یہ تو اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ پنجاب سرکار کو عین وقت پر سمجھ آ گئی کہ لاہور میں بسنت منانے کے حوالے سے ضروری احتیاط نہ برتی گئی تو بہت گڑ بڑ ہو سکتی ہے۔ جوش میں بسنت کا فیصلہ تو کر لیا لیکن پھر وسوسوں نے آن گھیرا کہ لاہور کی فضاؤں میں پتنگیں ہوں گی اور ان پر 804یا کسی خاص کی تصویر۔ اور یہ صرف خدشہ نہ تھا ایسا ہونا تھا۔ پھر سوچئے کتنی جگ ہنسائی ہوتی۔ لاہوریے ویسے بھی مذاق کرنے پر آئیں تو اگلے کی ایسی تیسی کر دیتے ہیں۔ یہ بسنت والا معاملہ بغیر احتیاط کے رونما ہو جاتا تو سرکار کے ہوش و حواس پر کیا گزرتی۔
عجیب مخمصے میں ہم پھنسے ہوئے ہیں۔ لیڈر جو ہمارے اعصاب پر سوار ہے‘ نے کچھ ایسا کیا ہے کہ قوم اس کے پیچھے کھڑی ہے۔ خیبرپختونخوا میں جو کچھ ہوتا ہے ہوتا رہے‘ ہمارا اس سے کیا واسطہ لیکن ہمارا مسئلہ تو یہ ہے کہ اس شر نے پنجاب کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ یہاں راج ہمارا ہوا کرتا تھا‘ بلاشرکتِ غیرے ہمارا حکم چلتا تھا اور الیکشنوں میں ہمارا ٹکٹ ہی بکتا تھا۔ شر سے اوروں کو بھی تکلیف ہے لیکن ہماری تکلیف زیادہ ہے کیونکہ طاقت کے ہمارے مرکز میں اس شر نے ہمارے تنبوؤں کو اکھاڑ دیا ہے۔ بظاہر حکمرانی تو اب بھی ہماری ہے لیکن صبح شام یہ خیال دل کو تڑپاتا ہے کہ حکمرانی ہماری کسی اور کے مرہونِ منت ہے۔ اشتہار اپنے‘ طمطراق اپنا لیکن حقیقت دنیا جانتی ہے۔ اس لیے شکر ہے کہ بروقت احساس ہو گیا کہ بسنت والا فیصلہ گلے پڑ جائے گا۔ جس کسی نے بھی اس خطرے کا متنبہ کیا اعلیٰ سول اعزاز کا مستحق ہے۔
پتنگوں اور گانوں پر پابندی‘ مسخرے تو کہیں گے کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلے ایسے حکم صادر نہ ہوئے لیکن مسخروں کی باتوں میں آئیں تو حکومت کیسے چلے۔ اس لیے درست حکم ہوا ہے کہ کمسن لڑکے غلط قسم کی پتنگ بازی کے مرتکب ہوئے تو بھاری جرمانوں کا سامنا ہو گا۔ پہلی واردات پر پچاس ہزار جرمانہ اور دوسری پر ایک لاکھ۔ لڑکوں کے جرمانے والدین کو ادا کرنا ہوں گے اور نہ کر سکے تو تحصیلدار صاحبان زمین کے مالیے کے انداز میں جرمانے کی رقم وصول کریں گے۔ یہ تو نو عمر لڑکوں کی بات ہے‘ غلط پتنگ بازی کے مرتکب بالغ پائے گئے تو ایس ایچ او صاحبان فوراً فوجداری مقدمات قائم کریں گے۔
حکم میں عذر کچھ عجیب سا پیش کیا گیا ہے کہ پتنگوں پر مقدس مقامات کی تصویریں یا ڈرائنگ نہ چسپاں ہوں۔ کبھی پہلے ایسا ہوا ہے کہ مقدس مقامات کی تصویریں بسنت کے موقع پر ہوا میں اڑائی جائیں؟ حکم نامے کے نیچے تصویروں کا ذکر ہے کہ کسی شخص کی تصویر نہ ہو۔ یہ ہے اصل بات کہ لاہور کی فضائیں پتنگوں سے بھری ہوں اور ان پر ایک شکل یا ایک خاص نمبر نظر آ رہا ہو۔ خدشہ تو پھر صحیح ہے اور جیسے عرض کیا ایسا ہونا تھا۔ فروری 2024ء کے انتخابات میں کون سی احتیاط نہیں کی گئی؟ جلسے جلوسوں پر پابندی‘ لاؤڈ سپیکروں پر پابندی‘ امیدواروں اور ورکروں کے گھروں پر چھاپے لیکن ووٹنگ کا دن آیا تو عوام نے اگلوں کا بینڈ بجا دیا۔ الیکشن کی شام نتائج آنے لگے تو ہوش اڑنے لگے کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ پھر فارم 47کی ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی اور صبح سے پہلے نتائج کا نقشہ بدل دیا گیا۔ 8فروری کو اپوزیشن جماعتوں نے یومِ احتجاج کا کہا ہے۔ حکومتی ایوانوں کو یومِ تشکر منانا چاہیے کیونکہ فارم 47کا جادو نہ چلتا تو ایوانانِ اقتدار میں جو کرسیوں پر براجمان ہیں ایسے نہ ہوتے۔
ویسے تو ہم بیٹھے اقتدار میں ہیں لیکن کوئی دن صحیح چین کا نہیں گزرتا۔ ایک پختونخوا کا چیف منسٹر‘ کیا ڈھیٹ انسان ہے جب دیکھو اس سردی میں اڈیالہ پہنچا ہوتا ہے۔ اس بار حد ہی کر دی‘ شرپسند ساتھیوں کے ساتھ پہلے اڈیالہ اور پھر سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا۔ بس چلے تو اس چیف منسٹر کو فارغ کریں اور گورنر راج نافذ ہو جائے‘ لیکن افسوس کہ پختونوں کی سرزمین پنجاب نہیں اور وہاں آسانی سے وہ کچھ نہیں کیا جا سکتا جو پانچ دریاؤں کی سرزمین میں ممکن ہوتا ہے۔ اس لیے برداشت ورنہ جو دل میں ارمان ہیں ایسے پورے ہوں کہ چیف منسٹر کو سمجھ آ جائے۔ لیکن مجبوریاں‘ اس لیے ہاتھ رکے ہوئے ہیں۔
اور تو اور وہ چٹکلی سی خاتون ایمان مزاری اور اس کا خاوند ہادی چٹھہ نے وختہ ڈالا ہوا تھا۔ انسانی حقوق کے کچھ زیادہ ہی علمبردار بنے ہوئے تھے۔ عزت مآب جج مجوکا نے صحیح سترہ سترہ سال کی قید ان دونوں کو سنائی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ فیصلہ لکھتے وقت عزت مآب کا قلم پھسل گیا اور کیوبا‘ ایران‘ شمالی کوریا اور شام کو دہشت گرد ملک قرار دے دیا۔ یہ بھی اصل غلطی ایمان مزاری کی بنتی ہے کہ ایسی جھنجھلاہٹ میں ڈالا کہ جہاں ان ممالک کے ذکر کا کوئی تُک نہ تھا‘ قلم ایسا پھسلا کہ خوامخواہ کا ذکر ہو گیا۔ پھر دہری مصیبت کہ یورپی یونین والے ان سزاؤں پر بول اٹھے۔ معاملہ ہمارا اور تکلیف یورپی ممالک کو۔
اوپر سے یہ بسنت والا معاملہ۔ ہم نے سمجھا شغل میلہ ہو گا‘ تعریف ہو گی کہ اتنے برسوں کی پابندی کے بعد جواں ہمت پنجاب سرکار نے بسنت کی اجازت دے دی۔ پہلی قباحت یہ کہ جہاں بسنت پورے پنجاب میں منائی جانی تھی وسوسے کچھ ایسے اٹھے کہ بسنت کا منانا سکڑتے سکڑتے لاہور تک محدود ہو گیا۔ پھرجب بسنت کے روز 804اور تصویر کا خدشہ کانوں میں پڑنے لگا تو بوکھلاہٹ کا اٹھنا قدرتی عمل تھا۔ پھر یہ نظریۂ ضرورت کے تحت پابندیوں اور سزاؤں کا حکم نامہ۔ بات یہاں تک ختم نہ ہوئی‘ پھر اس کمبخت گانے نَک دا کوکا کے وسوے اٹھے کہ فضاؤں میں خاص نمبر اور مخصوص تصویر اور اندرونِ لاہور ہر چھت سے پورے زور سے یہ گانا اور اس میں بھی ذکر 804کا۔ کہاں بسنت کا منانا اور کہاں یہ سارے دردِ سر۔
مصیبتیں آنا شروع ہوں تو ایک ایک کر کے نہیں بلکہ مون سون کی بارش کی طرح آتی ہیں۔ یہ بسنت اور ایمان مزاری والے تماشے کیا کم تھے کہ داتا دربار کے سامنے گٹر والے معاملے نے پیش آنا تھا؟ عظمیٰ بخاری بڑی مستعد اور ہنرمند خاتون ہیں لیکن یہ کہنے سے پہلے کہ گٹر والا معاملہ فیک نیوز ہے کچھ تحقیق ہی کر لیتیں۔ ایسا بیان گھڑ کے خوامخواہ کی مصیبت سرکار کے لیے کھڑی کی۔ تھانہ بھاٹی گیٹ کا ردِ عمل البتہ خوب تھا۔ سعدیہ نامی بدقسمت خاتون جو اپنی بیٹی کے ساتھ گٹر میں گریں ان کے خاوند غلام مرتضیٰ وہاں پہنچے تو دھر لیے گئے اور حسبِ روایت اس کے ساتھ وہ ہونے لگا جو تھانوں میں ہوتا ہے۔ صرف ایس ایچ او نہیں متعلقہ ایس پی بھی موجود تھا۔ مرتضیٰ سے منوانا چاہتے تھے کہ اس نے بیوی اور بچی کو گٹر میں خود دھکیلا ہے۔ یہ تو معاملہ جب بڑھا اور سوشل میڈیا پر پھیل گیا اور پولیس کے ہاتھ رکے‘ نہیں تو صبح تک غلام مرتضیٰ کا اعترافی بیان آ جاتا کہ بیوی اور بچی کا قاتل وہ خود ہے۔ اب مگرمچھ کے آنسو بہائے جا رہے ہیں۔
بہرحال فکر کی کوئی بات نہیں‘ پنجاب میں بہت ترقی ہو رہی ہے حتیٰ کہ باقی ملک کے لیے پنجاب گڈ گورنس کا ماڈل بنا ہوا ہے۔ جہاں تک گٹر کا تعلق ہے ڈھکن نہ ہوں تو گرنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ پنجاب حکومت کو بسنت کے بارے احتیاط برتنی پڑ رہی ہے تو لوگ بھی کھلے گٹروں سے گزرتے ہیں تو کچھ احتیاط کر لیا کریں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved