تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     01-02-2026

جناب سعید مہدی کی گواہی

لیجیے جناب... حضرت محمد سعید مہدی نے اپنی یاد داشتوں کو قلم بند کر ڈالا ہے۔ ''دی آئی وِٹنس‘‘ (عینی چشم دید گواہ) کے زیر عنوان کتاب شائع ہو گئی ہے اور پورے ملک میں ہنگامہ برپا ہے۔ اسلام آباد اور کراچی کے بعد لاہور میں بھی اس کی تقریبِ پذیرائی کا انعقاد ہوا۔ آواری ہوٹل کا وسیع و عریض ''خورشید ہال‘‘ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ لوگ تھے کہ آتے جا رہے تھے‘ کرسیاں تھیں کہ بچھتی جا رہی تھیں‘ یہاں تک کہ تِل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ جناب مہدی اپنی پبلشر امینہ سیّد کے ساتھ جلوہ گر تھے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب‘ اعتزاز احسن‘ ولید اقبال‘ فرحان خواجہ اور سہیل وڑائچ وغیرہ وغیرہ وغیرہ سٹیج پر نمایاں تھے تو حاضرین میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ سرکاری افسروں کی بھاری تعداد موجود تھی۔ دانشور‘ پروفیسر‘ سیاسی کارکن غرض کوئی شعبۂ زندگی ایسا نہ تھا کہ جس سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نظر نہ آ رہے ہوں۔ خورشید قصوری البتہ نہیں تھے کہ آنکھوں کے آپریشن کے بعد انہیں پُرہجوم مقامات سے (وقتی طور پر) دور رہنے کا طبی مشورہ دیا گیا ہے۔ حیران تو سب ہی تھے لیکن سہیل وڑائچ نے اپنی حیرت کو زبان دے ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ سوچ کر تقریب میں آئے تھے کہ دو‘ چار درجن ریٹائرڈ افسر اور ان کے ہم عمر موجود ہوں گے لیکن یہاں تو منظر ہی مختلف تھا۔ سعید مہدی کی عینی شہادت اپنی جگہ لیکن سینکڑوں معتبر افراد کی عینی شہادت بھی کم اہم نہیں تھی‘ ایک دوسرے کو گواہ بنا کر انہوں نے اعلان کر دیا تھا کہ سعید مہدی ریٹائرڈ یا ''ٹائرڈ‘‘ نہیں ہیں۔ سرکاری ملازمت سے برسوں پہلے سبکدوش ہونے کے باوجود ان کی تازگی برقرار ہے۔ وہ بدستور مرجع خلائق ہیں گویا بیورو کریسی کے ''فیلڈ مارشل‘‘ ہیں۔
سعید مہدی نے ایک سرکاری افسر کے طور پر بھرپور زندگی گزاری۔ اہم ترین اور اعلیٰ ترین مناصب پر فائز ہوئے۔ ڈپٹی کمشنری اور کمشنری تو رہی ایک طرف‘ چیف سیکرٹری بنے‘ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کا منصب بھی سنبھالا یا یہ کہیے کہ کئی وزرائے اعظم کو سنبھالا لیکن ان کی قبولیت اور مقبولیت دونوں برقرار رہیں۔ ''قبولیت‘‘ میں وقفہ آیا‘ حوالۂ زنداں ہوئے لیکن یہ ان کی مقبولیت میں اضافے کا سبب بن گیا۔ وہ منفرد بیورو کریٹ ہیں جنہیں مارشل لا اور نیب کی طویل حراست میں رہنے کا اعزاز حاصل ہوا لیکن نہ ان پر کوئی جرم ثابت ہو سکا‘ نہ ان کے پایۂ استقلال میں کوئی لغزش آئی۔ تمام تر تحریص و ترغیب‘ دھونس اور دباؤ کے باوجود انہوں نے اپنے وزیراعظم (اور صدر) کے خلاف ''سلطانی گواہ‘‘ بننے سے انکار کر دیا۔ ایک ملزم کے طور پر تاریخ میں نام لکھوایا اور جابروں کو شرمندہ کر ڈالا۔
سعید مہدی نے ایک سرکاری افسر کے طور پر جو کچھ دیکھا‘ اس کے کئی مناظر ان کے قلم نے محفوظ کر دیے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے لے کر جنرل پرویز مشرف کی اقتدار سے رخصتی تک پاکستان کی سیاسی تاریخ سبق آموز واقعات سے بھری پڑی ہے‘ سعید مہدی نے کسی رنگ آمیزی کے بغیر انہیں جوں کا توں بیان کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ہر شخص ہر واقعہ کا تجزیہ کر کے اپنے اپنے نتائج اخذ کر سکتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ ہمارے جسدِ قومی کو لاحق عوارض میں سے شاید سب سے بڑا عارضہ یہ ہے کہ ہمارے مقتدر اصحاب اور اداروں نے اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کا ڈھنگ نہیں سیکھا۔ دستور تو ہم نے بنا لیا لیکن اس میں درج تقسیمِ اختیارات کی پروا نہیں کی۔ جہاں جس کا بس چلا اس نے اپنی مرضی کر ڈالی‘ دوسرے کو روند ڈالا۔ فوج تو فوج ہے‘ عدلیہ اور مقننہ بھی پیچھے نہیں رہیں۔ انتظامیہ کے سربراہ بھی قابو میں نہیں آئے۔ وزیراعظم کی گو شمالی پر مسرت محسوس کرنے والے بندوق بردار تو رہے ایک طرف‘ چیف جسٹس بھی ایسے گزرے کہ انہوں نے ہر شے تہہ و بالا کر ڈالی۔ وزیراعظم کا منصب تاراج کر ڈالا۔ وزیراعظم کا داؤ لگا تو اس نے بھی چیف جسٹس کو چلتا کیا‘ فوجی سربراہوں سے بھی دو‘ دو ہاتھ کرنے میں لذت محسوس کی۔ بے تدبیریوں کے ریکارڈ قائم کیے گئے۔ گرم لوہے پر چوٹ لگانے کے بجائے اس کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کیا جاتا رہا نتیجتاً ضرب لگانے والا ہی ضرب کھا گیا۔ جو مناظر سعید مہدی نے ہمارے سامنے رکھے ہیں‘ ان میں سے کئی آج بھی دہرائے جا رہے ہیں۔ آج بھی ایک سابق وزیراعظم جیل میں ہے۔ اہلِ سیاست ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ اپوزیشن حکومت کو تسلیم کرنے پر تیار ہے‘ نہ حکومت اپوزیشن کو برداشت کر پا رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر میانوالی کے طور پر (بھٹو عہد میں) ضمنی انتخاب کے دوران جس طرح جعلی ووٹ ڈالے جا رہے تھے اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنے دورۂ میانوالی کے دوران ایف ایس ایف کے سربراہ مسعود محمود کی غیرمعمولی پذیرائی کا جو مظاہرہ کیا تھا‘ اسے بغور پڑھا جائے تو گتھی بآسانی سلجھائی جا سکتی ہے۔ جمہوریت کے دعویدار نہ منصفانہ انتخابات پر یقین رکھتے تھے‘ نہ قانون کی حاکمیت پر۔ ایف ایس ایف کا سربراہ ان کو عزیز تر تھا اور وہ اسی کے ہاتھوں انجام کو پہنچے۔ اب عمران خان ''سلطانی گواہوں‘‘ کے نشانے پر ہیں۔ مسعود محمود کی ''سلطانی گواہی‘‘ نے اپنے سلطان کو تختۂ دار پر چڑھا کر اس کے ''حُسنِ انتخاب‘‘ پر مہر توثیق ثبت کر دی۔ اگر آپ ایسے افراد کو بااختیار بنائیں گے جو طاقت کے سامنے کورنش بجا لانے کو فرضِ عین سمجھیں تو پھر آپ کے ساتھ بھی وہی ہو گا جو آپ اپنے مخالفین سے روا رکھتے تھے یا رکھنا چاہتے تھے۔ طاقت کسی اور کے ہاتھ میں آ جائے گی تو آپ کا مہرہ اس کے اشاروں پر حرکت کرے گا۔ مہروں کو انسانوں پر ترجیح دینے والے اپنی قسمت پر خود ہی مہر لگا گزرتے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کیسے تختۂ دار پر پہنچے‘ انہوں نے رحم کی درخواست کیوں نہ دائر کی‘ جنرل ضیا الحق نے اپنے ایک ڈپٹی کمشنر کی توہین آمیز اور باغیانہ گفتگو کو کیسے برداشت کر لیا؟ جنرل ضیا الحق پر بھٹو کی نگاہِ انتخاب کیوں ٹھہری؟ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ''اقربا نوازی‘‘ کیسے کی؟ شہباز شریف وزیراعلیٰ کیوں نہ بنے؟ کارگل کی جنگ کیسے شروع ہوئی‘ نواز شریف کو اس کی اطلاع کس نے دی؟ واجپائی کے ساتھ بیٹھے دلیپ کمار نے کیا کہا؟ کارگل جنگ کے ''مجرم‘‘ نے وزیراعظم کو کس طرح رام کیا؟ گو شمالی کے لیے منعقدہ بریفنگ ''دعائے خیر‘‘ پر کیسے ختم ہوئی؟ سیکرٹری دفاع نے وزیراعظم کے سامنے حقیقت کیوں نہ بیان کی؟ ناراض نواز شریف کو سعید مہدی نے چند فقروں میں کس طرح منا لیا؟ خوفِ خدا نے ان کے غصے کا رُخ کیسے موڑا؟ جسٹس ارشاد حسن خان جنرل محمود کے پیچھے کیسے بھاگے؟ بے نظیر بھٹو جب لاہور پہنچیں تو ان سے پہلی ملاقات کرنے والا سرکاری افسر کون تھا؟ صدر غلام اسحق اور وزیراعظم نواز شریف اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینے پر کیسے تیار ہوئے؟ جنرل کاکڑ نے کیا کردار ادا کیا؟ یہ اور اس طرح کے کئی سوالات جو اکثر پاکستانیوں کے ذہن میں ہیں ان کا جواب سعید مہدی نے مہیا کر دیا ہے۔ الفاظ کا چناؤ‘ جملوں کی ساخت اور حاشیہ آرائی سے گریز یہ بتاتا ہے کہ عینی گواہ نے ڈنڈی نہیں ماری۔ جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا‘ اسے بلا کم وکاست بیان کر دیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ شہادت ایک مستند دستاویز کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ تفصیل جاننے کیلئے کتاب کا مطالعہ اس دعا کے ساتھ کیجیے کہ ماضی ہمارا مستقبل نہ بننے پائے۔ ہم دستور کے ساتھ جڑ جائیں اور اس کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اپنے مفادات کیلئے ''حرکات و سکنات‘‘ بے شک جاری رکھیں۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved