو جمہوری سمجھتا ہوں کہ ان کے جمہوری پریشر ہی کا یہ ثمر تھا کہ جب بھی کسی وجہ سے وطن عزیز کا حکومتی نظام آمریت کے ہاتھوں میں گیا تو وہ آمریت مکمل آمریت نہیں تھی بلکہ اس آمریت میں پچاس فیصد کے لگ بھگ جمہوریت ہی کا راج تھا کیونکہ الیکشن ہوئے‘ اسمبلیاں وجود میں آئیں۔ یوں اہلِ پاکستان کو ایک طرح سے اعتماد میں لیا گیا کہ جمہوریت اور اس کے ادارے فنکشنل ہیں۔ ایسے ہی جمہوری اور اسلامی رویوں کا یہ ثمر ہے کہ آج پاکستان کی سالمیت مضبوط ترین ہاتھوں میں ہے‘ فلِلّٰہ الحمد۔ پاکستان کی تینوں افواج جدید ترین ٹیکنالوجی کی حامل ہیں۔ دنیا کے متعدد ممالک کی خانہ جنگیوں میں پاک فوج نے یو این کے پرچم تلے امن بحالی میں ایک تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ چند ماہ قبل پاکستان نے ایران امریکہ جنگ کو رکوانے میں کلیدی کردار ادا کیا‘ پھر غزہ میں جنگ بندی کیلئے چند اہم مسلم ممالک کے سربراہان کو لے کر امریکی صدر سے ملاقات کی اور امن قائم کرایا۔ آج کل پھر ایران امریکہ جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ پاکستان کوششوں میں مصروف ہے کہ علاقے میں امن قائم ہو۔ لیبیا اور سوڈان کی خانہ جنگیوں کو بھی امن میں تبدیل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ غزہ جنگ کو رکوانے کے بعد اب پائیدار امن کیلئے پاک وطن کی قیادت کوشاں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان بیرونی ملکوں میں تو امن کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے‘ اپنے اندر کے حالات کی کیفیت کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ رہی سہی کسر بھی ان شاء اللہ پوری کر دی جائے گی۔
پاک وطن کیلئے اس وقت جو اہم ترین چیلنج ہے وہ معیشت کی مضبوطی اور تجارت کی روانی ہے۔ اس میدان میں مضبوطی کا مطلب دفاع سمیت ہر شعبے میں مضبوطی ہے جبکہ اس شعبے میں کمزوری کا مطلب ہر شعبے میں کمزوری ہے۔ ہم اپنے پڑوسی ملک بھارت کو نظر انداز نہیں کر سکتے جس نے یورپی یونین کے ساتھ ایسا تجارتی معاہدہ کیا ہے جسے یورپی یونین کی صدر اُرسلا وان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ''مدر آف آل ڈیلز‘‘ کا نام دیا ہے‘ یعنی اس وقت دنیا کے ممالک کے درمیان جس قدر بھی تجارتی معاہدے ہیں‘ ان سب معاہدوں کے مقابلے میں یہ معاہدہ ایک ماں کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ انڈیا اور یورپی یونین کے 27 ممالک کے درمیان زندگی کے تمام شعبوں میں تعاون کو سمیٹے ہوئے ہے۔ سب ممبران اس معاہدے کو ماں سمجھ کر باہم بھائیوں کی طرح معاشی اور تجارتی میدانوں میں آگے بڑھیں گے۔ امریکہ اور چین کے بعد یہ تیسری بڑی عالمی معیشت ہے‘ جو دنیا کے آٹھ ارب انسانوں میں سے دو ارب انسانوں کو محیط ہو گی۔ ایک ارب چالیس کروڑ آبادی بھارت کی ہے جبکہ ساٹھ کروڑ آبادی یورپی یونین کے 27 ممالک کی ہے۔
پاک وطن کی بانی جماعت مسلم لیگ کا ایک بڑا دھڑا اس وقت برسر اقتدار ہے۔ وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف کے دور میں معاشی اور تجارتی حالت کچھ بہتر ہوئی ہے۔ حکمرانی میں بھی بہتری کے آثار ہیں مگر جن کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہے‘ اس مقابلے میں یہ انتہائی کمتر سطح ہے۔ گزارش یہ ہے کہ پارلیمانی سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ سے باہر موجود تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی جائے۔ تجارت اور ٹیکسیشن کے نظام کو سادہ‘ جدید ترین اور کرپشن سے پاک بنایا جائے۔ عدل وانصاف کے نظام کو بھی کرپشن سے پاک اور تیز ترین بنایا جائے۔ سول بیورو کریسی کے نظام کو ''بزنس لور‘‘ بنایا جائے۔ ہم اپنے اندرونی نظام کو بہتر بنائے بغیر عالمی تجارت میں اپنی 25 کروڑ آبادی کا حصہ نہیں حاصل کر سکتے۔ آئیے! ایسا کرکے اس دنیا سے یوں جائیں کہ اپنے لیے صدقہ جاریہ چھوڑ جائیں۔ پاک وطن زندہ باد!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved