تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     31-01-2026

سولر لگاؤ سولر ہٹاؤ‘ جائیں تو جائیں کہاں؟

پہلے فرمان جاری ہوا تھا کہ سولر لگاؤ‘ گرین انرجی بڑھاؤ۔ درآمد شدہ مہنگے تیل سے بنائی گئی مہنگی بجلی سے جان چھڑاؤ۔ اور اب یکایک نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والوں پر پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے حکم سے یوں بجلی گرائی گئی کہ سرے سے نیٹ میٹرنگ ہی ختم کر دی گئی۔ جس کے باعث جن صارفین کے پانچ دس ہزار ماہانہ کے بل آتے تھے‘ اس بار ان کے ساٹھ ساٹھ‘ ستر ستر ہزار کے بل آئے ہیں۔ کسی فرمانِ شاہی سے شہریوں پر ایسی ناگہانی آفت صرف وطنِ عزیز میں ہی نازل ہو سکتی ہے اور کہیں نہیں۔
قارئین کو بتا دوں کہ نیٹ میٹرنگ کیا ہے۔ حکومت نے کہا کہ آپ سولر بجلی بنائیں اور ملک کو توانائی بحران سے نجات دلائیں۔ آپ جتنی بجلی بنائیں گے اسے حسب ضرورت استعمال کریں جبکہ اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو دیں‘ آپ کی ایکسپورٹ شدہ بجلی کی قیمت بینک میں رکھے گئے اثاثے کی طرح محفوظ رہے گی۔ گزشتہ چند برس کے دوران صارفین کی پیدا کردہ بجلی کی قیمت خرید گیارہ روپے سے لے کر 27روپے فی یونٹ تک گئی جبکہ سرکاری بجلی کے ریٹ بڑھتے بڑھتے پچاس روپے فی یونٹ تک پہنچ گئے۔ لینے کے باٹ اور دینے کے باٹ اور کے باوجود سفید پوش صارفین کے ہزاروں بلکہ لاکھوں تک کے بلوں میں نمایاں کمی واقع ہو گئی۔ انہیں قدرے سکھ کا سانس نصیب ہوا مگر اپنے دیس میں حکومت کی اپنی دی ہوئی کوئی پالیسی مستقل چلے‘ ایسا ممکن نہیں۔ دنیا بھر میں حکومت کی طرف سے دی گئی کمٹمنٹ کو حرفِ آخر سمجھا جاتا ہے مگر ہمارے حکمران کسی بھی وقت اپنے ہی کہے یا لکھے پر بغیر کسی دلیل اور بغیر ادنیٰ ندامت کے خطِ تنسیخ پھیر سکتے ہیں۔ 16دسمبر 2025ء کو پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کی طرف سے ملک بھر کی بجلی تقسیم کارکمپنیوں کو حکم نامہ جاری ہوا کہ نیٹ میٹرنگ کنکشن کے حامل ایسے صارفین کہ جو استعمال سے زائد بجلی بنا رہے ہیں ان کے اضافی یونٹس کی بلنگ نہ کی جائے لیکن تقسیم کار کمپنیوں نے اضافی یونٹس کی ہی نہیں بلکہ صارفین نے بطور ایکسپورٹ جو یونٹس نیشنل گرڈ کو دیے‘ ان کی سرے سے بلنگ ہی نہیں کی۔ صارفین کے ایکسپورٹ یونٹس صفر کر کے تمام یونٹس کا بل چارج کیا گیا۔ صارفین کو جب یہ ہوشربا بل آئے تو ان کی چیخیں نکل گئیں۔ یہ درویش بھی انہی صارفین میں شامل ہے۔
22جنوری 2026ء کو پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو وضاحتی نوٹ بھی بھیجا مگر دیگر حکومتی پالیسیوں کی طرح نیٹ میٹرنگ نظام میں بھی کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے اور صارفین تاحال پریشان ہیں۔ لاہور میں نیٹ میٹرنگ کے لاکھوں صارفین واپڈا کے در پر جا کر دہائی دیتے ہیں تو ان کے پاس بھی کوئی واضح جواب ہوتا ہے اور نہ ہی مستقبل کا کوئی پروگرام۔ بادی النظر میں یوں دکھائی دیتا ہے کہ حکومت نیٹ میٹرنگ پالیسی بدل کر اور کنفیوژن پھیلا کر سولر صارفین کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے۔ ہمارے قارئین میں شامل ایک نہایت ثقہ شخصیت نے مجھے اس مکتوب کی فوٹو کاپی ارسال کی ہے جو لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) معین الدین حیدرنے 19جنوری 2026ء کو وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کو لکھا تھا۔ اس مکتوب میں جنرل صاحب نے سولر صارفین کی ترجمانی کی ہے۔ جنرل صاحب سے ہماری بھی یاداللہ ہے۔ ہم نے جنرل صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ یہ ان کا ہی خط ہے۔ خط میں جنرل صاحب نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر کیا کہ آپ ایک طویل عرصے سے گرین انرجی کے بہت بڑے حامی رہے ہیں۔ آپ وِنڈ‘ سولر اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کی بڑے پُرجوش طریقے سے وکالت کرتے اور دلائل سے ثابت کرتے رہے ہیں کہ ہمیں ان قدرتی عطیات سے حاصل کردہ صاف ستھری اور سستی بجلی کو تیل‘ کوئلے اور گیس کے ذریعے بنائی جانی والی مہنگی توانائی پر ترجیح دینی چاہیے۔ اب نیپرا 2015ء میں حکومت کی طرف سے دی گئی نیٹ میٹرنگ پالیسی بدلنے کے درپے ہے۔ اس سے سولر بجلی کے صارفین میں بے حد بے چینی پائی جاتی ہے۔ جنرل صاحب نے نیپرا کی طرف سے نیٹ میٹرنگ کے بارے میں جاری کردہ ایک سوالنامے کا بھی تذکرہ کیا ہے جس میں عوامی رائے پوچھی گئی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ اس سوالنامے کی زبان و ترتیب نہایت پیچیدہ ہے۔ عام شہری کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ سوالنامے کا اصل مدعا کیا ہے۔جنرل معین الدین حیدر کے مکتوب کے ایک دو مزید نکات کا تذکرہ کرنے سے پہلے میں اپنی طرف سے نیپرا کے اس سوالنامے پر اتنا تبصرہ کر دوں کہ حکومت نے سولر کے بارے میں کسی نامرغوب پالیسی سے پہلے عوامی ردِعمل کا اندازہ لگانے کیلئے تالاب میں پتھر پھینک کر پانی کی گہرائی کا اندازہ لگایا ہے۔ جنرل صاحب نے میاں شہباز شریف کے نام اپنے مکتوب کے آخر میں یہ لکھا ہے کہ اگر حکومت نیٹ میٹرنگ والوں سے سابقہ ریٹ 25.98روپے کے بجائے 7.8روپے فی یونٹ بجلی خریدے گی تو اس سے صارفین کو 70فیصد نقصان ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہر لمحہ خدمتِ عوام کا دم بھرنے والے جناب شہباز شریف پر اس درد مندانہ مکتوب اور سولر صارفین کی چیخوں کا کتنا اثر ہوتا ہے؟
ہم نے بھی اپنے گھر کی چھت پر چھوٹا سا سولر یونٹ دو تین برس قبل سو جتن کر کے لگوایا تھا۔ ڈیڑھ برس قبل جب ہمارے پوتے پوتیاں بیرونِ ملک سے گرمیوں کی چھٹیوں میں آئے تو انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا تھا کہ پہلی مرتبہ دادا نے اے سی کے استعمال پر قدغنیں نہیں لگائیں۔ مگر اب ایک بار پھر بھاری بھرکم بجلی کے بلوں کا سوچ کر دل دھڑک رہا ہے کہ یہ کیسے ادا ہوں گے اور بیرونِ ملک سے آنے والے ننھے منے بچوں پر ایئر کنڈیشنر استعمال کے بارے میں کہیں پھر قدغنیں تو نہیں لگانا پڑیں گی۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق لگتا ہے حکومت نیٹ میٹرنگ کے سولر صارفین کی اشک شوئی کی طرف شاید مائل ہے۔
28جنوری کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا کہ انہوں نے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کی طرف سے سولر صارفین کی ایکسپورٹ کردہ بجلی کو بلنگ میں شامل نہ کرکے ایک حیران کن قدم اٹھایا ہے۔ ہم نے اسکا فوری نوٹس لیا ہے اور پی پی ایم سی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس غلطی کا ازالہ کرے اور سولر صارفین کی ایکسپورٹ کردہ بجلی کو بلنگ میں پہلے کی طرح شامل کرے۔ ہم نے جب معلوم کیا ہے کہ ان بیٹریوں کی قیمت کیا ہے جو سولر انرجی کو یو پی ایس کی طرح محفوظ کر لیتی ہیں اور اس بجلی کو حسبِ ضرورت رات کے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے‘ ہمیں معلوم ہوا کہ پانچ سے چھ لاکھ کی بیٹری لگا کر صرف ایک اے سی چلایا جا سکتا ہے جبکہ دو تین اے سی چلانے کیلئے تیرہ سے پندرہ لاکھ تک کی لاگت سے بیٹریاں خریدنا ہوں گی۔ یہ تو سولر جتنی لاگت ہی ہو جائے گی۔ سردار اویس لغاری صاحب کو مزید وضاحت کے ساتھ نیٹ میٹرنگ والوں کو تسلی دینی چاہیے کہ ان پر اس بار ڈالا گیا بل اگلی مرتبہ منہا ہو گا۔ نیز پہلے ہی ریٹس پر نیشنل گرڈ میں بجلی جائے گی اور وہاں سے پہلے ہی نرخوں پر صارفین امپورٹ کریں گے۔
آئی پی پیز والی بجلی کے بلوں نے عوام سے ان کی آدھی ماہانہ آمدنی چھین لی تھی۔ حکمرانوں نے ایک راہ دکھائی تو عوام نے آگے بڑھ کر توانائی بحران سے ملک کو نجات دلائی اور جان لیوا بلوں سے اپنی جان چھڑائی۔ آج جگہ جگہ سولر پلیٹیں لگی ہیں۔ پاکستان دنیا کا سب سے بڑا سولر پینلز درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ عوام نے توانائی کے شعبے میں خود کو خود کفیل بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت اس فیصلے اور شعور کی قدر کرے۔ نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ عوام کے ساتھ حکومت سے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہوگا۔ حکومت سولر صارفین کی حوصلہ افزائی کرے اور انکے راستے میں روڑے نہ اٹکائے بلکہ انہیں مزید مراعات دے کر اس خود کفالت کو اور مضبوط کرے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved