تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     31-01-2026

ایران پر امریکی حملے کا امکان؟

کیا امریکہ ایران پر حملہ کرے گا؟
ایک ہی سوال ہے‘ دنیا جس کا جواب جاننا چاہتی ہے۔ یہ اور بات کہ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔
اس کا سبب صدر ٹرمپ کی ناقابلِ اعتبار شخصیت ہے۔ ان کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا آسان نہیں۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ۔ ان کی دوستی کا کوئی بھروسہ نہ ان کی دشمنی کا کوئی معیار۔ ایک مسخرہ ہے جس نے دنیا کو مخمصے میں ڈال رکھا ہے۔ اس 'دنیا‘ میں میرا احساس ہے کہ خود امریکی بھی شامل ہیں۔ وہ بھی نہیں جانتے کہ کل ان کے ساتھ کیا ہو گا۔ اس سے پہلے دنیا کو شاید ہی اس صورتحال کا سامنا ہوا ہو۔
اس مخمصے نے ہم مسلمانوں کیلئے امکانات اور اسباق کے بہت سے در کھول دیے ہیں۔ اس کے چند مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ میرا خیال ہے پہلے ان پر بات کرتے ہیں۔ ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ مسلمان ممالک قریب آئے ہیں۔ ان کی باہمی آویزش میں کمی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیل ایران پر حملہ آور ہوا تو پاکستان شکایات کے باوصف‘ ایران کے ساتھ کھڑا ہوا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایران کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا۔ ایران کا بھرم قائم رہا اور وہ ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔ اب خبر یہ ہے کہ سعودی عرب نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ اس کی فضا ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ انقلابِ ایران کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک ایک دوسرے سے برسرِ پیکار نہیں ہیں۔ قطر میں امریکی اڈے موجود ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ قطر بھی عالمِ اسلام کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ امریکہ کو پہلی بار اس صورتحال کا سامنا ہے اور مسلم دنیا کیلئے یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ انقلابِ ایران کے بعد تلخی کا ایسا باب کھلا کہ مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدل گیا۔ انقلاب کو سارے عالمِ اسلام میں پھیلانے کی خواہش نے مسلمان ممالک میں داخلی اضطراب پیدا کر دیا۔ وہ شیعہ سنی‘ جو تاریخ سے سیکھتے ہوئے ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کر چکے تھے‘ ایک بار پھر 60ہجری میں جا کھڑے ہوئے۔ عراقی اور ایرانی آٹھ برس تک ایک جنگ کا ایندھن بنے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دوسری قوتوں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا۔ امریکہ کا اثرو رسوخ کئی گنا بڑھ گیا۔ امریکہ اور یورپ کے اسلحہ ساز یہاں کی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگے۔ مسلم دنیا مزید درماندہ ہو گئی۔ کسی کی چونچ سلامت رہی نہ کسی کی دم۔
آج خیال ہوتا ہے کہ پے در پے نقصان اٹھانے کے بعد ہوش نے جگہ بنائی ہے۔ ایران کو اندازہ ہو رہا ہے کہ پاکستان کی دوستی اس کی سلامتی کی ضمانت ہے۔ پاکستان کو بھی ادراک ہے کہ سرحدوں پہ کوئی اسرائیل نواز حکومت اس کے مفادات کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ سعودی عرب نے بھی جان لیا ہے کہ ایران کے ساتھ معرکہ آرائی پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو برباد کر سکتی ہے۔ ایران کو بھی کسی حد تک احساس ہونے لگا ہے کہ انقلاب اور اس کے پھیلاؤ کی خواہش اس کیلئے کتنی نقصان دہ ہے۔ بعض لوگ اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ محض خوش گمانی ہے۔ ایران کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ ابھی تک اسی نفسیات کی اسیر ہے۔ اصلاح پسندوں کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فیصلہ سازی میں ان کا کتنا حصہ ہے۔ بحیثیت مجموعی اس احساس کا بیدار ہونا ایک اچھی خبر ہے کہ مسلمان ممالک کے درمیان اتنا خلا نہ ہو جو مخالفین کو در اندازی کا موقع دے۔
ایک اور اہم پیش رفت مسلمان ممالک میں دفاعی تعاون میں اضافہ ہے۔ آغاز پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے سے ہوا۔ اب ترکیہ اور ملائیشیا بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کو بہت حکمت کے ساتھ آگے بڑھانا ہو گا۔ 'اسلامک نیٹو‘ کا خیال اگر بلوغت تک پہنچ جائے تو اس کے بہت سے فوائد ہیں۔ نیٹو کا تصور اگرچہ اب ازکارِ رفتہ ہو چکا ہے اور امید ہے کہ صدر ٹرمپ تین سال میں اس کا تیا پانچہ کر دیں گے۔ تاہم اس طرح کا اتحاد اب بھی بن سکتا ہے۔ البتہ اس کو نئی صورت گری کی ضرورت ہو گی۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ چین اس کی حمایت کرے۔ اس پر سوچا جانا چاہیے کہ امریکہ سمیت دنیا کی مخالفت سے بچتے ہوئے اس تصور کو کیسے آگے بڑھا یا جا سکتا ہے۔
ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہوئی کہ پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے کے قریب آئے۔ درست تر الفاظ میں پاکستانی حکومت اور صدر ٹرمپ میں قربت بڑھی ہے۔ پاکستان نے اس تعلق کو اب تک بہت حکمت کے ساتھ استعمال کیا۔ اگر پاکستان مسلم دنیا کو صدر ٹرمپ کے شر سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ بھی بڑی کامیابی ہے۔ یہی تعلقات اگر صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے سے روکنے میں استعمال ہوں تو ان کی افادیت مزید واضح ہو جائے گی۔ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اسی کی ہے کہ ایران کو امریکہ کی جارحیت سے بچایا جائے۔ اس وقت سعودی عرب‘ ترکیہ اور پاکستان صدر ٹرمپ کو اس اقدام سے رو کنے میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر پاکستان یا یہ ممالک ان سے الجھتے رہیں تو یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ حالات نے یہ ایک ایسا امکان پیدا کیا ہے جس کی افادیت کو سمجھنا چاہیے۔
مسلم دنیا کو اب یہ بھی سوچنا ہو گا کہ اس کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟ انہیں اپنی تعمیر اور ترقی کو پہلی ترجیح بنانا ہے یا خود کو ایک تصادم کا ایندھن بنانا ہے۔ ایران اس وقت جس صورتحال سے دوچار ہے اس میں ہمارے لیے عبرت اور نصیحت کا بہت سامان ہے۔ یہ ایک طرف خود احتسابی کی دعوت ہے اور دوسری طرف ان مسائل کو نمایاں کر رہا ہے جو مسلم دنیا کو درپیش ہیں۔ ان حالات میں اگر مسلم دنیا میں موجود فورمز متحرک ہوں جو حقیقت پسندی کے ساتھ حالات کا جائزہ لیں تو اس میں سب کیلئے بھلائی ہے۔
ایک بڑا مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ سعودی عرب جہاں داخلی سطح پر اصلاحات متعارف کرا رہا ہے اور ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا رہا ہے‘ سعودی عرب اور عرب امارات میں اختلاف بھی نمایاں ہو رہا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کو اس حوالے سے ایک کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عرب امارات کا بھارت کی طرف جھکا ؤ کم ہو اور دوسری طرف وہ اس دفاعی اتحاد کا حصہ بنے جس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ صحت مندانہ مسابقت کو رقابت میں نہیں بدلنا چاہیے۔ اگر بروقت اس صورتحال کو سنبھالا نہ گیا تو امکان یہ ہے کہ ایک بار پھر مسلم دنیا کے اختلافات سے دوسرے فائدہ اٹھائیں گے جیسے عراق اور ایران کے اختلافات سے اٹھایا گیا۔
یہ پس منظر سامنے رہے تو اس سوال کا جواب مل سکتا ہے کہ ایران کو امریکی حملے سے کیسے بچایا جائے۔ اس سے یہ سوال اپنی جگہ جواب کا متقاضی رہے گا کہ اس حملے کے امکانات کتنے ہیں۔ صدر ٹرمپ جیسی شخصیت کے بارے میں چونکہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے اس لیے حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ تاہم ہم وہ حالات پیدا کر سکتے ہیں جو اس حملے کو ان کیلئے مشکل بنا دے۔ ایران کی قیادت کو بھی سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہے کہ انہیں امریکی شر سے بچنے کیلئے مسلم اور عرب دنیا کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اس لیے سرِ دست اسے قومی مفادات کی روشنی میں معاملات کو سمجھنا چاہیے۔ اس کیلئے انقلاب کی نفسیات سے باہر آنا ضروری ہے کیونکہ یہ نفسیات حقیقت پسندی کے راستے میں ہمیشہ حائل رہے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved