مفتی محمد شفیع صاحب نے لکھا ہے: ''اگرچہ شبِّ برأت کی بابت روایات ضعیف ہیں لیکن تعدُّدِ طُرق اور تعدُّدِ روایات سے ان کو ایک طرح کی قوت حاصل ہو جاتی ہے‘ اس لیے بہت سے مشائخ نے ان کو قبول کیا ہے کیونکہ فضائلِ اعمال میں ضعیف روایات پر عمل کرنے کی بھی گنجائش ہے (معارف القرآن ،خلاصہ ،جلد: 7،ص:758)‘‘۔ جامع ترمذی میں شعبان کی پندرہویں شب کے بارے میں حضرت عائشہؓ کی روایت پر بحث کرتے ہوئے اہلِ حدیث عالم شیخ عبدالرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں: ''جان لو کہ شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث آئی ہیں‘ یہ احادیث بحیثیتِ مجموعی اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ (شریعت میں) اس کی اصل موجود ہے‘‘۔ پھر انہوں نے متعدد احادیث ذکر کرکے ان پر کلام کیا ہے اور آخر میں لکھتے ہیں: ''ان روایات کا مجموعہ ان لوگوں پر حجت ہے‘ جو یہ گمان کرتے ہیں کہ شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت کے بارے میں دین میں کوئی بات ثابت نہیں ہے‘‘، (تحفۃ الاحوذی شرح جامع ترمذی، خلاصہ، جلد:2،ص:52-53)‘‘۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''میں نے (ابتدائے اسلام میں) تمہیں قبرستان جانے سے روکا تھا‘ سو اب تم جایا کرو کیونکہ اس سے دنیا کی ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے، (ابنِ ماجہ:1571)‘‘۔ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی یاد شریعت کا مطلوب ہے‘ پس جب قبرستان جائیں تو آخرت کا تصور ذہنوں میں تازہ کریں کہ یہ اہلِ قبور بھی کبھی بڑی شان وشوکت والے تھے‘ عالی شان مکانات میں رہتے تھے‘ پُرتعیش زندگی گزارتے تھے‘ اب چھ فٹ کے گڑھے میں لیٹے ہوئے ہیں‘ دنیا کی ساری عشرتیں اور قرابت کے رشتے اسی دنیا میں رہ گئے۔
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں: ''ہمارے والد صاحب (نبیﷺ کے قبرستان جانے کی بابت) احادیث کی روشنی میں فرماتے تھے کہ زندگی میں کم از کم ایک بار شعبان کی پندرہویں شب کو ضرور قبرستان جانا چاہیے‘‘، تاہم احادیثِ مبارکہ میں ایسی کوئی تحدید نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام مسالک کے علمائے کرام کسی نہ کسی درجے میں اس رات کی فضیلت کو تسلیم کرتے ہیں‘ لیکن پھر عوام کے مساجد میں نفلی عبادات اور مجالس وعظ کیلئے جمع ہونے کے رجحان کو بدعت بھی قرار دیتے ہیں‘ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم بھی اس رات میں قیام‘ عبادات‘ تلاوت و اذکار و درود کو فرض یا واجب قرار دیتے ہیں‘ نہ ان کے التزام کی تاکید کرتے ہیں‘ صرف ترغیب دیتے ہیں اور ترک پر کسی کو ملامت بھی نہیں کرتے کیونکہ مستحبات کے ترک پر ملامت کرنا اصولِ شرع کے خلاف ہے‘ البتہ جواز و استحباب احادیث و روایات میں موجود ہے۔ پس شریعت میں کسی بات کا ثبوت جس درجے میں ہو‘ اسے مان لینا چاہیے اور مسلمانوں کے درمیان محلِ نزاع نہیں بنانا چاہیے اور ماننے والوں کو بھی حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
بہت سے لوگ زائرین کی سہولت کیلئے قبرستان کی صفائی کرتے ہیں‘ چراغاں کرتے ہیں‘ یہ اچھی بات ہے کیونکہ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کے ہٹا دینے کو رسول اللہﷺ نے ایمان کا ایک حصہ قرار دیا ہے اور اگر کوئی سپرے بھی کر سکے تو اس کی وجہ سے حشرات الارض اور موذی جانوروں سے لوگ محفوظ رہیں گے۔ لیکن یہ ایک عمومی ضرورت ہے‘ اس کا شب برأت سے خصوصی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے خطے میں شب برأت کے موقع پر بچے آتشیں کھلونوں سے کھیلتے ہیں‘ یہ ناجائز ہے اور کم ازکم مکروہِ تحریمی ہے۔ ملکی قانون کی رو سے بھی آتشیں کھلونے بنانا‘ انہیں ذخیرہ کرنا اور بیچنا منع ہے اورمفادِ عامّہ کے قوانین کی پابندی شرعاً مستحسن اور بعض صورتوں میں ضروری ہے۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ محض دولت کمانے کیلئے غیرشرعی اور غیر قانونی کام کرتے ہیں۔
ایصالِ ثواب کیلئے غریبوں کو کھانا کھلانا اچھی بات ہے لیکن شبِ برأت کے حوالے سے حلوہ پکانا اور بانٹنا ہمارے خطے کا ایک شعار ہے جو شریعت میں نہ منع ہے اور نہ شرعاً لازم ہے۔ شب برأت کیلئے کوئی خاص عبادت منقول نہیں ہے‘ نوافل‘ تلاوتِ قرآنِ کریم‘ تسبیحات و درود میں سے جس کی بھی توفیق و سعادت نصیب ہو‘ قابلِ تحسین ہے۔ ہمارے نزدیک راجح یہ ہے کہ ان مبارک راتوں میں اور جب بھی اللہ تعالیٰ توفیق دے‘ ماضی کی قضا نمازیں پڑھنی چاہئیں۔ حدیث مبارک میں ہے: ''غزوۂ خندق کے دن رسول اللہﷺ کی چار نمازیں مشرکینِ مکہ کے محاصرے کی وجہ سے قضا ہو گئیں حتیٰ کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا‘ پھر آپﷺ نے حضرت بلال کو حکم دیا‘ انہوں نے اذان دی‘ پھراقامت کہی‘ رسول اللہﷺ نے پہلے ظہر کی نماز پڑھائی‘ پھر اسی طرح اذان اور اقامت کے ساتھ عصرومغرب کی قضا نماز پڑھائی اور پھر عشا کی نماز پڑھائی،( ترمذی: 179)‘‘۔ علامہ نظام الدین لکھتے ہیں: ''سنن موکدہ کے سوا دیگر نوافل پڑھنے سے قضا نمازیں ادا کرنے میں مشغول رہنا اولیٰ اور اہم ہے‘ (عالمگیری، جلد:1، ص: 125)‘‘۔
امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں: ''شیطان کا بڑا دھوکا ہے کہ آدمی کو نیکی کے پردے میں ہلاک کرتا ہے‘ نادان سمجھتاہے نیک کام کر رہا ہوں اور نہ جانا کہ نفل بے فرض سراسر فریب ہے‘ اسکے قبول کی امید تو مفقود اور اسکے ترک کا عذاب گردن پر موجود۔ اے عزیز! فرض‘ خاص سلطانی قرض ہے اور نفل گویا تحفہ و نذرانہ۔ قرض نہ دیجیے اور بالائی بیکار تحفے بھیجئے‘ وہ قابلِ قبول ہوں گے؟ خصوصاً اس شہنشاہ غنی کی بارگاہ میں جو تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ''اگر فرض چھوڑ کر سنت و نفل میں مشغول ہو گا تو یہ قبول نہ ہوں گے اور خوار کیا جائے گا‘‘۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں: ''لازم اور ضروری چیز کا ترک اور جو ضروری نہیں اس کا اہتمام عقل ودانش کی رو سے غیر مفید ہے‘ کیونکہ عاقل کے نزدیک نفع کے حصول سے ضرر کا دور کرنا اہم ہے‘ (فتوح الغیب مع شرح عبدالحق الدہلوی‘ ص:273)، (فتاویٰ رضویہ، جلد:10 ص: 178، ملخصاً، رضا فائونڈیشن، لاہور)‘‘۔
ہم نے عام روش سے ہٹ کر یہ گزارشات کی ہیں کیونکہ بعض اوقات لوگ دین کی ترجیحات اور احکامِ شریعت کی درجہ بندی کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور ایک طرح سے یہ عملی تضاد کی صورت بن جاتی ہے۔ فرائضِ شرعی وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرمﷺ کو ہر مسلمان سے مطلوب ہیں‘ یہ شریعت کا لازمی مطالبہ ہے۔ نفلی عبادات بلاشبہ شریعت کی نظر میں پسندیدہ ہیں اور قرآن و حدیث میں ان کے فضائل بھی آئے ہیں‘ لیکن نفلی عبادات میں مشغولیت نہ فرائض کے ترک کا سبب بننا چاہیے اور نہ انہیں فرائض کا متبادل سمجھنا چاہیے‘ البتہ انہیں فرائض کا تکملہ اور تتمّہ سمجھنا چاہیے۔
بعض مساجد میں لوگ باجماعت صلوٰۃ التسبیح کے نوافل پڑھتے ہیں‘ فقہائے کرام نے ان کیلئے تداعی کو مکروہِ تنزیہی یعنی خلافِ اولیٰ قرار دیا ہے اور بعض نے فرمایا: جو لوگ پڑھ رہے ہوں‘ ان کو منع نہ کیا جائے۔ امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں: ''تراویح کے سوا دیگر نوافل میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تو اجازت ہے ہی‘ چار کی نسبت کتب فقہ میں کراہت لکھتے ہیں‘ یعنی مکروہِ تنزیہی‘ جس کا حاصل خلافِ اولیٰ ہے‘ نہ کہ گناہ و حرام۔ مگر مسئلہ مختلف فیہ ہے‘ بعض اکابر دین سے نوافل کی جماعت کی تداعی ثابت ہے اور عوام فعلِ خیر سے منع نہ کیے جائیں۔ علمائے امت و حکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے‘ درمختار میں ہے: ''عوام کو تکبیرات اور نوافل سے کبھی بھی منع نہ کیا جائے کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہوتی ہے‘ اگرچہ علما نے ان کی جماعت کے بارے میں کراہت کی تصریح کی ہے‘ مگر عوام میں یہ فتویٰ نہ دیا جائے تاکہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو۔ علما نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے اور متاخرین میں سے بعض نے اس کے جواز پر لکھا بھی ہے۔ عوام کو نماز کی طرف راغب رکھنا انہیں نفرت دلانے سے کہیں بہتر ہوتا ہے، (فتاویٰ رضویہ، ج:7، ص:465-466، خلاصہ)‘‘۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved