پچاس کی دہائی میں میرے ایامِ جہالت اپنے عروج پر تھے۔ پڑھنے لکھنے کے بجائے میرا سارا وقت اور ساری ذہنی توجہ غیرنصابی سرگرمیاں لے جاتی تھیں اور یہی بڑی کمزوری آنے والے وقت میں میری ناکامیوں کا پیشہ خیمہ بنی۔ بی اے اور ایم اے کے سالانہ امتحانات سے چار پانچ ماہ پہلے بین الکلیاتی مباحثوں کا موسم شروع ہو جاتا تھا۔ ان مباحثوں میں انعامات جیتنے کی شرح ایک تہائی رہی۔ یہ اتنا بڑا ریکارڈ نہ تھا چونکہ میرا مقابلہ لاہور کے ارشاد حسین کاظمی‘ طارق عزیز‘ محمد عارف‘ حافظ محمد اسلم‘ رشید قریشی‘ پرویز پروازی‘ طارق سعید ہارون اور کراچی کے معراج محمد خان‘ فتح یاب علی خان اور شائستہ بیزار سے تھا۔ یہ سب مجھ سے زیادہ اچھی تقریر کرلیتے تھے۔ معراج دو تین سال لاہور کے مقابلوں میں شرکت کیلئے آتا رہا لیکن میں ایک بار بھی کراچی نہ گیا۔ معراج کا لاہور میں قیام کے دوران میرا یونیورسٹی کے بعد سارا وقت اس کے ساتھ گزرتا تھا۔ مگر مجھے اس وقت اس کے کردار کی کسی ایک بڑی خوبی کا پتہ تھا اور نہ اندازہ‘ جو آنے والے دنوں میں اجاگر ہوئیں۔
معراج محمد خان مجھ سے دو سال چھوٹا تھا‘ جو مورخہ 20اکتوبر 1938ء کو فرخ آباد ہندوستان میں پیدا ہوا اور 78برس عمر پا کر جولائی 2016ء میں اسی کراچی میں وفات پائی جہاں وہ پلا بڑھا اور اس کا سیاسی کردار کئی ادوار سے گزرا۔ اس کا سیاسی کیریئر طلبا میں بائیں بازو کی تحریکوں کی قیادت کر نے سے شروع ہوا۔ وہ 60ء کی دہائی میں کمیونسٹ پارٹی کا رکن یا قریبی ساتھی رہا۔ 1968ء میں پیپلز پارٹی معرضِ وجود میں آئی تو وہ اس کے بانی اراکین میں شامل تھا۔ ان کا ذہن عملی کم اور تصوراتی زیادہ تھا۔ پیپلز پارٹی کے قیام کے ابتدائی دنوں میں سندھ میں مشہور ہالہ کانفرنس ہوئی تو ماسوائے طارق عزیز کے کسی اور قابلِ ذکر شخص نے معراج کے اس مطالبے کی حمایت نہ کی کہ پیپلز پارٹی سماجی‘ معاشی اور سیاسی تبدیلی لانے کیلئے انتخابات کے بجائے انقلابی جدوجہد کا راستہ اپنائے۔ معراج محمد خان کا خیال تھا کہ بھٹو صاحب طبقاتی جدوجہد پر ایمان رکھتے ہوئے محنت کشوں کی انقلابی جدوجہد کے ذریعے سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ اور مغربی سامراج کے پروردہ نظام کا تختہ الٹ دیں گے۔ اس سے زیادہ کوئی اور سوچ سچائی اور حقیقت پسندی سے دور بلکہ متضاد نہیں ہو سکتی۔ نتیجہ؟ معراج نے نہ پارٹی کا ٹکٹ لیا اور نہ 1970ء کے قومی انتخابات میں حصہ لیا۔ پیپلز پارٹی مغربی پاکستان میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ عوامی لیگ کے شیخ مجیب الرحمن سے مذاکرات کیلئے بھٹو صاحب جو وفد لے کر گئے اس میں معراج بھی شامل تھا۔ میں یہ نہیں جانتا کہ ان اقدامات میں معراج کا کردار کیا تھا لیکن بصد افسوس صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب بھٹو صاحب نے عوامی لیگ کو طاقت سے کچل ڈالنے کی تباہ کن حکمت عملی کی حمایت کی تو معراج خاموش رہنے والوں اور بھٹو صاحب کی تائید کرنے والوں میں شامل تھا۔ اس خاموشی کا معراج کو یہ انعام ملا کہ اسے بھٹو صاحب نے اپنی کابینہ میں وزیر محنت بنا دیا۔ یہ عہدہ معراج جیسے بڑے آدمی کیلئے بہت چھوٹا اور ادنیٰ تھا۔ 1973ء تک بھٹو صاحب کے چہرے سے عوام دوستی کا نقاب اتر چکا تھا۔ معراج محمد خان تب وزارت سے مستعفی ہو کر ایک بار پھر محنت کشوں کا ترجمان اور ساتھی بن گیا۔ اگلے چار عشرے معراج سیاسی جنگلوں میں بھٹکتا پھرا۔ اس کی اپنی جماعت قومی محاذ آزادی محنت کشوں کا متحدہ محاذ بھی نہ بن سکی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ عمران خان کی تحریک انصاف کا سیکرٹری جنرل بن جانے پر تیار ہو گیا تاکہ وہ کوئی مثبت کردار ادا کر سکے۔ نیت نیک ہونے میں کوئی شبہ نہیں مگر ایک اشتراکی ذہن کے شخص کا عمران خان کے ساتھ گزارا ہوتا تو کیونکر؟ کچھ عجب نہیں کہ معراج کی یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور اس کی ناکامیوں کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہو گیا۔ ساری عمر معراج کی دو ہی سیاسی سرگرمیاں رہیں‘ جلسوں میں پُرجوش تقریریں کرنا اور بند کمروں میں سیاسی مذاکرات کرنا اور لائحہ عمل مرتب کرنا۔ وہ مزدوروں کے ایک جلوس کے شرکا کو پولیس کے تشدد سے بچاتا ہوا خود شدید زخمی ہوا اور ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گیا۔
معراج دنیا سے گیا تو اس کی قومی محاذِ آزادی نام کی جماعت بھی صفحۂ ہستی سے مٹ گئی۔ گزرے ہوئے دس برسوں میں اس کا کوئی جانشین یا سیاسی وارث نہیں آیا۔ رونے کا مقام ہے کہ ایک شخص جس کی ذاتی خوبیاں اس کے دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں‘ دامن پر ایک بھی داغ نہیں‘ دیانت اور سچائی اور اعلیٰ ترین سیاسی اقدار کا علمبردار‘ جس نے قربانیاں دیں‘ جیلوں میں قید کاٹی‘ پولیس کے تشدد کا نشانہ بنا‘ وزارت چھوڑی‘ ایک آنکھ کی بینائی گنوائی‘ اپنے ساتھیوں کے فہم و شعور میں گراں قدر اضافہ کیا‘ وہ جب اس دنیا سے گیا تو پتہ چلا کہ اس کی توزمین میں ایک بھی جڑ نہ تھی۔ ورثہ صفر۔
معراج کے والد حکیم مولوی تاج محمد خان کوئٹہ میں ہومیو پیتھی پریکٹس کرکے اپنے گھرانے کی کفالت کرتے تھے۔ معراج کے بڑے بھائی کا نام منہاج برنا تھے جنہوں نے صحافیوں کی ایک تنظیم کی قیادت اور آزادیٔ صحافت کی خاطر بہادرانہ جہدوجہد کرکے عزت اور شہرت پائی۔ میری معلومات کے مطابق معراج نے کوئی پیشہ یا روزگار کا وسیلہ نہ اپنایا۔ ان کی رفیقۂ حیات کا بھلا ہو کہ وہ ساری عمر ایک کالج کی سربراہ بن کر پڑھاتی اور گھر چلاتی رہیں اور معراج کی کفالت کرتی رہیں۔ لاہور کے ایک اشاعتی ادارے کا بھلا ہو کہ اس نے 2017ء میں معراج کی شخصیت اور سیاست پر ایک اچھی اور یادگار کتاب شائع کی جو معراج کے دوستوں‘ ساتھیوں اور صحافیوں کے تبصروں اور تاثرات پر مشتمل ہے۔ ان سب نے معراج پر تحسینِ آفرین کے پھول برسائے ہیں۔ مگر مجال ہے کہ کسی نے دبی زبان میں اس کی ناکامی کی طرف ایک بھی اشارہ کیا ہو۔
پاکستان میں کافی ہاؤسز میں بیٹھ کر انقلابی موضوعات پر بحث کرنے والے باافراط پائے جاتے ہیں۔ انگریزی میں انہیں شمپین سوشلسٹ کہتے ہیں۔ مگر سیاست ایک سنجیدہ سماجی سرگرمی کا نام ہے‘ یہ خلا میں نہیں کی جا سکتی۔ یہ عملی کارروائی ہے جس کی جڑوں کا زمین میں پیوست ہونا ضروری ہے۔ کراچی کے صنعتی مزدوروں سے لے کر سندھ کے ہاریوں تک معراج ان سب سے دور رہا۔ صرف ان کا دم بھرتا رہا۔ معراج نہ ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوا نہ بھاشانی کی۔ وہ نہ سی آر اسلم کا ساتھی بنا اور نہ میجر اسحاق محمد کا۔ وہ بلوچ قوم پرستوں سے بھی محفوظ فاصلے پر رہا۔ بھٹو صاحب کے زوال کے بعد معراج بائیں بازو کے بکھرے ہوئے کارکنوں کی شیرازہ بندی کر سکتا تھا مگر اس نے یہ بھی نہ کیا۔ اس نے کچھ بھی نہ کیا۔ زندگی کے آخری برسوں میں خرابیٔ صحت نے اسے عملاً ناکارہ بنا دیا تھا مگر 1980ء سے لے کر 2010ء تک اس کے پاس 30برس تھے۔ اس نے وہ کشت ویراں میں تبدیل کر دیے۔
پاکستان میں بائیں بازو کا نوحہ دراصل معراج اور اس جیسے باقی اشتراکی سیاسی راہنماؤں کی ناکامی اور بے عملی اور غیر حقیقت پسندی کا نوحہ ہے۔ ڈاکٹر ابوبکر شیخ کا بھلا ہو کہ میں 2014ء میں کراچی گیا تو انہوں نے میری معراج سے فون پر بات کروا دی اور یوں میں نے ایک پرانے اور پیارے دوست کی آواز آخری بار سن لی۔ اس نے 55برسوں کے وقفہ کے بعد مجھے پہچان لیا تو میں بہت خوش ہوا۔ اب حال یہ ہے کہ لوہا گرم ہے مگر اس پر ضرب لگانے والے ابدی نیند سو رہے ہیں۔ نئی نسل کے پاس شعور ہے‘ علم ہے اور فہم بھی‘ صرف ایک چیز نہیں۔ انقلابی جدوجہد کی قیادت کی صلاحیت جو معراج پیدا کر سکتا تھا‘ مگر وہ یہ کیے بغیر چلا گیا۔ اب ہم دوسرا معراج کہاں سے لائیں؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved